" قیدی " - نورین تبسم

ہم سب قیدی ہیں۔ اپنے خیال میں... اپنے دام میں... اپنے جسم میں... اپنی روح میں... اپنے دفتروں میں اور اپنے گھروں میں بھی۔

بہت سے سوال سر اٹھاتے ہیں کہ قیدی کون ہوتا ہے؟ قیدی کیوں قیدی ہوتا ہے؟ قیدی کیا کرسکتا ہے؟ اور قید کی مدت کیا ہے یا کتنی ہوسکتی ہے؟ ان سوالوں کے جواب کوئی گہرا فلسفہ نہیں بلکہ عام انسانوں کی عام کہانی ہے۔اپنی ذات پر غور کریں جواب ملتےچلے جائیں گے۔

سب سے پہلے قیدی وہ ہوتا ہے جو کسی جیل میں رہتا ہے۔ اُس کی اپنی کوئی مرضی کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ ایک لگے بندھے شیڈول پراُس کا دن گزرتا ہے... کھانے پینے، ملنے ملانے، سونے جاگنے میں دوسروں کا دست ِنگر... ملاقاتی وقت لے کر ہی اُس سے مل سکتے ہیں وہ بھی کڑے پہرے میں وقت کی زنجیروں میں جکڑے... محنت مشقت سب طے شدہ... اُسے کولہو کا بیل کہہ لیں یا بوجھ اُٹھانے والا گدھا بس اپنے کام سے کام رکھنا ہی اُس کا مقصدِ حیات ہے۔ کوئی چوں چرا نہیں کہ بھاگنا بس میں نہیں۔ اگرناکام کوشش بھی کی بھاگنے کی تو پابندیاں مزید سخت ہو جاتی ہیں۔ سر پر نظر آنے والا آسمان دیکھنے کو نگاہیں ترس جاتی ہیں۔ اس چکی سے وہ ٹارچر سیل جنت دکھتا ہے جہاں تازہ ہوا تو میسر تھی۔ بس آس ہے تو فقط یہ کہ سزا کب ختم ہو گی۔ نہیں جانتا کہ یہ تو چھوٹی جیل ہے باہر نکل کر ایک بڑی جیل بڑی سزا منتظر ہے۔

اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ قیدی کیوں قیدی ہوتا ہے؟ اس میں بھی اس کا کوئی دوش نہیں۔ کبھی نادانی کا کوئی لمحہ اُس پر ایسا حاوی ہو جاتا ہے کہ ساری زندگی کی نیک نامی ساری کمائی لُٹ جاتی ہے اور وہ ذلت و معصیت کی پکڑ میں آجاتا ہے۔ کبھی خواہش نفسانی عارضی خوشی کے حصول میں وہ ان جان ہمیشہ کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بجُز کسی ارادے کسی ترغیب کے وہ بے گناہ بھی قید میں آ جاتا ہے... کسی اور کے کیے کی سزا بُھگتا ہے... وہ ہوا میں اُڑتا پنچھی ڈال ڈال مہکتی تتلی کی طرح ہوتا ہے کہ وقت کے کرخت ہاتھ اسے اپنی مٹھی میں یوں بھینچ لیتے ہیں کہ طاقت ِپرواز تو جانے دو اُس کا وجود بھی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔ شکاری کسی اور کی قضا کے منتظر ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی تقدیر کے چکر کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بگرام جیل، میری یہی کوشش تھی کہ زندہ چھوڑ دیں

سوال یہ ہے کہ قیدی کیا کر سکتا ہے اور کیا کرتا ہے؟ یہ اہم سوال ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو مجبور سمجھنے لگ جائے تو پھر اُس کی عمر قید اور قید ِبامشقت میں کوئی کمی نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ کال کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا ہے پھر وقت ہی فیصلہ کرتا ہے۔اور ان فیصلوں پرعمل درآمد میں بھی سالوں بیت جاتے ہیں۔ انسان مرمر کے جیتا ہے اور ہر پل مرتا ہے۔

قیدی وہ بھی ہے جو کوئی وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنا مقدمہ خود لڑتا ہے آگے بڑھ کر جیل کے دروازوں پر آنےوالی روشنی کی کرن محسوس کرتا ہے جو قید وبند سے آزاد... صرف دیکھنے والی آنکھ کا مقدر ہے۔ وہ دُنیا کے بدبو دار جوہڑ میں رہ کر خوشبو کا لمس چھونے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ آخری سانس آخری لمحے تک ہار نہیں مانتا وہ اپنے دائرے کو جان جاتا ہے۔ وہ مان جاتا ہے کہ فرار کے راستے مسدود ہیں لیکن سانس کے راستے کھلے ہیں اور جب تک سانس ہو آس باقی رہتی ہے۔ وہ کچھوے کی طرح چپ چاپ اپنے راستے چلتا جاتا ہے۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ اُس کی خاموشی اُس کی تنہائی اُس کی لگن ایسے جگمگا اٹھتی ہے کہ آزاد دُنیا کے باسی اُس پر رشک کرتے ہیں کہ قید میں اتنی روشنی ہے تو اگر یہ روشنی کی قید میں ہوتا تو یقیناً اس کی چمک جگ کو خیرہ کر دیتی۔

قیدی کی خواہشات کی کوئی انتہا نہیں۔ خواہش پر پاپندی بھی ممکن نہیں۔ اس کی خواہش نشہ ہوتی ہے۔ جس کی وقتی لذت میں وہ سب بھلا دیتا ہے۔ خواہش جینے کا... وقت گزارنے کا... حوصلہ دیتی ہے اگر دوستی کر لو۔ لیکن فاصلہ رکھنا بےحد ضروری ہے۔خواہش کو اپنی ذات کے اندر نہ اُترنے دو ورنہ دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے... کھوکھلا کر کے کسی قابل نہیں چھوڑتی ... چوری چوری اس کا حصول سزا میں اضافے کا باعث بنتا ہے تو! لذت زحمت میں بدل جاتی ہے محبت ذلت بن جاتی ہے اورعادت مجبوری۔

یہ بھی پڑھیں:   رشتے اور ہم - عامراللہ

حرف ِآخر!

رب نے جس نفس کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے...اس کے لیے ہر قید اختیاری ہےجو وہ بقائمی ہوش وحواس قبول کرتا ہے۔ "بےاختیاری" کا خودساختہ دکھ صرف راہ فرار کا ایک راستہ ہے جو بند گلی پر ختم ہوتا ہے۔

زندگی ایک قید ہے یہ قید بھی صرف ان کا مقدر ہے جو غور کرتے ہیں ورنہ زندگی کے رنگوں سے رس کشید کرتے بے پروا لوگوں کے لیے زندگی ایک نہ ختم ہونے والا خوبصورت باغ ہے اور زندگی کی محرومیوں اور ناکامیوں کو سمیٹنے والوں کے لیے محض ایک بوجھ اور دوزخ کا سدا رہنے والا عذاب۔ اس قید کو محسوس کرو تو یہ ایک دائرہ ہے اس کو جان لو اور مان لو کہ دائرے پھیلنے کے لیے ہوتے ہیں جتنا آگے بڑھو گے دائرہ بڑھتا چلا جائے گا۔

وسعت ِنظر سے بڑھ کر ایک قیدی کا انعام اور کوئی نہیں۔

ٹیگز

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.