سیریمونیل قوم - جہانزیب راضی

مجھ تک اللہ کے رسولﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا "قرآن کے ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ہیں اور میں نہیں کہتا ہوں کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔ " قرآن کی کل آیات کی تعداد 6666 ہیں۔ قرآن کی ہر آیت سراپا رحمت، مکمل شفاء اور سراسر برکت ہے۔ یہ قرآن کی آیات ہی تھیں جس نے عمر بن خطاب کو عمر رضی اللہ تعالی عنہ بنادیا۔ جس نے ولید بن مغیرہ کے چہرے کی رنگت کو تبدیل کروادیا۔ ابو جہل سمیت تین سرداران مکہ کو رات کے اندھیرے میں بستروں سے اٹھا کر رسول خدا کے حجرے تک پہنچا دیا اور آج چودہ سو سال سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود اس کے کسی حرف کی بناوٹ تک میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

کراچی کی کل آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق 1 کروڑ 49 لاکھ سے زیادہ ہے۔ شہر میں کم از کم 10 لاکھ مساجد تو ہوں گی۔ رمضان المبارک میں ہر مسجد میں ایک دفعہ تو پورا قرآن مکمل کیا ہی جاتا ہے۔ سینکڑوں مساجد اور مدارس ایسے ہیں جہاں الگ الگ تراویح ہوتی ہیں۔ گھروں میں پڑھائی جانے والی تراویح اس کے علاوہ ہے۔ دورۂ قرآن اور دروس قرآن کی صورت میں ہونے والی ہزاروں محفلیں اس پر مستزاد ہیں۔ میری عاجزانہ رائے میں صرف شہر کراچی میں رمضان المبارک میں 1 کروڑ سے زیادہ قرآن سنا، سنایا، پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔

میں آج تک حیران تھا کہ جس شہر میں ایک کروڑ دفعہ قرآن کی 6666 آیات سنی اور سنائی جاتی ہوں اس شہر میں رحمتوں اور برکتوں کا کیا حال ہونا چاہیے؟ اس شہر میں تو ہر لمحہ رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہوگا؟ قرآن تو مکمل شفاء ہے اور شہر میں بیماریوں کا خاتمہ ہوچکا ہوگا خواہ وہ ظاہری ہوں یا باطنی۔ قرآن کو بغیر وضو کے ہاتھ نہ لگانے والوں کے شہر میں صفائی کا کیا عالم ہونا چاہیے؟ لوڈ شیڈنگ، قتل و غارت، لوٹ مار، بے روزگاری اور ہر قسم کی مشکلات اور پریشانیاں جڑ سے ختم ہوچکی ہوں گی۔آپ ان سب کو بھی چھوڑیں کم از کم ہر انسان کو سکون، چین، خوشی اور اطمینان قلب تو ضرور ہی میسر ہوگا۔

لیکن آپ کمال دیکھیں ایک کروڑ سے زیادہ قرآن پڑھنے والے شہر کے اور شہریوں کے حالات رمضان سے پہلے اور رمضان کے بعد بھی یکساں رہتے ہیں۔ ان کے عمل میں چھوڑیں معمولات زندگی تک میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا :

رہ گئی رسم اذاں روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی

اس سب کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم "سیریمونیل قوم " بن چکے ہیں۔ ہم ہر چیز کو مناتے ہیں۔ ہم نے ہر عبادت اور ہر عمل کو "منانا" شروع کردیا ہے۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ محرم سے شروع کریں اور ذوالحجہ تک چلے جائیں آپ کو بات سمجھ آجائے گی۔

نوّے فیصد لوگوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ امام عالی مقام نے قربانی کیوں دی تھی؟ آدھی قوم کالے کپڑے بنانے اور محفلیں سجانے میں مصروف رہتی ہے تو آدھی قوم چھٹی "انجوائے" کرنے کے لیے تیار۔ ان رت جگوں میں رات بھر حلیم کی تیاری، شغل، مستی اور تفریح۔ باقی رہا وہ مقصد جس کے لیے امام حسینؓ نے اپنے خاندان کو کٹوا دیا۔ وہ مشن جو تاحال مکمل نہیں ہوسکا اس کی پروا کس کو ہوگی بھلا؟ کیونکہ ہمیں تو محرّم "منانے" سے مطلب ہے۔

آپ ربیع الاول کی مثال لے لیں۔ جو سال میں ایک نماز نہیں پڑھتے وہ بھی چوری کی بجلی سے گھر سجانا عین ثواب سمجھتے ہیں۔ جتنے موٹے اور بڑے اسپیکر کے ساتھ لوگوں کے کان پھاڑے جائیں گے اور لوگوں کی نیندیں حرام کی جائیں گی اتنا زیادہ " ثواب " سمیٹ لیا جائے گا۔ جس قوم کے پاس بجلی نہیں ہے۔ بارہ، بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہے وہ بھرپور کنڈے پر نبی ﷺ کی "سالگرہ" منارہی ہے۔ جہاں تک تعلق ہے نبی ﷺ والے اخلاق کا، کردار کا، ہمدردی و غمخواری کا عبادات میں خشوع و خضوع کا تو اب اس کو منایا تو جاسکتا نہیں، اس لیے اسی پر اکتفاء ہے۔

جب سے قربانی کا سلسلہ جاری ہے تب سے آج تک شاید کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ قربانی کو ایسے بھی "سیلیبریٹ" کیا جاسکتا ہے۔ راتیں کالی کر کے، نمازوں کی قربانی دے کر اور انسانیت کو تکلیف پہنچا کر کونسی "سنت ابراہیمی" پوری ہورہی ہے؟ کم از کم میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ پھر اسی جانور کی اوجڑی، اس کی سری اور اس کا پیٹا گلی محلوں میں "سجا" کر صفائی نصف ایمان ہے کی "عملی مثال" کا مظاہرہ کرنا کون سے ثواب کا باعث ہے؟ میں نہیں سمجھ سکا ہوں۔

اور اب س مقدس مہینے کا دیوالیہ پوری قوم مل کر نکالنے والی ہے۔ ہم ویسے بھی رمضان عامر بھائی، فہد مصطفیٰ اور ساحر لودھی کو "کانٹریکٹ" پر دے دیتے ہیں۔ شائستہ واحدی سے عین اُن کی عدّت کے دوران عدّت پر پروگرام کرواتے ہیں۔ وینا ملک کے ساتھ پوری قوم مل کر استغفار کرتی ہے۔ سحری سے لے کر افطاری تک دوپٹہ اوڑھ کر بے ہودگی مچائی جاتی ہے اور افطاری کے بعد اس کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی جاتی ہے۔ 24 گھنٹے ایمان "تازہ" کرنے والی اور نہ ختم ہونے والی طویل ترین رمضان ٹرانسمیشن جاری رہتی ہیں۔ رمضان کی راتوں میں قیام اللّیل کا مطلب ویسے بھی شاید نائٹ میچز کی سیریز لے لیا گیا ہے (نعوذ باللہ)۔رات بھر "گیدرنگز" اور ہوٹلوں پر "بیٹھکیں" لگتی ہیں۔

رمضان کے دن کم پڑ جاتے ہیں لیکن افطار پارٹیوں کے نام پر تفریح ختم ہونے میں نہیں آتی ہے۔ جس طرح "ایمان اور احتساب" کے ساتھ ہم رمضان گزارتے ہیں۔ اس کے بعد اسی ایمان کی توقع رکھنی بھی چاہیے جتنا ہمارے پاس ہے اور یہ بھی باقی ہے اس پر شکر بھی ادا کرنا چاہیے۔

ہم عجیب لوگ ہیں ہم نے پیدائش سے لے کر موت تک کو منانے سے نہیں چھوڑا۔ ختنہ اور عقیقے تک کے کارڈز چھپوائے جارہے ہیں۔ مرنے والا اپنے اعمال لے کر چلا گیا لیکن سوئم، دسواں، چالیسواں، برسی اور عرس کے نام پر ہم نے خرافات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

سیدھے سادے الفاظ میں ہم نے اپنے بچے کچھے اور کیے کرائے اعمال کو غارت کرنے اور نیکی کے نام پر گناہ سمیٹنے کا ہر موقع حاصل کرنے کی ٹھان لی ہے۔ انسان گناہ کے احساس کے ساتھ گناہ کرے سمجھ آتی ہے لیکن نیکی کے احساس کے ساتھ گناہ کرے اور اس کے لیے دلائل اور حجتیں پیش کرے سمجھ سے بالا ہے۔ ہم اپنی اسلامی عبادات اور تہواروں تک کا وہی حشر کر رہے ہیں جو ہم 5 فروری، 23 مارچ، یکم مئی اور 14 اگست کا پہلے ہی کر چکے ہیں۔ خدارا! اپنے اور لوگوں کے ایمان کی حفاظت کیجیے۔ اعمال ضائع ہونے سے بچائیے۔ عبادات تھوڑی کریں لیکن روح کے ساتھ کریں یہ اللہ کو زیادہ عزیز ہے۔