اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی - محسن خان

اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی

کیا تجھ کو نہیں تیری خودی تک بھی رسائی

علامہ محمد اقبال کے کلام و پیغام سے شغف رکھنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اقبال کے یہاں "خودی" کو کبر اور غرور کے معانی میں نہیں لیا جاتا۔ بلکہ خودی کا مطلب اپنی ماہیت اور اصلیت کو بہ ایں ہمہ جاننا اور اس کے مطابق ان تقاضوں کو پورا کرنا جن کا متقاضی بنایا گیا ہے۔اس لیے ان کے نزدیک خودی تک رسائی اور خود شناسی ایک منزل ہے بہت ہی عظیم منزل۔

مگر آج کے نوجواں مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود آشنا نہیں، اسے اپنی خودی تک رسائی نہیں، اور نہ اسے اپنی منزل کا پتہ ہے۔جس کی سب سے اہم وجہ ہمارے تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان اور تحریک و محرکات کا نہ ہونا ہے۔ دور حاضر کے نوجوان کی سوچ و تخیل کی مثال ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہے کہ جس سمت کی ہوا ہو اس سمت امڈنا شروع کردیتا ہے۔

اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ آج ہم لارڈ میکالے اور مونٹیسری کے فرسودہ تعلیمی نظام کو اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ اغیار کا تعلیمی کیونکر ہماری اخلاقی، معاشی اور معاشرتی اقدار اور ان معیارات کی پوری عکاسی کر سکتا ہے جبکہ ہم اصلاً اور نسلاً ہر پہلو سے نہ صرف ان سے مختلف بلکہ اپنے معیارات میں ان کے بر عکس ہیں؟ صد افسوس کہ ان کے تعلیمی نظام کو اپناتے ہی ہمارے صدیوں سے موجودہ تعلیمی نظام دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ایک مدرسہ (قدیم نظام) اور دوسرا سکول (جدید نظام)۔جس سے یہ ہوا کہ اہل مدرسہ نے نام نہاد جدید نظام کی مخالفت کر کے رہبانیت کی سی روش اختیار کی اور معاشرے سے مکمل یا کافی حد تک الگ ہو کر مدرسہ کی چار دیوار تک محدود ہو گئے۔ اور رہا سکول سسٹم (جدید نظام) تو انہوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی، روشن خیالی اور اظہار آزادی کی روش اپنا کر اپنے کردار اور عمل میں مکمل طور پر اسلام سے دور ہو کر رہ گئے بلکہ بعض میدانوں میں تو ملحدانہ انداز اختیار کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   اردو زبان کا رسم الخط - محمد ذیشان

اب اگر واقعی تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ صرف ایک ادارے کی تقسیم نہیں تھی بلکہ پوری قوم اور اس کے سوچنے کا انداز دو الگ الگ حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا۔ ایک حصہ وہ جو جدید سائنسی علوم سے عاری اور صاف فقہی گتھیاں سلجھانے لگ گیا اور دنیا کو نئے انداز سے بنانے اور اس کی تجدید میں ذرا سا حصہ بھی نہ ڈال سکا اور دوسرا حصہ وہ جو مادّہ پرستی اور آزاد خیالی کی لت میں اس قدر غرق ہو گیا کہ معاشرتی اور اخلاقی اقدار سے مکمل طور پر بے بہرہ ہو کر رہ گیا اور روحانیت و مذہبی واردات سے نا آشنا ہو کر دنیا پرستی کو مقصد بنا لیا۔

یہ سب اس قوم نے کیا کہ خو ایک ہی ادارے میں بہ یک وقت جدید علم الاعداد (حساب)، طب اور عمرانیت کے بانی پیدا کر رہی تھی۔ جہاں ایک ہی ادارہ افلاطون و ارسطو کے ہم پلہ فلسفی پیدا کر رہا تھا وہیں اسی ادارے سے ماہرین فلکیات سے لیکر، اوپن ہارٹ سرجری، کرنے والے جراحت کے ماہر بھی نکل رہے تھے۔جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی تہذیب اور روایات اور ضوابط حیات کو نہ صرف عملاً اپنانے والے تھے بلکہ باقی تمام اصولوں سے فوقیت دیتے آرہے تھے۔ اور آج بھی ضرورت وقت یہ ہی ہے دونوں تعلیمی نظاموں کو پھر سے یکجا کر کے اقبال اور تمام مصلحین امہ کے افکار کو اپنی تعلیمی نساب میں شامل کر کے کھوئے ہوئے خزانے کو دوبارہ حاصل کیا جائے اور اغیار کی غلامی کی دوری اختیار کی جائے۔