قوت نافذہ کون ہے؟ - عزیزہ انجم

جی تو نہیں چاہتا کہ رمضان المبارک کے مبارک اور مقدس مہینے میں، وہ بھی آخری عشرے میں عبادت اور دعا کے علاوہ کسی کام میں وقت لگایا جائے اور مغفرت کا سامان کرنے میں کوئی کوتاہی برتی جائے۔ جی قطعی نہیں چاہتا کہ فیس بک کھولی جائے اور لائک اور کمنٹ میں وقت ضائع کیا جائے۔ لیکن بہت سے سوال ہیں اور اسی مہینے میں شدت سے سر اٹھاتے ہیں جب قرآن ہر گلی ہر محلہ ہر مسجد ہر گھر میں پڑھا اور پڑھایا جا رہا ہو۔ قرآن کا مکمل جائزہ، قرآن پر ایک بھر پور نظر اس مہینے سے زیادہ کب ممکن ہوتی ہے؟ جب خواص اور عوام سب کا تعلق قرآن سے جڑا ہو۔

سوال یہ ہے کہ قرآن انسانی کردار انسانی نفس کو بہتر بنانے کی تمام تر motivation کے ساتھ ساتھ وہ باتیں اور قوانین بھی بتاتا ہے جن کے نافذ ہونے کے لیے قوت چاہیے۔

معاشرتی زندگی کے وہ سارے احکام جو سورہ بقرہ اور سورہ نسا میں بالخصوص اور دیگر سورتوں میں بیان کیے گئے ہیں بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ ایسا کرو۔ آپ پڑھتے رہیے، سالہا سال دہراتے رہیے، جھومتے رہیے لیکن کیا قرآن اچھا بولنے اور سننے کے لیے آیا ہے؟ احکام کونافذ کون کرائے گا ریاست عدالت یا علما؟

ہماری خانگی زندگی کی جس طرح دیواریں ہل رہی ہیں ان کے اسباب کے حل کی عملی صورت بھی کسی فورم پر سوچی گئی ہے؟ قرآن کی تفسیر کا جب بھی مطالعہ کرو، دل دُکھتا ہے کہ اس کا عملی نمونہ ہم کب دیکھیں گے؟ کب دکھا سکیں گے اور کس طرح؟

ریاست کو اپنے مشغلوں سے فرصت نہیں۔ کون بھوکا مر رہا ہے؟ کس کی زندگی کتنی اذیت ناک بنی ہوئی ہے ریاست کو اس سے کیا غرض؟ عدالتی نظام اور حفاظتی نظام کتنا شفاف ہے؟ ہر کوئی جانتا ہے۔ جج، پولیس، کورٹ تک پہنچنا، اس کی قیمت ادا کرنا کس کے بس کی بات ہے اور صحیح انصاف کا ملنا کتنا ممکن ہے؟ سب جانتے ہیں۔ علما کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ کیا ان کے پاس کوئی قوت کوئی اختیار کم از کم اپنے حلقہ اثر میں ہے یا ان کے پاس کوئی لائحہ عمل کوئی عملی تدبیر ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   رمضان اور ہمارے اخلاقی معاملات - ابویحییٰ

ریاست اور عدالت کا نظام ناقص ہے، علما با اختیار نہیں، سماجی بہبود کا کوئی ادارہ نہیں، عورت کس کے پاس جائے اور کہے کہ میرا شوہر میرا حق ادا نہیں کر رہا؟ مرد کس کے پاس جا کر کہے کہ عورتیں آگے سے آواز بلند کرنے لگی ہیں؟ باپ کس سے شکایت کرے کہ بیٹا میری ضرورت پوری نہیں کررہا؟ ماں کس سے فریاد کرے کہ اپنے بیٹوں کو دیکھے زمانے گزر گئے آنکھیں دکھتی ہیں؟ یتیم بچے کس کا دامن پکڑیں کہ چچا نے مال ہڑپ کر لیا ہے؟ کون سی قوت با اختیار ہے، ریاست، عدالت، یا علما؟ ایک پہلو اور مسائل کیا ہیں اور ان کا پریکٹیکل حل کس طرح ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے سسستے گھروں کی کوئی اسکیم؟ وراثت کی بر وقت اور منصفانہ تقسیم کی طرف کوئی پیش رفت؟ بوڑھوں کی فلاح و بہبود کا کوئی پروگرام؟ کوئی عملی صورت؟

ہے کوئی قوت نافذہ یا پھر اگلے سال اسی طرح قرآن پڑھا جائے گا اور اپنے ہی صفحات میں ایک بار پھر بند کر دیا جائے گا؟

Comments

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.