اولیاء اللہ کا مقام، اسلام اور صوفیت و بدعت - ابو حسن

ولایت کی دلیل فقط ایک ہے اور وہ سیدالاولین و الآخرین ﷺ کی غلامی میں ہے، جو جتنا ان کی متبرک و مطہر سنت ﷺ کے قریب ہوا وہ بڑا ولی ہوا،جو جتنا ان کی ذات اور ان کی متبرک و مطہر سنت ﷺ میں فنا ہوا، وہ اتنا ہی مقرب بارگاہ الٰہی ہوا

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

(اے پیغمبر) کہہ دو اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

پس یاد رکھیں!

کشف ولایت کی کسوٹی نہیں

خرق عادت بات کا ظہور ولایت کی دلیل نہیں

تصرف و تسخیر ولایت کی دلیل نہیں

حتیٰ کہ دعا کی قبولیت بھی ولایت کی دلیل نہیں

اس بات کو پلّے باندھ لیں کہ ولایت اور قرب الٰہی کے تمام درجات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔

وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقً

اورجو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار ہو تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا وہ نبی اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں اور یہ رفیق کیسے اچھے ہیں۔

اولیاء اللہ تو واجب الادب اور واجب التعظیم ہوتے ہیں، جو اولیاء اللہ کا ادب نہ کرے اور روح کی گہرائیوں سے ان کی عزت نہ کرے وہ بھی کوئی انسان ہے؟ اسے اصطبل میں باندھنے کی ضرورت ہے كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا۔

ان کی شان میں ادنی سی گستاخی بھی مؤجب حرماں ہے جوکہ مندرجہ ذیل حدیث قدسی کی روشنی میں کہی ہے جو کہ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقْد آذَنْتهُ بِالْحَرْبِ

جو میرے کسی دوست سے دشمنی کرتا ہے میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔

اسلام میں کلام اللہ اورسیدالاولین و الآخرین ﷺ کی متبرک و مطہر سنت ﷺ کی بجائے کسی اور کے منطق اور فلسفہ کی کوئی حثیت نہیں چاہےکہنے والا کوئی بھی ہو۔

دلیل؟

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں " دلیل کتاب و سنت ﷺ میں ہے"، اور اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا "جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو رد کر دے، تو وہ ہلاکت کے کنارے پر ہے۔"

اور پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا

قال حُذيفة رضي الله عنه "كلُّ عبادةٍ لا يتعبَّدُها أصحابُ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم فلا تعبَّدُوها؛ فإن الأولَ لم يدَع للآخر مقالاً"

حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ " تم آج ایسی عبادت نہ کرو جسے صحابہ کرام نے نہیں کیا کیونکہ انہوں نے تمہارے لیے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔"

اور پھر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ فرمانا

قال عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنهما "كلُّ بدعةٍ ضلالة وإن رآها الناسُ حسنة"

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ "ہر بدعت گمراہی ہے، اگرچہ لوگ اسے اچھا ہی کیوں نہ سمجھیں"

اور پھر سونے پر سہاگہ سید المحدثین کے اس قول نے کیا

أبا هريرة قال لرجل يا ابن أخي إذا حدثتك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فلا تضرب له الأمثال

حضرت ابوہریرہ نے ایک آدمی سے بیان فرمایا اے بھتیجے! جب میں تم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث مبارکہ بیان کیا کروں تو تم (اس کے مقابلے میں) لوگوں کی باتیں (قیل وقال) بیان نہ کیا کرو (سنن ابن ماجہ۔ حدیث 22)

اور جتنی بھی بدعات و خرافات دین میں دکھائی دیں گی یہ صوفیت اور دین سے ہٹے ہوئے مولویوں کے کارنامے ہوں گے اور ایسی ایسی باتیں اور اس اندازمیں بیان کی جائیں گی کہ سننے والا ان کا معتقد بننے پر تیار ہوجائے "ما سوائے توحید الٰہی پر ایمان رکھنے اور سنت ﷺ پر عمل کرنے والوں کے۔"

جیسا کہ تین صحابہ نے کہا کہ " 1- میں پوری زندگی روزہ رکھوں گا، 2- میں ساری رات قیام کروں گا، 3- میں شادی ہی نہ کروں گا "

جب خبر ان کے معلم سیدالاولین و الآخرین ﷺ کو ہوئی تو بہت ہی بہتر انداز میں ان کی اصلاح فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ " جس نے میری سنت سے اعراض کیا اس سے میرا کوئی تعلق نہیں" أو كما قال

