پھر وہی پُرانا مسئلہ - امجد طفیل بھٹی

گرمیاں ابھی شروع بھی نہیں ہوئیں اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اب کی بار گرمیوں میں زرداری دور کی یادیں تازہ ہوجائیں گی کیونکہ اس حکومت کی مدت جوں جوں قریب آتی جا رہی ہے گردشی قرضوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ جونہی نگران حکومت آئے گی لوڈ شیڈنگ کا جن مکمل طور پر بوتل سے باہر آ جائے گا کیونکہ آئی پی پیز یعنی پرائیویٹ پاور پلانٹس جو کہ حکومت کو بجلی فروخت کرتے ہیں کو ادائیگیوں کا توازن برقرار نہیں رہے گا اور یوں یہ پرائیویٹ پاور پلانٹس بجلی کی پیداوار یا تو کم کر دیں گے یا پھر بالکل ختم کر دیں گے۔ جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ اپنی اوقات میں آ جائے گی بلکہ دیہی علاقوں کو تو لوڈ شیڈنگ کا چاند دکھائی دینے بھی لگا ہے اور سمجھدار لوگ اب کی بار گرمیوں میں پیش آنے والی متوقع مشکلات کو اچھی طرح بھانپ بھی چکے ہیں۔

ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمران ہر کام باقاعدہ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی پلاننگ کے کرنے کے ماہر ہیں۔ یہی وتیرہ پچھلی دو حکومتوں کا بھی دیکھا گیا جب پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں طویل مدتی منصوبوں کی بجائے شارٹ کٹ کے ذریعے بجلی بنانے کی ناقص منصوبہ بندی کی گئی اور مہنگے رینٹل پاور پلانٹس درآمد کر کے ملکی خزانے کو بے تحاشا نقصان پہنچایا گیا۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت بھی پیپلز پارٹی کی حکومت اور منصوبہ سازوں سے پیچھے نہ رہی اور مہنگے ترین امپورٹڈ ایل این جی اور امپورٹڈ کول کے ذریعے چلنے والےپاور پلانٹس کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کی کوششیں کی گئیں۔ ان دونوں حکومتوں کی طرف سے کبھی بھی بڑے ڈیم بنانے کے منصوبے زیر غور صرف اس لیے نہیں آئے کیونکہ ہائیڈل پاور پلانٹس اور ڈیموں کے منصوبے جلدی مکمل نہیں کیے جا سکتے بلکہ ان کو مکمل ہونے میں کم از کم دس سے پندرہ سال لگ جاتے ہیں اور ہمارے حکمران کبھی بھی نہیں چاہتے کہ منصوبہ ان کے دور میں شروع ہو اور ختم کسی اور کی حکومت میں ہو کیونکہ اس طرح اس منصوبے کا کریڈٹ وہی حکومت لے جائے گی جس کے دور میں وہ منصوبہ مکمل ہوا ہو گا ، بس یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے حکمرانوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شروع کیے جائیں جو کہ بس سال دو سال میں ختم ہو کر عوام کو نظر آنا شروع ہو جائیں اور اگلے الیکشن میں ووٹ لینے کا کوئی نہ جواز پیدا ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے سمجھیں پھر دھرنا دیں - حبیب الرحمٰن

ہمارے حکمران اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرکے اپنے نام کی تختی لگوائی جائے تاکہ مذکورہ پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ ان کا نام بھی قائم و دائم رہے اور مشہوری بھی ہوتی رہے۔ پاکستان میں بعض اوقات ایک پراجیکٹ کا افتتاح متعدد بار ہونے کے باوجود بھی یا تو سِرے سے شروع ہی نہیں ہوتے یا پھر مکمل ہی نہیں ہوتے ، بلکہ بعد اوقات مکمل ہوتے ہوتے ان کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہوتی ہے ، یہاں چونکہ ذکر بجلی کی لوڈشیڈنگ کا ہورہا ہے تو دیامر بھاشا ڈیم کا نام تو سب لوگوں نے اچھی طرح سُن رکھا ہوگا ، جس کا افتتاح پرویز مشرف سے لے کر پیپلز پارٹی دور کے صدر اور وزیراعظم بھی کر چکے ہیں۔ اس پراجیکٹ سے 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے مگر اس پراجیکٹ کی قیمت سے زیادہ چھوٹے اور مہنگے منصوبے اس وقت زیر تعمیر ہیں۔

عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ اُن کا کوئی ایک مسئلہ نہیں بلکہ وہ تو ہر طرف سے مسائل میں گھِرے ہوئے ہیں، سب سے بڑا مسئلہ معاشی مسئلہ ہے اس کے بعد تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات اوپر سے سونے پہ سُہاگہ یہ ہے کہ بڑے اور بااثر لوگوں کی چوریوں یعنی کہ ٹیکس چوری اور بجلی چوری کا بوجھ بھی اُن لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو کہ ٹیکس بھی دیتے ہیں اور بجلی کے بل بھی بروقت ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں بجلی مہنگی ہونے کی بڑی وجوہات میں سے ایک بجلی چوری بھی ہے اور بجلی چوری کی واردتیں عموماً اُن علاقوں میں زیادہ ہیں جن علاقوں میں سیاسی اثر و رسوخ والے لوگ رہتے ہیں ، کیونکہ ان علاقوں میں سرکاری اہلکار بجلی کا بل بھیجنے کی جرات ہی نہیں کرسکتے جس وجہ سے عام صارف پر نہ صرف ناجائز اور اضافی بلوں کا بوجھ پڑتا ہے بلکہ عام علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی پوش علاقوں سے گھنٹوں زائد ہوتا ہے۔ شہروں کے عام یا غریبوں کے رہائشی علاقوں میں تو لوڈشیڈنگ ہو ہی رہی ہے مگر دیہی علاقوں میں تو ابھی سے سارا سارا دن بجلی غائب رہنا معمولی بات ہے کیونکہ اُن لوگوں کی شنوائی کہیں نہیں ہوتی ، نہ تو وہ واپڈا اہلکاروں سے الجھ سکتے ہیں اور نہ ہی کہیں دھرنا دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے سمجھیں پھر دھرنا دیں - حبیب الرحمٰن

پچھلے کچھ دس سالوں سے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں بلکہ لوگ ذہنی اذیت کا شکار بھی ہیں کیونکہ گرمیاں شروع ہوتے ہی یو پی ایس کے اضافی اخراجات نے پہلے سے مہنگائی میں پِسے لوگوں کو مالی دشواریوں کا بھی سامنا کر پڑ رہا ہے ، اور یہی معاشی مسائل پاکستان میں خودکشیوں کے رجحانات کو جنم دے رہے ہیں اور ہم آئے روز ایسی بھیانک خبریں سنتے آرہے ہیں کہ ماں یا باپ نے اخراجات سے تنگ آ کر بچوں سمیت خود کشی کر لی ہے ، حکومت کو چاہیے کہ عام صارف جس کا بل بہت ہی کم یونٹ ہوتا ہے اس کو مفت بجلی فراہم کی جائے تاکہ غریب طبقہ کی داد رسی کی جا سکے ، حالانکہ حکومت ہر مہینے اربوں روپے ٹیکسوں کی مد میں بجلی کے بل پر وصول کر رہی ہے ، مگر اس کا صلہ عوام تک نہیں پہنچ پا رہا۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں