”خصوصی پیکیج“ - احسان کوہاٹی

سیلانی آپ کو کوئی طعنہ نہیں دینا چاہتا، طنز کا کوئی نشتر نہیں چبھونا چاہتا، اس کا فائدہ بھی تو نہیں۔ سیلانی کو لفظوں کی نوکیں چھیل چھیل کر اس قوم کے حکمرانوں، سیاستدانوں، نگہبانوں اور ”بے توقیر“ رعایا کو چبھوتے ہوئے دو دہائیاں ہو رہی ہیں۔ بیس برس پہلے اگر قوم غنودگی کی کیفیت میں تھی تو اب حالت بھنگ میں ہے۔ قومی غیرت، حمیت صرف اردو ڈکشنری بورڈ کی لغت میں سفید کاغذوں میں قید ملیں تو ملیں، یہ خصوصیات نادرا کا شناختی کارڈ رکھنے والے کسی بندے کے پاس شاید ہی ہوں۔ اب ایسی قوم کے کسی بچے کی کوئی بدمست گورا جان لے لے تو اس قوم پر کیا فرق پڑنا ہے؟ نہ اس قوم پر اور نہ اس قوم کے کرتا دھرتاؤں پر۔

صاحب بہادر، ذی وقار محترم مکرم کرنل جوزف ایمانویل کی فوجی ہوائی اڈے سے اڑان کی خبر نے سیلانی کے لبوں پر تیکھی سی مسکان بکھیر دی تھی۔ اس نے ”سکھ“ کا سانس لیا کہ اشرافیہ اور عوامیہ کے بارے میں اس کی رائے کی میعاد قبل از وقت ختم نہیں ہوئی۔ وہ انہونی اک کچا خواب تھا، ورنہ ہم میں یہ مجال کہاں کہ کسی امریکی کی راہ روکیں؟ اس کے سامنے آئیں، وہ دراصل غلط فہمی تھی، جسے سیلانی اور سیلانی جیسوں نے کچھ اور سمجھا تھا۔ امریکہ نے پاکستان میں اپنے ملٹری اتاشی کرنل جوزف ایمانویل کو لے جانے کے لیے خصوصی طیارہ روانہ کیا، جس نے شہر اقتدار میں لینڈ کیا، عتیق بیگ نامی نوجوان کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے والے ملزم کرنل جوزف نے طیارے میں سوار ہونے کی کوشش کی، مگر اسے منع کر دیا گیا، معذرت کر لی گئی کہ آپ نہیں جا سکتے۔

اس خبر کو سادہ لوح دوستوں نے انقلاب کی نوید سمجھ لیا، ایک محب وطن پاکستانی چوہدری منور زمان نے تو گیراج میں کھڑی جیپ تک نکال لی اور چھت پر رکھے غوری میزائل کے ماڈل کی جھاڑ پونچھ بھی شروع کروا دی کہ وقت آ گیا ہے کہ ”غوری“ کو جیپ پر لگا کر اونچی اونچی آواز میں رزمیہ ترانے سنا کر جذبہ حب الوطنی کو مہمیز دی جائے۔ اس نے کانپتی آواز میں سیلانی سے خبر کی تصدیق چاہی۔ اس وقت حیرت زدہ سیلانی کے پاس اثبات ہی میں جواب تھا۔ سیلانی کے پاس یہی اطلاعات تھیں کہ ایسی ہی انہونی ہوئی ہے، سیلانی کی تصدیق پر چوہدری صاحب نے ایک نعرۂ مستانہ بلند کیا اور لائن کاٹے بغیر ملازمین کو جیپ سروس اسٹیشن اور ”غوری“ کو مٹھو ڈینٹر پینٹر کی دکان پر لے جانے کی ہدایات دینے لگے۔

