خوشی - عظمیٰ ظفر

کچن میں کام کرتے ہوئے اچانک میرے چھوٹے بیٹے نے میرا ہاتھ پکڑ مجھے اپنی طرف متوجہ کیا "امی! امی!"

"جی بیٹا!" میں نے اپنا کام مکمل کر لیا تھا لہٰذا اس کی طرف گھوم گئی۔

"امی آپ کو رنگ پسند ہیں؟" اس نے پوچھا۔

"جی بیٹا مجھے رنگ پسند ہیں" اور اس کے اس سوال پر حیران ہوتے ہوئے پوچھا "آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ "

"امی وہ جو رنگوں سے پچکاری مارتی ہے، وہ والی گن چاہیے مجھے، پھر سب کو کہوں گا "ہولی ہے۔" وہ خوش ہو کر بولا۔

"کیا؟" مجھے اس جواب کی امید نہ تھی۔

وہ تو خوشی سے آگے بڑھ گیا اور میں قریب رکھی کرسی پر ڈھے سی گئی۔ مجھے یاد آیا کہ کل جو کارٹون وہ دیکھ رہا تھا اس میں اسی ہولی کا ذکر تھا۔ دونوں بھائی بہت شوق سے موبائل پہ انڈین کارٹون دیکھ رہے تھے۔

"علی!" میں نے بڑے بیٹے کو قدرے اونچی آواز سے بلایا۔ وہ حسب عادت موبائل ہاتھ میں لیے چلا آیا۔

"میں نے آپ دونوں کومنع کیا تھا نا کہ موبائل زیادہ نہیں لینا، چھوٹا بھائی غلط باتیں سیکھ رہا ہے ان کارٹونز کو دیکھ کر۔ ان کے کلچر کی باتیں الگ ہیں۔ ہمارے دین میں ایسا کچھ نہیں ہے بیٹا!"

میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے موبائل ہاتھ سے لے لیا۔

"مگر امی! صبح سے اس کے پاس تھا موبائل، میں نے تو ابھی لیا ہے۔" وہ روہانسا ہو گیا۔

"اف خدایا! پھر موبائل؟" گھڑی پہ نظرپڑی تو گھر کے باقی کام یاد آگئے، میں کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

"اچھا، لو پکڑو مگر وہ کارٹون نہیں دیکھنا۔ اوکے؟ " صرف تنبیہ کرتے ہوئے گویا میں نے اپنی ذمہ داری مکمل کی اور موبائل اسے تھما دیا۔ مگر امی وہاں کے کارٹون بہت مزے کے ہوتے ہیں۔ ان کے Events بہت Colorful ہوتے ہیں، کتنا مزا آتا ہوگا ان کو ہولی، دیوالی، birth days میں؟ ہم لوگ تو کچھ مناتے ہی نہیں ہیں، سب کچھ بہت Boring ہے۔ بس عید اور عید کچھ بھی مزے کی نہیں۔ کیوں امی؟ "

وہ تو بولتا ہوا چلا گیا اور میرے سر پہ گویا چھت آ گری۔ چھ سال کے بچے نے میرے لیے بہت بڑا سوال چھوڑا تھا۔ کارٹونز اور موبائل تو میری غلطی تھی مگر اسے اپنے تہوار کیوں پھیکے لگے؟

شام میں درس قرآن کی کلاس میں گئی تو وہاں بھی دل نہیں لگ رہا تھا۔ استاذہ نے اپنی بات شروع کر دی تھی۔ "جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اسی میں شمار ہوتا ہے!" یہ حدیث سنا کر انہوں نے بات مکمل کی۔

"کیا بات ہے مریم! آج آپ نے کچھ نوٹ بھی نہیں لکھا اور نہ ہی کوئی سوال پوچھا، سب خیریت ہے نا؟" شاید انہوں نے بھی میری خاموشی محسوس کی تھی۔ میں نے سب کے سامنے آج کی روداد گوش گزار کی۔ یہ سن کر انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری۔ کلاس کی باقی خواتین نے بھی میری تائید کی کہ واقعی آج کے بچے اپنے مذہبی تہواروں کو بورنگ سمجھتے ہیں، انہیں ان میں مزا نہیں آتا، خوشی نہیں ہوتی۔

استاذہ نے بغیر کسی تمہید کے بات شروع کی۔ آپ سب تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کر کے اپنے بچپن کی عیدوں، تہواروں اور رمضان کو تصور میں لا کر سوچیں کہ آپ کو کس بات سے خوشی ملتی تھی؟ تھوڑی دیر کے لیے ہم سب خاموش ہو گئے۔

بھئی مجھے تو نئے کپڑے، نئی چوڑیاں پہننا اچھا لگتا تھا، اس خوشی میں نیند نہیں آتی تھی۔ بچپن جھماکے سے میرے تصور میں آگیا لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ میرے ساتھ بیٹھی مسز وجاہت گویا ہوئیں۔ مجھے تو امی کے ہاتھوں کی سویاں اور کھیر بہت پسند تھی، لگتا تھا بہت اسپیشل بناتی تھیں، عید پر مجھ سے کبھی نہیں بنیں ویسی۔ مجھے تو عیدی کا انتظار ہوتا تھا، بھائیوں سے لڑ لڑ کر عیدی مانگتی تھی۔ اگر چھوٹے بھائی کی عیدی زیادہ ہو جاتی تو ابو جان کے گلے سے لٹک کر اپنی عیدی بڑھوا لیتی، بہت مزے دار دن تھے۔ اپنے ابو کا ذکر کرتے ہوئے شوخ و چنچل سی مسز رمشہ آبدیدہ ہو گئیں۔

استاذہ نےمسکراتے ہوئےاپنی بات شروع کی۔ ہمارے گھر میں تو عید والے دن رشتے داروں کی دعوت ہوتی تھی۔ امی، تائی، دادی جان سب مل کر خوشی سے ناشتے کھانے کا اہتمام کرتے۔ کوئی اپنے گھر سے بھی پکوان لے آتا۔ ڈشز کم اور خلوص زیادہ تھا۔ ایک جیسے لباس پہن کر ہم کزنز بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔ رمضان کی پر نور فضاء اور روزوں کی اہمیت بچوں کو بھی اپنے حصار میں لیے رہتی تھی۔

آپ سب بہنوں کے بچپن کی یادوں میں ہی اس سوال کا جواب ہے۔ ہم نے اپنے گھروں میں تہواروں کی وہ اپنائیت خود ہی ختم کردی ہے۔ پہلے امیر ہوں یا سفید پوش نئے کپڑے کم کم ہی بنا کرتے تھے۔ آج ہر موقعے پر بلا ضرورت کپڑے بنائے جاتے ہیں۔ تہواروں کی منا سبت سے خاص کھانے بنتے تھے۔ آج نت نئے کھانوں نے ذائقہ تو بڑھا دیا ہے مگر رزق کی اہمیت ختم کر دی ہے، رشتے داروں سےملنا ملانا ختم اور رنجشیں بڑھ گئیں ہیں۔ پہلے جیب خرچ بھی کم ملتے تھے، بچے گھر سے بنی چیزیں اسکول لے جاتے تھے، اب بچوں کو پیسے دے دے کر ہم نے عادتیں خراب کر دیں۔ اب ان کی نظر میں عیدی کی کوئی اہمیت نہیں۔ سالگرہ کے نام پر مہنگے سے مہنگا گفٹ دے دے کر ہم نے کمرے بھر دیے۔ اب ان تحفوں کی کوئی وقعت نہیں ان کی نظر میں۔ آئے دن طرح طرح کی پارٹیز، آؤٹنگ، ہوٹلنگ۔ لہٰذا وہ کسی کے گھر جانا بورنگ سمجھتے ہیں۔ پہلے بچے نانی دادی کے پاس بیٹھ کر کہانیاں سنتے تھے، وہ کسر موبائل نے نکال دی۔ ماں باپ کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں۔

"ان سب میں بچوں کا قصور ہرگز نہیں بلکہ ہم سب کا ہے! بچوں کے معصوم ذہنوں میں غیر مذاہب کا کلچر زہر
کی طرح سرائیت کر رہا ہے اور والدین بے خبر ہیں۔ بچوں کو ٹی وی، موبائل کے آگے بٹھا کر وہ سمجھتے ہیں بچہ گھر سے باہر جا ئے گا تو بگڑے گا اور نظروں کے سامنے محفوظ ہے۔ نظروں کے سامنے ہے تو باہر کے نقصان سے محفوظ ہے مگر ہماری ناک کے نیچے زیادہ بڑا خطرہ ان ہتھیاروں سے ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اپنے بچوں کو جدت سے ہم آہنگ ضرور کریں مگر جدید دور کے فتنوں سے بھی ضرور بچائیں۔ عید کی نماز پڑھنے کی بجائے ہمارے بچے سو رہے ہوتے ہیں۔ ہر چیز سہولت اور کثرت سے مل جائے تو اس کی خوشی ماند ہی پڑ جایا کرتی ہے۔ ابھی جو خوشی آپ کو اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے ہوئی، کیا وہ خوشی اور اپنائیت ہم اپنے بچوں کو دے رہے ہیں؟ اگر آج ہمارے بچے اپنے تہواروں میں دلچسپی نہیں لے رہے تو کل ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے مذہب سے ہی اکتا جائیں۔ استاذہ نے کئی سوال میرے سامنے رکھ دیے تھے اور ان کے جواب میرے پاس نہیں تھے۔

کیا آپ کے پاس ہیں؟

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.