ڈیموکریٹک مارشل لاء - قادر خان یوسف زئی

"پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے۔" شاید یہ جملہ ہم کئی مرتبہ سیاست دانوں، حکمرانوں اور دانشوروں سے سن اور پڑھ چکے ہیں۔ ہمیشہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نازک دور ختم کب ہوگا؟ دراصل یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں آج تک نہیں مل پا رہا۔ یہ نازک دور آتا کب ہے،کیا اس پر کبھی ہم نے غور کیا؟ تو اس کا جواب بھی بہت کم ملے گا۔چند ہفتے بعد موجودہ حکومت کا جمہوری دور ختم ہوجائے گا اور نگران سیٹ اپ کے لیے مشاورت کے بعد کیا ممکنہ صورتحال بنتی ہے اس کے خدوخال بھی واضح ہوتے چلے جائیں گے۔ ماضی میں آمریت کے درخت تلے کئی پھل ’’پھیلائی ہوئی جھولی‘‘ میں گر جاتے تھے۔ ڈیموکریٹک مارشل لا ء میں سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ وطن ِ عزیز اس وقت سیاسی خلفشار میں الجھا ہوا ہے۔ سیاسی قائدین کی جانب سے اپنے مخالف سیاسی جماعتوں پر الزامات کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ جھوٹے سچے الزامات کے اس بگولے نے اخلاقیات کی تمام حدود کو اُڑا دیاہے۔ عوام، سیاست دان سمیت تمام ریاستی ستون دشنامی بگولے کی زد میں ہیں۔ ہر جماعت اپنے سیاسی مخالف کے گڑھ میں اپنی کامیابی کے دعوے انتہائی پُر اعتماد انداز سے کررہی ہے۔ ایسا ظاہر کیا جارہا ہے کہ جیسے عوام کے مسائل کا حل ان کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ تقریباً سب بڑی قومی و علاقائی جماعتیں اقتدار میں رہ چکی ہیں۔ ان کی پالیسیوں سے عوام کماحقہ واقف ہیں، ان کے الزامات سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ پھر اس کے باوجود سیاسی بے چینی کیوں ہے؟ سیاسی افراتفری و بے یقینی کی فضا کیوں قائم ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں ہر جماعت سے مختلف ملے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے حصے بخرے ہوچکے ہیں۔ سیاسی طور پر جس جماعت کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے۔ وہ کنگ میکر جماعت ایم کیو ایم ہے۔ایم کیوا یم مائنس ون کا فارمولا تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت کہلانے والی ایم کیو ایم ٹوٹے ہوئے پتوں کی طرح بکھر چکی ہے۔ پاک سر زمین پارٹی میں ایم کیو ایم کے تینوں گروپوں کے منحرف اراکین کی شمولیت کی رفتار بڑھ رہی ہے اور ایم کیو ایم کے تینوں دھڑے’ آپسی اختلافات‘ کی وجہ سے اُڑتے پرندوں کو منانے کی سکت بھی نہیں رکھتے کیونکہ ان کے درمیان خود انتشار اس قدر زیادہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس کا انہیں بھی خود اندازہ نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ ایم کیو ایم کو لیاقت آباد تک محدود کردیا جائے گا۔ بادی النظر یہی نظر آرہا ہے کہ ایم کیو ایم چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بظاہر کچھ اس طرح تقسیم ہو گئی ہے کہ اب فاروق ستار و مقبول صدیقی بھی چاہیں عوام کا دوبارہ اعتماد مشکل نظر آتا ہے۔

ایم کیو ایم کے بعد سیاسی طور پر نقصان اٹھانے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کا پاکستان مسلم لیگ نظریاتی بننے کا عمل اپنی روایتی سست روی کے سبب نقصان کا سبب بن چکا ہے۔ مسلم لیگ ن سے دوسری جماعتوں میں جانے والے روایتی سیاست دانوں کی بڑی تعداد مستقبل کی معلق حکومت کا نقشہ طشت از بام کررہے ہیں۔ شہر اقتدار کے عادی سیاست دان، باد مخالف کا رخ جان چکے ہیں۔ اس لیے ان کی پروازیں تیزی سے ٹیک آف کررہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی اب قومی سیاست میں کیا کردار ادا کرسکتی ہے اس کی ہلکی جھلک ہمیں جنوبی پنجاب میں نظر آنے کی توقع ہے۔ جنوبی پنجاب کے روایتی و موروثی سیاست دانوں کے یک نکاتی ایجنڈے کو قبول کرکے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی عددی اکثریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔تاہم پاکستان مسلم لیگ ق کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کا پُرانا منشور لیکر انتخابی اکھاڑے میں اترنے والوں کے لیے نئی’’ کنگ پارٹی ‘‘زر خیز جماعت ہوسکتی ہے جو وفاق میں اقتدار کے معلق پارلیمنٹ میں شراکت دار بن سکتی ہے۔ چاہے اُس وقت حکومت سازی کے لیے پی ٹی آئی یا پی ایم ایل ن کو پی پی پی کی ضرورت ہو یا پیپلز پارٹی کو پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا کہ مصداق کسی بھی جماعت کا کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد خارج از امکان نہیں۔ شہباز شریف کی کراچی آمد کے باوجود سندھ میں اپنی تر خامیوں کے باجود پی پی پی کی گرفت مضبوط ہے۔ سندھی قوم پرستوں کا گرینڈ الائنس بھی پی پی پی کی صفوں میں دراڑ ڈالنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتا۔ شہری علاقوں میں پی ایس پی اور پی ٹی آئی کا سیاسی اتحاد ممکن نظر آتا ہے۔ کیونکہ مائنس ایم کیو ایم فارمولے میں تحریک انصاف نے پاک سرزمین پارٹی کی حمایت کی تھی۔ قوی امکان یہی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، تحریک انصاف، پاک سر زمین پارٹی کا شہری علاقوں میں مشترکہ سیاسی اتحاد ایم کیو ایم اور پی پی پی کے لیے کسی خوش خبری کی نوید نہیں لائے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے شہری علاقوں میں اپنی انتخابی قوت کے مظاہرہ کرنے کی اہلیت کھو چکی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتون تحفظ تحریک کا بگولا بھی قوم پرست جماعت کو نقصان سے دوچار کرسکتا ہے۔ بلوچستان کی سیاست ہمیشہ سرداروں اور قوم پرستی تک محدود رہی ہے جہاں کے بدلتے رنگوں کے مظاہرے ہمیں وقتاً فوقتاً دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ اس لیے وہاں ڈیموکریٹک مارشل لا کئی ادوار سے چل رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اس وقت پاکستان کی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو ہر حالت میں وفاق میں حکومت بنانے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے اور لینے کے لیے تیار بیٹھی ہوئی ہے۔ قبل از وقت انتخابات کے مطالبے سے دستبردار ہونے کے بعد پی ٹی آئی شہر اقتدار میں ’تبدیلی‘ کا نعرہ بلند کرنے کے لیے ریہرسل بھی کرچکی ہوگی۔ اس وقت پی ٹی آئی میں تمام سیاسی جماعتوں کی تتلیاں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف اس وقت تمام سیاسی جماعتو ں کے باغی و موروثی رہنماؤں کا مشترکہ پلیٹ فارم بن چکا ہے۔لاہور میں 29اپریل کا جلسہ اہمیت کا حامل ہوگا۔ روایتی سیاسی فضا تحریک انصاف کے لیے موافق بننے کی توقع ہے۔ دریں اثنا ء جن جن منصوبوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کو اپنی انتخابی مہم میں کامیابی کا زعم ہے اس وقت بد عنوانیوں و کرپشن کے الزامات کی زد میں آچکی ہیں۔’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کا نعرہ تبدیل ہوکر ’’تحریک بحالی عدل‘‘ اور ’’ ووٹ کے تقدس‘‘ میں تبدیل تو ہوگیا لیکن منصف اعلیٰ کے سماجی دوروں نے حکمران جماعتوں کے ترقیاتی منصوبوں کے سقم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ پی ایم ایل ن، سینیٹ انتخابات اور چیئرمین سینیٹ کی کامیابی پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کررہی ہے۔ اگر سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کی پوچھ گچھ کی ہوا چل نکلتی ہے تو جوڈیشل مارشل لاh کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس صورت میں انتخابات میں تاخیر کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔

غالب گمان یہی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اپنے انتخابی منظر نامے کی صورتحال کو محسوس کرچکی ہے اور کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح آخری چال بھی کھیلنا چاہتی کہ شاید قسمت کی دیوی ایک مرتبہ ان پر پھر مہربان ہوجائے۔ لیکن سیاسی شہید ہونے کی خواہش سے لیکر خودکش بننے تک، پاکستان مسلم لیگ ن اپنی جماعت کے اندر اٹھنے والے بگولے کی زد میں آچکی ہے۔ مذہبی جماعتوں کی جانب سے متحدہ مجلس عمل، ملی مسلم لیگ، تحریک لیبک رہی سہی کسر برابر کرنے کے لیے کافی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں قوم پرستوں کی سیاست، مذہبی جماعتوں پر غالب نہیں آسکتی۔ جس طرح ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قبائلی علاقوں سے اٹھنے والی ایک متنازع تحریک قوم پرست جماعتوں کو سیاسی قبر میں اتار رہی ہے۔ اس کے اثرات ملکی سیاست پر بھرپور رونما ہوں گے۔ سیاسی پنڈتوں کا اندازہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن انتخابات کو موخر کرانے کے لیے اپنے بیانیے میں تبدیلی کرچکی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن نئی صف بندی کے لیے حسب روایت وقت کا انتظار کررہی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور دیگر علاقائی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن کو لاہور تک محدود رکھنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہیں۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں علاقائی سیاست قومی سیاست پر حاوی نظر آرہی ہے اس لیے ممکنات ہے کہ علاقائی سیاست کا پلڑا قومی سیاست پر بھاری ثابت ہو اور ایک ایسی پارلیمنٹ کا وجود قائم ہو جو خود مختار نہ ہو۔ڈیموکریٹک مارشل لا ء اس وقت سیاسی جماعتوں میں رائج ہے۔ موروثی اور روایتی سیاست سے آزادی کا خواب تاحال ممکن نظر نہیں آتا، نہ چہرے بدل رہے ہیں اور نہ ہی نظام۔