عالمی اداروں کا دہرا معیار - علی حسن کریمی

پاکستان نے اپنے وجود میں آنے کے بعد بہت سے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کیا ہے اور ہر مشکل میں پاکستانی عوام اور پاک فوج کا پختہ اور مضبوط کردار رہا ہے۔ چاہے وہ پاکستان کے سرحدی محاذ ہوں یا پھر ملک کے اندرونی حالات، دشمنان پاکستان کی تمام ترسازشوں کے باوجود آج بھی پاکستان اپنے وجود کے ستّر سے زیادہ سال مکمل کر چکا ہے۔ اپنے قیام کے اوّل دن سے ہی پاکستان دنیا میں امن نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنا اور دنیا بھر میں امن و امان کے لیے اس نے واضح کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جس نے دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنی فوجیں بھیجی ہیں۔ اپریل 2017 کی رپورٹس کے مطابق پاک مسلح افواج کے 7111 فوجی جوان اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل ہیں۔ لیکن عالمی اداروں کا دہرا معیار ہمیشہ سے ہی قائم ہے، کبھی پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرکے تو کبھی پاکستان کے امن پسند لوگوں پر پابندیاں لگا کر اور کبھی مسئلہ کشمیر پر خاموش تماشائی بن کر عالمی ادارے اپنی ڈھٹائی کا ثبوت دیتے رہے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی لہر کا آغاز 2009 میں راولپنڈی واقعے کے بعد سے ہوا جب انتہا پسند عناصر قبائلی علاقہ جات میں جا بیٹھے اور پھر وہاں سے دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان میں زور پکڑا۔ کئی ہزار پاکستانی شہداء کے بعد پاکستان نے خطہ میں امن بحال کیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 2003 سے 2018 تک 50000 لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانی و مالی قربانیاں دیں جس میں پاک افواج، پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کے شہداء بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تحریک طالبان پاکستان کا نام سر فہرست ہے، اس دہشت گرد تنظیم پاکستان میں کئی دہشت گردی کی کاروائیاں کیں جن میں پشاور اسکول حملہ بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کمزور کو جینے کا حق ہے - حبیب الرحمٰن

"جماعت الاحرار" تحریک طالبان سے 2014 میں الگ ہوئی اور بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق اس گروہ نے داعش کی بیعت کی تھی اور بعض کے مطابق فقط اس کا اظہار کیا تھا۔ مارچ 2015ء میں جماعت کے ترجمان نے تحریک طالبان پاکستان ميں شمولیت کا اعلان کردیا تھا۔

پاکستان نے دہشت گرد تنظیم ’جماعت الاحرار‘ کے سربراہ عمر خالد خراسانی کا نام اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست جمع کروائی تھی جس کو امریکہ کا مسترد کردینا ان کا دہرے معیار کا کھلا ثبوت ہے۔ امریکہ کے ایسے اقدام انسداد دہشت گردی کی بین الاقوامی لڑائی میں پروان چڑھتے دہرے معیار کو ظاہر کرتے ہیں اور اس سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف نہ کرنے کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ اس بات پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے کے جماعت الاحرار پاکستان میں 2014 میں اپنے قیام کے بعد 150 سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے اور ان واقعات میں ہزاروں بے گناہ افراد شہید ہوئے جبکہ یہ بات بھی واضح رہے کہ عمر خالد خراسانی دسمبر 2014ء میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا منصوبہ ساز بھی ہے۔

امریکہ ایک طرف تو پاکستان کو امن و امان اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا کہتا ہے اور دوسری جانب اس کا یہ رویہ قابل افسوس اور دنیا کے لیے امریکہ کے کردار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