علی ظفر پہ الزامات قانون کی نظر میں - محمد علی نقی

آج کل سوشلستان میں میشا شفیع کے علی ظفر پہ جنسی ہراسیت کے الزام نے گرما گرم بحث، جذباتی جملے، اور اپنے اپنے پسندیدہ گلوکار و گلوکارہ کی حمایت نے زور پکڑا ہوا ہے۔ بعض لوگوں کی جانب سے میشا کے الزامات کو جرم تصور کیا جانے لگا ہے تو دوسری طرف سے گلوکارہ پہ جملے کسے جارہے ہیں۔ اِن تمام لوگوں کی رائے کا اگر جائزہ لیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں نہ تو مرد بے گناہ ہے اور نہ ہی عورت کیونکہ دونوں کے حامیوں نے اپنی اپنی رائے میں انتہاء پسندی کو پروان چڑھا رکھا ہے۔

جبکہ اس کے برعکس قانون کی نظر میں ہر شخص بے گناہ ہے کیونکہ قانون کا قاعدہ ہے کہ "Everyone is presumed innocent,until proven guilty".

اگر کسی پہ الزام لگایا جائے تو ضروری ہے کہ آپ کے پاس ٹھوس شواہد بھی ہوں کیونکہ آپ کے الزامات صرف الزام ہی نہیں ہوتے بلکہ ملزم کی معاشرتی زندگی پر بری طرح اثر بھی انداز ہوتے ہیں اس لیے قانون نے Defamation کو جرم قرار دیا ہے چاہے وہ Libel (تحریری شکل میں) یا Slander (فقط لفظی کلمات)۔

اگر میشا کے الزامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ نہایت سنگین نوعیت کے معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اگر یہ بے بنیاد نکلیں تو اِن میں Slander اور Libel دونوں کا عنصر موجود ہے۔ جس پہ اگر قانونی کاروائی کی گئی تو میشا کو نہ صرف غیر مشروط معافی مانگنا پڑے گی بلکہ ہرجانے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اِس کے برعکس اگر میشا یہ ثابت کردیتی ہیں کہ گلوکار نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا قبیح فعل انجام دیا ہے تو گلوکار کو تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 509 کے تحت نہ صرف تین سال کی قید یا پانچ لاکھ جرمانہ یا پھر دونوں کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

لیکن! جب تک گلوکارہ یہ ثابت نہیں کرتی اُس وقت تک گلوکار کو بے گناہ ہی تصور کیا جائے گا کیونکہ "Everyone is presumed innocent,until proven guilty".

لہٰذا عجلت پسندی کا مظاہرہ کرنے سے بہتر ہے کہ اس معاملے کے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے فریقین میں سے کسی کو بھی مجرم تصور کرنے سے احتراز کیا جائے اور ملزم کو صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