دردِ زہ - نورین تبسم

"پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں تخلیق کیا۔ اللہ سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے"۔ (سورۂ المومنون آیت 14)

شکم ِمادر میں بچے کا وجود بلاشبہ اس دنیا میں اللہ کا وہ معجزہ ہے جس کے اسرار و رموز کو آج تک عقل ِانسانی چھو بھی نہیں سکی۔ اِسے ہم محض زندگی کے پردے پر چلنے والی ایک گھسی پٹی فلم کی طرح دیکھتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے اس کے ایک ایک منظر کی نقش بندی بڑی عمدگی سے کرتے ہیں، ۔ انتہائی اعلیٰ درجے کے حسّاس آلات کی مدد سے مرحلہ وار واقف ہوتے ہیں یہاں تک کہ ترقی کے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اُس بچے کی سوچ کی لہروں کو بھی محسوس کر سکتے ہیں، سوچا جائے تو ابھی تک ہم پہلے قدم سے بھی دورہیں۔ ہم نہیں جان سکے کہ ایسا خودبخود کس طرح ممکن ہو جاتا ہے۔ یہ وہ راز ہے جو روزِروشن کی مانندعیاں تو ہے لیکن اندھیری رات کی طرح ہماری نظروں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔

شاید ہم کبھی نہ جان سکیں کہ یہ اللہ کی وہ صفت ہے جس کا اُس کی وحدت، بےنیازی کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔ "نہ اس نےکسی کو جنا اور نہ اس سے کوئی جنا گیا" (سورۂ اخلاص، آیت 3) اور اس کے بعد کہا گیا ہے'اس کا کوئی ہم سر نہیں (سورۂ اخلاص، آیت 4)۔

اس لیے ہمیں وہی دیکھنا چاہیے جتنی استطاعت ہےاور وہی سوچنا ہے جہاں تک سوچنے کی صلاحیت عطا ہوئی ہے۔ ایک عظیم تخلیق کی تکمیل کے بعد اُس کو اُسی شان سے پیش کرنا اس کی عظمت پر مہر ثبت کرتا ہے۔ اس کا بھی ہماری عقل آج تک فیصلہ نہیں کر سکی کہ وہ کیا حکمت ہے کہ ایک شدید کرب اور تکلیف کے بعد بچہ اس دُنیا میں آتا ہے؟ اپنے علم کے زور پر ہم صرف یہ جان پائے ہیں کہ وہ نومولود بھی اس کرب کو محسوس کرتا ہے جس سے اُسے جنم دینے والی ماں گزرتی ہے۔ ایک ماں سے بڑھ کر اس کرب کو کوئی نہیں جان سکتا لیکن ماں اس کرب کی حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو ساری عمر شکر گزاری کے سجدوں سے سر نہ اُٹھائے یہ وہ سبق ہے جو دُنیا کے کسی ادارے تو کیا گیان کے کسی موتی میں بھی نہیں سما سکتا۔

درد ِزہ اصل میں عالم ِنزاع کے مثل ہے۔ اس پر غور کریں تو حد درجہ مماثلت عقل گُنگ کر دیتی ہے۔ "درد ِزہ" کیا ہے؟ ایک روح کا جسم کی قید سے نکل کر آزاد ہونا۔ ایک روح کا ہمیشہ کے لیے اپنا مسکن چھوڑ دینا اور ایک نئے وجود کی صورت میں نئی زندگی کا آغاز کرنا۔ وہ گھر جہاں جنم لیا، زندگی کا پہلا سانس لیا، اپنی کُل کائنات۔ ۔ ۔ جو صرف اُس روح اُس جسم کے لیے تخلیق کی گئی تھی اُس کو یک لخت یوں چھوڑ جانا جیسے کوئی واسطہ ہی نہ تھا، کبھی ملے ہی نہ تھے۔ اُن ریشمی لمحوں کو بُھلا دینا جب قدرت دھیرے دھیرے زندگی کے رنگ لگا رہی تھی۔ آنے والی زندگی کی بےقراری میں جلدازجلد اس قید سے نکل جانے کی سعی کرنا۔ محبتیں چھوڑنا آسان نہیں ہوتا وہ وجود میں سرایت کر کے اُس کا حصہ بن جاتی ہیں اس لیے جب روح تن سے جُدا ہوتی ہے تو بہت شور کرتی ہے، چیختی چلاتی ہے نہیں جانتی کہ آگے وہ زندگی منتظر ہے جس کا تصور اُس کے خواب میں بھی نہیں آسکتا۔

یہ تو اُس روح کی کہانی تھی جو ان جان ہوتی ہے، جسے طلب ہوتی ہے تو بس یہ کہ اپنے اصل سے مل کر مکمل ہو جائے، ہمیشہ کے ابدی گھر میں قرار پا جائے۔ لیکن وہ جسم جس سے یہ روح باہر نکلتی ہے وہ اپنی متاع چھن جانے کا سوگ مناتا ہے، اُس کی دُنیا اندھیر ہو جاتی ہے اُس وقت کسی پل چین نہیں آتا، نہ روکنے کا اختیار اور نہ خاموش رہ کر اُس کے جانے کا انتظار۔ لگتا ہے قیامت کا یہ لمحہ بہت طویل اور کبھی نہ ختم ہونے والے قیامت کے دن میں تبدیل ہو گیا ہو۔ ہم نہیں جانتے کہ وقت سب بہا لے جاتا ہے جو باقی بچتا ہے وہ ہماری سوچ ہوتی ہے جس پر حیرانی بھی ہوتی ہے کہ بعد میں ہم اپنی ڈگر پر واپس آجاتے ہیں سب بھول جاتے ہیں۔

دردِزہ اور حالت ِنزاع میں فرق ہے تو صرف اتنا کہ اُس وقت ہمارا جسم اس تکلیف کو برداشت کر کے ایک نئی روح نئے جسم کو پانے کی سرشاری میں مبتلا ہو جاتا ہے جبکہ حالت ِنزاع میں ہم نہیں جان سکتےکہ ہمارے جسم پر کیا بیتتی ہے جب وہ اس کرب سے گزرتا ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں موت کی سختی سے بچائے یہ ایک نئی منزل کی جانب پہلا دروازہ ہے، اس سے سر اُٹھا کر گزر گئے تو اللہ پاک کی ذات سے اُمید ہے کہ آگے بھی آسانی ہو گی۔ آمین یارب العالمین!

انسان کی زندگی کہانی رات اور دن کی آنکھ مچولی کے مابین بھاگتے گزرتی ہے۔ دن کے کھاتے میں گر ہار جیت کے برابر امکانات ہوتے ہیں تو رات نام ہی شکست کا ہے۔ رات ڈھلتے ہی انسانی قوٰی زوال پذیر ہونے لگتے ہیں یوں رات زندگی سے دور کرتے ہوئے بناوٹ کی موت کا نام ہی تو ہے۔ رات بے یقینی بھی ہے کہ کوئی نہیں جانتا آنے والی صُبح کا سورج کیا پیغام لے کر آئے۔

وہ رات! دو زندگیوں کی بقا کی رات تھی۔ دونوں بہت قریب ہوتے ہوئے، ایک دوسرے کو محسوس کر کے بھی آنے والے وقت سے انجان، اپنی ذات کی تنہائی میں درد کی منازل طے کرتے تھے۔ وہ زندگی بخش رات تھی لیکن موت کا خوف ہر چند منٹوں بعد رگِ جاں کی ساری توانائی نچوڑ لیتا۔ نظریں گھڑی کی سوئی پر اٹک جاتیں، کبھی یوں لگتا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو پھر اچانک کوئی جھنجھوڑ کر رکھ دیتا۔ نیند تھی اور نہ ہی خواب؟ اہم یہ ہے کہ خوف بھی نہ تھا۔ ان ہونی کا خوف۔ یاد تھی تو بس ایک بات کہ وقت سے پہلے کسی سے کچھ بھی نہیں کہنا اور یہ وقت کیا تھا؟ کب تھا؟ کون جانتا تھا۔ سب اندازے تھے یا حساب کتاب کے پیمانے؟۔ اس سمے اگر کوئی دوست تھا تو کتاب میں پڑھے گئے لفظ تھے جو ساری کہانی کی اصل سے آگاہ کیے ہوئے تھے تو دوسری طرف کلام اِلٰہی کا ورد ڈھلتی رات کی تنہائی میں دل کو تسکین دیتا تھا۔

اس رات کا اہم سبق یہ ملا کہ زندگی ہوش وحواس کو ممکن حد تک قابو میں رکھنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ ہم ساری دُنیا کو جاننے کے جتنے دعوے کر لیں،جب تک اپنی ذات کے اسرار سے واقف نہیں ہوں گے ہمیشہ بند گلی میں سفر کرتے رہیں گے۔

انسان اپنی زندگی میں جتنا اپنے آپ سے، اپنے رویے سے سیکھتا ہے اُتنا کسی اور کے تجربے سے کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ ہماری مشکل ہی یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن ودل پر دستک دیے بغیر اُن ان جان مہربانوں کی تلاش میں بھٹکتے ہیں جو ہمارے درد کا درماں بن سکیں۔ اسی لیے کبھی سکون نہیں پاتے نہ قرار میں اور نہ ہی بےقراری میں۔

یہ نصف صدی کے قصے میں گزرنے والی ہزاروں بے نام راتوں اور لاحاصل دنوں کے باب میں سے ایک ایسی رات کا احوال تھا جس کے ہر پل کا منظر آج بھی ذہن میں اُجالے بکھیرتا ہے۔ اجالے! شاید اس لیے بھی کہ اس رات کی اذیت کا ثمر ایک مکمل اور کامیاب شخصیت کی صورت ماں کے ساتھ ہے۔ ماؤں کو اپنے بچے ویسے بھی پیارے ہوتے ہیں۔ اللہ صورت کی زیبائی کے ساتھ سیرت میں بھی سچائی اور گہرائی عطا کرے، آمین!

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.