عیاشی کی زندگی - عظیم الرحمٰن عثمانی

ہم میں سے ہر ایک انسان عیش و عشرت کی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور ایسی عیاشی کا متمنی ہے جہاں اسے ہر من چاہی شے حاصل ہو۔ کسی بھی ملک، قوم، نسل یا عقیدے سے منسلک شخص سے پوچھیے کہ ایک لمحے کے لیے حلال وحرام کی تفریق بھلا کر سچائی سے یہ بتائے کہ عیش و عشرت والی زندگی سے اس کی کیا مراد ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ عموماً تھوڑے بہت ذوق کے فرق سے ایک جیسی فہرست مرتب ہوتی نظر آئے گی۔ جیسے انسان عیش و عشرت کے لیے یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس محل جیسا گھر ہو۔ یہ محل یا بنگلہ کسی جزیرے یا باغ جیسے پرسبز مقام پر قائم ہو۔ اس کی یہ پراپرٹی 'واٹر فرنٹ' ہو یعنی گھر کے سامنے کوئی خوبصورت جھرنا یا ندی بہتی نظر آتی ہو۔ اس کے پہننے کو برانڈڈ گوچی یا ارمانی جیسے قیمتی لباس ہوں، مہنگی ترین خوشبوئیں ہوں، کھانے کو بوفے کی مانند ان گنت لذیذ پکوان ہوں، خدمت کرنے کے لیے مستعد نوکروں کی ایک قطار ہو، برق رفتار سواریاں ہوں، خوبصورت پالتو جانور ہوں، بہترین سوشل لائف ہو، بھرپور جوانی اور صحت حاصل ہو وغیرہ۔ اگر کسی بھی شریف خاتون سے پوچھیں تو ممکن ہے کہ وہ کسی ایسے کے ساتھ کی بھی تمنا کرے جو خوابوں کے شہزادے جیسا یا فلمی ہیرو جیسا ہینڈسم ہو۔ کسی ایسے پارٹنر یا جیون ساتھی کا ساتھ ہی عورت کے نزدیک عیاشی ہے۔ اس کے لیے دس بیس مردوں کے نرغے میں رہنا عیاشی نہیں بلکہ ہولناک تصور ہے۔ اس کے برعکس کسی شریف مرد سے "اکیلے" میں پوچھیں گے تو بہت امکان ہے کہ وہ تمام تر شرافت کے باوجود بھی بہت سی عورتوں کا ساتھ چاہے کیونکہ اس کے نزدیک عیاشی حسینوں کے جھرمٹ میں رہنا ہے۔ دھیان رہے کہ یہاں عموم کی بات ہو رہی ہے، استثنات ہمیشہ ہوا کرتی ہیں اور ان کے لیے گفتگو بھی استثنیٰ کے طور پر ہی کی جاتی ہے۔

یہ ایک مختصر سا خاکہ ہے جو حضرت انسان ایک عیاشی بھری زندگی کے بارے میں کھینچ سکتا ہے۔ دین نے اسی انسانی نفسیات کو مدنظر رکھ کر جنت کی زندگی کے بیان میں ان تمام کا بھرپور نقشہ کھینچ دیا ہے۔ دین میں بنیادی طور پر تو جنت کے لیے ایک اصولی بات بیان کردی گئی ہے جس کے مطابق جنت وہ جگہ و انعام ہے جس کی شان ہمارے ادراک کی حدوں سے بھی بہت آگے ہے۔ اسی حقیقت کو صحیح مسلم و بخاری کی متفق عليه ایک حدیث قدسی میں کچھ یوں بیان کیا گیا کہ "میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ (جنت میں) تیار کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا تصور(خیال) آیا۔" اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ اصولی بات ہمیں کافی ہو مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسانی فطرت اجمال پر راضی نہیں ہوتی اور تفصیل کا تقاضہ کرتی ہے۔ لہٰذا اسی فطرت کی تشفی کے لیے جنت میں موجود ان نعمتوں کا کچھ بیان کتاب الٰہی میں کردیا گیا جسے ہم کمتر درجے میں دنیاوی نعمتوں کی تشبیہہ سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قران حکیم میں اس حوالے سے جنت میں موجود عالیشان گھر، پرتعیش نعمتیں، بہتی نہریں، غلامان، حور، جیون ساتھی، ریشم کے قیمتی لباس، عمدہ پکوان، بھرپور صحت، لازوال جوانی، اقارب کا ساتھ وغیرہ کا بیان سب اسی تشفی کے واسطے ہے۔