یہ واقعی انہونی ہی تھی کہ غلاموں نے آقا کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا، اسے ٹکا سا جواب دے دیا تھا کہ آپ پاکستان سے باہر نہیں جا سکتے، آپ پر مقدمہ ہے، اس کا سامنا کریں۔ سیلانی کو رہ رہ کر لگ رہا تھا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے، اس طرح بھلا کیسے ہو سکتا ہے؟ اسے ریمنڈ ڈیوس کیس یاد تھا، اس نیلی آنکھوں والے بلیک واٹر کے ایجنٹ نے دن دیہاڑے روڈ پر دو نوجوان مار دیے تھے، اس طرح تو کوئی اپنے گھر میں گھسنے والے جانوروں کو بھی نہیں مارتا، جیسے اس نے سات سمندر پار دوسرے ملک میں اسی ملک کے دو شہری فائرنگ کرکے مار دیے تھے۔ تب بھی ہماری غیرت کو بڑے ابال آئے تھے۔ معاملہ دوسرے شہر لاہور کا تھا، اس لیے سیلانی تک پہنچنے والی معلومات کا بڑا حصہ میڈیا ہی سے آتا تھا۔ البتہ وہ کراچی میں مقتول کے بھائی کی پریس کانفرنس میں خود موجود تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے گھر میں ہونے والی اس پرہجوم کانفرنس میں مقتول کے نوجوان بھائی نے غیرت ٹپکاتے ہوئے پرعزم لہجے میں کہا تھا کہ وہ اپنے بھائی کا خون نہیں بیچیں گے، خون کا بدلہ صرف اور صرف خون ہے۔ ہاں! بات کرنی ہے تو ڈاکٹر عافیہ کے بدلے ریمنڈ ڈیوس کی کریں۔ اس وقت بھی سیلانی کے کچھ کچھ ایسے ہی محسوسات تھے، اسے لگ رہا تھا برسوں سے سوئی ہوئی قومی غیرت یکدم جاگ اٹھی ہے۔ اخبارات میں روز ہی ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے شہ سرخیاں لگتیں، سیاستدانوں کے بیانات شائع ہوتے، ایک سے بڑی ایک گاڑی میں سیاست دان اس طرح مقتولین کے گھر تعزیت کے لیے پہنچتے کہ تاخیر ہوئی تو نکاح نہ فسخ ہو جائے اور پھر ایک دن اسی طرح ریمنڈ ڈیوس ہمارے چہروں پر مارے جانے والے نوجوانوں کا خون مل کر اڑان بھر گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کمزور کو جینے کا حق ہے - حبیب الرحمٰن

کرنل جوزف کی ایئرپورٹ سے واپسی کو بمشکل ایک دن ہی گزرا تھا کہ ”خلافت عباسیہ“ کی ٹانگیں لڑکھڑا گئیں۔ خدا جانے واشنگٹن سے آنے والی کالز میں ایسا کیا تھا کہ کرنل صاحب کو پورے عزت و احترام کے ساتھ خصوصی طیارے میں بٹگرام روانہ کر دیا گیا۔ مقدمہ، عدالتی احکامات، ایگزٹ کنٹرول لسٹ دھری کی دھری رہ گئی، سب دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ چرب زبان نیوز اینکروں نے لفظ چبا چبا کر خبریں پڑھیں، سیاسی تماشے لگانے والوں نے دو اپوزیشن اور ایک حکومتی پارٹی کا بندہ پکڑ کر چالیس منٹ کا پروگرام کرکے اپنا فرض ادا کیا اور میاں نواز شریف کے بیانیے کے نئے معنے تراشنے لگ گئے۔

شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کسی بھی ریاست کا اولین فرض ہوتا ہے، اس کا پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات رکھنے والے شہری ریاست کا دل ہوتے ہیں۔ سیلانی کو یاد ہے کہ آسڑیا نے ترک شہریوں کی ایئرپورٹ پر سخت تلاشی لینے کا سلسہ شروع کیا تو جواب میں ترکوں نے کمال اتاترک ایئرپورٹ پر کتوں کے ساتھ آسٹریا کے شہریوں کا استقبال شروع کردیا۔ ایک دوست نے تو ترکی سے وہ فوٹیج کلپ بھی سیلانی کو ارسال کر دیے تھے، جس میں آسٹریا سے آنے والے ”معزز“ سیاحوں کو کتے زبان نکال نکال کر سونگھ رہے تھے، ان کے سامان پر پنجے مار رہے تھے۔ ہمارے لہو کو گھٹیا بیئر سے بھی سستا سمجھنے والے اسی امریکہ نے پچیس جنوری 1993ء کو سی آئی اے کے دو ایجنٹوں کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والے ایمل کانسی کو 1995ء میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ہوٹل سے ڈھونڈ نکالا تھا۔ ایف بی آئی نے اپنے شہریوں کے قاتل کی مشکیں کسیں اور امریکہ لے جا کر عدالت میں پیش کر دیا، جہاں 14 نومبر 2002ء کو انجکشن سے اس کے جسم میں زہر اتار کر سزائے موت دے دی گئی۔ ایمل کانسی نے اسلام دشمن امریکی پالیسیوں پر سی آئی اے ہیڈکوارٹر کے سامنے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا، امریکہ ان اہلکاروں کے لہو کو نہیں بھولا، وہ ایمل کانسی کا تعاقب کرتا رہا اور پانچ برس بعد اسے پاکستان سے اچک کر دنیا کو بتا دیا کہ ریاست ماں اور شہری اس کے بچے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کمزور کو جینے کا حق ہے - حبیب الرحمٰن

ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں بھی امریکہ نے اپنے شہری کو بے یارومددگار نہ چھوڑا۔ کرنل جوزف تو پھر ملٹری اتاشی تھا، کیسے ممکن تھا کہ امریکہ اسے چھوڑ دیتا، جب کہ اس کے پاس سفارتی استثنیٰ کی چھتری بھی تھی؟ امریکہ اسے مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر لے گیا۔ ملزم کرنل کو اسلام آباد ایئر پورٹ کے مقابلے میں پاکستان ایئر فورس کے زیادہ محفوظ نور خان ایئر بیس پر لایا گیا اور محفوظ سفر کی نیک خواہشات کے ساتھ خصوصی طیارے میں روانہ کر دیا گیا۔ کرنل کی فلمی روانگی کی خبروں کے بعد ایک بار پھر چوہدری منور زمان سیلانی کے سیل فون پر اس کی سماعتوں میں کھولتا ہوا غصہ انڈیل رہا تھا ”سیلانی بھائی! بے غیرتی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے یا یہ بھی جہنم کی طرح بے حساب ہے؟ میں تو کہتا ہوں آپ حکومت کو مشورہ دیں کہ بڑے بڑے اخباروں میں انسانی شکار کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دے، لکھیں کہ انسانوں کے شکار کے شوقین ہم سے رابطہ کریں، سفارتی استثنیٰ والوں کے لیے خصوصی پیکیج ہے۔“

دل جلا چوہدری کھولتے ہوئے لہجے میں دل کی بھڑاس نکالے جا رہا تھا اور سیلانی کان اور کاندھے میں فون دبائے سوشل میڈیا پر کرنل جوزف کی روانگی پر تبصرے بھی پڑھ رہا تھا، ساتھ میں چوہدری کی جلی کٹی بھی سن رہا تھا۔ چوہدری کہہ رہا تھا: ”میں نے ”غوری“ کو پینٹر سے واپس منگوا کر دوبارہ چھت پر ڈلوا دیا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ میری حیاتی میں دوبارہ اسے اتارنے کی ضرورت پڑے گی“۔

”چوہدری صاحب! جو قوم ڈالروں کے عوض بیٹے بیٹیاں امپورٹ کرے، جس کے سر پر قرضے کی گٹھڑی اور پاؤں میں سود کی زنجیر ہو، اس سے کس غیرت کی توقع؟ اور خدا کے لیے یہ اشتہار والا آئیڈیا کسی سے ڈسکس نہ کرنا، ادھر آپ نے یہ آئیڈیا لیک کیا نہیں اور ادھر گوروں کے اخباروں میں اشتہار چھپے نہیں۔“ چوہدری صاحب ٹھنڈی سانس لے کر سوئی ہوئی قوم کے بے حمیت حکمرانوں پر خالص پنجابی میں لعنت ملامت کرنے لگے اور سیلانی سیل فون کان سے لگائے سوشل میڈیا پر میاں صاحب کے بیانیے کے حق اور مخالفت میں آستینیں چڑھائے گفتار کے فائٹروں کو لفظوں کی گولہ باری کرتا دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.