ہراسگی سے زیادتی تک - زینی سحر

میں بہت کم ایسے موضوعات پر لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ جن پر لکھنا تقریباً ہر بندہ ہی اپنا اولین فرض گردانتا ہو۔ کیونکہ میں سمجھتی ہوں۔ جس موضوع پر اکثریت لکھ چکی ہو وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپ اس پر اپنی منفی یا مثبت رائے دیں۔ فیس بک پر آئے دن حالت جنگ کا سماں رہتا ہے۔ کسی بھی موضوع کو فیس بک کے باسی خوب رگڑا دیتے ہیں، خواہ وہ موضوع سیاست ہو یا پھر تجارت یا پھر کسی کا معاشقہ۔ یا پھر کسی کی شادی۔ ایسا ہی ایک ٹاپک آجکل فیس بکی دانشوروں حراست میں آیا ہوا ہے اور وہ ہے علی ظفر کے اوپر کسی خاتون کی جانب سے جنسی ہراسگی کا الزام۔

میں اس موضوع پر بھی ہرگز کچھ نہ لکھتی لیکن مجھے جس بات نے مجبور کیا، وہ ہے ہمارے تقریباً تمام بڑے فیس بکی دانشوروں کا اس بات پر متفق ہونا کہ وہ خاتون جن کا نام مجھ ٹھیک سے یاد نہیں، اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں علی ظفر جیسا خوبرو انسان ہراساں کرتا۔ ویسے جو علی ظفر جیسے بندے کو خوبرو سمجھتے ہیں ان کے ذوق پر بھی ایک سوالیہ نشان اٹھنا چاہیے۔ یا تو انہوں نے کبھی زندگی میں کوئی خوبرو انسان نہیں دیکھا یا پھر بات کوئی اور ہے۔

بہت سارے لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب راضی خوشی سے ہوا لیکن اب وہ خاتون شہرت یا کسی اور وجہ کے لیے علی کو بدنام کر رہی ہے۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ خواتیں بھی ہراساں کرتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ کئی کو تو اپنی جوانی کے وہ ترسے ہوئے واقعات بھی یاد آ رہے ہیں جب انہیں کسی خاتون نے ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سارے تناظر میں جو بات باعث دکھ اور حیرت ہے وہ ہے کسی کی بھی جانب سے اس بات کی مذمت نہ کرنا ہے۔ کسی نے ایک سطر لکھنے کی بھی زحمت نہیں کی کہ یہ عمل بُرا ہے۔

ہراسمنٹ کیا ہے؟ آنکھ۔باڈی لینگوئج، اشارے، ذومعنی گفتگو، بغیر مقصد کے فون، میسج یا واٹس ایپ کرنا، کوئی لالچ یا بلیک میل کرنا، جنسی گفتگو کرنا اور اسے ہر طریقے سے آمادہ کرنا جنسی ہراسمنٹ ہے اور ہر وہ عمل جو فریق ثانی کو پسند نہ ہو، جس کے حوالے سے وہ اپنی ناگواریت اور بیزاری کا اظہار کرچکا ہو یا پھر سرے سے ہی انکار کر دے۔

فیس بک کو ہی لے لیجیے، اگر کوئی خاتون آپ کےساتھ اپنا نمبر یا تصویر شیئر نہیں کرنا چاہتی لیکن اپ بار بار اس کا تقاضا کریں، اس سے ایسی گفتگو کریں جس سے وہ کو ایک بارہا منع کر چکی ہو، یہ بھی ہراسمنٹ ہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مرد و خواتین جن کے درمیان پہلے کوئی تعلق رہ چکا ہو، خواہ وہ جسمانی ہی کیوں نہ ہو اگر اس میں بیزاریت آ گئی ہے اور دونوں میں سے ایک بھی اس میں بیزاریت محسوس کرے اور دوسرا اس سے زبردستی کرنے کی کوشش کرے تو یہ بھی ہراسمنٹ ہی ہے۔ علی ظفر کے معاملے کو لیکر لوگوں کے خیالات پڑھ کر یہی لگتا ہے کہ ہمارے یہاں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کے کوئی مرد یا عورت اگر حسین ہو تو اسے کسی کو بھی ہراساں کرنے کی اجازت ہے اور اگر کسی کم شکل و صورت والے انسان نے ان پر یہ الزام لگایا کہ اسے ہراساں کیا گیا ہے تو یہ محض ایک الزام ہی ہے اور وہ کم شکل و صورت والا دراصل شہرت کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ ورنہ خوبصورت کو کیا پڑی ہے کسی کم صورت کو ہراساں کرنے کی؟

فیس بک پر اس ٹاپک پر زیادہ تر اظہار خیال مرد ہی فرما رہے ہیں۔ اس بات سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے یہاں کی خواتین اس موضوع کے بارے میں کتنا کچھ بول سکتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کو بچپن سے لیکر قبر تک ہراساں کیا جاتا ہے۔ خواہ وہ جنسی، جسمانی ہو یا پھر روحانی لیکن بہت کم خواتین اس معاملے پر بول پاتی ہیں اور جب کچھ خواتین ہمت کر کے اس پر بولتی ہیں تو ہمیں ان کی شکل اور کردار دونوں ہی مشکوک لگتے ہیں۔

ہم اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ ہماری بچیاں آئے دن اس تکیلف دہ عمل سے گزرتی ہیں اور وہ اس ڈر سے کہ کوئی ان کی بات پر یقین نہیں کرے گا، الٹا وہ خود ہی بدنام ہوں گی، اس موضوع پر کسی کو کچھ بتا ہی نہیں پاتیں۔ پھر یہ ہراسمنٹ جنسی زیادتی کے طور پر ہمارے سامنے آتی ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم اس عمل کی حوصلہ افزائی کریں، اس پر گندے لطائف لکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ کوئی تو بولی اور اس گھٹن سے نکلی؟ ورنہ ہماری بچیاں تمام عمر اس گھٹن میں رہتی ہیں۔

میں مردوں کی بات نہیں کر رہی اور نہ ہی کرنا چاہتی ہوں کیونکہ ہمارے یہاں مردوں کی تعداد آٹے میں نمک برابر بھی نہیں ہے جن کو خواتین ہراساں کرتی ہیں۔ لیکن خواتین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بچپن سے لیکر بڑھاپے تک ہر قسم کی ہراسمنٹ کا شکار ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے حقوق کے لیے بولنے والی کو منہ پر جواب دینے والی یا آپ کے بارے میں سچ بولنے والی خاتون کو بدکردار اور بدزبان بولتے یا سمجھتے ہوں اور اس کے اس عمل کو شہرت یا توجہ حاصل کرنے کا باعث سمجھتے ہوں، وہاں کوئی عورت کیسے بول پائے گی؟ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایسے کسی بھی عمل کے ذریعے ہم اپنی بہن بیٹوں کو جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کے کتنے قریب لے جا رہے ہیں؟

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اچھی تحریر ہے اس موضوع پر بات ہونی چاہے اور بچیوں کو اعتماد دینا چاہئے کہ وہ کسی بھی قسم کی ہراسگی پر والدین یا ذمہ دار فرد کو مطلع کریں اور ہراسگی کا مناسب سدباب کرنا چاہے اس کے لیے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کرنا چاہے کہ وہ کسی ہراسگی پر شرمندگی اور احساس جرم کی بجائے کھل کر والدین یا ذمہ دار افراد کو مطلع کریں۔