خفیہ ہاتھ اور خلائی مخلوق - امجد طفیل بھٹی

کچھ لوگ سیاست میں تنقید کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ پیغام بھی پہنچ جائے اور اس کا مطلب بھی دونوں طرف موڑا جا سکے۔ اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب چند برس قبل زرداری صاحب نے "اینٹ سے اینٹ" بجانے والا بیان دیا اور کہا کہ آپ نے تین سال رہنا ہے، ہم نے ہمیشہ رہنا ہے۔ اس بیان کو بچہ بچہ سمجھ گیا تھا کہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کر کے بات کی جا رہی ہے مگر پیپلز پارٹی بشمول زرداری صاحب اور تمام سینیئر رہنماؤں کے سب ہی اس بیان کی تردید کرتے رہے اور کہتے رہے کہ یہ بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ خیر، اُس وقت تو بات آئی گئی ہو گئی مگر اب زرداری صاحب یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ "اینٹ سے اینٹ" بجانے والا بیان انہوں نے نواز شریف کے کہنے پر دیا تھا، بقول اُن کے اُنہیں میاں صاحب نے ایسا کرنے پر اُکسایا تھا جبکہ میاں نواز شریف جواب میں کہتے ہیں کہ زرداری صاحب اتنے بھولے تھے کہ وہ ان کی باتوں میں آ گئے تھے۔

آجکل میاں صاحب بات بات میں خفیہ ہاتھ، خلائی مخلوق اور نظر نہ آنے والی طاقت کا ذکر کرتے پھر رہے ہیں۔ بے شک میاں صاحب، مسلم لیگ (ن) اور ان کے سب کے سب حمایتی اس کی تشریح اپنے حساب سے کرتے رہیں مگر ہر ذی شعور پاکستانی اس بات کا اشارہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ تنقید کا نشانہ کون ہے؟ اب تو میاں صاحب نے سر عام یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ عمران خان اور زرداری کو ووٹ دینے کا مطلب فوج اور عدلیہ کو ووٹ دینے کے مترادف ہے۔ یہ بات بہت ہی دلچسپ اور مضحکہ خیز ہے کہ جب بھی کسی سیاست دان کو مخالف سیاستدان سے خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے وہ مخالفین پر فوج اور خفیہ ایجنسیوں سے تعلقات کا الزام لگا دیتا ہے جو کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کرنے کے برابر ہے، یعنی کہ اداروں کی وطن سے وفاداری کا صلہ الزامات کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ مگر یہ اداروں کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ اتنا کچھ سننے کے باوجود کوئی ردعمل نہیں دکھایا جاتا، جس کا مطلب ہے کہ ملکی سلامتی کے اداروں کو ماسوائے پاکستان کی سلامتی کے کسی چیز کے کوئی لینا دینا نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں کوئی بھی ادارہ اس وقت سیاست میں کودنے کو تیار نہیں ہے۔

لیکن میاں نواز شریف کو جب سے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے نااہل قرار دیا ہے تب سے میاں صاحب کو ہر آہٹ پر یہی کھٹکا لگا رہتا ہے کہ شاید اُنہیں نااہل کرانے میں بھی کوئی خفیہ ہاتھ ملوث ہے مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ پہلے میاں صاحب تمام اداروں کے آشیر باد سے چلتے تھے اور ہر ادارے میں اپنا منظور نظر بندہ لگا کر اس کو اپنے حق میں استعمال کرتے تھے مگر اب سارے قومی ادارے نیوٹرل ہو کر کام کر رہے ہیں تو وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید سارے ادارے مثلاً فوج، عدلیہ اور نیب وغیرہ ان کی مخالفت میں سرگرم ہیں۔ اور پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ میاں صاحب کو اپنی نااہلی کے بعد اپنی ساری جماعت ہی نااہل نظر آنے لگی ہے۔ وہ شاہد خاقان عباسی اور میاں شہباز شریف کی قومی اور صوبائی حکومتوں کو اس وقت کمزور ترین حکومتیں سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کی رِٹ کہیں بھی نہیں ہے۔

اس سے بڑی بدقسمتی ہمارے ملک کی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک بھائی فوج اور عدلیہ کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے اور اپنے مستقبل کی راہیں ہموار کرنے کے چکر میں ہے تو دوسرا نااہل بھائی انہی اداروں سے انتقام لینے کی بات کرتا ہے؟ پچھلے کچھ عرصے سے میاں صاحب نے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے، خاص طور پر سینیٹ کے الیکشن اور اپنا چیئرمین منتخب نہ ہونے کے بعد تو جیسے میاں صاحب "آپے سے باہر" ہو گئے ہیں اور وہ غالباً "نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے" اور "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمھیں بھی لے ڈوبیں گے" والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یعنی کہ وہ اپنی جماعت مسلم لیگ ن میں سے اپنے علاوہ کسی کا آگے آنا پسند ہی نہیں کرتے اور اگر وہ نااہل ہیں تو بس ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر اس پالیسی کو "خودکش" سیاسی پالیسی کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔

جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ فوج نے پچھلے کچھ سالوں سے عوام میں اپنی ساکھ اور عزت دوبارہ سے بحال کی ہے کیونکہ فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیں دے کر ملک میں سے نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنایا ہے بلکہ تمام ملکی اداروں کو آزادی سے اور بغیر کسی دباؤ کے کام کرنے کا حوصلہ بھی دیا ہے۔ اس وقت پاکستان کا ہر خاص و عام پاک فوج کی کارکردگی سے خوش اور مطمئن ہے۔

جبکہ عدلیہ اور دوسرے ادارے بھی اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور بلاتفریق تمام مقدمات کو منطقی انجام تک بھی پہنچا رہے ہیں، شاید اسی لیے موجودہ سیاستدانوں بالخصوس مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف نے تو اس بات کو دل پر ہی لے لیا ہے کیونکہ پہلے یہ لوگ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے تھے مگر اب جب قانون کی گرفت ان لوگوں پر مضبوط ہوئی ہے تو یہ لوگ پبھر کر انہیں اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے میں مصروف ہیں جو کہ پہلے انکے مددگار تھے تو سب اچھا تھا مگر جب سے غیرجانبدار ہوئے ہیں تو یہ نادیدہ قوت، خفیہ ہاتھ، خلائی مخلوق اور نظر نہ آنے والی طاقت بن گئے ہیں۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com