بنیادی فرق سوچ کا ہے - خالد ایم خان

ہماری دنیا میں موجود ہر شخص کے سوچنے کا انداز مختلف ہے، ہر ایک کا اپنا دماغ ہے جسے دنیا میں ہر شخص اپنے انداز میں استعمال کرتا ہے۔ آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں، چند کم پڑھے لکھے لیکن ہُنر مند افراد کوچنیں اور اُنہیں ایک ہی مسئلے پر سوچنے کے لیے کہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ بے شک source of thinking ایک ہی ہو لیکن نتیجہ ضرور مختلف آئے گا۔ اسی طرح آپ اوسط پڑھے لکھے افراد کو دنیا کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے چُنیں، آپ دیکھیں گے کہ اُن کی سوچوں میں بھی آپ کو تضاد نظر آئے گا، آپ بہترین پڑھے لکھے علماء،اساتذہ، انجینیئرز،ڈاکٹرز اور فلاسفررز کو چُنیں، اُن کی سوچیں بھی آپ کو دنیا سے الگ نظر آئیں گی۔ اور پھردانشوروں کی تو کیا ہی بات ہے!

الغرض دنیا میں موجود ہر ایک انسان کا انداز فکر یقیناً الگ ہو گا۔ ہر ایک اپنی دماغی استعداد کے مطابق سوچے گا، اپنی قابلیت،اپنے حاصل کیے ہوئے علم، زندگی میں حاصل ہونے والے تجربات کے مطابق ۔ آپ دیکھیں گے کہ علم ان سوچوں میں بنیادی فرق کی صورت ظاہر ہوگاکیونکہ علم ایک ایسی چیز ہے جو سوچوں کو وسعت دیتا ہے، نیا انداز فکر دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بارے برملا کہا جاتا ہے کہ اس آدمی نے تو پڑھ لکھ کر گنوایا ہے۔

پچھلے چند دنوں سے میں شمالی علاقہ جات کے سفر پر تھا۔ بہت لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں، کچھ نے متاثرکیا تو کچھ نے بہت ہی زیادہ متا ثر کیا۔ کچھ کے منہ سے میاں صاحب اورزرداری صاحب کے لیے نامناسب القابات سُنے تو کچھ ایسے بھی ملے جنہوں نے تمام ادب وآداب بالائے طاق رکھتے ہوئے عمران خان اور اہم ترین ملکی اداروں کو مغلظات تک سے نواز ڈالا، جس پر مجھے خود سے بھی شرمندگی سی محسوس ہوئی۔ افسوس کیا کہیں، مجھ جیسا شخص بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ بنیادی فرق ہی سوچ کا ہے۔ ا پنا تمام گند دوسرے کے سر ڈالنے کی ہمیں پرانی بیماری ہے۔ ہم خود اندر تک گندگی میں لُتھڑے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی دنیا کے سامنے خود کو پارسا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہم اندر سے خالی ہوتے ہیں لیکن بھرم بازی؟ مت پوچھیں۔ گویا جیسے ابھی کچا چبا ڈالیں گے، لاشیں گرا ڈالیں گے اور پھر جیسے ہی کوئی اپنے سے بڑا بھرم باز ٹکرا گیا تو گلی کے کسی آوارہ کُتے کی مانند دُم دبا کر بھاگ جائیں گے۔

علم کا یہ حال ہے کہ چند اخباری ٹوٹے پڑھ کر اور فیس بُک پر پوسٹیں دیکھ دیکھ کر ہم لوگ خود کو بھی عظیم دانشوروں کی فہرست میں شمار کرچکے ہیں اور ایسے دانشور کہ جن کی دلیلیں سُن کر مجھ پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہوگئی ہے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ دلیلیں، یہ سوچیں ان کے دماغوں میں کس نے ٹھونس دی ہیں؟ کون ہے جو اس ملک کے لوگوں کی برین واشنگ کررہا ہے؟ وہ کون ہیں جو اس ملک کے ازلی دشمن ہیں اور ان سب باتوں سے وہ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

