تولے گئے، ہلکے ثابت ہوگئے - محمد عامر خاکوانی

پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ خاکسار کسی پر غداری کا لیبل لگانے کے قطعی حق میں نہیں۔ یہ ہمارا کام نہیں۔حب الوطنی یا غیر محب الوطن کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا اخبار نویسوں کا معاملہ ہرگز نہیں۔ اس کے لیے ادارے موجود ہیں، عدالتیں آزاد اور نہایت فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ کسی پر الزام ہے تو قوانین موجود ہیں، ان کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے، عدالت ہی الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین کر سکتی ہیں۔ صحافیوں کو اس بلیم گیم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ہاں! ایشوز پر اپنا نکتہ نظر بیان کرنا چاہیے۔

یہ چند سطری تمہید میاں نواز شریف کے انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو کے تناظر میں آئی۔ پچھلے دو دن صدمے میں گزرے۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ شخص جسے مملکت خداداد پاکستان کا تین مرتبہ وزیراعظم رہنے کا اعزاز ملا ہو، جس کا خاندان ابھی تک اقتدار میں ہو، پینتیس سال جس کے سیاست میں گزرے ہوں، وہ اس قدر غیر ذمہ داری کیسے برت سکتا ہے؟ایسا مگر ہوا۔ غیر جانبداری سے ہم ایشو کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں تو چند سوالات سامنے آتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ بیان یا انٹرویو حقیقت میں دیا گیا یا اسے مبالغہ آمیزی کے ساتھ توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ پھر یہ کہ نیت کیا تھی؟ جو بات کہی گئی وہ درست ہے یا غلط؟ ہدف کیا تھا؟ مضمرات کیا نکلیں گے؟ کیا اس ایشو میں صرف بات کہنے والا مجرم ہے یا اور بھی کردار ہیں؟ ان تمام پر اختصار سے بات کرتے ہیں۔

یہ تو اب ہر ایک پر واضح ہوچکا کہ میاں نواز شریف نے وہ انٹرویو انگریزی اخبار کے رپورٹر کو دیا تھا۔ جب یہ صحافتی دھماکہ ہوا تو ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف نے فوری طور پر اس سے فاصلہ کرتے ہوئے سہ جہتی تردید جاری کی۔ ملا نصیر الدین کا مشہور لطیفہ ہے، ایک ہمسائے سے انہوں نے قیمتی پلیٹ عاریتاً لی اور اسے توڑ ڈالا۔ ہمسائے نے محلے داروں سے شکایت کی تو ملا نصیر نے ایک بیان جاری کیا، یہ پلیٹ ہمسائے نے دی ہی نہیں تھی، پلیٹ لی تو تھی مگر واپس کر دی اور پلیٹ تو پہلے ہی سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ میاں شہباز شریف نے بھی وہی تکنیک آزمائی اور فرمایا، میاں نواز شریف ایسا بیان دے ہی نہیں سکتے، یہ بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، ن لیگ اس بیان کے حوالے سے تمام براہ راست یا بالواسطہ دعووں کو مسترد کرتی ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں ایسے رویے کو منافقت ہی کہا جا سکتا ہے۔ میاں نواز شریف نے ایک انٹرویو دیا، اپنے پسندیدہ اخبار اور رپورٹر کو اس کام کے لیے زحمت دی گئی۔ شہباز شریف کو شک ہے تو وہ نواز شریف صاحب سے موبائل پرایک منٹ میں بات کر سکتے ہیں۔ خبر کنفرم ہوجائے گی، یا اگر نہیں تو اس کی فوری تردید میاں نواز شریف جاری کر دیتے، پھر ذمہ داری اخبار اور رپورٹر پر آجاتی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور ایک گھسا پٹا، نیم مردہ سا جملہ بولا گیا کہ بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، یہی بات وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی کی۔ ان کا رویہ نہایت مایوس کن تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم آخر کس چیز پہ سیاست کر رہے ہیں – عالیہ جمشید خاکوانی

یہ بات بھی کرسٹل کلیئر ہے کہ میاں نواز شریف نے وہ بیان دانستہ، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دیا۔ سیرل المیڈا کو اس انٹرویو کے لیے خاص طور سے بلوایا گیا۔ ان کی رپورٹ سے صاف ظاہر ہے کہ سوال ان کا کچھ اور تھا، مگر نواز شریف صاحب دانستہ طور پر بات کو گھما کر ممبئی حملوں کی طرف لے گئے۔ سوشل میڈیا پر سیرل المیڈا کا ایک ٹویٹ گردش کر رہا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اتفاق سے ملتان میں تھے اور یہ انٹرویو ایک صحافتی خوش قسمتی تھی۔ اسی ٹویٹ کے نیچے ہی لوگوں نے اس نوٹیفکیشن کا سکرین شاٹ لگا دیا جس کے مطابق سیرل المیڈا کو ایئرپورٹ پر خصوصی پروٹوکول دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ثابت ہوگیا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔

جو بات میاں صاحب نے کہی، وہ حقیقت میں درست نہیں۔ یہ کوئی ایسا عالمگیر سچ نہیں، جسے ہر کوئی تسلیم کر لے گا۔ ممبئی حملے ہوئے، یہ ایک امر واقعہ ہے۔ اس حملے کے حوالے سے مگر بہت کچھ ابھی سامنے نہیں آیا۔ کئی پراسرار پہلو تشنہ ہیں۔کئی تھیوریز اس پر موجود ہیں۔ اجمل قصاب کے بارے میں بہت کچھ چھپایا گیا۔ خود بھارت، جہاں ہندو شدت پسندی عروج پر ہے، ممبئی حملوں کے خلاف بات کہنا آسان بھی نہیں، اس کے باوجود کئی کتابیں اور درجنوں مضامین ان حملوں کے حوالے سے شائع ہوئے۔ لکھنے والوں میں بھارت کے اعلیٰ ترین سابق پولیس، انٹیلی جنس افسران اور وزیراعلیٰ کی سطح کے سیاستدان شامل ہیں۔ انہیں شبہ ہے کہ ممبئی حملے خود بھارت نے کرائے، بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان میں انوالو ہیں۔ ممبئی حملوں میں بھارت کے مشہور افسر ہمینت کرکرے مارے گئے، ان کی موت کے حوالے سے بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ حال ہی میں ایک یورپی صحافی اور ریسرچر نے بھی ممبئی حملوں پر کتاب لکھی اور اس کی حقیقتاً دھجیاں اڑا دیں۔ اگر کالم میں گنجائش ہوتی تو بے شمار حوالے دیے جا سکتے تھے۔ ایسا نہیں کہ میاں نواز شریف ان سب سے واقف نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں، اس کے باوجود انہوں نے ممبئی حملوں کا تعلق پاکستان سے جوڑا اور واضح طور پر یہ تاثر دیا کہ پاکستانی ریاست یعنی ریاستی اداروں نے حملہ آوروں کو ممبئی حملوں کے لیے بھیجا اور اسی لیے ملزموں کے خلاف کیس ابھی تک مکمل نہیں کیا گیا۔ میاں صاحب یہ بات جانتے ہیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس جسے بھارتی شدت پسند ہندو گروہ نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا تھا، وہ بھی ابھی تک چل رہا ہے بلکہ اب اس کے مرکزی ملزم رہا ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ابھی تک تو نائن الیون کے حملہ آوروں کے خلاف کیس سترہ برس گزر جانے کے باوجود امریکی عدالتوں میں چل رہا ہے۔

میاں نواز شریف کا ہدف واضح ہے۔ وہ ریاستی اداروں بلکہ صاف الفاظ میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہیں غصہ ہے کہ پانامہ سکینڈل سے بچانے میں عسکری قیادت نے کردار ادا نہیں کیا۔ پانامہ سکینڈل حالانکہ عالمی سکینڈل تھا، اس میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار ہو سکتا تھا؟ میاں نواز شریف اگر منی ٹریل دینے میں کامیاب ہوجاتے تو سپریم کورٹ جے آئی ٹی نہ بناتی اور شریف خاندان بچ نکلتا۔ یہ جے آئی ٹی کا بننا تھا، جس کے بعد اقامہ کا ایشو سامنے آیا اور میاں نواز شریف نااہل ہوئے اور اب قوی امکان ہے کہ احتساب عدالتوں سے انہیں سزا ہوجائے۔ اس میں غلطی یا قصور میاں نواز شریف ہی کا ہے، زیادہ سے زیادہ انہیں عمران خان پر غصہ آنا چاہیے تھا۔ ریاستی اداروں سے وہ ناخوش ہوسکتے ہیں کہ انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ممکن ہے انہیں غصہ شدید ہو، زیادہ سے زیادہ رعایت دی جائے تو یہ کہہ لیں گے کہ ان کے شکوے بجا ہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ پاکستان کے وجود ہی کو نشانہ بنا ڈالیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑائی کے بعد والے مکے یا اقدار کی سیاست - یاسر محمود آرائیں

میاں صاحب نے یہ دھماکہ کیوں کیا؟ اس سوال کا جواب بھی مشکل نہیں۔ پاک فوج آج کل چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے۔ امریکہ پاکستان پر شدید دباﺅ ڈال رہا ہے۔ ایک طرف بھارت کنٹرول لائن پر مسلسل دباﺅ بڑھا رہا ہے، دوسری طرف افغانستان کی جانب سے بھی مسائل پیدا کیے جارہے ہیں، بلوچستان میں غیر ملکی ایجنسیوں نے یلغار کر رکھی ہے، عالمی اداروں کی طرف سے پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں ڈالا جارہا ہے، صرف نو دنوں بعد اس حوالے سے رپورٹ آنی ہے۔ نواز شریف صاحب کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس نازک موقع پر ایسی بات کہنا پاکستان کے لیے ایک نیا فتنہ، دہکتی آگ کا ایک نیا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ لگتا یہی ہے کہ نواز شریف صاحب چاہتے ہیں کہ اس قدر گرد اٹھے، ریاستی ادارے اتنے کمزور ہوجائیں کہ ان کے خلاف جاری قانونی عمل معطل ہوجائے اور پھر عالمی قوتوں کے دباﺅ سے وہ اقتدار میں دوبارہ آ جائیں۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ یہ بیان جس اخبار نے شائع کیا، جس رپورٹر نے یہ” کارنامہ“ انجام دیا، وہ مجرم نہیں ہے؟ کیا ایک اخبار کو حق حاصل ہے کہ وہ قومی مفادات داﺅ پر لگا دے۔ جو جی میں آ ئے کر گزرے، صرف اس لیے کہ اشرافیہ اسے پڑھتی ہے اور کسی صورت میں اس کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔ اگر ڈان لیکس کے ہنگامے میں اخبار اور رپورٹر کے خلاف کارروائی ہوتی تو یہ تازہ واقعہ نہ ہوپاتا۔ ہمارے اداروں نے اس وقت جس نرمی کا مظاہرہ کیا، اس کی بھاری قیمت ملک کو ادا کرنا پڑی ہے۔

میرا بنیادی نکتہ یہ نہیں کہ نواز شریف صاحب نے اپنے انٹرویو میں کیا کہا، میرا اصل نکتہ یہ ہے کہ ان کی سطح کے سیاستدان اور لیڈر کو ایسا کرنا چاہیے تھا؟ کیا دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا ممکن ہے کہ قومی سطح کا رہنما، سابق وزیراعظم ایسا غیر ذمہ دارانہ اور غیر محتاط بیان دے اور پھر اس پر سٹینڈ بھی لے؟ مجھے حیرت ن لیگی حامیوں پر ہے جو تعصب میں اندھے ہو کر سوشل میڈیا پر نواز شریف کا دفاع کرتے رہے۔ کیا سیاسی تعصبات حب الوطنی اور اپنے ملک کی محبت پر بھی غالب آ جاتے ہیں؟ افسوس کہ نوازشریف صاحب کے معاملے میں ایسا ہی ہوا ہے۔ میاں نواز شریف اور ان کے اندھے مقلد تاریخ کے ترازو میں تولے گئے اور ہلکے ثابت ہوئے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.