ایک سوال جو اس ضمن میں جھٹ سے پوچھا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ باقی بے شمار نعمتیں تو مرد اور عورت دونوں کو برابر ملتی ہوئی نظر آتی ہیں مگر یہاں ناانصافی لگتی ہے کہ مرد کو تو حوریں ملیں اور عورت کو کچھ بھی نہیں؟ یہ سوال کئی زاویوں سے غلط ہے۔ سب سے پہلے تو ایک مومن دو سو فیصد اس امر پر ایمان رکھتا ہے کہ اس کا رب ناانصافی نہیں کرتا۔ روز جزاء میں ہمارے رب کا انصاف ایسا بے مثال ہوگا کہ مجرم تک اپنی زبان اور مرضی سے اس عدل کی گواہی دیں گے۔ لہٰذا اس کا کوئی امکان نہیں کہ عورت یا مرد سے احقر درجے میں بھی زیادتی ہو۔ عورت اور مرد کی فطرت اس حوالے سے الگ الگ ہے، اسی حقیقت کا بیان ہم نے تحریر میں اوپر یہ بتا کر کیا ہے کہ عورت کے لیے نعمت اپنے خوابوں کے شہزادے کو پانا ہے جبکہ مرد خوابوں کی ملکہ کو پاکر بھی حسینوں کے جھرمٹ میں رہنے کو حسین خواب تصور کرتا ہے۔ جنت میں نعمت دونوں جنسوں کی فطرت کو مدنظر رکھ کر عطا ہوں گی۔ بیوی کو دنیا والا شوہر اور شوہر کو دنیا والی بیوی ان تمام خواص و حسن کے ساتھ عطا ہوں گے جو ان کے دل کی آواز تھے۔ رب تعالیٰ جنتیوں کے دل میں موجود کسی بھی دنیاوی کدورت و شکایت کو ان کے قلوب سے صاف کردیں گے۔ لہٰذا یہ سمجھنا قرین قیاس ہے کہ جنّتی جوڑوں کے بھی دل ایک دوسرے کے لیے بالکل صاف ہوں گے۔ اب اگر کوئی عورت اس سب کے باوجود بھی عموم سے ہٹ کر تقاضہ کرتی ہے تب بھی بھروسہ رکھیے کہ جنت وہ مقام ہے جہاں ہر جنتی کے دل کی خواہش اکمل درجے میں پوری ہوں گی۔ یہ حقیقت ساتھ میں ملحوظ رہے کہ قران حکیم کے بیان کے مطابق جنت میں وہی داخل ہوگا جو صاف دل لے کر آئے گا یعنی اچھے کردار کا حامل ہوگا۔ جنتیوں کو بیہودہ باتیں پسند نہ ہوں گی۔ اسی لیے ایک آیت میں بطور نعمت یہ بیان ہوا کہ جنتی جنت میں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے۔ گویا یہ کہنا درست ہوگا کہ جنت میں جانے والے کی خواہش پاکیزہ اور طیب ہوں گی۔ اگر کوئی شخص جنت میں ایسی خواہش کے ساتھ داخل ہو بھی گیا جو طیب نہیں بلکہ نجس ہو جیسے ہم جنسی کی خواہش وغیرہ تو ایسے میں اہل علم کے مطابق اس کے قلب سے اس بیماری یا خواہش کو صاف کردیا جائے گا۔

یہاں ضمنی طور پر یہ بھی سمجھیے کہ جن نعمتوں کا ذکر کتاب میں ہوا ہے، وہ صرف عموم کے حوالے سے ہے۔ کسی پر کوئی نعمت زبردستی تھوپی نہیں جائے گی لہٰذا اگر کوئی شخص دودھ اور شہد سے الرجک ہے تو اسے زبردستی دودھ و شہد کی نہریں نہیں دی جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کی جنتیں الگ الگ ہیں۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی ایک بیوی پر راضی ہے تو اس کے پلّے زبردستی ایک سے زائد بیویاں یا حوریں نہیں باندھی جائیں گی۔ ایسے ہی عین ممکن ہے کہ سائنسی علوم کے شوقین جنتی انسان کو کائناتی حقائق یا خدائی قدرت کا کماحقہ مشاہدہ و تجربہ کروایا جائے یا مطالعہ کے شوقین فرد کو ان مخفی علوم کو جاننے کا مواد دیا جائے جو اس کی پیاس کی سیرابی کا سبب بن سکیں۔ جنت میں یکسانیت نہیں ہے۔ سوچیے جس خالق نے اس عارضی دنیا میں اتنا تنوع و ارتقاء رکھا ہے، وہ خالق اس ہمیشہ رہنے والی دنیا کو کیسے جامد یا بورنگ بنا سکتا ہے؟

وہاں تو اس کی خلاقیت اپنے اس جوہر کے ساتھ نمایاں ہوگی جس کا تصور بھی آج محال ہے۔ اس کا ایک اشارہ ان آیات میں ملتا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ کسی پھل کو جب جنتی کھائے گا تو ہر بار اس میں ذائقے کی نئی بہار پائے گا۔ اسی طرح اس عارضی دنیا کو مقصدیت سے بھرپور رکھنے والے رب سے یہ امید بھی بجا ہے کہ وہ اس ابدی دنیا کی زندگی کو بھی برتر مقاصد عطا کرے گا۔ اب وہ مقاصد جنت کے اونچے درجات تک پہنچنے کے لیے ہوں یا کسی اور منزل کے واسطے۔ یہ وہاں جاکر ہی منکشف ہوگا۔ آج ہم خیالی دنیا اور حقیقی دنیا میں تفریق کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ابدی کائنات میں یہ تفریق جزوی یا کلّی طور پر اٹھا لی جائے گی۔ جنتی کے خیالات اور اعمال مجسم ہوکر اس کے سامنے ہوں گے۔ پھر چاہے وہ اس کی عبادات ہوں، اذکار ہوں یا جذبات۔ سب کو ایک پیرہن دے کر اس کے سامنے موجودکیا جائے گا۔ کئی احادیث اسی جانب اشارہ کرتی ہیں جیسے فلاں فلاں ذکر کرنے سے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے یا فلاں عمل سے جنت میں ایک محل تعمیر ہوجاتا ہے وغیرہ۔

قران حکیم میں نیک اعمال کی جانب بلانے کے لیے تین باتوں کا بیان کیا ہے۔ پہلا محبت الٰہی، دوسرا جنت کی لازوال نعمتیں اور تیسرا جہنم کی وعید۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور اکابر صحابہ کے احوال زندگی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان تینوں محرکات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقویٰ اپناتے تھے۔ عجیب یہ ہے کہ آج وہ شخص جو ایک معمولی مکان لیتے ہوئے بھی بہتر سے بہتر کی کوشش میں جان لڑا دیتا ہے،چاہتا ہے کہ اس کا گھر کشادہ ہوں، فلاں علاقے میں ہو، ہو، کونے کا ہو، پارک یا واٹر فیسنگ ہو وغیرہ۔ وہ شخص بھی رابعہ بصریؒ سے منسوب ایک قول کو سنا کر یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ میں جنت کی یا جنت کے اونچے درجات کی خواہش نہیں رکھتا کہ یہ تو مطلب پرستی ہے اور میرے لیے بس ایک یہی محرّک کافی ہے کہ میرا تقویٰ محبت الٰہی کے سبب ہے۔ یہ جملہ سننے میں جاذب ضرور ہے مگر یہ کہہ کر دراصل آپ ان تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے جذبے کو کمتر ٹہرا رہے ہوتے ہیں جنہوں نے جنت کی خواہش کو اپنے دل میں مزیّن رکھا۔ کسی بزرگ سے ایک شخص نے پوچھا کہ جنت کے بارے میں مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے مجھ میں جنت جانے کی مزید خواہش پیدا ہو۔ بزرگ نے جواب دیا "وہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے"۔ اللہ اکبر! ذرا سوچیے تو کہ ابراہیم علیہ السلام سے لے کر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک کی قدم بوسی کا شرف ہمیں جس جگہ حاصل ہوسکتا ہے، وہ مقام جنت ہے۔ پھر یہ بھی تصور کیجیے کہ آپ اللہ عزوجل سے مل رہے ہیں۔ جنت کی سب سے بڑی سب سے اونچی نعمت دیدار الٰہی ہے، اپنے رب سے ملاقات ہے جو اس جنت کے خوش نصیب باسیوں کو حاصل ہوگی۔ پھر کیا محرومی اور کسی حماقت ہے کہ کسی بشر کو جنت میں جانے کی تمنا و حسرت محسوس نہ ہو؟

(نوٹ: جنت و جہنم کا حقیقی احوال پردہ غیب میں ہے اور اس کا درست طور پر بیان ممکن نہیں۔ یہ تحریر فقط ایک ممکنہ زاویہ ہے جو راقم کے چشم تصور سے پھوٹا ہے۔)

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */