رُوح کے بغیر رُوحانیت کے حصول کی عظیم حماقت - ہلال احمد تانترے

’’بھائی! تم ایک مذہبی آدمی ہو۔ آپ اور میری نہیں بنے گی، کیونکہ میں ایک آزاد خیال (Liberal Minded)انسان ہوں اور میرا ہر ایک کام انسانیت کے ناطے انجام پاتا ہے۔ تم مذہبی لوگ ہر کسی عمل کو مذہبی انداز سے دیکھتے ہو، ہر کسی جگہ پر خدا کو لاتے ہو، مذہبی کتابوں کے حوالے پیش کرتے ہواور اپنے اُس مخصوص عمل سے باہر ہی نہیں نکل رہے ہو۔ اس لیے آپ کا نقطہ نظر بذاتِ خود میری آزاد فکر کے بر خلاف ہے۔‘‘

جملہ معترضہ کی حقیقت

یہ ایک ایسا جملہ ہے، جس سے ہر ایک اُس انسان کو مسابقہ ہونا پڑتا ہے، جس کا کسی خدائی طاقت پر بھروسہ ہوتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ دنیا کے کس مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اصل میں یہ اُس الحادی فکر کی دَین ہے، جو کسی خدا پر بھروسہ نہیں رکھتی۔ اب جب کہ وہ کسی خدائی طاقت کے قائل ہی نہیں ہیں، تو اندر ہی اندر وہ کئی ساری بیماریوں سے جونجھ رہے ہوتے ہیں اور وہ اس لیے کہ اُن کے آس پاس کی دنیا اُن کے اعمال کے بَرخلاف ایک خدائی قانون کی تابع دار ہے۔آفتاب و مہتاب، زمین و آسمان، درند و پرندہ، غرض اِس کائنات کا ہر ایک پُرزہ تو ایک الہامی طریقے کار پر سمع و طاعت کر رہا ہے، بس انسانی مخلوق کی یہ ایک مخصوص کھپ اپنے آپ کو اپنے ہی ہاتھوں دھوکہ دیتے ہوئے اِس کارخانہ الٰہی سے منہ موڑ لیتے ہیں، جس کا باہر کی کائنات کے لگے بندھے نظام سے بہت تضاد ہے۔اب یہ بات سمجھنے کے لائق ہے کہ اگر کسی مشین کو کمپنی کی طرف سے دئے گئے دستی کتابچہ(manual) کے مطابق نہ چلایا جائے، تو مشین اپنی مطلوبہ عمل دکھانے سے یکسر طور پر قاصررہے گی۔ انسان تو اپنی طرف سے بہت کوشش کرے گا کہ مشین سے مطلوبہ کام کیا جائے، لیکن وہاں پر ناکامیابی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اسی طرح سے الحادی فکر کے انسان تو اپنے اندر روح رکھتے ہیں(جس کا اقرار یا انکار کرنا اُن کے نظریات کے تابع نہیں ہے) لیکن اُس روح کے متقضیات کو پورا رکرنے کے لیے وہ روح کے منبع (یعنیٰ کہ خدا) کو مانتے تک ہی نہیں، یوں ایسے انسان کئی ساری بیماریوں سے خود بھی لڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور سماج کے جملہ طبقات کو بھی اس بے مقصد لڑائی میں دھکیل دیتے ہیں۔ اس الحادی لہر کی بنیاد مغرب کے اندر اُس وقت پڑی جب خدا بیزاری کی روش کو اپنا کر انسان نے اپنے نفس(نفسِ امارہ) کو امام بنا ڈالا۔ رفتہ رفتہ اس فکر نے باقی اقوام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

جملہ معترضہ کے لیے موافق ماحول

اِس پُر آشوب لہر کی رفتار میں پرانے زمانے کے مقابلے میں آج روزبہ روز اضافہ ہو رہا ہے اور جس کی کئی ایک ساری وجوہات سمجھی جاسکتی ہیں۔ دنیا آج گلوبل ولیج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انسانوں کے ما بین تعلقات روز بہ روز بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ انفارمیشن کا انبار ہر کسی کے پاس انگلی کی ایک جنبش میں مقید ہے۔ وہی سوشل میڈیا نے باقی رہی سہی قصر کو پورا کیا ہے۔ اس طرح سے ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے معلومات و ذرائع ابلاغ کی دنیا میں انقلاب برپا کرتے ہوئے دنیا کے ہر کسی باسی کو ہر کسی خبر، حالات و واقعات اور انفارمیشن تک رسائی دلوائی۔ اِن وجوہات کی بِنا پر الحادی فکر اور خدا بیزاری کے رجحانات نے اپنے پنجے ہر کسی ملک و دنیا میں آسانی سے گاڑ دئے۔ وہی دوسری طرف جب اس فکر کے پرچارک دنیا کے ترقی پذیر انسانوں میں گردانے جاتے ہیں، بہت سے انسانوں نے اس فکر کو اس لیے اپنے لیے موزوں سمجھا کہ ایسا کرنے سے اُن کو بھی کچھ ’اعلیٰ‘ القابات سے نوازا جائے گا۔ ایک وقت تھا اور جس کے اثرات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں، جب کمیونزم کا بازار ریاست ہائے مظلوماں میں گرم ہونے لگا تھا، بہت سارے افراد اُس میں اس لیے شامل ہوگئے تھے کہ اُن کو بھی کسی نئے لقب سے نوازا جائے گا، حالانکہ وہ اِس بات سے بالکل عاری نظر آرہے تھے کہ جس فکر کے وہ خواستگار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں،آیا وہ فکر ہے کیا اور اُن سے کیا کیا مطالبہ کر رہی ہے؟

موجودہ صورتحال

Pew Research Centre امریکہ کا ایک تحقیقی ادارہ ہے، جو لوگوں کے مختلف سماجی و غیر سماجی معاملات اور باقی سیاسی و سائنسی موضوعات کی طرف اُن کی توجہ مبذول کرا تی ہے، جن کا انسانی زندگیوں سے بہت قریب کا تعلق ہوتاہے۔ اپریل ۲۰۱۸ ء میں اِس ادارے کی طرف سے ایک اہم رپورٹ شائع ہوئی۔رپورٹ میں ۴۷۰۰ اشخاص کے اوپر سروے کی گئی۔ دیکھا گیا کہ ۳۰ سال کی عمر سے کم نوجوان اپنے بزرگوں کے مقابلے میں بہت کم خدا پر یقین رکھتے ہیں۔۶۶ فی صدی لوگ گر چہ کسی خاص طاقت و ر ہستی پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ براہ راست کسی خدا پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔۱۰ فی صدی لوگ نہ ہی کسی خدا پر یقین رکھتے ہیں نہ ہی کسی طاقت ور ہستی پر۔ اس رپورٹ میں مزید یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ امریکی آبادی کی اکثریت تو روحانیت کی قائل ہے لیکن کسی خدائی حیثیت کو ہاشہ خیال میں رکھے بغیر۔ روح کی تسکین تو لوگوں کو سمجھ آرہی ہے لیکن اُس کی تسکین کے لیے جوتشیوں اور نجومیوں، ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ وغیرہ کا زیادہ سہارا لیا جارہا ہے۔ الغرض، اکیسو یں صدی کی پیڑی اپنی زندگی کے منتہائے عروج تک پہنچنے پہنچتے غیر معمولی طور پر الحادی و خدا بیزاری فکر کی لپیٹ میں آنے کے دہانے پر ہے۔

جملہ معترضہ کی ایک اہم خرابی

اس حوالے سے سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کسی بھی بیماری کا شکار ہونے میں محض متاثرہ انسان کا قصور نہیں ہوتا ہے، بلکہ ہر ایک اُن عوامل کا ہوتا ہے جن کا انسان کی زندگی سے بہت قریب کا تعلق ہوتا ہے۔ یہ عوامل سماج کے مختلف ہائے عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔فرض کریں کہ ایک انسان بخار میں مبتلا ہوگیا۔ بخار چڑھنے کے محرکات ایک تو اُس کے جسم میں بذات ِ خود موجود ہیں، لیکن دوسری طرف سماج میں پنپ رہی گندگی اور اُس پر ضرر رساں جراثیم کے معرضِ وجود میں آنے سے انسان کسی نہ کسی صورت میں شکار ہو ہی جاتا ہے، قطع نظر اس سے کہ اُس کی قوتِ مدافعت (Immune System)کتنی طاقت ور ہو۔ ماحول جتنا صاف و ستھرا ہو گا، اُتنا ہی انسانوں کے صحت مند ہونے کی امید بھی ہے۔ اب اگر سماج میں کام کررہے مختلف محکمہ جات (تعلیمی، سیاسی، سماجی، مذہبی، خاندانی، وغیرہ) اپنی اساسات و بنیادوں سے ہی کھوکھلی ہیں، تو انسانوں کی کثیر آبادی، جو کہ سادح لوح ہوتی ہے کا الحادی فکر کے نرغے میں آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کے علاہ جب مذہب کو متشدد اور اُس کی ترویج کے لیے غیر فطری طریقہ کار کو اپنایا جائے تو مذکوہ مذہب سے کسی انسان کا دل لگ جانا محال ہے۔ اِن محرکا ت کے شکار تو دنیا کے ایسے سارے مذاہب ہیں جن کی بنیادوں اور طریقہ کار میں بذاتِ خود موجودتھا(اور ہے)، لیکن بدقسمتی ہے اسلام کے نام لیواؤں نے اپنی نااہلی و ناکارہ کارگردگی سے اِس کو بھی ایسی ہی دوڑ میں شامل کر دیا جہاں باقی مذاہب کو لگایا جارہاہے۔ حالانکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح ہے کہ دینِ اسلام کی بنیادیں اور اُن سے اخذ کردہ اصول کسی بھی معنوں میں کسی ’جراثیم‘ کے لیے سازگا ر ماحول فراہم کر ہی نہیں سکتی۔

د ین اسلام کا جوابی بیانیہ(Counter Narrative)

خدائی طاقت سے منہ موڑ دینا دراصل انسان کو مشکلات کے انبار میں ڈال دیتی ہے۔ خاص کر جب دینِ اسلام کے حوالے سے بات کی جائے، کیونکہ اسلام انسان کو نہ صرف اُس کی نجی زندگی اور کچھ مخصوص مذہبی رسومات کی ادائیگی میں راہنمائی فراہم کرتاہے، بلکہ اُس کی پوری زندگی کو ہر کسی محاز پر ایک پُر مقصد رُخ عطا فرماتا ہے۔موجودہ دنیا کی کثیر آبادی بشمول مسلمانوں کے مختلف طبقا ت آج بھی یہی زعم رکھتے ہیں کہ مذہبی یا اسلامی ہونا اپنے آپ کو سماج سے الگ تھلگ کرنے کے مترادف ہے۔ بالفاظِ دیگر، یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جو خاتم المرسلین ﷺ کو کہی گئی کہ اگر آپ پیغمبر ہوتے تو آپ ہماری طرح نہیں ہوتے، ہماری طرح شادی بیاہ کے معاملات میں نہ پڑتے، کسب معاش کا بوجھ آپ پر نہ ہوتا، آپ کسی فوق البشری طاقت کے حامل ہوتے، وغیر وغیرہ۔لیکن معترضین یہ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ ہیں کہ آپ ﷺ پر جس دین کی وحی ہوئی ہے وہ تو انسان کی پوری زندگی کو محیط کیے ہوئے ہے۔ وہ اگر اپنے خدا کے سامنے عاجزی و انکساری اختیار کرنے کا درس دے رہاہے تو دوسری طرف اپنے خاندان میں بیوی بچوں کو ہنسانے کھلانے کو بھی وہی درجہ دیتا ہے۔ وہ اگر الہامی کتابوں پر ایمان لانے کا حکم صادر کرتاہے تو دوسری طرف اُنہی کتابوں میں دنیاوی علم میں آگے بڑھنے کی ترغیب بھی پیش کرتا ہے۔ وہ اگر فضولیات سے دور رہنے کی تلقین کرتا تو دوسری طرف خدا کی کائنات کو اُس کی خدائی سمجھنے کے لیے سیر و تفریح کا بھی حکم دیتاہے۔ وہ اگر خدا کی عبادت میں ہر دم اور ہر آن منہمک رہنے کے لیے کہہ رہاہے تو دوسری طرف خود کو بے جا و تکلیف دہ مشقت میں ڈالنے سے بھی اجتناب کرنے کا خواہاں ہے۔ وہ اگر جنسی آوارہ گردگی پر قدغنیں لگا رہا ہے تو دوسری طرف نکاح کے ایک منظم طریقے کو بھی نہ صرف جائز رکھا ہے، بلکہ عین عبادت کا درجہ دے رہا ہے۔ وہ اگر جھوٹ، دھوکہ اور مکاری سے دولت کمانے کو حرام سجھ رہا ہے تو دوسری طرف احسن طریقے سے مالی طور امیر بننے سے بھی نہیں روک نہیں رہا ہے۔ وہ اگر ظلم و عدوان سے لوگوں کو باز رہنے کے لیے کہہ رہا تو تو دوسری طرف اُسی ظلم و عدوان کے خلاف سینہ سپر ہونے پر داد دے رہا ہے۔ اس طرح سے واضح ہوتاہے کہ کسی واقعتاً اسلامی انسان سے اِن بنیادوں پر منہ موڑ لینا کہ وہ مذہبی ہے اصل میں انسانوں کو فسق و فجور اور سماج کو تباہی و بربادی کے عالم میں دھکیلنے اور اُس کا حامی ہونے کے مترادف ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */