لبیک اللھم لبیک - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

ہمیں جزیرۃ العرب میں داخل ہوئے تیسرا دن تھا جب صاحب نے دفتر سے آتے ہی خوشخبری سنائی: ’’عمرہ کا پروگرام بن رہا ہے ان شاء اﷲ‘‘۔ کب، کیسے، کس کے ساتھ؟ ایک ساتھ کئی سوال ذہن پر ابھرے، ہم نے فوراً تلبیہ پڑھنی شروع کر دی، آج تو گویا قسمت کھل گئی تھی۔ اگلے دو تین دن تیاریوں میں گزر گئے، یہ سفر مبارک بھی تھا اور عین سعادت بھی۔ نئے احرام خریدے گئے (حالانکہ پاکستان سے آنے والے سامان میں بھی ایک احرام خاص طور پر رکھا گیا تھا)۔ ہمیں آنے والی جمعرات کو ’’حملے‘‘ کے ساتھ جانا تھا، (’’حملہ‘‘ سعودی عرب میں بس کے ذریعے سفر ِسعادت کے لیے مستعمل ہے، شاید ہر عمومی سفر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہو، ہم نے تو عمرے والی بسوں کے ہی عقب میں لکھے ہوئے دیکھا) اور اس سفر کا خوشگوار پہلو یہ تھا کہ ہمارے نئے نئے دوست احباب ہمراہ تھے، یعنی اپنی کمیونٹی کے افراد اکٹھے عمرہ کرنے جا رہے تھے۔ ایک تو سفرِ شوق اور پھریہ قرآن کے تعلق سے جڑنے والوں کا سفربھی تھا، بس خوشی کے سارے لوازمات پورے ہو رہے تھے اور جس کے نہ جانے کی خبر ملتی اس پر ہمیں بھی افسوس ہوتا۔

۱۳ اکتوبر کو سفر شروع ہونا تھا، اس سے پہلے ہی ہم نے خوب زاد ِ راہ (جوسز، پانی، پھل، کھانا، وغیرہ) اکٹھا کر لیا۔ بچے اور صاحب واپس آئے تو سب کچھ تیار تھا، انہوں نے جلدی جلدی تیار ہو کر سامان باہر رکھا۔ ایک ڈاکٹر صاحب ہمیں لینے آگئے اور دن ڈھائی بجے سے قبل ہم مقررہ مقام پر پہنچ گئے۔ تقریباً سبھی لوگ پہنچ چکے تھے، بس میں داخل ہوئے تو قدرے گرمی کا احساس ہوا، اس سفر مبارک کا آغاز ہی شکوے سے نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے خود کو دعا کی جانب متوجہ کیا، آہستہ آہستہ سب افراد سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ اگلی سیٹوں سے آواز بلند ہوئی، گاڑی میں ٹھنڈک کافی کم ہے، ہمارے صاحب نے ہماری طرف دیکھ کر تائید چاہی۔ ہم دعا کی کتاب کو پنکھا بنائے ہوا لے رہے تھے۔ ڈرائیور بولا: ’’صاب بس سپیڈ پکڑے گی تو ٹھنڈک بھی ہو جائے گی‘‘، ہمیں گرمی کا احساس ہوتا تو کھڑکی سے جھانک کر سپیڈ کا اندازہ کرنا چاہتے، گاڑی فراٹے بھر رہی تھی اور اسی رفتار سے پسینہ چوٹی سے ایڑی کا سفر طے کر رہا تھا۔ ہم نے پھر بے بسی سے دائیں بائیں دیکھا، سبھی گرمی سے بے حال نظر آئے، سوائے ڈرائیور کے۔ جسے یقین تھا کہ سفر شروع ہونے پر اے سی کام کرنے لگے گا۔ چھوٹے بچے بس کی رفتار پکڑنے اور اے سی کے تکنیکی تعلق سے بے خبر منہ کھول کر رونے لگے۔ اب انتظامیہ کو بھی احساس ہوا کہ دس گیارہ گھنٹے کا سفر اس تنور میں نہ ہو سکے گا۔ انہوں نے ڈرائیور کو ذرا درشتی سے اے سی تیز کرنے کو کہا۔ ڈرائیور نے اپنا بیان دہرانے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اسے ڈانٹ کر بس روکنے کا حکم دیا۔ ڈرائیور نے بس کنارے کی جانب کر کے روک دی۔ امیر صاحب نے موبائل نکالا اور حملہ آفس کا نمبر ملایا: ’’میں۔۔۔۔۔ بات کر رہا ہوں، آپ نے جو بس بھیجی ہے اس کا اے سی کام نہیں کر رہا۔ ہم فلاں جگہ کھڑے ہیں دوسری بس بھیجو۔‘‘ دوسری جانب سے مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی، مگر یہ کیا؟ دوسری جانب کی آواز یعنی پورا مکالمہ ہمیں بھی سنائی دے رہا تھا اور یہ آواز ہمارے اندازے کے مطابق گاڑی کے اگلے حصّے میں سے آرہی تھی، ایک صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو متوجہ کیا: ’’یہ تو ڈرائیور کا نمبر ملا دیا ہے آپ نے، وہی جواب دے رہا ہے‘‘، اس گفتگو کے بعد بس میں ٹھنڈک میں اضافہ تو نہ ہو سکا البتہ سواریوں کے مزاج میں شگفتگی ضرور پیدا ہو گئی۔

پھر بس چلنے کا اشارہ ہوا کہ بریدہ اپنے دفتر چلو، وہاں جا کر بس تبدیل کرواتے ہیں۔ حملہ والوں سے بات بھی ہو گئی اور بریدہ میں ایک پٹرول پمپ پر بس روک لی گئی۔ نمازِ عصر کا وقت تھا، خواتین مصلی النساء (عورتوں کا نماز کا حصّہ) میں داخل ہو گئیں اور مرد مسجد کے مرکزی حصّے میں۔ نماز ادا کر کے خواتین کمر سیدھی کرنے کو لیٹ بھی گئیں اور آہستہ آہستہ باہر سے چائے کافی اور بچوں کی آئسکریم وغیرہ آنی شروع ہوگئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خیال بھی پریشان کر رہا تھا کہ وقت گزر رہا ہے، کچھ خواتین ذکر اذکار میں، کچھ میل ملاقات میں مشغول تھیں جب کسی بچے نے آکر آواز لگائی: ’’دوسری بس آگئی!‘‘، سب تیز قدموں سے باہر نکلے، مگر یہ کیا؟ اس بس سے مسافر باہر نکل رہے تھے، یعنی یہ دوسری عمرہ زائرین بس تھی۔ سب پھر واپس آگئے، اس عزم کے ساتھ کہ اب کے مصدقہ اطلاع کے بغیر باہر قدم نہ نکالیں گے۔ ایک مرتبہ پھر باہر آجانے کی آواز آئی، مگر اکثر خواتین ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ پھر مردوں میں سے کسی کی آواز آئی، باہر آجائیں اور باہر وہی بس کھڑی تھی، سابقہ تنور! ہم ہچکچاتے ہوئے اندر داخل ہوئے، بیٹھ کر فضا کا جائزہ ۔ ، گرمی میں کچھ کمی محسوس ہوئی، یہ آفتاب کے مغرب کی جانب جھک جانے کے سبب تھا یا واقعی اے سی کی کارکردگی بہتر ہو گئی تھی؟ ابھی ہم شش و پنج میں تھے کہ ایک صاحب نے ڈرائیور سے پوچھا، بھئی راستے میں تمہارا اے سی تنگ تو نہیں کرے گا؟ ڈرائیور نے پورے یقین سے کہا: ’’صاحب اے سی بالکل ٹھیک کام کرے گا، بلکہ اتنا ٹھنڈا کرے گا کہ آپ کو کمبل کی ضرورت پڑے گی‘‘، اس آخری دعوے کو سب نے ہی مبالغہ سمجھا بلکہ مسکرا کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا، اب اسے کیا ٹوکنا، پہاڑی محاورہ ہے: ’’کَچھ گھوڑا تے کَچھ مدان‘‘، یعنی گھوڑا بھی موجود ہے اور میدان بھی، ابھی تصدیق ہوا چاہتی ہے۔

ابھی سفر شروع ہوئے آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ ڈرائیور کے دعوے کی تصدیق شروع ہو گئی، پہلے تو اے سی کے سوراخوں سے نکلنے والی ٹھنڈک نے سب کو مسرور کیا، سب نے اللہ کا شکر ادا کیا بلکہ دماغ ٹھنڈے ہوئے تو زادِ راہ کے تھیلے بھی ڈھیلے ہونے لگے، کہیں سے جوس نکلے، کہیں سے پھل، جو بھی اپنا تھیلا ڈھیلا کرتا سوغاتیں بس کے اندر چاروں جانب پھیل جاتیں۔ ایک صاحب کھجور اس کے خوشوں سمیت لائے ہوئے تھے اور سب سواریاں حسب ِ ضرورت اور حسب ِ خواہش اپنی پسند کی کھجوریں چن رہی تھیں۔ مجھے نبی رحمت ﷺ کے وہ صحابی یاد آگئے جو نبی ﷺ اور اصحاب کو اپنے باغ میں لے گئے تھے اور کھجور کا خوشہ لا کر آپ کے سامنے رکھا تھا، اور استفسار پر کہا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ آپ ﷺ اپنی پسند سے کھجوریں چن کر تناول فرمائیں۔ واقعی یہاں بھی خوشے میں لگی ہوئی کھجوریں پکی ہوئی بھی تھیں، ادھ پکی بھی اور کچھ سخت بھی، سب لوگ حسب ِ ذائقہ لیتے جا رہے تھے، ڈاکٹر ادی (سندھی میں بہن کو کہتے ہیں، انہیں اسی نام سے بلوانا پسند ہے) ڈھیر سارے انڈے ابال کر لائی تھیں، جو بس میں ’’آنڈے، گرم آنڈے‘‘ کی صدا کے ساتھ تقسیم ہو رہے تھے۔ سینڈوچز بھی تھے، اور مٹھائی بھی۔ یہ اجتماعی سفر کی برکت تھی کہ جو کچھ بھی پیش ہوتا سب کو بانٹ کر کچھ بچ بھی رہتا، بس میں دو چار جگہ کوڑا ڈالنے کے لیے تھیلے باندھ دیے گئے تھے اور اتنی خوشگوار فضا اور پیٹ پوجا کے بعد دعائیں مانگتے ہاتھ ڈھیلے پڑنے لگے اور عمرہ زائرین آہستہ آہستہ نیند کی وادی میں پہنچ گئے۔ بس میں یہاں وہاں ہلکی پھلکی حرکت اور زادِ راہ کھلنے اور اب کی بار ان سے بچوں کے کمبل چادریں سویٹر وغیرہ نکلنے شروع ہوئے، جو لوگ حملہ بس کے ذریعے عمرے کے عادی تھے وہ پورے لوازمات کے ساتھ موجود تھے، جب کے ہم جیسے نوواردوں نے صاحب کی اکلوتی ٹوپی بھی بس کے نچلے حصّے میں بیگ میں محفوظ رکھی ہوئی تھی۔ ایک بیگم صاحبہ نے بچوں کے ٹھنڈے ہونے کی دہائی دی۔ ڈرائیور سے فرمائش کی گئی کہ اے سی ذرا آہستہ کر دو، وہ ٹس سے مس نہ ہوا، کچھ دیر بعد باصرار مطالبہ دہرایا گیا، پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ آخر ایک ذمہ دار صاحب نے حکم دے کر کہا: ’’اے سی آہستہ کر دو، بچے ٹھنڈے ہو رہے ہیں‘‘، ڈرائیور نے بھی سپاٹ لہجے میں جواب دیا: ’’صاحب اے سی کی تار انجن کے ساتھ ایڈجسٹ کی تھی، اے سی آہستہ کروں تو انجن بند ہو جاتا ہے۔‘‘ اس خبر نے ہماری رہی سہی حرارت بھی منجمد کر دی، ہم نے آرام سے ہینڈ بیگ سے دوپٹہ نکال کر صاحب کی طرف بڑھا دیا، جو بس کی کھڑکی کا پردہ لپیٹ کر خود کو برفانی لہروں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   حرمین کا بلاوا - بشارت حمید

نمازِ مغرب کے لیے بس روکی گئی تو واپسی پر سب کے ہاتھ میں چائے یا کافی کے کپ تھے، ٹھنڈی ٹھنڈی بس میں گرم گرم کافی عجب مزا دے رہی تھی، زادِ راہ میں سے انڈے اور بسکٹ وغیرہ بھی نکل آئے تھے، قافلے کے لڑکے بس کی پچھلی نشست میں اکٹھے ہو گئے تھے، اور کچھ سہیلیاں ایک طرف!

ہماری بس شاید عفیف شہر سے گزری تو یہاں نماز کا وقت تھا، مسجد سے نماز کی آواز آرہی تھی اور بازار سنسان، دکانیں انواع و اقسام کے سامان سے لدی ہوئی تھیں مگر نہ کوئی بیوپاری تھا نہ خریدار! سعودی عرب میں آنے کے بعد یہ خوبصورت منظر دل میں کھب کر رہ گیا۔ قرآن کی آیۃ ’’والذین ان مکناھم فی الارض لأقاموا الصلاۃ۔۔ ‘‘ کا عملی نمونہ!

کچھ دیر بعد بس نے رفتار آہستہ کی اور اعلان ہوا کہ یہاں پر نمازِ عشاء اور عشائیہ کا وقفہ ہے۔ نیچے اترے، کھانے کے لوازمات اٹھائے، سامنے سرائے نما عمارت تھی جس پر تحریر تھا، ’’شقق مفروشہ مجاناً‘‘، یعنی یہ کارپٹڈ چھوٹے چھوٹے حجرے فری آف کاسٹ ہیں۔ یہاں پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر جس حجرے پر چاہے قبضہ کر لیجیے اور کھانا کھا کر باقیات سمیٹ لیجیے۔ اگرچہ کئی حجرے ایسے تھے جہاں کھانے والوں نے بعد والوں کی سہولت کا خیال نہیں رکھا تھا، سب نے انتہائی کم وقت میں توشہ دان کھولے، ہر ایک اپنا کھانا نکال کر دوسرے حجرے والوں کو بھجوا دیتا۔ یہاں بھی بچے بہترین قاصد بنے ہوئے تھے، کھانے اور نماز سے فارغ ہو کر بس میں پہنچے تو جہاں چائے کی خوشبو منتظر تھی، وہاں کچھ اصحاب نئے کمبل خرید کر مزے سے لپیٹے بیٹھے تھے۔

باقی سفر اس حال میں گزرا کہ ہم سردی سے بچنے کے لیے کبھی ہاتھوں کی گرمائش سے کام لیتے اور رگڑ کے اصول سے ایک پاؤں سے دوسرے کو گرم کرتے۔ ہمارے ساتھ بیٹھی صاحبزادی بھی رگوں میں خون جمنے کی شکایت کر رہی تھی اور بیٹا اپنے گالوں پر ہاتھ پھروا کر بہادر بننے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کتنی بہادری سے سردی کا مقابلہ کر رہا ہے، دانت بجائے بغیر! خدا خدا کر کے میقات آیا، ہم تو خوش تھے، کچھ دیر مسجد میں وقت گزار آئیں گے، مگر مردوں نے اگلا سفر احرام میں گزارنا تھا۔ اب بے رحم اے سی کے مقابلے میں تلبیہات کی گرمی تھی، مردوں کے کمبل اتر چکے، سر ڈھانپ نہیں سکتے، کوئی سلا کپڑا، بنا ہوا سویٹر پہن نہیں سکتے، مگر تلبیہہ کی پکار نے سب کو گرم کر دیا۔ بقیہ سفر کہیں سے سردی کی آواز نہ سنائی دی۔ ہم خواتین تو ویسے ہی مزے میں تھیں، ہمارا لباس ہی ہمارا احرام تھا، سوائے چہرہ کھولنے کے!

ابتدائے سفر میں ہونے والی تاخیر نے ہمارا کافی نقصان کر دیا تھا۔ ہم مکہ پہنچ کر بھی حرم کی نمازِ فجر سے محروم تھے۔ ہوٹل میں نمازِ فجر ادا کر کے ہم عمرے کے مناسک کی ادائیگی کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ باہر نکلے تو کچھ اندازہ نہ تھا کہ حرم کتنا دور ہے؟ ایک صاحب سے سمت معلوم کر کے چلنا شروع کر دیا۔ ایک ٹیکسی حرم کی آواز لگا کر کھڑی بھی ہوئی مگر ہم نے کچھ زیادہ توجہ نہ دی۔ اتنے طویل سفر نے ویسے بھی تھکا دیا تھا، قدموں کی رفتار آہستہ ہونے لگی۔ صاحب کافی آگے نکل جاتے، پھر رک کر ہمارا انتظار کرتے، ہمارے گھٹنے سے اٹھنے والی ٹیسیں ہمیں بار بار مجبور کر دیتیں اور ہم تلبیہہ کے بجائے آیاتِ شفا پڑھنے لگتے۔ آخر کارصاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انہیں ہماری حالت کا اندازہ ہوا۔ ایک ٹیکسی رکی اور ہم اس میں بیٹھ گئے، جس نے حرم کے کافی قریب اتار دیا۔ حرم میں داخل ہوئے تو اشراق کا وقت تھا، ایک خوبصورت صبح! حرم ِ کعبہ کی صبح کا کیا کہنا؟ مطاف میں قدم رکھا تو ایسے لگا ساری تھکاوٹ دور ہو گئی ہے، جسم کی بھی اور روح کی بھی!

خانہ کعبہ کی پرشکوہ عمارت پوری شان سے کھڑی تھی، اس کے گرد گردش کرتے پروانے، اللہ سے رحمت اور مغفرت مانگ رہے تھے۔ دنیا و آخرت کی بھلائیاں اور اور آگ سے نجات کے خواہش مند تھے۔ اس دن اور اس وقت طواف کرنے میں بہت مزا آرہا تھا، یہ ہماری بہت بڑی حسرت تھی کہ اللہ اپنے گھر کے کہیں قرب و جوار میں آباد کر دے اور ہم بار بار حاضری دے سکیں، اور یہ دعا کئی برس کے انتظار کے بعد پوری ہوئی تھی۔ اس عمرے کی شان ہی نرالی تھی، اور اس کا سرور بالکل جدا!

طواف کے سات چکر پورے کر کے ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلّی‘‘ پڑھتے ہوئے مطوفین کے دائرے سے نکل کر مقام ابراہیم کے عین پیچھے پہنچے اور دو رکعت نماز ادا کی۔ دعا مانگتے ہوئے کعبہ نگاہوں کے سامنے تھا، اپنے وجود کی کم مائیگی کا احساس ہو رہا تھا اور رب کی بے انتہا رحمتوں کا، بے اختیار دل سے دعا نکلی: ’’ربّ اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علیّ وعلی والدیّ وان اعمل صالحاً ترضاہ،۔۔۔ ‘‘(اے اللہ مجھے توفیق دے کے میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں، اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو جائے)۔

آب ِ زم زم سے سیراب ہو کر صفا مروہ کی جانب چلے، لیکن سعی کی جانب اٹھتے قدم ڈگمگانے لگے۔ میری ٹانگوں کی ہمت جواب دینے لگی، وہیں سعی کے ایک ستون کے ساتھ کچھ دیر کے لیے بیٹھ گئی۔ میاں اور بچے پریشان، سب مل کر اللہ سے دعا مانگنے لگے۔ اسی رب نے ہمت دی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھانے شروع کیے، صفا سے مروہ تک پہنچتے دو مرتبہ سستانے کو بیٹھی۔ حضرت ھاجرہؑ نے سات چکر کیسے لگائے ہوں گے؟ پانی کی تلاش بھی اور زمین پر لیٹے بچے کی فکر بھی، سبز روشنیوں کے درمیان جب شوہر اور بیٹے اور دنیا کے تمام مرد بھاگ بھاگ کر اس سعی کا اکرام کر رہے ہوتے۔ میں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی حضرت ھاجرہؑ کے کردار کو سوچتی چلی جاتی۔ وہ تمام نعمتیں جو ان کے ذریعے ہمیں ملیں، ان میں ایک زم زم بھی ہے، جو دوا بھی ہے، سیرابی بھی اور شفا بھی۔ اس کے فضائل اتنے ہیں کہ جس نیت سے استعمال کریں وہی حاصل ہوتی ہے اور حضرت عبداللہ اسے قیامت کے دن حشر کے میدان کی پیاس سے بچنے کی دعا کے ساتھ پیتے۔

یہ بھی پڑھیں:   پچاس روپے میں عمرہ - انجینئر افتخار چودھری

سعی کے چوتھے چکر میں جب مروہ سے صفا کی جانب جا رہے تھے تو درمیان میں سیڑھیوں کے پاس ایک وہیل چیئر رکھی تھی۔ صاحب نے بیٹے سے کہا ذرا دیکھنا کسی کی تو نہیں ہے؟ ہم جب تک وہاں پہنچے اسے کسی نے نہ لیا بلکہ جو لوگ اس کے پاس بیٹھے تھے وہ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ ہم نے دیکھا تو اس کے سائیڈ پر لکھا تھا ’’وقف للحرمین الشریفین‘‘، بس اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے میں اس پر بیٹھ گئی اور باقی کی سعی آسان ہو گئی۔ اب گزشتہ سب دعاؤں کے ساتھ ان کے لیے خاص دعائیں بھی تھیں جو اس کرسی کو دھکیل رہے تھے، خاص طور پر بیٹے کے لیے جو دوہرا اجر کما رہا تھا۔ پھر اس عطیۂ حرم کو ہم نے اگلے دن تک استعمال کیا۔ ہمارے بیٹے کو بار بار احساس ہو رہا تھا کہ اسے حرم سے باہر نہیں لے جانا چاہیے۔ اسے بھی تسلی دلائی کہ یہ اللہ کے مہمانوں کے لیے عطیہ ہیں، استعمال کریں اور چھوڑ دیں۔

ہم حرم سے باہر نکلے، ٹیکسی لی اور شاہراہ الھجرہ کی جانب رخ کیا۔ اندازے کے مطابق ہوٹل کے قریب ایک پاکستانی ریستوران کے سامنے ٹیکسی سے اتر گئے۔ ناشتا لیکر ہوٹل کی جانب چلے مگر معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارا ہوٹل نہیں ہے۔ گتا نما ٹرے سے چائے کے چار کپ الٹ کر سڑک پر گر چکے تھے اور ہم ’’جواہرۃ القصر الابیض‘‘ ڈھونڈ رہے تھے۔ ایک ٹیکسی والے کو ہوٹل کا کارڈ دکھایا تو وہ بولا، اس پر تو ان کے ہوٹلوں کی پوری چین کے نام ہیں، آپ نے کس والے میں جانا ہے؟ اس صبح مٹر گشت کرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ مکہ میں ہوٹلوں کی کثرت کے ساتھ ناموں کی مماثلت بھی کافی زیادہ ہے۔ کوئی منارۃ قصر الابیض ہے تو کوئی جواہرۃ القصر الابیض اور اسی سے ملتے کئی نام۔ ہم نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا تو بہت سے ہوٹل ’’وائیٹ ہاؤس‘‘ تھے، امریکہ کا وائیٹ ہاؤس اس سے زیادہ پر تعیش ہو تو بھی ان قصر الابیض کی شان اس سے کہیں زیادہ تھی۔ ان میں اللہ کے مہمان ٹھہرتے ہیں۔ ہم انہیں سوچوں میں گم تھے جب صاحب نے ٹیکسی روکی اور اس نے کچھ نشانیاں پوچھ کر ہمیں ہمارے ’’قصر الابیض‘‘ میں پہنچا دیا۔

چند گھنٹے بعد ہم پھر جمعہ ادائیگی کے لیے حرم کے باہر موجود تھے، اندر جانے کی گنجائش موجود نہ تھی۔ اس لیے ہم نے صحن میں ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا۔ جمعہ ادائیگی کے بعد ہمارے بھانجے مجاہد اور ان کی بیگم حرا سے بھی ملاقات ہو گئی، ہم رات تک اکٹھے رہے، رات گئے مجاہد نے ہمیں ٹیکسی لے دی اور اپنے طور پر اسے بہت اچھی طرح راستہ سمجھا دیا۔ ڈرائیور نے اس وقت تو سر ہلا دیا، مگر راستے کی بھول بھلیوں میں ہوٹل پھر گم ہو چکا تھا۔ ڈرائیور جو شاہراہ الھجرۃ پر پہنچ کر راستہ پوچھ رہا تھا، بیٹے نے ہمیں نیند سے اٹھایا: ’’امی جان اسے راستہ بتا دیں، ذرا بتا تو دیں رائٹ ہینڈ کو کیا کہتے ہیں؟ ہم نیم غنودگی میں بولے: سیدھے ہاتھ! اور وہ سر پکڑ کر بولا:’’ اماں جی، عربی میں‘‘ ہمارے عربی جواب سے پہلے ڈرائیور خود ہی ایک جانب مڑ چکا تھا، کیونکہ ٹریفک کی روانی میں خلل آرہا تھا، آخر کار بس گروپ کے ایک ساتھی کو صاحب نے فون کیا تو انہوں نے ڈرائیور کو سمجھایا، یوں ہم رات گئے منزل پر پہنچے۔

اگلی صبح فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد مدینہ کی جانب سفر شروع ہوا۔ بس فراٹے بھرتی مدینہ کی جانب جا رہی تھی اور ہمارے دل خوشی سے سرشار! جس قدر درود و سلام کا ہدیہ پیش کر سکتے تھے، اسی جانب متوجہ تھے۔ درمیان میں کچھ دیر آرام بھی کیا، بس راستے میں دو مقامات پر رکی اور ضروریات کی ادائیگی کے بعد پھر بس چل پڑی۔ مدینہ آنے سے پہلے ہی اس کی خوشبو دل و دماغ کو معطر کر رہی تھی۔ ظہر کی نماز کے وقت بس نے حرم ِ نبوی کے بالکل قریب اتارا، اذان ہو چکی تھی۔ قدم تیزی سے صحن ِ مسجد کی جانب گامزن تھے۔ بمشکل صحن میں پہنچے تھے کہ اقامت اور پھر جماعت شروع ہو گئی، جو باوضو تھے وہ پہلی رکعت ہی میں شامل ہو گئے۔ نماز ِ ظہر کی ادائیگی کے بعد باب عثمان بن عفان سے مسجد ِ نبوی میں داخل ہوئے، بس سے اترتے ہوئے جو ہدایات دی گئی تھیں، ان میں نماز کی ادائیگی کے کچھ دیر بعد کھانے اور پھر واپسی کا پروگرام تھا۔ مسجد ِ نبوی کی اپنی ہی ایک تاریخ تھی۔ اتنی محبت سے بنائی گئی مسجد نے ہر دور میں محبت ہی کے مناظر دیکھے ہیں۔ ہر جانب حسن ہی حسن اور درو دیوار سے ٹپکتا نور! دل چاہتا تھا بس ہماری پیشانی ہو اور حرم ِ نبوی کی سرزمین ہو۔ رب سے مناجات کا اس سے بہتر موقع کہاں ملتا؟ اتنے تھوڑے سے وقت میں کیا کیا کیا جائے؟ اللہ تعالی ہر لمحہ کے اجر کو بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے اور بار بار حرمین کی جانب لے کر آئے۔ ہر بار شوق ِ ملاقات پہلے سے دو چند ہو جائے اور اللہ ہمیں اپنے قلیل لوگوں میں شامل کر لے، آمین!

وقت ہمارے ہاتھ سے پھسلا جا رہا تھا، کچھ دیر میں واپسی کا بلاوا آگیا، ہم صحن ِ مسجد میں پہنچے۔ گروپ منتظمین نے مزیدار بریانی اور ڈرنکس کا انتظام کر رکھا تھا۔ ہر خاندان کو ان کے افراد کے مطابق کھانا اور سفرہ (ڈسپوزیبل دسترخوان) دیا گیا۔ مزے دار کھانا تھا، ابھی کچھ ٹائم باقی تھا، ہمیں برقع لینا تھا، رضیہ بہن کی مہارت خوب کام آئی۔ روانگی کے مقررہ وقت سے پہلے ہم واپس آگئے تھے اور اب سفر کی آخری منزل شروع ہو گئی۔ مدینہ سے القصیم۔ بس میں بیٹھتے ہی اکثر مسافر نیند کی وادی میں کھو چکے تھے، بس پٹرول ڈالنے رکی تو کئی مسافر نیچے اترے۔ چائے، بسکٹ، ڈرنکس اور کئی لوازمات، بس چلنے کے بعد زادِ راہ کے کئی لفافے ڈھیلے ہو رہے تھے اور ان سے واپسی کی انٹرٹینمنٹ کا سامان نکل رہا تھا۔ کسی نے کھجوریں پیش کیں، کسی نے مٹھائی، کسی نے بسکٹ اور کچھ اور بھی، آنکھیں کھلیں تو گپوں کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ بچے بڑے سب ایک جیسے ہی ہو گئے، کسوٹی کھیل شروع ہوا اور پتا بھی نہ چلا کہ کب شخصیت بوجھتے بوجھتے فلمیں اور گانے بوجھنے پر آگئے۔ کئی مسافر اس بے مقصد ایکٹیوٹی پر بے چین ہو رہے تھے، ایک سٹاپ پر بس رکی تو ایک ذمہ دار نے ہولے سے ایک ساتھی کے کان میں سرگوشی کی۔ عمرہ سفر سے واپسی پر ایسے گیمز نہیں ہونے چاہیئیں اور یہ تذکیری پیغام ایک سے دوسرے تک بڑی سرعت سے پھیل گیا، بس دوبارہ چلی تو مسافر پھر سنجیدگی اختیار کر چکے تھے، دوبارہ ذکر ِ الہی کی جانب متوجہ تھے: ’’آئبون تائبون عابدون، لربّنا حامدون‘‘

عشاء کے بعد بس القصیم کی حدود میں داخل ہوئی تو بچوں کو یاد آرہا تھا کہ ان کا ہوم ورک ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ خواتین رات
کے کھانے کے لیے فکر مند تھیں اور چپکے چپکے انتظامات سوچے جا رہے تھے۔

یہ ایسا سفر تھا جو تا دیر یاد رہے گا، اترنے سے پہلے ایک دوسرے کا شکریہ اور آئندہ کے لیے ایسے ہی سفر کا عہد!

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.