اٹھاکے ایڑیاں چلنے سے قد نہیں بڑھتے - ارشد زمان

پورے ایشیا اور عالم اسلام میں صرف دو ہی لیڈر ہیں، طیب اردوان اور عمران خان۔

ویسے یہ دعوی تو برسوں سے تحریک انصاف کے دوست کرتے چلے آ رہے ہیں مگر اس دفعہ ہم نے کچھ زیادہ سنجیدہ اس وجہ سے لے لیا کہ علی محمد خان صرف ممبر قومی اسمبلی نہیں، بلکہ حقیقتا ایک سنجیدہ، فہمیدہ اور مخلص بندہ ہے، اور چند محدود لوگ جو آج کے سیاسی میدان میں غنیمت ہیں، اور ان سے کوئی توقع رکھی جاسکتی ہے، ان میں سے ایک علی محمد خان بھی ہے۔

ہم جو محتاط بات کر سکتے ہیں، وہ یہ کہ بلاشبہ عمران خان صاحب میں کئی خوبیاں بھی ہوسکتی ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے چاہنے والوں کی محبت اور عقیدت کی کوئی خاص وجہ بھی ہوگی، مگر بصد احترام یہ بہت بڑا دعوی ہے کہ وہ اتنا بڑا لیڈر ہے کہ جو صف اوّل میں کھڑا ہے اور عالم اسلام میں طیب اردگان کے ہم پلہ ہے۔ ہم میں تو اتنی جرات نہیں کہ جناب عمران خان پہ کوئی تبصرہ کریں اور تجزیے کے طور پہ ان کی ذاتی زندگی، شخصیت، ماضی، حال اور سیاسی فیصلوں اور حکمت عملی کا جائزہ لے کر ان کا محاکمہ کریں، البتہ چونکہ یہاں ان کا موازنہ طیب ایردوان سے کیاگیا ہے تو ہم وہی آئینہ سامنے رکھیں گے اور دعوت دینا چاہیں گے کہ اسی آئینے میں خان صاحب کو دیکھا جائے۔

طیب اردوان کوئی عام روایتی سیاست دان اور سیاسی لیڈر نہیں بلکہ ایک دعوتی، نظریاتی اور انقلابی تحریک کاایک تعلیم یافتہ، مخلص، کمیٹڈ، ویژنری، مجاہد اور حافظ قران کارکن ہے۔ وہ کسی کلب یا بیچ سے اٹھا کر مسلط کردہ کوئی جذباتی، لاابالی، متنازعہ، غیرسنجیدہ اور سراب کے پیچھے بھاگنے والا جلدباز نہیں، بلکہ ایک نظریاتی سیاسی کارکن ہے، جس نے ایک طویل وقت تک انتھک محنت اور جانگسل جدوجہد کر کے یہ مقام پایا ہے، جیل کی صعوبتیں برداشت کی ہیں، خدمت میں نام بنایا ہے، اور آمریت کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ جدوجہد انھوں نے کسی سہارے، بیساکھی، یا ابن الوقتوں، کرپٹ عناصر، لوٹوں اور چلے ہوئے کارتوسوں کے جلو میں نہیں کی، بلکہ صاحب ایمان، پاکیزہ، بااخلاق، بامقصد اور ایثار و قربانی کی دولت سے مالامال ساتھیوں کے ہمراہ طے کی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ وہ کسی بیرونی و اندرونی خواہشوں کی پیداوار نہیں، بلکہ وہ ایک نابغہ روزگار، مجاہد، ویژنری، متقی، باکمال، صاحب عزیمت و استقامت اور صبر و حکمت کی دولت سے مالا عظیم نجم الدین اربکان کی عظیم جدوجہد، سوچ، فکر، فلسفے اور مقصد کا مظہر ہے۔ اور وہ مقصد بالکل واضح ہے یعنی اسلامی و فلاحی ترکی کا قیام۔ سیکولرازم و لبرازم کی تمام تر خباثتوں کی روک تھام اور بتدریج خاتمہ۔ بےشرم اور بےحیا کلچر کے بجائے حیاء کے کلچر کا فروغ۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی جیت - محمد عامر خاکوانی

دنیا جانتی ہے کہ طیب ایردوان محض بڑھکیں مارنے والا کا کوئی “بچہ مقرر” نہیں کہ منہ میں جو کچھ آیا بول دیا، بلکہ نہایت محتاط، سنجیدہ، فہمیدہ، صاحب علم، کم گو اور مؤمنانہ بصیرت کا خوگر، واضح اور متعین اہداف کی جانب گامزن اور کچھ کر دکھانے والا بہادر اور خوددار رہنما ہے۔ کسی جنرل یاجج نے انھیں تخت پہ نہیں بٹھایا ہے، بلکہ قابل فخر کارکردگی یعنی استنبول جیسے شہر کو بنیاد بنا کر اور اسے چمکا کر لوگوں کا اعتماد پایا ہے، اور سیکولر ترکی کے ''بالجبرسیکولر'' بنائے گئے لوگوں کو اسلام کے راستے پہ ڈال کر ترکی کو عظیم تر بنانے کے مشن پہ جانب منزل رواں دواں ہے۔

اور ہاں!
ترکی کی بدمست فوج، اسٹیلشمنٹ اور عدلیہ کو اپنے اپنے دائرہ کار میں دھکیلنا یعنی اپنی اصل ذمہ داریوں پہ لگانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ بہت حساس، نازک، پیچیدہ، خطرناک کام اور مکھیوں کے جتھے میں ہاتھ ڈالنے جیسا تھا، مگر انھوں نے پوری جرات، جسارت، حکمت، تدبر اور استقامت کے ساتھ یہ ناممکن عمل ممکن بنا کر ایک مثال قائم کی کہ وہ خود ہر قسم مالی و اخلاقی کرپشن سے پاک ہے، ایمانی اور اخلاقی دولت سے آراستہ وہ پیراستہ ہے۔

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • عمدہ مضمون
    طیب اردوان بلاشبہ دنیائے اسلام کیلئے ایک صبح درخشاں کی نوید ہیں۔اللہ انہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔باقی رہا کچھ لوگوں کا ان کے متعلق مختلف چہ منگوئیاں کرنا ،تو یہ ان کا کام ہی ہے اور ان میں بھی زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو سیاست کی الف ،ب ،ت سے بھی واقف نہیں ہونگے اور نہ وہ یہ جانتے ہوں گے کہ سیاست کس چڑیا کا نام ہے۔