صحابہ رضوان اللہ اجمعین سے بڑھ کر اجر کے پانے کو اور سنتﷺ پر عمل پیرا ہونے کو کوئی حریص نہ تھا لیکن آج کوئی یہ دعویٰ کرے کہ وہ زیادہ اجر پانے کے لیے من گھڑت اور اپنے شیوخ کے ایجاد کردہ عمل پر عمل پیرا ہے اور کہے کہ مجھ میں عبادت کا ذوق ہے اور وہ ایسی خود ساختہ عبادات میں اپنے آپ کو مشغول رکھے اور اس پر اپنی جان، مال اور وقت صرف کرے تو وہ دراصل صراط مستقیم کی بجائے ضلالت کے راستے پر گامزن ہے اور اس سے بڑا کوئی احمق نہیں۔

اور اس کی دلیل اس قول میں ہے

قال حُذيفة رضي الله عنه "كلُّ عبادةٍ لا يتعبَّدُها أصحابُ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - فلا تعبَّدُوها؛ فإن الأولَ لم يدَع للآخر مقالاً".

حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ " تم آج ایسی عبادت نہ کرو جسے صحابہ کرام نے نہیں کیا کیونکہ انہوں نے تمہارے لیے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔"

اور پھر سونے پر سہاگہ " بعد الانبیاء " افضل ترین انسان کے اس قول نے کیا۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "میں کسی ایسے عمل کو ترک نہیں کر سکتا جس پر رسول اللہ ﷺ عمل پیرا تھے، مجھے تو خدشہ ہے کہ اگر میں نے آپ کی سنت میں سے کسی چیز کو ترک کر دیا تو کہیں گمراہ نہ ہو جاؤں۔"

اور ایک آسان نسخہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ہے

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’میں سوتا بھی عبادت کی نیت سے ہوں اور اٹھنے میں بھی عبادت کی نیت کرتا ہوں۔‘‘ (بخاری 4342)

یعنی سیدنا معاذ بن جبل سوتے وقت عبادت کی نیت کر لیتے تھے اور تہجد کی نماز کے لیے بھی عبادت کی نیت کر لیتے تھے، کیونکہ وہ عبادت کے لیے توانا ہونے کے لیے سوتے تھے۔

حافظ ابن حجر بیان فرماتے ہیں ’’معاذ بن جبل کے قول کا مطلب یہ ہے کہ وہ آرام میں بھی ثواب کے طلب گار رہتے تھے اور تھکاوٹ میں بھی ثواب ہی کے طلب گار رہتے تھے۔ اگر آرام کرنے کا مقصد یہ ہو کہ عبادت کے لیے چستی حاصل ہو تو آرام کرنے کا بھی اجر ملتا ہے۔‘‘ (فتح الباری 8/62)

لیکن صوفیت میں تو حدیث گھڑنا اور بدعت ایجاد کرنا معیوب نہيں سمجھا جاتا، کیوں؟

کیونکہ وہ اس بات کو برا نہیں سمجھتے کہ لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے کے لیے جھوٹ بولنے، حدیث گھڑنے
اور بدعت ایجاد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بعض ایسے افراد بھی تھے جو ذاتی طور پر بہت نیک تھے۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ مسلم معاشرے میں دنیا پرستی کی وبا پھیلتی جارہی ہے تو انہوں نے اپنی ناسمجھی اور بے وقوفی میں دنیا پرستی کی مذمت، قرآن مجید کی سورتوں اور نیک اعمال اور اوراد و وظائف کے فضائل میں حدیثیں گھڑ کر بیان کرنا شروع کردیں تاکہ لوگ نیکیوں کی طرف مائل ہوں۔ انہی جعلی احادیث کی بڑی تعداد آج بھی بعض کم علم مبلغ اپنی تقاریر میں زور و شور سے بیان کرتے ہیں۔

مصر کے مشہور محدث اور محقق علامہ احمد محمد شاکر (م 1957ء) لکھتے ہیں: "احادیث گھڑنے والوں میں بدترین لوگ اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے وہ ہیں جنہوں نے خود کو زہد و تصوف سے وابستہ کر رکھا ہے۔ یہ لوگ نیکی کے اجر اور برائیوں کے برے انجام سے متعلق احادیث وضع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے بلکہ اس خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ اپنے اس عمل کے ذریعے وہ اللہ سے اجر پائیں گے۔"

بعض ایسے بھی نامعقول لوگ تھے جنہوں نے محض اپنی پراڈکٹس کی سیل میں اضافے کے لیے ان چیزوں کے بارے میں حدیثیں گھڑنا شروع کردیں۔ مثال کے طور پر ہریسہ (ایک عرب مٹھائی) بیچنے والا ایک شخص یہ کہہ کر ہریسہ بیچا کرتا تھا کہ حضور ﷺ کو ہریسہ بہت پسند تھا۔

اللہ اپنی رحمت سے نوازے امام مسلم کو جنہوں نے صحیح مسلم کے مقدمے میں لکھا "ہم نے ان صالحین کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹ بولتے نہیں دیکھا" (مقدمہ صحیح مسلم)

اب میرا سوال ہے آپ سب سے کہ

کیا اللہ اکبر پڑھنا غلط ہے؟

کیا لاالہ الا اللہ پڑھنا غلط ہے؟

کیا سبحان اللہ پڑھنا غلط ہے؟

جی ہاں غلط ہے لیکن کب اور کیسے؟ اس کے لیے مندرجہ ذیل سنن دارمی کی حدیث پڑھیں جس کا ایک ایک لفظ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اور اگر ہم آنکھوں سے اندھی تقلید کی پٹی اتار پھینکیں گے اورشرک و بدعات کی بجائے سعادتوں سفر پر گامزن ہوجائیں گے تو ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابیاں ہوں گی إن شاء اللہ اور یہ حدیث عرصہ دراز ہوگیا سیرت امام بخاری رحمہ اللہ کے مطالعہ کے دوران میں نے پڑھی تھی اور اس نےبدعت سے مزید نفرت پر مجھے بہت تقویت دی اورمیرے لیے ہر قسم کی بدعت پر دلیل دینے کے لیے بہت ہی مفید ثابت ہوئی، الحمدللہ!

جب صوفیت کا سلسلہ بیعت قائم ہوا تو ہر ایک کے آداب، اشغال، وظائف، طریقے جداگانہ قائم ہوگئے اور ہر گدی نشین نے اپنے مذاق کے موافق جو چاہا اپنے عقیدت مندوں میں جاری کیا اور آئندہ چل کر وہ چیزدین کا حصہ ٹھہرگئی۔ تصوف و صوفیت پر یہ حدیث کاری ضرب ہے اور اصحاب رسول ﷺ کی بے زاری کا اندازہ مندرجہ ذیل حدیث سے لگایا جاسکتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی سے کون واقف نہیں یا کس نے ان کے بارے میں سُن یا پڑھ نہیں رکھا؟ اور انہوں نے بدعت پر کیسا شدید رد کیا اور سیدالاولین و الآخرین ﷺ کی کن کن چیزوں کا ذکر فرمایا؟ اور پھر ان لوگوں کو کیسی وعید سنائی؟

آئیے اب حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

عمرو بن یحییٰ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم صبح کی نماز سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب عبداللہ بن مسعود باہر تشریف لاتے تو ہم ان کے ساتھ چلتے ہوئے مسجد تک آیا کرتے تھے اسی دوران حضرت ابوموسیٰ اشعری وہاں تشریف لے آئے اور دریافت کیا،

کیا حضرت ابوعبدالرحمٰن (حضرت عبداللہ بن مسعود) باہر تشریف لائے؟

ہم نے جواب دیا، نہیں!

تو حضرت ابوموسیٰ اشعری ہمارے ساتھ بیٹھ گئے یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن مسعود باہر تشریف لائے جب وہ آئے تو ہم سب اٹھ کران کے پاس آگئے۔

حضرت ابوموسیٰ اشعری نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن آج میں نے مسجد میں ایک ایسی جماعت دیکھی ہے جو مجھے پسند نہیں آئی اور میرا مقصد ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے صرف نیکی ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود نے دریافت کیا وہ کیا بات ہے؟

حضرت ابوموسیٰ نے جواب دیا آپ خود ہی دیکھ لیں گے۔

حضرت ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور نماز کا
انتظار کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک حلقے میں ایک شخص ہے جس کے سامنے کنکریاں موجود ہیں

فَيَقُولُ كَبِّرُوا مِائَةً فَيُكَبِّرُونَ مِائَةً

پھر وہ شخص یہ کہتا ہے سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھو تو لوگ سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھتے ہیں۔

فَيَقُولُ هَلِّلُوا مِائَةً فَيُهَلِّلُونَ مِائَةً

پھر وہ شخص کہتا ہے سو مرتبہ لاالہ الا اللہ پڑھو تو لوگ سو مرتبہ یہ پڑھتے ہیں۔

وَيَقُولُ سَبِّحُوا مِائَةً فَيُسَبِّحُونَ مِائَةً

اور وہ شخص کہتا ہے سومرتبہ سبحان اللہ پڑھو تو لوگ سبحان اللہ پڑھتے ہیں۔

قَالَ فَمَاذَا قُلْتَ لَهُمْ

حضرت عبداللہ بن مسعود نے ان سے دریافت کیا، آپ نے ان سے کیا کہا؟

حضرت ابوموسیٰ اشعری نے جواب دیا میں نے آپ کی رائے کا انتظار کرتے ہوئے ان سے کچھ نہیں کہا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا آپ نے انہیں یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں اور آپ نے انہیں ضمانت کیوں نہیں دی کہ ان کی نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی؟ (راوی کا بیان کرتے ہیں)

پھر حضرت عبداللہ بن مسعود چل پڑے ان کے ہمراہ ہم بھی چل پڑے یہاں تک کہ حضرت عبداللہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا یہ میں تمہیں کیا کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟

انہوں نے جواب دیا اے ابوعبدالرحمٰن یہ کنکریان ہیں جن پر ہم لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ گن کر پڑھ رہے ہیں

قَالَ فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ

حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا تم اپنے گناہوں کو گنو میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوگی۔

اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! تمہارا ستیاناس ہو تم کتنی تیزی سے ہلاکت کی طرف جا رہے ہو یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکے صحابہ تمہارے درمیان بکثرت تعداد میں موجود ہیں اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے ہیں جو ابھی پرانے نہیں ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن ہیں جو ابھی ٹوٹے نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم ایسے طریقے پر ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ یا پھر تم گمراہی کا دروازہ کھولنا چاہتے ہو؟

لوگوں نے عرض کی اللہ کی قسم اے ابوعبدالرحمٰن ہمارا ارادہ صرف نیک ہے۔

قَالَ وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ

حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا کتنے ہی خیر کا ارادہ کرنے والے ہیں لیکن خیر کو نہیں پہنچتے۔

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِنْكُمْ ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ رَأَيْنَا عَامَّةَ أُولَئِكَ الْحِلَقِ يُطَاعِنُونَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ الْخَوَارِجِ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم ہوسکتا ہے ان میں سے اکثریت تم لوگوں کی ہو؟

پھر حضرت عبداللہ بن مسعود ان کے پاس سے اٹھ کر آگئے۔

عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں ہم نے اس بات کا جائزہ لیا ان حلقوں سے تعلق رکھنے والے عام افراد وہ تھے جنہوں نے نہروان کی جنگ میں خوارج کے ساتھ مل کر ہمارے ساتھ مقابلہ کیا (حدیث 204، مقدمہ، أخرجه الدارمي وهو صحيح)

اپنے استاذ محترم کے مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ تحریر کو اختتام پذیر کرتا ہوں اور میری بات کی کوئی حیثیت نہیں اور آپ ميری بات کو رد بھی کرسکتے ہیں لیکن جو قرآن و سنت اور اصحاب رسول ﷺ اور سلف و صالحین کے اقوال ان کو لے لیجیے۔

استاذ محترم کے کلمات

فدُوروا مع سُنَّة نبيِّنا وسيِّدنا محمد صلى الله عليه وسلم دُوروا مع السنَّة حيث دارَت، واعلَموا أن كل عبادةٍ لا دليل عليها من كتاب الله أو سنَّة رسوله صلى الله عليه وسلم - فهي عبادةٌ مُختلقة، وطريقةٌ مُبتدَعة، وزيادةٌ مُخترَعة، ولو استَحسَنَها من استَحسَنَها

چنانچہ ایسے ہی عمل کرو، جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بیان ہوا ہے اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ ہر ایسی عبادت جس کے بارے میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دلیل نہیں ہے، تو وہ خود ساختہ عبادت اور بدعتی طریقہ ہے، چاہے اسے اچھا کہنے والا کوئی بھی ہو۔

فاحذَروا أن تنتكِسُوا في حمئَتِها، أو تتدنَّسُوا بضلالتها

اپنے آپ کو بچاؤ! کہ کہیں اس کی دلدل میں نہ پھنس جانا، اور یا اس کی گمراہی میں نہ پڑ جانا۔

واللہ اعلم۔

ٹیگز

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */