’’اے این پی کا متبادل‘‘ - رعایت اللہ فاروقی

خیبر پختون خوا کی سیاست میں اگر کسی جماعت کی جڑیں تاریخی لحاظ سے سب سے گہری ہیں تو وہ عوامی نیشنل پارٹی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ہی اس جماعت کے بانی عبد الغفار خان کانگریس کی سطح پر ایک مضبوط شناخت بنا چکے تھے، شناخت بھی ایسی کہ ’’سرحدی گاندھی‘‘ کہلائے۔ تقسیم ہند کا مرحلہ آیا تو صوبہ سرحد کے لئے وہ ریفرنڈم طے پایا جس میں وہاں کے عوام نے فیصلہ دینا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہیں گے۔ یہ ریفرنڈم سرحدی گاندھی کے لئے ان کے پورے سیاسی کیریئر کا سب سے بڑا جھٹکا ثابت ہوا۔ سرحدی گاندھی کا لگایا ہوا پختونستان کا پرفریب نعرہ کام نہ آیا اور صوبے کے 51 فیصد ٹرن آؤٹ والے ریفرنڈم میں 99 فیصد ووٹرز نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈال کر نہ صرف بھارت کو بلکہ پختونستان کے پر فریب نعرے کو بھی مسترد کردیا۔ سرحدی گاندھی کے لئے یہ ایک مشکل صورتحال تھی۔ وہ کانگریس کی مرکزی قیادت میں شامل تھے اور خود ان کی جنم بھومی نے ان کی بائیکاٹ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس پاکستان کے حق میں ووٹ دیدیا تھا جس کی کانگریس مخالف تھی۔ صورتحال یہ ہوگئی کہ یا تو جنم بھومی چھوڑی جائے یا ’’سیاسی ہدایت‘‘ کی راہ اختیار کرتے ہوئے پورے کانگریسی نظریے سے توبہ کی جائے۔ سرحدی گاندھی نے نہ جنم بھومی چھوڑی اور نہ ہی کانگریسی نظریے سے تائب ہوئے۔ تقسیم ہند کے دوران اور فورا بعد پیش آنے والے واقعات نے پاکستان کو مشرقی و مغربی دونوں ہی سرحدوں پر دشمن دیدئے تھے۔ ایک طرف وہ بھارت جو پاکستان بننے کا ہی مخالف ، دوسری جانب وہ افغانستان جو صوبہ سرحد پر دعویدار اور سرحدی گاندھی دونوں ہی کی آنکھ کا تارا اور پختون نیشنلزم کا دولہارا۔

غفار خان نے اپنی حیات پختونستان کے خواب کی تعبیر پانے کے لئے وقف کر دی۔ بظاہر پر امن جد و جہد کی بات کرنے والی ان کی جماعت کو افغان سرپرستی میسر آئی تو دہشت گردی باقاعدہ ہتھیار بن گئی۔ جس غفار خان کو تقسیم ہند قبول نہ تھی وہ اب تقسیم در تقسیم کا خواہشمند تھا۔ جو ہندوستان کو کاٹ کر پاکستان بنانے کے خلاف تھا وہ اب پاکستان کو کاٹ کر پختونستان کا قیام چاہ رہا تھا مگر مسئلہ اب بھی وہی تھا جو ریفرنڈم کے دوران تھا۔ سرحدی گاندھی تھے، جماعت تھی، منشور تھا، لٹریچر تھا، اور افغانستان کیا بھارت کی بھی سرپرستی میسر تھی مگر کمبخت عوام نہ تھے۔ وقت گزرا اور وہ دن بھی آئے کہ پختونستان کی تحریک ایک کے بعد دوسری نسل کو منتقل ہوگئی۔ سرحدی گاندھی گھلتے ڈھلتے ریٹائرڈ ہوگئے اور ولی خان کی شکل میں پختون نسل پرست تحریک کو نیا قائد مل گیا۔ اس نئے قائد کے کچھ چٹکلے ضرور زبان زد عام ہوئے اور غنی خان کی کچھ ملا مخالف نظمیں ضرور مقبول ہوئیں مگر تحریک مقبول نہ ہوئی، عوام ساتھ دینے کو اب بھی آمادہ نہ ہوئے۔ پختونستان کجا پختون ووٹر نے انہیں اپنے صوبے کی حکمرانی کا موقع بھی نہ دیا تا آنکہ ولی خان بھی اپنا سیاسی کیریئر پورا کرکے پہلے چل دئے پھر چل بسے اور قیادت اس اسفندیار ولی خان کے پاس آگئی جن کی قیادت میں عوامی نیشنل پارٹی پختونستان تحریک سے مکمل دستبردار ہوگئی۔ یہ جماعت اب کھل کر پاکستان سے اپنی وفاداری کا اعلان بھی کر رہی تھی ، چنانچہ خیبر پختون خوا نے سرحدی گاندھی اور ولی خان کی اینٹی پاکستان اے این پی کے مقابلے میں اسفندیار ولی کی پرو پاکستان اے این پی کو صوبائی اقتدار کا موقع بھی دیا جس سے یہ جماعت قومی دھارے کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   نیا پاکستان پرانے چیلنجز - آصف خورشید رانا

سابقہ صوبہ سرحد ہو یا آج کا خیبر پختون خوا یہاں پختون نیشنلزم کی تحریک کے روز اول سے دو پہلو تھے۔ ایک اس کی وہ مقامی حیثیت تھی جو تقسیم کے موقع پر غفار خان کی سوچ کی صورت سامنے آئی تھی۔ ان کا پختونستان کا تصور اگر پاکستان کے خلاف تھا تو یہ افغانستان کے بھی حق میں نہ تھا۔ ان کا مطالبہ یہ نہ تھا کہ صوبہ سرحد کے عوام کو پاکستان، بھارت اور افغانستان کی شکل میں تین آپشنز دی جائیں بلکہ وہ ریفرنڈم کے ہی خلاف تھے اور اس کے بائیکاٹ کی کال دے چکے تھے۔ سو ان کا مجوزہ پختونستان اگر حقیقت کا روپ دھارتا بھی تو یہ روپ افغانستان سے وابستگی کا نہیں بلکہ الگ ریاست کا ہوتا اور یہ ریاست قائم بھی اس علاقے میں ہوتی جس پر افغانستان کا باقاعدہ دعوی تھا۔ پختون نیشنلزم کی اس تحریک کا دوسرا پہلو افغانستان کا اس تحریک کو اس کے باوجود سپورٹ کرنے کا اقدام رہا کہ پختونستان بننے کی صورت میں افغانستان کو تو کچھ بھی نہ ملنا تھا۔ اور یہی پہلو سب سے زیادہ قابل غور ہے۔ اصولی طور پر تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ افغانستان پختون علاقوں پر اپنے دعوے کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ساتھ پختونستان والے ڈھکوسلے کے بھی خلاف جاتاکیونکہ پاکستان کی طرح پختونستان نے بھی اسے ان علاقوں سے محروم رکھنا تھا جن پر اس کا دعوی تھا۔ لیکن حیران کن طور پر افغانستان نے پختونستان کی تحریک کو گود لے لیا جس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ اس کے نتیجے میں اسے پاکستان ٹوٹتا نظر آرہا تھا اور پاکستان کو توڑنے کے لئے وہ پختونستان کو قبول کرنے کو بھی تیار تھا۔ اسفندیار والی کی اے این پی کے پختونستان سے دستبردار ہوجانے اور پاکستان سے اپنی مکمل وابستگی اختیار کرنے کے نتیجے میں اے این پی کو تو اقتدار میں حصہ ملا لیکن افغانستان پاکستانی سیاست میں موجود اپنے اہم مہرے سے محروم ہو گیا۔ جس تحریک کو اس نے دہائیوں تک سپورٹ کیا تھا وہ آج کھڑے کھلوتے ختم ہوگئی ہے اور اس کی قیادت اب افغان نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد کے لئے کام کرنے لگ گئی ہے تو ایسے میں افغانستان کو شدت سے کسی متبادل کی ضرورت پیش آئی۔ اگرچہ وہ ٹی ٹی پی کی بھی سرپرستی کرتا آیا ہے مگر وہ ایک خالص دہشت گرد تنظیم تھی، اے این پی عوامی جماعت تھی اور اس عوامی جماعت کا متبادل کوئی عوامی قوم پرست جماعت ہی ہوسکتی ہے۔ منظور پشتین کی پختون تحفظ مومنٹ مطالبات کتنے ہی پرکشش کیوں نہ کرلے اور نعرے کیسے ہی دلفریب کیوں نہ لگالے حقیقت اس کی بس اتنی ہی ہے کہ یہ افغان حکومت کی جانب سے اے این پی کا متبادل ہے۔ ہم پختونوں نے لسانیت کا نعرہ غفار خان، ولی خان اور غنی خان جیسے قد آوروں کا قبول نہ کیا تو منظور پشتین کیا بیچتا ہے !

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.