کافر کا جنت میں داخل ہونا - حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ کیا جنت صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور کوئی بھی کافر جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا؟
جواب: جی، قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان یہی ہے کہ اللہ عزوجل نے جنت صرف مسلمانوں کے لیے بنائی ہے اور کافروں کا اس میں داخلہ حرام ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:
وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ [المائدۃ: 72]
ترجمہ: اور مسیح ابن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل، صرف اللہ ہی کی عبادت کرو، جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی۔ بے شک، جس نے بھی اللہ کے ساتھ شرک کیا، اللہ عزوجل نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔

صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت والے دن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آذر کے بارے سفارش کریں گے تو اللہ عزوجل فرمائیں گے:
انی حرمت الجنۃ علی الکافرین
ترجمہ: میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے۔
اور صحیح بخاری ہی کی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
ان الجنۃ لا یدخلھا الا نفس مسلمۃ
ترجمہ: کہ جنت میں صرف مسلمان جان ہی داخل ہوگی۔

صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم، میری امت میں کسی بھی یہودی یا نصرانی تک میری نبوت کی خبر پہنچ گئی اور پھر بھی وہ قرآن مجید پر ایمان نہ لایا اور اسی حال میں مرگیا تو وہ جہنمی ہے۔ اور اسی بارے سورۃ آل عمران آیت 85 میں ہے کہ جو اسلام کے علاوہ کسی دین کی پیروی کرے گا تو قیامت والے اسے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ خسارے میں ہوگا۔

اب بعض لوگ سوال یہ کرتے ہیں کہ کچھ کافر دنیا کو بہت فائدہ بھی پہنچاتے ہیں جیسا کہ ویلفیئر کا کام کر دیا وغیرہ تو اس کا اجر کیا ہے؟ تو اس بارے ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ [الزمر: 65]
ترجمہ: میری طرف بھی اور مجھ سے پہلے رسولوں کی طرف بھی یہ وحی کیا گیا ہے کہ اگر آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے تمام اعمال بھی ضائع ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   الحاد کا چیلنج اور ہماری ذمہ داری - ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

تو کافر کو اس کے اعمال کا اجر دنیا میں ہی شہرت یا کسی اور نعمت کی صورت میں ہی دے دیا جاتا ہے۔ مسند احمد کی روایت کے مطابق عدی بن حاتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ کہا کہ میرے والد صاحب تو بہت صلہ رحمی اور یہ یہ کرتے تھے۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کے والد صاحب نے جس مقصد یعنی شہرت کے لیے یہ کام کیا، وہ انہوں نے اسی دنیا میں پا لیا ہے۔

صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ ابن جدعان صلہ رحمی کرتے تھے اور بھوکوں کو کھانا کھلاتے تھے تو کیا انہیں آخرت میں اس کا کچھ فائدہ ہوگا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اسے آخرت میں اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا کیونکہ اس نے کبھی یہ دعا ہی نہیں کی کہ اے پرودرگار، قیامت والے دن میرے گناہ معاف کر دینا۔ صحیح مسلم ہی کی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ اگر کوئی کافر نیکی کرتا ہے تو اللہ عزوجل اسے دنیا میں اس کے بدلے کھلا پلا دیتے ہیں۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.