پاکستان باقی جہان باقی - فضل ہادی حسن

مختلف ممالک میں پاکستان مخالف مظاہروں کا انعقاد بہت افسوسناک ہے۔ پہلے یونان کے دارالحکومت ایتھنز اور بعد میں یوکرین، فرینکفرٹ اور واشنگٹن میں پاکستان مخالف مظاہرہ کرنے والوں کی اکثریت افغان شہریوں کی تھی۔افغان شہری کیوں پاکستان مخالف مظاہرے کرنے لگے؟ پاک افغان معاملات کا طالبعلم اس سے بخوبی واقف ہوگا۔ حالیہ مظاہروں کے بارے میں ہم باہر بیٹھے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کے پیچھے کون سی طاقتیں کارفرما ہوسکتی ہیں اور انہیں یہ کچھ کرنے کی ضرورت کیوں پیش ا؟ ئی۔ جہاں تک پاکستان کے پختون علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت کا معاملہ ہے تو وہ ایک الگ موضوع ہے کہ انہوں نے کیونکر پاکستان مخالف مظاہروں میں شرکت کی؟ بلاشبہ پختون تحفظ موومنٹ کی آڑ میں کچھ لوگ اپنا باطن ظاہر کرنے لگے تو کچھ لوگوں کو ان قوتوں کی آشیر آباد حاصل ہے جو روز اوّل سے پاکستان کے وجود سے ہی انکاری ہیں۔

اگر ایک طرف منظور پشتین یا پختون تحفظ موومنٹ کے مطالبات حقیقی (genuine) اور پرانے ہیں (گو کہ منظم انداز میں پہلی دفعہ آواز اٹھائی گئی) تو دوسری طرف کچھ لوگ اسے پاکستان مخالف موومنٹ کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں جو نہایت افسوسناک ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ نیز پی ٹی ایم اور پشتین کو بھی اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح اور پاکستان مخالف مظاہرین سے اعلان لاتعلقی کااعلان کرنا ہوگا ورنہ یہ موومنٹ جلد’’ٹی ٹی پی‘‘ سے زیادہ بدنام ہو کرعوامی اعتماد کھو بیٹھے گی اور ناکامی سے دوچار ہوسکتی ہے۔

جعرافیائی تقسیم سے انکار کرنے والے چند لوگ اگر پی ٹی ایم کے نام پر ’’لَر او بَر‘‘ (یعنی افغانستان اور پاکستان کا پختون بیلٹ) کا نعرہ لگا رہے ہیں تو یہ ان کی بھول قرار دی جاسکتی ہے۔ ایسا کرنے والے دوست شاید تخیّل اور خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں جو ماضی کے مشاہیر کی کہانیوں پر ’’جینے‘‘ کی کوشش اور ان کے ’’نام کا استعمال‘‘ کو بڑا ’کارنامہ‘ سمجھ بیٹھ گئے ہیں۔ نیز ’’ لَر او بَر‘‘ کی سیاست کرنے میں پاکستان میں سرگرم قوم پرست پارٹیوں نے بھی اپنی نچلی سطح کے کارکنان کو مناسب گائیڈ لائن نہیں دی ہے۔ لر اور بر، پختونستان، پختونخوا اور جنوبی پختوانخوا سے پاکستانی علاقوں کی تقسیم بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رویوں میں توازن - محمد عامر خاکوانی

میرے دل میں افغان اور افغانوں کے لیے ہمشہ احترام، عزت اور محبت کا رشتہ قائم ہے اور رہے گا۔ میرے کافی اساتذہ اور دوستوں کا تعلق افغانستان سے ہیں اور الحمد للہ کبھی ہمارے درمیان ایسی بات زیر بحث ہی نہیں آئی جس سے کبھی دونوں مملکتوں کے لیے مختلف جذبات کا شائبہ پیدا ہوا ہو۔ ڈیورنڈ لائن فیصلے سے تقسیم کیوں اور کیسے ہوئی، یہ اب زیربحث نہیں لیکن ’’لر او بر‘‘ یعنی پختون اگر ایک قوم (افغان) ہے تو آج کی دنیا میں پاکستان اور افغانستان الگ الگ مملکتیں اور حقیقتیں ہیں۔ دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان یا ایک دوسرے کے خلاف مبینہ مہم جوئی یقیناً قابل افسوس ہے لیکن اعتماد سازی، دونوں مملکوں کو قریب لانے کی ذمہ داری ہم جیسے شہریوں کی ہے کہ وہ مثبت سوچے اور منفی سرگرمیوں سے دور رہے۔ وہ حجرہ اور مسجد (حجرہ جومات) بازار اور مختلف مقامات پر دونوں قوموں اور ریاستوں کو جوڑنے والی باتوں کی ترویج کریں۔ پاکستان اورافغانستان کا وجود دونوں مملکتوں کی مضبوطی اوردوام کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستانی جھنڈے جلانے اور مخالف مظاہرے کرنے سے کدورتیں کم ہوسکتی ہے اور نہ ’’لَر اور بَر‘‘ میں کبھی اتفاق کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر الحكم للہ والملك للہ پر ایمان رکھتے ہوئے افغان باقی كهسار باقی کا نعرہ ہوسکتا ہے تو الحکم للہ والملک للہ کے ساتھ ’’پاکستان باقی، جہان باقی‘‘ پر میرا اعتماد و بھروسہ بھی غیر متزلزل ہوسکتا ہے۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں