اقامہ - محمد واحد

پرانے وقتوں کا قصہ ہے سلطان منصور بن عبداللہ اپنے وزیروں اور غلاموں کے ساتھ جنگل میں شکار پر گیا۔ جب کھانا پکانے لگے تو نمک ندارد غلام کو بھیجا گیا قریبی بستی سے نمک لے آؤ۔ جب نمک آگیا تو سلطان نے قیمت پوچھی۔ غلام گویا ہوا مفت اور کہا حضور اتنے سے نمک کی کیا قیمت ادا کرنی؟ سارا ملک حضور کا ہے کیا نمک، کیا نمک والا۔ سلطان نے غلام کو واپس بھیجا اور قیمت ادا کرنے کا کہا اور ساتھ میں جو الفاظ ادا کیا وہ تاریخ کی کتب کی زینت بنے "اگر ملک کا بادشاہ مفت نمک قبول کرلے تو پھر غلام بستیاں لوٹنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔"

یعنی کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے!

وزارت خارجہ چار پانچ اہم ترین وزارتوں میں اہم ترین ہے۔ شاید وزارت اعظمیٰ کے بعد یہی وزارت ہے لیکن جہاں وزیراعظم اقامہ کی بنیاد پر نااہل ہو اور اس ناا ہلی پر ذرا بھی شرمندہ نہ ہو بلکہ ڈھٹائی کا اشتہار بن کر جگہ شور کرتا پھرے "مجھے کیوں نکالا؟" اور سب درباری مبارک سلامت کی صدائیں لگائیں دن رات اسی کج روی کا حال دھمال جاری ہو اور منصفوں کے لتے لیں اور ان پہ زمیں تنگ کرنے کی باتیں کریں وہاں وزیر خارجہ کوئی صلاح الدین ایوبی تو نہیں ہوگا، وہاں ایسے ہی اقامہ زدہ خواجہ سرا وزیر ہوں گے

فارسی کی کہاوت ہے عذر گناہ بد تر از گناہ۔ خواجہ آصف یا دوسرے اقامے زدہ سیاست دانوں کی وکالت کرنے والے نہ صرف کج فہم ہیں بلکہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کیسے کیسے نابغے ہماری سیاست کی زینت ہیں۔

ویسے کہنے لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن سر دست بات موضوع سے دور چلی جائے گی وہ ملک جو دنیا کا ساتواں ایٹمی طاقت ہے جس کا نہری نظام روس سے بڑا ہے (ہر چند ہم پچھلے کئی عشروں سے کوئی ڈیم نہیں بنایا) جس ملک کی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ سے زیادہ ہے اور جنوبی امریکہ کے برابر ہے، اس ملک کا وزیراعظم اور وزیر خارجہ چھوٹی چھوٹی سی خلیجی ریارستوں کی گمنام کمپنیوں کے ملازم ہیں بات صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ ابھی تو بہت سے کامے اور اقامے باقی ہیں، جن میں ایک نمایاں نام 'ارسطو دوراں' احسن اقبال کا بھی ہے۔

حق تو یہ ہے چیف جسٹس صاحب اک دفعہ سوموٹو لے کر موجودہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ممبران بشمول سینٹرز اور بیوروکریٹس کے سارے اقامے بر آمد کر لیں۔ علاوہ ازیں وہ تمام افراد جو موجودہ اسمبلیوں کے امیدوار تھے ان کو بھی شامل تفتیش کرکے مال مسروقہ کی طرح تمام اقامے برآمد کرکے تاحیات نا اہل کردیں تا کے کم وبیش ساٹھ فیصد گند صاف ہو جن میں بڑا حصہ شاید پیپلز پارٹی کا ہو پیپلز پارٹی کے ستر فیصد اجلاس ملک باہر ہوئے جن میں زیادہ تر دبئی میں وہ بھی ایمر جنسی میں اور تمام ممبران اتنی جلدی دبئی پہنچے جتنی جلدی انٹری پرمٹ پرنٹ بھی نہیں ہوتا صرف سول ایویشن کے ریکارڈ کی جانچ کر لیں تو سب کے مستقل اقامے برآمد ہو جائیں گے۔

وگرنہ کسی کو یہ کہنے میں عار نہیں اقامہ کا قانون صرف نون کے لیے ہے۔ اب موقع بھی ہے لوہا بھی گرم ہے حالات بھی سازگار ہیں بصورت دیگر یہی اقامہ زدہ اسمبلیاں اور سیاستدان ہمارا منہ چڑاتے رہیں گے۔