بھائی لائیکس نہیں آرہے – محمد جمیل اختر

گلی کے نکڑ پر دودھ دہی کی دکان ہے، ایک روز صبح صبح دہی لینے وہاں گیا تو دیکھتا ہوں کہ دکاندار جو پچیس، تیس سال کا نوجوان ہے، سر پکڑ کر بیٹھا ہے۔ پریشانی اس کے چہرے سے عیاں ہے

پوچھا "خیریت ہے؟"

" جی جی سب خیریت ہے، لیکن کچھ گڑبڑ ہے۔"

" کون سی گڑ بڑ؟" میں نے پوچھا

" یہ سب کچھ میرے گاؤں کے ایک دوست کا کیا دھرا لگتا ہے، اس نے ہی یہ گڑبڑ کی ہے، قصور بھی تو میرا ہے میں نے اسے اپنا موبائل دیا ہی کیوں؟"

" بھئی کچھ تو بتاؤ ہوا کیا ہے؟ "

" بھائی فیس بک پر لائیکس نہیں آرہے، ایک گھنٹہ ہوگیا ہے تصویر لگائے۔ یہ دیکھیں کوئی لائیک نہیں نا؟ یہ سب کچھ میرے دوست کا کیا دھرا ہے، اس نے کچھ گڑبڑ کی ہے۔"

یہ کہہ کر وہ دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا۔

کیا آپ کو بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے آپ کی زندگی کو ایسے ہی گھیر رکھا ہے؟ لائیکس اور کمنٹس کی زیادتی یا کمی آپ کو خوشی یا دکھ دیتی ہے؟

سوشل میڈیا نشوں میں ایک نیا نشہ ہے جو دھیرے دھیرے آدمی کو حقیقی دنیا سے الگ کردیتا ہے اور آدمی اپنی خوشیاں سوشل میڈیا کے لائیکس اور کمنٹس میں ڈھونڈتا ہے۔

ایک طالب علم کو میں نے دیکھا کہ اس نے امتحانات کے دوران اپنا فیس بک اکاؤنٹ بند کردیا تھا اور جب ایک ماہ بعد اسے دوبارہ کھولا تو وہ اتنا بے قرار تھا کہ وہ اگلے دو دن تک نہ سویا، تیسرے دن میں نے اسے کمپیوٹر کے ساتھ ٹیک لگائے سوتے دیکھا۔ اس کا کہنا تھا کہ زندگی میں کچھ مسنگ تھا، معلوم نہیں یہ کیا ہے لیکن کچھ کمی تھی۔ کیا آپ کو بھی سوشل میڈیا سے دوری سے زندگی میں کچھ کمی محسوس ہوتی ہے؟

آج کل لوگ اتنی زندگی جی نہیں رہے کہ جتنی تصویروں میں محفوظ کررہے ہیں اور اس تصویر کا بھلا کیا فائدہ اگر اسے سوشل میڈیا پر نہ لگایا جائے اور کچھ لائیکس اور کمنٹس نہ بٹورے جائیں؟ باغوں، ہوٹلوں، حتیٰ کہ عبادت کرتے ہوئے بھی تصاویر لی جاتی ہیں اور انہیں لائیکس اور کمنٹس کے لیے سوشل میڈیا پر لگایا جاتا ہے۔

آپ نے یقیناً دیکھا ہوگا کہ آج کل عموماً لوگ جہاں ہوتے ہیں وہ دراصل وہاں نہیں ہوتے، لوگ گھنٹوں ایک دوسرے کے پاس بیٹھے رہتے ہیں لیکن وہ وہاں صرف جسمانی طور پر موجود ہوتے ہیں ورنہ ان کا دماغ لگاتار سوشل میڈیا پر لوگوں کے لائیکس اور کمنٹس دینے میں گم ہوتا ہے۔

اب لمبی لمبی گفتگو اور پوری توجہ سے ایک دوسرے کی بات سننا اور کہنا قصہ پارینہ بن کر رہ گیا ہے۔ طالب علم استادوں کی بات بھی پوری توجہ سے نہیں سنتے کہ وہ بھی کتابوں کے اندر "کتاب چہرہ" کھول کے بیٹھے ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے انسان کا طرز زندگی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، جدید دور میں پیدا ہونے والے بچوں کو شاید اس تبدیلی سے اتنا فرق نہ پڑے لیکن وہ لوگ جو زندگی کا ایک حصہ سوشل میڈیا سے پہلے بھی گزار چکے ہیں ان کے لیے یہ تبدیلی ایک دکھ ہے کہ وہ اس وقت کا اپنے گزشتہ وقت سے موازنہ کرتے رہتے ہیں اور اپنا جی جلاتے ہیں لیکن وہ سوشل میڈیا کے اس چنگل سے خود بھی نہیں نکل پاتے۔