آخری خط - سخاوت حسین

پیارے ساگر!

جب تک تم خط پڑھو گے شاید مجھے نہیں پڑھ سکو گے۔ زندگی کی دہلیز پروقت نے مجھے ایسا گرایا ہے کہ میں ہر لمحہ مہلت کو ترس رہی ہوں۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔ وقت جو تمہارے پاس بھی نہیں تھا میرے لیے، وقت جو میرے لیے کسی اور مدار میں گھومتا تھا۔ میں وقت کو تمہارے انتظار میں ضائع کرتی تھی اور تم مجھے وقت میں گم کر دیتے تھے۔

آج میں لمحہ لمحہ مر رہی ہوں۔ ڈاکٹر نے کہا نے مجھے برین کینسر ہے اور میرے پاس وقت نہیں ہے۔ ہاہاہا! وقت جو کبھی میرے پاس سب سے زیادہ ہوتا تھا اور تمہارے پاس بالکل نہیں ہوتا تھا۔ اب ڈاکٹر کہتے ہیں میں کچھ لمحوں کی مہمان ہوں۔

جانتے ہو؟ موت جب زندگی کے دروازے پر روز دستک دیتی ہے تو میں روز بن سنور کر موت کے فرشتے سے ملنے جاتی ہوں لیکن موت کا فرشتہ روز مجھے مایوس کرتا ہے۔ یہ زندگی موت سے بدتر ہے۔ ہسپتال کے بستر پر روز سیلنگ فین کو تکتے ہوئے تمہیں سوچتی ہوں۔جب پنکھا گھومتا ہے تو تمہاری یادیں بھی گھومتے پنکھے کی طرح میرے ذہن میں روز سینکڑوں بار گھومتی ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں مجھے ذہن پر زور نہیں دینا چاہیے اور مجھے ہر قسم کی سوچ اور خیال سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔ وہ نہیں جانتے کہ تم میری زندگی کے پہلے اور آخری بے ساختہ خیال تھے۔ جتنی بے ساختگی کے ساتھ تم زندگی میں آئے اتنی ہی بے ساختگی کے ساتھ نکل بھی گئے۔ دریائے سندھ کے کنارے دو پتھر جس پر تمہارے اور میرے نام کنندہ تھے ان کی تصویر میرے بیڈ کے کنارے پڑی ہے اس وقت میں وہی دیکھ رہی ہوں۔ میں سردی کی وہی شدت اپنے وجود میں محسوس کر ہی ہوں جو ہم دونوں دریا کے کنارے ٹھٹھرتے پانی میں پاؤں ڈالے اپنے وجود میں محسوس کرتے تھے۔ایسا لگتا ہے محبت کا دریا پھر اپنے جوبن پر ہے اور موت کی لہر پوری شدت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور اب یہ لہر مجھے لے کر ہی جائے گی۔

رات کے دو بج رہے ہیں۔ سائیڈ ٹیبل پر دو سیب اسی ترتیب سے رکھے ہیں جیسے میں تمہیں کھلاتے وقت ٹیبل پر رکھا کرتی تھی۔ ٹیبل کی دوسری دراز میں میری جوتیاں بے ترتیبی سے پڑی ہیں۔ جاتنی ہوں تمہیں بے ترتیبی بالکل پسند نہیں تھی۔ لیکن تمہیں بتانا بھول گئی کہ اب میری سانسیں بھی بے ترتیب ہی رہتی ہیں۔ ٹیبل کی پہلی دراز میں ایک لفافے میں تھوڑی سی مٹھائی ویسی ہی پڑی ہے جیسے تم چپکے سے میری دراز میں رکھا کرتے تھے۔ میں روز ان میں زندگی ڈھونڈتی ہوں روز اس مٹھاس کو وجود میں اتارتی ہوں۔ تم! کہنا چاہتے ہو گے تم! پگلے تم تو ویسے بھی میرے وجود میں اترے ہوئے ہو۔ ٹیبل کے کنارے ایک چھری رکھی ہے۔ مجھے یہ بھی موت کی چھری لگتی ہے۔ ایک چھوٹی سی کرسی پر میری بہن سوئی ہوئی ہے۔ وہ میری تیمارداری کر رہی ہے۔ نیند کی وجہ سے اس کی آنکھیں بند ہیں اور موت کی وجہ سے میری بند ہونے والی ہیں۔ وہ مجھے روز تسلی دیتی ہے۔ روز میرے لیے آنسو بہاتی ہے۔ میں نے اسے کہا ہے جب جسم میں محبت اور ہجر کا زہر اتر جائے تو کوئی دوائی اثر نہیں کرتی۔محبت میں ہجر جان لے کر جان چھوڑتی ہے۔

کئی دن سے مختلف رشتے دار میری خبر گیری کرنے آرہے ہیں۔ جب بھی کوئی آتا ہے تو لفظ کاش بھی ان کے ساتھ آجاتا ہے۔ یہ لوگ میرے دل کی زمیں پر لفظ کاش سے ہمدردی کی فصل کاشت کرتے رہتے ہیں اور میری آنکھوں میں روز کاش امید کے جلتے دیے کی لو بجھانے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔ روز ان کی تسلیاں اور ہمدردی کے بول مجھے اندر ہی اندر مار دیتے ہیں۔

وہ مجھے روز بتاتے ہیں کہ کیسے میرے بچے ایک حادثے میں مارے گئے؟ جب میں وہ واقعہ یاد کرتی ہوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میرے دل پر کسی نے ہجر کی تلوار چلا دی ہو۔ میں مرجھائے ہوئے چہرے کے ساتھ اپنے مرجھائے ہوئے بچوں کی تصویروں میں اتنی کھو جاتی ہوں کہ مجھے تم بھی یاد نہیں آتے۔ میرے بچے، جو میرے وجود کو چیر کر نکلے تھے۔ جانتے ہو جب وہ میرے وجود سے نکلے، میرے وجود کے اندر سے احساس، محبت، پروا، ممتا اور شفقت ساتھ لے کر نکلے۔ احساس جو اب رہا نہیں، محبت جو تم لے گئے، پروا نے میری زندگی کو خوشیوں سے بے پروا کر دیا۔ ممتا اب بال کھولے نوحہ کناں ہے اور شفقت میری آنکھوں میں آنسوؤں کی صورت روز پانی بن کر بہتے رہتے ہیں۔ میرے بچے نہیں مرے، ان کے ساتھ ایک شفیق ماں مری ہے۔ لیکن میرے رشتے دار روز مجھے احساس دلاتے ہیں کہ مجھے ان کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔

میرے پیارے ساگر! صبح کے چار ہوچکے ہیں۔ میں شیشہ دیکھ رہی ہوں۔ مری کی پہاڑی پر جب ہوا سے میرے بال لہراتے تھے تب تم اپنا سر میرے بالوں میں چھپا لیتے تھے۔ تم کہتے تھے، میرے بالوں کی خوشبو تمہیں عشق کی جنت میں لے کر جاتی ہے اور ہوا کے دوش میرے بکھرتے بال تمہارے وجود میں میری محبت کا تلاطم پیدا کرتے ہیں۔ میں اپنے سر پار ہاتھ پھیر رہی ہوں۔ مگر یہاں ایک بھی بال نہیں۔ میرے سارے بال جھڑ چکے ہیں۔ تم دیکھتے تو شاید تم بھی منہ پھیر لیتے۔ تم کہتے،" یہ تم نہیں تمہارا مجسمہ ہے۔" میرے بال جس کے ساتھ روز میرے بچے کھیلتے تھے۔ جب میں بال پھیلا کر ان کے وجود کو اپنے وجود میں لے لیتی تھی تو وہ "مما کتنے پیارے بال ہیں آپ کے" کہتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتے تھے۔ میرے بچے مجھے دیکھتے تو شاید دیکھ کر ڈر جاتے کیوں کہ وہ مجسموں سے بہت ڈرتے تھے۔ میری پلکیں جنہیں تم محبت کا دائرہ کہتے تھے اب اس جگہ صرف میری جلد ہے اور میری پلکیں موت کے دائرے میں رقص کناں ہیں۔

جانتے ہو تم سب سے زیادہ بیوفا نکلے؟ جب تم زندگی میں آئے تو میری حیات کو نغمگی مل گئی تھی۔ وجود کے ہر ساز پر روز تمہیں گاتی تھی۔ ہر سُر پر تمہیں بکھیرتی تھی لیکن نہیں جانتی تھی ایک دن میرے سر بکھر جائیں گے تو میں خود کو بھی نہیں ڈھونڈ پاؤں گی۔ تم میری زندگی سے ایسے گئے کہ پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔

میں نے اپنی بہن کو کہہ دیا ہے کہ وہ یہ خط تمہیں لازمی دے۔ تم نے مجھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ ایک بار بھی میری خبر گیری
نہیں کی۔ تم مجھے چھوڑ کر اس طرح گئے جیسے خوشیاں بدنصیب شخص کے دروازے سے روٹھ کر جاتی ہیں۔ ایک بار بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ بچوں کی موت کے بعد میں زندہ کس طرح رہی۔ تمہارے جانے کے دکھ اور بچوں کی موت سب نے مل کر مجھے یہ مرض عطا کیا ہے۔ پیارے ساگر! ایک بار دیکھ لیتے کہ تمہارے بغیر کس حال تک پہنچ گئی کہ ہر حال میں خوش رہنے والی عورت عشق کی بازی میں اتنی بدحال ہوئی کہ اس پر محبت کے بادلوں نے پھر کبھی سایہ نہ کیا۔

میرے ساگر! صبح کے پانچ ہو چکے ہیں۔ میری سانسیں اکھڑ رہی ہیں۔ میں مزید لکھ نہیں پاؤں گی۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔

فقط "تمہاری محبت"


تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہی ہوں۔

میں قاصد ہوں خط پہنچانے آئی ہوں۔

کس کا خط ہے؟

میری مرحومہ بہن کا، ان کی خواہش تھی کہ یہ خط میں ان کے شوہر کو خود پکڑ ا کر آؤں۔

لیکن مُردے خط کہاں پڑھ سکتے ہیں۔قبرستان کی ہوا خط کو کہیں سے کہیں لے جائے گی۔ ہوائیں کہاں احساس پڑھ پاتی ہیں؟

میری بہن نے مجھے کہا تھا کہ یہ محبت کا خط ہے۔ پیار کی زمین پر بھیجنا ہے۔ اس کے احساس ہمیشہ سے زندہ تھے اور جو احساس والے ہوتے ہیں وہ مرا نہیں کرتے۔ انہیں بس محسوس کرنا ہوتا ہے اور دل کی نگاہ سے دیکھنا ہوتا ہے۔

Comments

سخاوت حسین

سخاوت حسین

سخاوت حسین نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہے، دل میں جہاں گردی کا شوق رکھتے ہیں، افسانہ، سماجی مسائل اور حالات حاضرہ پر لکھنا پسند ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */