پشتون تحفظ موومنٹ، حقیقت، خدشات اور ریاست - اسلم شاہ

نقیب اللہ محسود کی موت اور ایک لمبے عرصے سے جنگ زدہ پشتون علاقوں کے غریب عوام کی محرومیوں کے تناظر میں جنم لینے والی تحریک، پشتون تحفظ موومنٹ، روز بروز مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ 24 سالہ نوجوان منظور پشتیں کی سربراہی میں تقویت پانے والی تحریک نے نہ صرف پشتون عوام کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے بلکہ اس نے ہر اس علاقے میں پزیرائی حاصل کی ہے۔ جہاں پر لوگ کسی نہ کسی شکل میں محرومیوں کا شکار ہیں۔

یہ تحریک شروع کرنے والوں نے شروع میں حکومت وقت اور ملک کے دوسرے طاقتور اداروں سے کچھ مطالبات کیے تھے۔ جن میں کچھ دوسرے مطالبات کے ساتھ ساتھ نقیب اللہ محسود کے مبینہ قاتل راؤ انور کے خلاف قانونی کارروائی، پشتون علاقوں میں چیک پوسٹوں کے قیام کا فوری خاتمہ اور وزیرستان میں آپریشن کے بعد بچی ہوئی بارودی سرنگوں کی صفائی شامل تھی۔ یہ مطالبات اتنے جائز اور سادہ تھے، کہ یہ تحریک پاکستان میں ہر طبقے کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہوئی۔

جیسے جیسے تحریک آگے بڑھ رہی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ ایک طرف اس میں مزید لوگوں کی شمولیت کی وجہ سے تحریک کو شہرت مل رہی ہے، تو دوسری طرف اس کے ناقدین میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ حالت آج یہ ہے کہ کچھ لوگ اس تحریک کو پاکستان مخالف ایجنڈا پر عمل پیرا تحریک قرار دے رہے ہیں تو کچھ لوگ اس کو پاکستان کے اپنے اسٹبلشمنٹ کا سیاست دانوں کے خلاف ایک اور نئی چال سمجھ رہے ہے۔ کچھ لوگوں کو اس تحریک سے طالبانائزیشن جیسی ایک اور تحریک بننے کی بو آرہی ہے، جس نے پاکستانی عوام بالخصوص پشتونوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، جبکہ کچھ لوگ اس کو محروم پشتونوں کی حقیقی آواز قرار دے رہے ہیں۔

حقیقت کیا ہے؟ یہ تو اللہ ہی جانتا ہے اور آج کل کے مادر پدر آزاد ایسی سوشل میڈیا کے دور میں حقیقت جانچنا بڑا مشکل ہو گیا ہے، جہاں پر ہر شخصی تجزیہ تھوڑے ہی وقت میں ملک کے ہر کونے میں دستیاب ہو جاتا ہے اور لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہو جاتا ہے۔ اس لیے ان حالات میں مجھے اس شخص کی بڑی شدت سے یاد آرہی ہے، جس نے یہ کہاوت بنائی تھی، ”جتنے منہ، اتنی باتیں!“

مگر حقیقت یہ ہے، کہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جب بھی کسی تحریک کو عوام میں کوئی شہرت ملتی ہے، وہ بلاوجہ نہیں ہوا کرتی۔ یا جن عوامل کی بنیاد پر جب کوئی تحریک وجود میں آتی ہے اور عوام میں بڑی پزیرائی پاتی ہے، وہ عوامل عوامی ہوتے ہیں اور ان کا سچ سے ضرور واسطہ ہوتا ہے۔

اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص یا کوئی طبقہ اپنے جائز حقوق مانگنے کے لیے آواز اٹھاتا ہے، تو اس کے اوپر ملک غدار یا دشمن ایجنٹ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ جس سے محرومیاں مزید بڑھ جاتی ہیں اور آخر مجبور ہو کر یہ محروم طبقہ دشمن کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ اور دشمن کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے ملک دشمنی پر اتر آتا ہے۔

منظور پشتیں کے تحریک کو اگر مثبت سوچ سے پرکھا جائے، تو یہ ان سب پاکستانیوں کی آواز ہے، جو ریاست کی موجودہ پولیسیوں کی وجہ سے اپنے پیارے وطن کی مستقبل پر پریشان ہیں۔ جو اس بات کا ادراک رکھتے ہیں، کہ ریاست کی یہی پالیسیاں جو پیچھلے کئی دہائیوں سے جاری ہیں، اگر مزید جاری رہی، تو خدا نخواستہ اس ملک کو مزید بحرانوں میں ڈال سکتی ہیں۔

شروعات میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات ایسے تھے، جن کو پورا کرنا ریاست یا اہل اقتدار طبقے کے لیے نسبتاُ ایک آسان کام تھا۔ مگر اب ہر نئے جلسے کے ساتھ ان کے مطالبات تبدیل ہو رہے ہیں اور ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، اور کچھ ایسے مطالبات بھی شامل ہو رہے ہیں، جن کا پورا کرنا شاید اہل اقدار کے بس میں نہ ہوں مثلاً پرویز مشرف کا ٹرائل، یہ مطالبہ کرنا بالکل ایسا ہی ہے، جیسے کسی اچھے دوست سے دوستی خراب کرنے کے بہانے اس سے کوئی ایسی چیز کا مطالبہ کرنا، جس کا مہیا کرنا اس کے بس میں نہ ہو۔ لہٰذا پشتون تحفظ موومنٹ کی کامیابی اور بہتری کے لیے ان کے شروعات کے مطالبات پر اکتفا کرنا ضروری ہے تاکہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس تحریک کا ساتھ دینے والے معصوم پشتونوں کے لیے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پشتونوں کے سب سے بڑے غمخوار عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان میں جے یو آئی کے انتہائی مدبر رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے پشتونوں کو اس تحریک کا ساتھ نہ دینے کے لیے متنبہ کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دو سیاسی قوتوں کو اس تحریک کے پیچھے کسی سازش کی بو آرہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے، کہ ریاست اور ریاستی اداروں پر پچھلے ایک سال سے انتہائی ناجائز تنقید کرنے والے نواز شریف کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما بھائی کا اس تحریک کو سپورٹ کرنا بھی قابل غور ہے۔

لہٰذا ایسے حالات میں عوام کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ ایک ایسی تحریک جن کے مطالبات ظاہری طور پر عوامی لگتے ہوں، جس کی پزیرائی دین بدن بڑھتی جا رہی ہو اور اس میں لوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہوں۔ اس کا ساتھ دینا چاہے یا نہیں۔ میرے خیال میں اس حوالے سے اگر چند باتیں ہم سمجھنے کی کوشش کریں، تو ہمارے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

ان باتوں میں پہلی بات یہ ہے کہ اس وقت تک اس تحریک کا ساتھ دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے جب تک پی ٹی ایم اپنے شروع کے مطالبات پر قائم رہتی ہے اور دن بدن نئے اور ریاست کے لیے مشکل مطالبات کا مطالبہ نہیں کرتی۔ دوسری بات، جب تک یہ تحریک پر امن رہتی ہے اور اپنے مطالبات منوانے کے لیے ریاست کا رٹ چیلنج نہیں کرتی۔ تیسری بات، جب تک دوسری قوم پرست پارٹیاں اس تحریک کے اولین رہنماؤں میں اپنے رہنما شامل نہیں کرتی اور وہ اس تحریک کو ایک عام ورکر کے سپورٹ تک اپنے آپ کو محدود رکھتی ہے۔ چوتھی بات، جب تک یہ تحریک اپنے آپ کو مکمل طور پر غیر سیاسی رکھتی ہے اور عام انتخابات میں حصہ نہیں لیتی۔ پانچوی بات، جب تک اس تحریک کے رہنما اور عام ورکرز ریاست یا اس کے اداروں کے خلاف نہیں بولتے۔ بلکہ قانون اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر ان پر تنقید کریں، یا مطالبات تسلیم کرنے کے لیے ان سے درخواست کریں۔

دوسری طرف میری اس ملک کے با اثر طبقات سے یہ درخواست ہے، کہ جہاں تک پی ٹی ایم کی مطالبات کا تعلق ہے، وہ انتہائی جائز اور ریاست پاکستان کے آئین کے مطابق ہیں۔ ایک ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ اگر یہ اپنے بچوں کے گلے شکوے دور نہیں کرے گی، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایسی ریاست کے بچے دشمن کو اس کے ہی خلاف استعمال کرنا شروع کر دیں۔ بطور پشتون میں جتنا ریاست کو اپنی ماں کا درجہ دیتا ہوں، اتنا ہی میرا اس ریاست کے مظلوم پشتون بچوں کے ساتھ زیادتی پر دل دکھتا ہے۔ لہٰذا التجا یہ ہے کہ میری ریاست کے مظلوم بچوں کے لیے اٹھنے والی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملانے پر مجھے غدار نہ کہا جائے کیونکہ یہ آواز اٹھانے والوں کو یہ حق اس ریاست کے آئین نے ہی دے رکھا ہے۔