گلے لگاؤ - (اداریہ، سب رنگ اگست 1971ء)

ہر دن نیا دن ہوتا ہے اور مادّی اِرتقا کے لحاظ سے ہر نیا دن بدلا ہوا دن ہوتا ہے۔ جو کل تھا وہ کل نہیں ہوگا۔ جو آج ہے وہ بس آج کے لیے ہے۔ اب ہر لمحہ نئی فضا میں سانس لیتا ہے۔ سُکون و سُکوت کے دن ہزاروں سال پہلے ہم سے جُدا ہو گئے تھے اور پتا نہیں کہ جمود و تعطّل کا یہ زمانہ کتنے قرنوں کا احاطہ کیے ہوئے تھا۔ جو تخمینے لگائے گئے ہیں، ان کی سند نامعتبر ہے، مگر جب سے انسانوں نے خود کو زندہ رکھنے اور زیادہ محفوظ رہنے کا کوئی راز اتفاقی طور پر پا لیا، اس وقت سے ہر دن بدلا ہوا دن ہونے لگا۔ اور پھر انسانوں نے اپنا حُلیہ بھی تیزی سے بدلنا شروع کر دیا یا وہ تغیر پر مجبور کر دیے گئے۔ وہ راز حرکت کا پیش خیمہ بنا اور حرکت سببِ تغیر ٹھہری، اور تغیر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اب حرکت کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے، اور تیز ہوئی جاتی ہے۔

کون اسے روک سکتا ہے اور کون ہے جو تبدیل ہونے کے لازمی عمل سے رُوگردانی کر سکے۔ انسان خود کیا ہے؟ اگر اس سے لباس، اشیا، مکان اور ہتھیار چھین لیے جائیں تو اسے دوسری انواع سے ممتاز کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہر شخص اپنے عَہد سے عبارت ہے۔ ہر شخص اپنے دَور میں سانس لیتا ہے۔ عَہد آگے بڑھ جائے گا تو انسانوں کو اس کے ساتھ قدم ملانا ہوگا۔ جو لوگ اس کارواں کے ساتھ جانے پر آمادہ نہیں ہوں گے وہ مر جائیں گے۔ ہر وہ تہذیب جو خود میں رَچ بس گئی ہو، اس کی عظمتیں بعد کو کہانیوں کی شکل میں بیان ہوتی ہیں۔ تہذیب کے شدید رَچاؤ کا عمل سماجی حرکت پذیری میں رخنے ڈالتا ہے۔ جو لوگ اپنے سماجی خول میں سرمست و شاداں رہے اور اپنی قدروں کے نشے میں مبتلا ہو گئے، وہ کھنڈروں میں بدل گئے اور شکستہ ایوانوں میں آنے والی نسلوں نے ان کی عظمت کو زیرِلب مسکراتے ہوئے تلاش کیا۔

اِن قدروں پر اصرار کیوں، جن کی سرشت بدل جانا ہے اور جن کے جبر سے مَفِر ممکن نہیں؟ قدروں کی خُو میں روز بہ روز ہرجائی پن بڑھ رہا ہے اور یوں اُن کے خمیر میں بے وفائی ہے، کہ وہ اپنے خارج کے اشاروں سے مشروط ہیں۔ اُن سے محبّتیں اور عقیدتیں کرتے رہیے گا تو دوسرے آگے نکل جائیں گے۔ سب کچھ تبدیل ہوا چاہتا ہے۔ اس پر آہیں بھرنے اور گِریہ کرنے سے اُن منطقی مراحل کو متاثر کرنا ممکن نہیں جو نئے دَور کا لازمہ ہیں۔

ہر نئی دریافت اور ہر نئی ایجاد قفروں کے ایک مربوط سلسلے پر اثرانداز ہوتی ہے اور اسے توڑ مروڑ کر رکھ دیتی ہے۔ گھرمیں بولتی تصویروں کا اہتمام ہو جائے تو ایک سلسلۂ اقدار اس سے متاثر ہوتا ہے۔ جو باتیں کبھی سُنی نہ گئیں اور کبھی نہ دیکھی گئیں‌، وہ ہماری بصارت کو گُنہگار کرتی ہیں، ہمارا خون جلاتی ہیں اور ہمیں عذاب میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ہو سکے تو ان ایجادوں کا داخلہ اپنے گھر میں بند کر دیجیے مگر اس افہام کے ساتھ کہ اب آپ کو بہر طور اپنے گروہ سے علیحدہ رہنا ہے اور یہ کام مِن حیث المجموع کوئی قوم کرے تو اسے دوسری قوم سے جُدا رہنا ہے۔

کیا ہر نئی قدر بُرائی کی طرف لے جاتی ہے؟ کیا جو ہے اُسے وہیں ٹھہر جانا چاہیے؟ تیز رفتاری اور حرکت کا یہ عمل انسانوں کو محض نقصان پہنچانے کے لیے ہے؟ اِن سوالوں کا جواب اگر اثبات میں ہے تو اس سے کیا ہوتا ہے۔ قوتِ تغیّر بے لگام ہو گئی ہے۔ کوئی دلیل اس کے آڑے نہیں آ سکتی۔ اس طوفان کو روکنا مشکل ہے اور ہم فکر کے اس انداز ہی کے خلاف ہیں۔ ہم حرکتوں کے ساتھ حرکت کرنے اور حیات کے بڑھتے ہوئے کارواں سے قدم ملانے میں پناہ اور آسودگی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے آبا و اجداد لباس کی کوئی مخصوص وضع قطع اختیار کیے ہوئے تھے۔ تو ہوں گے، وہ لوگ تو مر گئے اور اُن کی کے ساتھ اُن کا عَہد بھی مر گیا۔ کون سا عہد درست تھا اور کون راستی پر تھا؟ کل اچھا تھا آج بُرا ہے، آج اچّھا ہے کل بُرا تھا، اِس پر غور کرنے کی مُہلت کسے ہے؟ اِرتقا کے معنی اچھائی یا برائی کی سمت آگے بڑھنے کے نہیں، ترقی کا اصل مفہوم کیا ہے ؟ کسی کو نہیں معلوم، اشیاء و افکار میں اضافہ ترقی ہے، یہ اضافہ انسانوں کی تن آسانی اور آسودگی کے لیے ہے تو نئی بات، نئے لہجے ، نئے اطوار اور نئی قدروں کے سلسلے میں اکراہ بے معنی ہے اور نقصان دہ ہے۔

جو ہم نے نہیں سیکھا وہ سیکھنا چاہیے۔ جو ہم نے نہیں جانا اُسے جاننا چاہیے۔ عزّت وعظمت کے ساتھ رہنا ہے تو اس دور میں عزّت و عظمت کے تمام اسباب کے ساتھ رہنا ہوگا۔ نئے دور کے ساتھ رہنا ہوگا۔ لباس میں ترمیم بھی ہوگی اور عادتیں بھی بدلنا پڑیں گی۔ رویّوں پر سوچنا ہوگا۔ اجنبی قدروں کو گلے لگانا اور قدیم روایتوں کو دُھتکار کر خود سے علیحدہ کرنا ہوگا۔ جدید وضع اختیار کر کے اندر کا فرد نہیں بدلتا اور بدلتا ہے تو سب کو بدل جانا چاہیے۔ وہ لوگ جنھیں تغیّر قبول نہیں، وہی اس عدم توازن اور کشمکش کا سبب بنتے ہیں، اور وہ کسی امتناع اور جھجک کے بغیر نئی فضا کا خیر مقدم کریں تو پھر ایک بدلا ہوا، ہمہ سمت بدلا ہوا سماج وجود میں آ جائے گا۔ پھر نہ کوئی ثقافتی خلیج پیدا ہوگی اور نہ اُس کے اعصابی امراض پھیل پائیں گے۔ آنےوالا زمانہ ہر لمحہ بدلتی ہوئی اجنبی قدروں کا زمانہ ہوگا۔ جس نے ترمیم نہیں کی اور اپنے ارد گرد دیوار تعمیر کر لی وہ محفوظ چاردیواری خود اس کے لیے زنداں بن جائے گی۔

(انتخاب : طاہر علی بندیشہ)

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت خوب ۔ اداریہ پڑھ کر مزہ آگیا۔ شکیل عادل زادہ کی تحریر کی روانی، برجستگی، دلیل اور اندازِ بیان بہت متاثر کن اور دل موہ لینے والا ہے۔
    ادارہ دلیل اس کی اشاعت پر تحسین کا مستحق ہے ۔اور جناب طاہر علی بندیشہ صاحب کے ذوق کی داد نہ دینا نا انصافی ہو گی ۔
    محمد کریم احمد

  • یادش بخیر، میر خلیل الرحمان صاحب شکیل عادل زادہ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اس نو جوان نے تو کمال کردیا ہے،، ہائے سب رنگ! ویسے دل زد گانِ و محبان سب رنگ کو نوید ہو کہ "بازی گر" شکیل بھائی لکھ رہے ہیں۔۔ اور اب اس کےاختتام تک لکھ کر ہی اسے شائع کیا جائے گا۔۔۔ جلد انشا اللہ//