واٹس ایپ گروپ کا مفید استعمال کیسے؟ - بشارت حمید

سوشل میڈیا موجودہ دور کی بہت اہم ضرورت بن چکا ہے۔ چند سال پہلے تک کوئی فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر کمیونیکیشن ایپلیکیشنز کے بارے جانتا بھی نہ تھا لیکن آج ہر چھوٹا بڑا ان کے سحر میں جکڑا نظر آتا ہے۔ لیکن ہم پاکستانی کسی بھی سہولت کی چیز کا ایسا اندھا دھند استعمال کرتے ہیں کہ پھر اس کے مثبت پہلوؤں کی بجائے منفی پہلو زیادہ غالب آ جاتے ہیں اور یوزر اس سہولت سے تنگ آ جاتے ہیں۔

واٹس ایپ میسنجر ہمیں کسی بھی موبائل یوزر کو انٹرنیٹ کے ذریعے فری میسجنگ کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ ہم اس کے ذریعے کوئی بھی ڈاکیومینٹ، آڈیو یا ویڈیو فائل باآسانی بھیج اور وصول کر سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے پوری دنیا میں فری آڈیو ویڈیو کال کر سکتے ہیں۔ 256 افراد کا گروپ بنا سکتے ہیں جس میں مختلف موضوعات پر بات چیت اور بحث کی جاسکتی ہے۔ 256 افراد کی ڈسٹری بیوشن لسٹ بنا سکتے ہیں جس کا صرف ایڈمن ہی دوسروں کو میسج بھیج سکتا ہے اور باقی لوگ غیر ضروری میسجز سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

فرداً فرداً میسج اور ڈسٹری بیوشن براڈ کاسٹ کی حد تک تو پھر بھی معاملہ ٹھیک رہتا ہے لیکن مسئلہ تب بنتا ہے جب کوئی گروپ بنایا جائے۔ کیونکہ سب لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کر سکتے ہیں اور ہر بندہ صرف ایک میسج کرکے تمام شرکاء تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے اس لیے بعض احباب ہر آنے والا سچا جھوٹا میسج گروپ میں بھیجنا کار ثواب سمجھتے ہوئے ہر اس گروپ کو جس میں وہ شامل ہوتے ہیں، فارورڈ کرتے رہتے ہیں۔ کسی مشن اور مقصد کے تحت بنائے گئے گروپ میں بھی یہی سلسلہ جاری رہتا ہے، خواہ اس کی وجہ سے اصل مقصد کہیں پیچھے رہ جائے۔ اس سلسلے میں کچھ آداب ملحوظ خاطر رکھے جائیں تو یقیناً گروپس سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

• اگر کوئی گروپ ایڈمن آپکو اپنے گروپ میں شامل کرے تو اسے السلام علیکم، شکریہ، جزاک اللہ وغیرہ کا میسج گروپ کی بجائے ذاتی طور پر کیا جائے۔

• ایڈمن کی طرف سے طے کیے گئے گروپ رولز کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے اگر آپ ان کی پابندی نہیں کر سکتے تو خاموشی کے ساتھ گروپ سے خود ہی نکل جانا زیادہ بہتر آپشن ہے۔

• کسی دوسرے گروپ ممبر سے بات کرنی ہو تو اسے پرائیویٹ میسج کیجیے۔

• جمعہ مبارک، عید مبارک، چاند مبارک، ویری نائس، شکریہ، جزاک اللہ وغیرہ کے میسجز انفرادی طور پر صرف متعلقہ شخص کو ہی کیے جائیں۔ گروپ میں اس طرح کے پیغامات سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

• جس مقصد کےلیے گروپ بنایا گیا ہو صرف اسی مقصد کو پیش نظر رکھیے۔ ہر آنے والا میسج گروپ میں شیئر کرنا ایک غیر مناسب حرکت ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ گروپ کے 256 ممبرز اگر روزانہ ایک ایک میسج ہی کریں تو کیا صورتحال پیدا ہوگی؟

• گروپ میں کوئی تجویز پیش کرنی ہو تو گروپ ایڈمن سے شیئر کریں اگر ضروری ہوا تو ایڈمن خود اس تجویز پر باقی ممبران کی رائے لے لے گا۔

اور آخری بات یہ کہ جہاں بھی ہوں وہاں کے قوانین کی پابندی کی عادت ڈالیے ہر جگہ اپنے لیے استثنیٰ حاصل کرنے کی عادت پختہ ہو کر معاشرے میں لاقانونیت کو فروغ دیتی ہے۔

ٹیگز

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.