چوہدری شجاعت نے کتنا ”سچ“ لکھا؟ جمال عبداللہ عثمان

چوہدری شجاعت حسین پاکستانی سیاست میں شرافت کا نام ہیں۔ ان سے لاکھ اختلاف کریں، لیکن ان کے بدترین سیاسی مخالفین بھی ان کی وضع داری کا اعتراف کرتے نظر آئیں گے۔ ان کے سینے میں بڑے راز دفن ہیں۔ جب معلوم ہوا کہ ان کی کتاب منظرعام پر آرہی ہے تو انتظار میں اضطراب بڑھتا گیا۔ کتاب کا نام ”سچ تو یہ ہے“ سے مزید اشتیاق پیدا ہوا کہ پاکستان کا اہم ترین سیاست دان سچ کہنے کی ہمت کررہا ہے۔

آسانی کے ساتھ ان کی کتاب مل گئی۔ کتاب حاصل کرنے کے تیسرے دن آفس سے چھٹی تھی، سو پڑھنا شروع کی۔ 328 صفحے کی کتاب تقریباً چار گھنٹے میں مکمل کرلی۔ 60 صفحات تصاویر اور مختلف دستاویزات کے بھی اس میں شامل ہیں۔کتاب کی قیمت 995 روپے ہے. فیروز سنز نے اسے شائع کیا ہے.

طویل عرصے سے عادت ہے کہ مطالعے کے دوران اہم مقامات کے نوٹس لیتا ہوں۔ چنانچہ کتاب کے خاتمے تک اس کتاب کا بھی ایک خلاصہ بن چکا تھا۔ سوچا کیوں نہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی اسے شیئر کرلیا جائے۔

کتاب کی ظاہری شکل وصورت اچھی ہے۔ فونٹ سائز بڑا، پڑھنے میں بہت آسان ہے۔ عام طور پر اس قسم کی کتابیں ضخامت بڑھانے سے بچنے کے لیے چھوٹے فونٹ میں چھاپی جاتی ہیں۔ کتاب میں کونٹینٹ سے زیادہ اس میں دلچسپی کا خیال رکھا گیا ہے۔ چوہدری شجاعت جو کچھ دیکھ چکے ہیں، اسے سامنے رکھ کر نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے ”سچ“ بولنے کا حق ادا کیا ہے۔ اس سے زیادہ سچ تو وہ رؤف کلاسرا کے ساتھ انٹرویو میں کہہ چکے ہیں۔

کتاب کے کل 20 باب ہیں۔ کتاب کا پہلا باب خاندانی پس منظر پر مشتمل ہے۔ باب 17 کسی نصابی کتاب کی طرح ہے۔ جہاں چوہدری پرویز الٰہی کی بطورِ وزیراعلیٰ کارکردگی ہے۔ تحریر کس کی ہے، اس کا کہیں ذکر نہیں، البتہ میری معلومات کے مطابق کتاب کے تین مصنفین ہیں: روزنامہ جنگ کے ایک معروف صحافی، نجی ٹی وی چینل کی اینکرپرسن اور ایک کالم نگار کا اس میں حصہ رہا ہے۔ باقی اس کتاب میں جہاں دلچسپی کے واقعات نظر آئے یا جس میں ”خبریت“ کا عنصر دیکھا، وہ آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

سعود ساحر کی شرارت:
متحدہ جمہوری محاذ کے اکثر اجلاس چوہدری شجاعت کے گھر منعقد ہوتے تھے۔ ان میں کسی صحافی کو مدعو کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اگلے روز اجلاس کی پوری کارروائی اخبار میں چھپ کر آجاتی۔ سب پریشان، بالآخر ایک دن معلوم ہوا کہ اجلاس سے کچھ دیر قبل دُبلے پتلے سعود ساحر صاحب (آج کل ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ اُمت) ٹیپ ریکارڈ لے کر ایک میز کے نیچے دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور پوری کارروائی ریکارڈ کر کے اگلے دن اخبار میں چھاپ دیتے ہیں۔

خیبر پختونخوا اور پنجاب پولیس کا تقابل:
آج کل خیبر پختونخوا پولیس میں اصلاحات کی بات ہوتی ہے، لیکن میرا شروع سے ماننا ہے کہ کے پی پولیس ہمیشہ کچھ اقدار کی حامل رہی ہے۔ اس کتاب میں ایک واقعے نے اس پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے۔ پی این اے تحریک میں خواتین نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ پشاور میں بیگم نسیم ولی خان کے ہمراہ چوہدری شجاعت کی والدہ اور بہنیں بھی موجود تھیں۔ کے پی پولیس کو لاٹھی چارج کرنے کا حکم ملا، لیکن پولیس نے لاٹھیاں زمین پر رکھ کر انکار کر دیا۔ اس کے برعکس چیئرنگ کراس لاہور میں خواتین پر زبردست لاٹھی چارج کے ساتھ آنسو گیس اور فائرنگ بھی ہوئی۔ چوہدری شجاعت کی ہمشیرہ اور پرویز الٰہی کی اہلیہ کی آنکھ پر گہری چوٹ آئی۔

نوازشریف سے پہلی ملاقات:
نواز شریف سے پہلی ملاقات کیسے ہوئی؟ 1977ء میں چوہدری صاحب کے والد الیکشن لڑ رہے تھے۔ ان کے والد کی انتخابی مہم جاری تھی۔ ملازم نے آ کر بتایا کہ باہر کوئی نوجوان چوہدری ظہور الٰہی سے ملنا چاہتا ہے۔ بڑے چوہدری صاحب نے پرویز الٰہی کو کہا کہ جاکر دیکھ آؤ کون ہے اور کیا چاہتا ہے؟ پرویز الٰہی باہر آیا تو ایک گورا چٹا کشمیری نوجوان ملا، جس نے بتایا کہ ان کے والد میاں محمد شریف الیکشن مہم کے لیے فنڈز دینا چاہتے ہیں۔

شیخ رشید کو کوڑوں کی سزا:
چوہدری صاحب نے اپنی کتاب میں شیخ رشید احمد کو کوڑوں کی سزا کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ سزا انہیں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے خلاف باغیانہ تقریریں کرنے پر سنائی گئی۔ شیخ رشید نے چوہدری شجاعت کے والد کو فون کیا اور خاصے پریشان تھے کہ میں تو اس مقدمے کو غیرسنجیدگی سے لے رہا تھا، لیکن واقعی کوڑوں کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ بڑے چوہدری صاحب رات کے وقت ہی جنرل ضیاء الحق سے ملنے ایوان صدر پہنچے اور یہ سزا رکوا دی۔

شیخ رشید کا نام سامنے آیا تو یہی خیال دامن گیر ہوا کہ یہ شیخ رشید مرحوم ہوں گے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوا کہ عوامی مسلم لیگ کےسربراہ شیخ رشید احمد ہیں۔ حیرت کا جھٹکا لگا کہ شیخ رشید بھی کبھی مارشل لاؤں کے خلاف تقریریں کیا کرتے تھے۔

نواز شریف بطور ِوزیراعلیٰ:
1985ء میں غیرجماعتی انتخابات کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی سے چوہدری شجاعت کے گروپ نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی۔ وزیراعلیٰ کے لیے تین نام آئے، ان میں نوازشریف نہیں تھے۔ بعد میں گورنر پنجاب جنرل جیلانی نے نواز شریف کو بطورِ وزیراعلیٰ قبول کرنے کا کہا۔ اس پر خاصا شور شرابا ہوا کہ ایک شہری بابو 70 فیصد دیہاتی ارکانِ اسمبلی کی قیادت کیسے کرسکے گا؟ چوہدری شجاعت نے پریس کانفرنس کر کے ایک جملہ کہا: ”قائداعظم دیہاتی تھے یا شہری؟“

شہبازشریف اگر اپنے بھائی کو قائداعظم ثانی کہتے ہیں تو اس میں کچھ حصہ چوہدری شجاعت صاحب کا بھی ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے بعد ان کی فیملی:
الیکشن کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی فیملی کو فی الفور آرمی ہاؤس خالی کرنے کا کہا۔ بیگم شفیقہ ضیاء پریشان ہوگئیں کیونکہ اس وقت تک اسلام آباد میں ان کا کوئی ذاتی گھر نہیں تھا۔ بیگم شفیقہ نے نوازشریف سے بات کی لیکن وہ انھیں کرائے کے مکان کا مشورہ دے کر ٹال گئے۔ چوہدری شجاعت کے بقول: میری والدہ نے بیگم ضیاء کو فون کیا اور کہا کہ ہمارے راولپنڈی والے گھرشفٹ ہوجائیں، جبکہ ہمیں کہا کہ آپ لوگ اسلام آباد میں کرائے کا کوئی مکان لے کر اس میں منتقل ہوجائیں۔ چوہدری شجاعت کے بقول اس طرح ہم کرایہ دار، جبکہ ہمارے ذاتی مکان میں جنرل ضیاء الحق کی فیملی تقریباً ساڑھے تین سال تک رہی۔

نوازشریف پہلی بار وزیراعظم، چوہدری شجاعت کی تین نصیحتیں:
وزارتِ عظمیٰ کا حلف لینے سے پہلے اسلام آباد ہوٹل میں ایک پارٹی میٹنگ ہوئی۔ چوہدری صاحب کو بھی تقریر کے لیے کہا گیا تو انہوں نے اس وقت نواز شریف کو تین نصیحتیں کیں، جو بعد میں میاں صاحب نےا ن سے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی:
(1) چاپلوسوں کی باتوں میں نہ آئیں۔
(2) منافقوں سے دور رہیں۔
(3) آپ میں ”میں“ نہیں آنی چاہیے۔

چھوٹے صوبوں سے وزیراعظم؟
1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد نے اکثریت حاصل کرلی تو کہا گیا کہ وزیراعظم پنجاب سے نہ ہو، ورنہ چھوٹے صوبوں کو مشتعل ہونے کا موقع ملے گا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں جنرل آصف نواز جنجوعہ نے اس کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے اس سوچ کو ہی غلط قرار دیا کہ اکثریت حاصل ہونے کے باوجود کسی پنجابی کو وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی کے پاس اکثریت ہے تو اسے وزیراعظم بننے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔

ایک ”جہاندیدہ“ مشقتی کا شیخ رشید کو مشورہ:
1994ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو حکومت کے دوران چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ شیخ رشید احمد بھی اڈیالہ جیل میں تھے۔ شیخ رشید کا کوئی وکیل نہیں تھا، اس کے مشقتی نے ان سے کہا کہ آپ نے ضمانت کے لیے کوئی وکیل کیوں نہیں کیا، اس سے پہلے کہ شیخ صاحب کوئی جواب دیتے، مشقتی نے کہا: آپ وکیل کرنے کے بجائے کوئی جج کر لیں، اس طرح آپ کی رہائی جلدی ہوجائے گی۔

سیاست دانوں میں سب سے ”اچھا قیدی“:
اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے مختلف جیلوں میں سیاست دانوں کے ساتھ کافی وقت گزارا تھا۔ ان سے ایک بار چوہدری شجاعت نے پوچھا کہ کون سا سیاست دان اچھا تھا؟ جواب میں کہا گیا: خان عبدالولی خان۔ کسی چھوٹے سے چھوٹے شخص سے کبھی نہیں اُلجھے۔ جیل کے نظم و ضبط کے پورے پابند۔ اکثر خاموش اور سوچ بچار کرتے۔ ایک رات شدید طوفان میں کوٹھڑی کی چھت گرگئی۔ صبح اہلکاروں نے دیکھا تو خان صاحب ایک کونے میں کمبل اوڑھ کر بیٹھے ہیں۔ پوچھا گیا: آپ رات کو بتاتے کسی اور جگہ منتقل کر دیتے۔ جواب ملا: میں نے رات گئے آپ لوگوں کو پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

نواز شریف کی عجیب خواہش!
دوسری بار وزارتِ عظمیٰ میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان ٹھنی تو وزیراعظم نواز شریف کے سر میں عجیب خواہش سمائی۔ فرمایا کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے کہ چیف جسٹس کو پارلیمنٹ کی کسی استحقاق کمیٹی میں بلوا کر ان کی سرزنش کرائی جائے۔ گوہر ایوب خان کے بقول میں اس دن نواز شریف کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تو انہوں نے میرے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر کہا: کوئی ایسا راستہ نکالیں کہ چیف جسٹس کو کم ازکم ایک رات کے لیے ہی جیل بھیج دیا جائے۔

رفیق تارڑ کی صدارت اور اپنی ران پر چونڈی!
رفیق احمد تارڑ کو نواز شریف نے فون کیا کہ آپ کو صدرِ مملکت بنایا جا رہا ہے، اس پر انہوں نے چوہدری شجاعت کو کیا کہا، اس کی دلچسپ تفصیل تارڑ صاحب ہی کی زبانی سنیے:
”شجاعت! میں اپنی پنشن لین لئی نیشنل بینک لاہور گیا ہویا ساں۔ اوتھے مینوں اچانک اک ٹیلی فون آیا۔ میں فون چکیا تے فون کرن والے نے مینوں آکھیا کہ تارڑ صاحب! میں نواز شریف بول ریا واں۔ میں فیصلہ کیتا اے کہ تہانوں ملک دا صدر بنا دتا جائے۔ مینوں سمجھ نئیں آئی کہ ایس فون دا کیہہ مطلب اے۔ آیا اے فون نواز شریف دا ای اے یا کسی نے میرے نال مخول کیتا اے۔ میں فون کرنے والے نوں آکھیا کہ میں تہانوں گھر جا کے فون کرناں واں۔ گھر پہنچ کے مینوں خیال آیا کہ میں کدھرے خواب تے نئیں ویکھ ریا۔ ایس گل دی تصدیق لئی میں اپنی ران تے چونڈی وی وڈی۔“

کرنل قذافی کا ناقابلِ یقین طرزِ زندگی:
لیبیا کے کرنل قذافی سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری شجاعت کہتے ہیں: ہمیں خصوصی طیارے پر ایک خفیہ مقام پہنچایا گیا۔ اگلے روز بذریعہ کار آگے روانہ ہوئے۔ صحرائی علاقے میں جیپوں کے اندر منتقل کر دیا گیا۔ ایک لمبے سفر کے بعد ہمیں دو خیمے نظر آئے۔ ایک خیمے میں لے جایا گیا جہاں بےحد گرمی تھی، مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں، ائیرکنڈیشنڈ نہیں تھا۔ جب کرنل قذافی کے خیمے میں لے جایا گیا تو وہاں بھی صورتِ حال یہی تھی۔ تاہم کرنل قذافی اس ماحول میں پورے سکون سے تھے۔

کشمیر پر کرنل قذافی کا فارمولا اور ہم سے ناراضی!
کرنل قذافی اس بات پر شدید برہم تھے کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارتی وزرائے اعظم کو خط کے ذریعے ایک فارمولا بھیجا۔ بھارتی وزیراعظم کا جوابی خط آیا، لیکن پاکستان کے وزیراعظم یا وزارتِ داخلہ نے زحمت گوارا نہیں کی۔ فارمولا یہ تھا کہ کشمیر کو مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ریاست بنا دیا جائے۔ نئی ریاست چلانے کے لیے ابتدائی مالی وسائل لیبیا فراہم کرے گا۔

نواز شریف موٹے ہوتے جا رہے ہیں!
ایٹمی دھماکوں کے بعد جب تین اسلامی ممالک کا دورہ کیا تو چوہدری شجاعت شام بھی گئے۔ وہاں شامی صدر حافظ الاسد طبیعت کی ناسازی کے باوجود بڑے تپاک سے ملے۔ انہوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا اورکہا: نوازشریف کو جا کر میری طرف سے کہیں کہ وہ بہت موٹے ہو رہے ہیں، کھانا کچھ کم کھایا کریں۔

مسجد اللہ کا گھر!
شام میں چوہدری شجاعت کے قیام کا دوسرا روز تھا، جمعے کا دن تھا۔ ان کے مطابق: ہمیں نمازِ جمعہ کے مقامی وقت کا اندازہ نہیں تھا۔ ہم تیار ہو کر نکلے تو پروٹوکول افسر نے بتایا کہ اہل سنت و الجماعت کی مسجد یہاں سے بہت دور ہے، پہنچتے پہنچتے نماز نکل جائے گی۔ میں نے پوچھا: قریب میں مسجد نہیں؟ بتایا گیا کہ ہے تو سہی لیکن اہل تشیع کی۔ میں نے کہا: مسجد اہل سنت کی ہو یا اہل تشیع کی، اللہ کا گھر ہے۔“ یہ کہنے پر وہاں سب لوگ حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔ اہلِ شام کے لیے یہ ایک اچھا پیغام تھا۔

غوث علی شاہ دیکھتا چلا گیا!
12 اکتوبر کے بعد غوث علی شاہ کو بھی نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ لانڈھی جیل میں رکھا گیا۔ شہباز شریف جا رہے تھے تو غوث علی شاہ نے پوچھا: کہاں جا رہے ہیں؟ شہباز نے بتایا کہ میں کسی سے ملنے جا رہا ہوں، ایک دو گھنٹے تک واپس آجاؤں گا۔ کچھ ہی دیر بعد غوث علی شاہ ٹی وی پر نوازشریف، شہباز شریف کو سعودی عرب جاتے دیکھ رہے تھے۔

ڈاکٹر قدیر قربانی کا بکرا!
ڈاکٹر قدیر پر جوہری توانائی بیچنے کے عوض رقم لینے کا الزام عائد ہوا تو پرویز مشرف نے چوہدری صاحب کو ٹاسک دیا۔ ڈاکٹر قدیر کا کہنا تھا: ”میں نے کوئی چیز فروخت نہیں کی۔ نہ میں نے کسی سے کوئی رقم لی ہے۔ یہ فرنیچر جو میرے گھر پر آپ دیکھ رہے ہیں، یہ بھی میری بیگم کے جہیز کا ہے۔ میری تو یہ حالت ہے کہ نیا فرنیچر تک خریدنے کی استطاعت نہیں۔ اتنا بڑا الزام مجھ پر لگایا جا رہا ہے۔“ ملک و قوم کی خاطر ڈاکٹر صاحب نے یہ الزام بھی اپنے سر لے لیا۔

اکبر بگٹی کے گھر پر بمباری!
نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے مشاہد حسین سید، مونس الٰہی اور صحافی و اینکر پرسن نسیم زہرا کو ہمراہ لے کر گئے۔ اکبر بگٹی نے گھر میں ایک بڑا گڑھا دکھایا اور بتایا کہ یہ فوجی بمباری کی وجہ سے بنا ہے۔ اس بمباری کے نتیجے میں اکبر بگٹی کی پوتی زخمی ہوگئی، لیکن اس کا اعلان اس لیے نہیں کیا کہ اس سے اشتعال پھیل سکتا تھا۔

افتخار چوہدری کی معزولی، پرویز مشرف کو جپھی کا مشورہ!
چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معزول کرکے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اس دوران میں چوہدری شجاعت ان سے ملاقات کرنے گئے۔ کئی امور سے یہ محسوس ہوا کہ وزیراعظم شوکت عزیز اس معاملے کو سلجھانا نہیں چاہتے۔ بالآخر سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کو بحال کر دیا، تب پرویز مشرف نے چوہدری شجاعت سے مشورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب آپ اپنی بیگم کے ہمراہ فوراً افتخار چوہدری کے گھر مبارکباد دینے جائیں اور انہیں ”جپھی“ ڈال دیں، پرویز مشرف کی لاعلمی پر چوہدری شجاعت کو ”جپھی“ کی تعریف بھی کرنا پڑی۔ لیکن پرویز مشرف نے اسے انا کا مسئلہ بنایا۔ معاملات خراب ہوئے تو چوہدری شجاعت کی نظر میں اس کا ایک فوری حل وزیراعظم شوکت عزیز کا استعفیٰ تھا، اس طرح چوہدری افتخار مطمئن ہوجاتے اور وکلا تحریک بھی کھڑی نہ ہوتی۔ لیکن شوکت عزیز سے ملاقات کے باوجود وہ نہیں مانے۔

جامعہ حفصہ کا قضیہ، چینی باشندوں کا اغوا اور چینی صدر کا اضطراب!
جامعہ حفصہ انتظامیہ اور حکومت کے درمیان معاملات بگڑتے جا رہے تھے۔ اسلام آباد میں مساج سینٹر سے چینی باشندوں کو اغوا کر لیا گیا۔ چینی سفیر صبح سویرے چوہدری شجاعت کے گھر آئے۔ وہ اس وقت سو رہے تھے، لیکن ایمرجنسی ملاقات کا کہہ کر انہیں جگایا گیا۔ چینی سفیر شدید پریشانی کی حالت میں تھے، ابھی وہ اپنا مدعا بیان کر رہے تھے کہ سفیر کو چینی صدر کا فون آیا۔ چوہدری شجاعت مختلف لوگوں سے رابطہ کر رہے تھے کہ اس دوران میں چینی صدر نے ایک بار پھر فون کر کے معاملات پوچھے۔ یہ چینی صدر کا اپنے شہریوں کے لیے شدید ترین اضطراب تھا کہ وہ خود ذاتی طور پر سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔

لال مسجد آپریشن:
آپریشن سے چند ہفتے پہلے پرویز مشرف نے میٹنگ بلائی۔ اس میں وزیراعظم شوکت عزیز، مشاہد حسین سید، وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ، جنرل طارق مجید، جنرل پرویز کیانی، جنرل حسین مہدی، سیکرٹری داخلہ کمال شاہ اور ایوان صدر کا اسٹاف تھا۔ یہاں موجود لوگوں میں آفتاب شیرپاؤ، مشاہد حسین سید اور چوہدری شجاعت نے آپریشن کی مخالفت کی۔ اس میٹنگ میں آپریشن کا فیصلہ ملتوی کر دیا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں میٹنگ کے دوران وزیراعظم شوکت عزیز سے معاملے کی سنگینی کا کہا تو ان کا کہنا تھا: اچھا ہے، اس طرح میڈیا کی توجہ عدلیہ کے معاملے سے ہٹ رہی ہے۔ محمد علی دُرانی نے بھی شوکت عزیز کی بات سے اتفاق کیا۔

این آر او، تیسری بار وزارتِ عظمیٰ اور مشاہد حسین سید:
پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کی ٹیموں کے درمیان مذاکرات جاری رہے، اس میں ایک اہم نکتہ تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی کا خاتمہ تھا۔ مشاہد حسین سید پی پی کو قائل کر رہے تھے کہ ترکی کا ماڈل اختیار کیا جائے۔ طیب اردگان اپنی انتخابی نااہلی کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی مل گئی۔ جمہوری طریقے سے طیب اردگان کی نااہلی ختم ہوئی اور اس کے بعد ان کے لیے وزارتِ عظمیٰ کا راستہ ہموار ہوگیا۔

مشاہد حسین سید کا خیال تھا کہ الیکشن سے پہلے ایسی کوئی کوشش ہوئی تو اس کا سب بڑا فائدہ نواز شریف کو ہوگا۔ ان کی پارٹی میں نفسیاتی طور پر پھر سے جان پڑجائے گی۔

2008ء کا الیکشن اور امریکی سینیٹرز کی دھمکی:
2008ء کے الیکشن سے دو روز پہلے تین اہم امریکی سینیٹرز جوبائیڈن، جان کیری اور چیک ہیگل لاہور میں چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر ملے۔ کچھ تعریفی کلمات کے بعد کہا کہ ہم آپ کو یہ بتانے آئے ہیں کہ اگر آپ کی پارٹی یہ الیکشن جیت گئی تو ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔ پھر پاکستان سے جاتے وقت سی این این کو بھی یہ بیان دے گئے کہ پاکستان مسلم لیگ کی کامیابی کی صورت امریکا انتخابی نتائج تسلیم نہیں کرے گا۔

بعد میں جب رچرڈ آرمیٹج کسی دورے پر پاکستان آئے تو چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ امریکا ہمیں کیوں ہروانا چاہتا تھا؟ ان کا جواب تھا: آپ کے دو ”گڈ فرینڈز“ یعنی جنرل مشرف اور طارق اور کنڈولیزا رائس نے آپ کو ہروایا ہے۔

الیکشن اور پرویز مشرف کی کال:
2008ء کے انتخابات فکسڈ تھے، کے عنوان سے چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ ابھی گنتی بھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ گجرات میں مجھے جنرل پرویز کا فون آیا۔ کہنے لگے: چوہدری صاحب! آپ کو پینتیس چالیس نشستیں ملیں تو اعتراض کیے بغیر نتائج تسلیم کر لیں۔ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ الیکشن کو مستند بنانے کے نام پر ہمارے پچیس تیس بڑے ناموں کو الیکشن میں ہرانے کا منصوبہ بن چکا ہے۔ بعد میں ایک موقع پر جنرل مشرف سے پوچھا تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔

بلوچستان میں بھی یہی ہوا۔ آخری وقت میں حکومت بنانے سے روک دیا گیا۔ ہمارے احتجاج پر جنرل مشرف کا جواب تھا کہ میں آصف زرداری کو کمفرٹ لیول دینا چاہتا ہوں۔“

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.