کچھ سائنسی مغالطے (1) - ضیغم قدیر

خلا میں جسم کا پھٹ جانا

اس بات کو اکثر سائنس کے طلبا بھی سیریس لے لیتے ہیں کہ خلاء میں مخصوص لباس پہنے بغیر جانے پر ہمارا جسم پھٹ جاتا ہے جو کہ قطعی طور پر غلط تصور ہے۔ اس تصور پر بات کرنے والے کہتے ہیں کہ خلاء میں زیرو پریشر ہے اس لیے ہمارا جسم پھٹ سکتا ہے جبکہ اس سب کے دوران وہ ہمارے جسم کی لچک کو بھول ہی جاتے ہیں حتیٰ کہ ہمارے جسم کی رگوں کی لچک کو بھی اور کہتے ہیں کہ زیرو پریشر میں رگیں پھٹ جاتی ہیں جوکہ قطعاً اک غلط مفروضے پر مبنی ہے۔

اس بات کو کنفرم کرنے کے واسطے جب 1966 میں مختلف تجربات کیے گئے تو یہ بات واضح ہوئی کہ زیرو پریشر پر ہمارا جسم elasticity کی وجہ سے نہیں پھٹ سکتا۔ البتہ ہمارا بیرونی فلوئڈ والی جگہوں سے فلوئڈ(مادہ) اڑ جاتا ہے جس میں آنکھوں کا پانی اور لعاب (تھوک) شامل ہیں جن کا واسطی ڈائریکٹ بیرونی ماحول سے پڑتا ہے۔

خلاء میں جسم کا جم جانا

یہ مفروضہ بھی غلط ہے کہ خلا میں جسم جم جاتا ہے جو کہ بذات خود خلاء کی تعریف پر پورا نہیں اترتا جبکہ خلاء نام ہی کسی بھی مادہ/شے/وجود کے نا ہونے کا ہے تو ایسے میں وہاں ٹمپریچر کیسے سفر کرسکتا ہے؟ کیونکہ ٹمپریچر کو سفر کرنے واسطے کسی میڈیم کی ضرورت ہوتی ہے اور خلاء بذات خود خالی ہے تو ایسے میں آپ کا جسم خلا میں حرارت کو کیسے ٹرانسفر کرے گا/یا کھو دے گا؟

سنا تو خلاء میں جم سکتا ہے اور نا ہی نارمل سے بڑھ سکتا ہے ہاں اگر آپ کا exposure قریبی سامنا سورج یا دوسرے ستارے کی گرم روشنی (الٹراوائلٹ ویوژ آف لائٹ) سے ہوجائے تو آپ جل کر بھسم ہوسکتے ہیں

انسان بندر سے بنے ہیں

یہ بھی ایک misconception ہے کہ انسان بندر سے بنے ہیں۔ ایسا حوالہ آپ کو نا تو ایولیوشن سے ملے گا اور نا ہی بائیولوجی سے کہ انسان بندر سے بنے ہیں یہ سب کچھ خاص طبقات کی طرف سے کم انفارمیشن اور منفی پراپیگنڈہ کی وجہ سے پھیلایا گیا ہے جبکہ اس بارے نظریہ ارتقا یہ کہتا ہے کہ انسان اور بندروں نے ایک مشترکہ Ancestor سے ارتقا کیا جس کا مطلب صاف واضح ہے

ہم اپنا دماغ دس فیصد سے کم استعمال کرتے ہیں

یہ بھی ایک غلط مفروضہ ہے کہ ایک عام انسان اپنا دماغ پانچ فیصد اور سائنسدان چھ سے سات فیصد استعمال کرتے ہیں اور فلاں سائنسدان نے اپنا دماغ دس فیصد استعمال کیا تھا۔ اصل میں ایسی باتیں کرنے والے لوگ اپنا دماغ بھی نہیں استعمال کرتے۔ اس بارے نیوروسائنس کہتی ہے کہ ہر انسان اپنے دماغ کا پورا پورا استعمال کرتا ہے (بشرطیکہ اس کی مرضی ہو) اور بعض مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں ایک انسان اپنے دماغ کا سو فیصد تک استعمال کرتا ہے یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ دماغ پرسنٹیج کے لحاظ سے نہیں بلکہ بندے بندے کے استعمال کے لحاظ سے چلتا ہے۔