میری عادت رہی ہے کہ میں لاحاصل گفتگو سے اجتناب برتتا ہوں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اُس قول کو ضرور یاد رکھتا ہوں کہ جاہل سے بحث کرنے سے بہتر عمل خاموشی ہے لیکن فکر دامن گیر ضرور ہے کہ کیوں اس ملک کے لوگوں کے دماغوں میں عصبیت کا شیطانی رس گھولا جارہا ہے؟ کیوں اس ملک کے لوگوں کو اہم ترین ملکی اداروں سے متنفر کیا جا رہا ہے؟ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لوگ متنفر ہو رہے ہیں۔ کیونکہ بنیادی فرق سوچ کا ہے کیونکہ جس ملک میں ناخواندگی کی شرح 76 فیصد کے قریب ہو اور خواندہ افراد کی تعداد23 فیصد، جن میں سے اوسط پڑھے لکھے افراد کی تعداد یعنی 17 فیصد نکال دیں تو باقی صرف چھ فیصد افراد مکمل تعیم یافتہ بچتے ہیں، جن میں سائنسدان بھی ہیں، پی ایچ ڈی بھی ہیں، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور انجینیئرز کے ساتھ ساتھ اس ملک کے نامی دانشور حضرات بھی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر گاہے بگاہے اس ملک کے دیگر باسیوں کو حاصل بے نام شعورکا مطلب سمجھانے کی ناکام کوششیں کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ناکامی ہی ہمیشہ ان کا مقدر بنی۔ تو پھر ہم سسٹم سے بھلے کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟

اسی بات کو دوسرے انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان مبارک ہے کہ "کیا جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر ہو سکتے ہیں" اور پھر خود باری تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے "نہیں" ایک جاننے والا اور نہ جاننے والا کبھی برابر نہیں ہوسکتے جبکہ ہم لوگوں نے جو سسٹم تخلیق کیا ہے اُس سسٹم کے تحت ووٹ کی طاقت ایک ہی ہے۔ ایک دانشور، ایک جج، ایک جرنیل، ایک ڈاکٹر، ایک انجینیئر، ایک مزدور ایک عام ان پڑھ ایک ہی لائن میں لگ کر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں، کرتے چلے آئے ہیں، ایک جاننے والا اپنی سوچ کے مطابق ایک اہل آدمی کا انتخاب کرے گا اور ایک نہ جاننے والا اپنی سوچ کے مطابق کسی کا انتخاب کرے گا اور پھر ہوا بھی ایسے ہی آج تک اس ملک میں ناخواندہ طبقہ علم اور شعور پر غالب آتا رہا۔ جس کی وجہ سے نظام حکومت میں عوامی شعور کی آگہی کی خاطر،عوام کے بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے خاطر خواہ تبدیلیاں ممکن نہ ہو پائیں۔

یقین جانیں ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں آج سے ستّر سال پہلے کھڑے تھے۔ بے شک ہم نے ایٹم بم بنا لیے، میزائل ٹیکنالوجی کا حصول ممکن بنا لیا لیکن عوامی شعور اور آگہی میں کوسوں دور نکلتے چلے گئے، ہماری ذہنیت بیمار ہوتی چلی گئی، ہم اپنے گریبانوں میں جھانکے بغیر دوسروں پر الزام دھرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہماری سوچیں بیمار ذہنیت کی عکاس ہیں جس کے علاج کے لیے ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ ہم جانتے ہیں کہ براہمداخ بُگٹی بلوچ ہے، حربیار مری بھی بلوچ ہے، ڈاکٹر اللہ نذر بھی بلوچ ہے اور ان بلوچوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے زیادہ تر افراد بھی بلوچ ہی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بیت اللہ محسود پٹھان تھا، حکیم اللہ محسود بھی پٹھان تھا اور مُلا فضل اللہ بھی پٹھان ہے اور ان پٹھانوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے زیادہ تر افراد بھی پٹھان اور اُن کے معصوم بچے تھے۔ اس کے باوجود ہمارا الزام ملکی اداروں پر ہے؟

اصل میں ہم بکاؤ ہیں۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر اپنی سوچ بھی بیچ دیتے ہیں، ہماری اپنی سوچیں ختم ہو چکی ہیں۔ آج ہمارے دماغ غیر ملکی آقاؤں کے شکنجے میں قید ہوچکے ہیں، وہ جو بولتے ہیں ہم بھی وہی بولتے ہیں، وہ جو سوچتے ہیں ہم بھی وہی سوچتے ہیں۔ قانون قدرت ہے کہ جن قوموں کی سوچوں پر دشمن حاوی ہو جائیں وہ تباہی کے دہانے کی طرف کھسکنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اپنی سوچوں میں تبدیلی لائیں، مثبت تبدیلی کیونکہ جب جب آپ اپنی سوچوں کو منفی انداز فکر دیں گے تو ظاہر ہے آپ کے لیے نتیجے بھی منفی برآمد ہوں گے جبکہ اس کے برعکس جب آپ اپنی سوچوں کو مثبت انداز فکر دیں گے تو یقیناً نتیجہ بھی مثبت ہی آئے گا جو اس ملک اور قوم کے مستقبل کے لیے خوش آئند ہو گا۔