ایک بہن کو نصیحت - عاطف الیاس

سنیے یہ مفروضہ جو آپ نے گھڑ لیا ہے اور جو آپ کو بغاوت پر اکسا رہا ہے، کلیتا ہی غلط ہے.

ٹھہریے! میں آپ کو سمجھاتا ہوں. ہم بات وہاں سے شروع کرتے ہیں جب آپ کو یہ جسم، جس کی آپ ملکیت کی دعویدار ہیں، ملا بھی نہیں تھا.

اللہ نے ملائکہ کے بعد انسانی ارواح کو تخلیق کیا، جس میں آپ کی روح بھی شامل تھی. اللہ نے اس کے بعد تمام ارواح سے ایک عہد لیا تاکہ وہ جان لیں کہ ان کا رب کون ہے. یہی عہد انسان کی فطرت میں ایک رب ہونے کے احساس کی صورت موجود ہے. آپ کو بھی ضرور کبھی نہ کبھی یہ محسوس ہوتا ہوگا کہ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے اور جس نے آپ سمیت تمام انسانوں کو خلق کیا ہے. اگر اسی احساس کو وسعت دیں تو اسے پہچاننا کچھ مشکل بھی نہیں.

خیر پھر جب آپ کا دنیا میں آنا ٹھہر گیا تو آپ کے والد نے آپ کی والدہ سے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا (اگر کیا). پھر ایک حقیر پانی آپ کی والدہ کے رَحم میں داخل ہوا. جس میں لاکھوں حرکت کرنے والے سپرمز تھے. ان لاکھوں سپرمز میں سے ایک سپرم نے آپ کی والدہ کے رحم میں موجود انڈے کے ساتھ مل کر ایک زائیگوٹ (جو آپ تھیں) کی شکل اختیار کی جو محض ایک حقیر سا خلیہ تھا. بےشک اس ابتدا کو شروع کرنے والا بھی وہی خالق تھا جس نے آپ کی روح کو خلق کیا تھا.

اسی کے حکم سے اس ایک خلیے میں تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوا. ایک گوشت کا لوتھڑا بنا. پھر اس میں مختلف نظام ہائے زندگی وجود میں آنے لگے. یہ سب خود بخود نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے ایک پروگرامنگ تھی جو آپ کی ڈی این اے پر تحریر تھی. اور یہ پروگرامنگ بھی خود بخود وجود میں نہیں آئی تھی بلکہ اسی خالقِ حقیقی نے اپنی عقلِ کُل سے تحریر کی تھی.

اب اسی کے حکم سے آپ کی روح کو اس گوشت کے لوتھڑے میں، جس میں پیچیدہ ترین نظام ہائے زندگی ترتیب پارہے تھے، پھونکا گیا.

چند ماہ گزرے تو آپ کو شکل و صورت ملی (جیسا کہ اس پروگرامر، خالق ازلی نے چاہا). پھر کچھ وقت اور گزرا تو ایک ننھا سا وجود اپنی تمام تر خوبصورتیوں، پیچیدگیوں، طاقتوں، کمزوریوں اور تخلیق کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ دنیا میں آیا.

اللہ اکبر! سبحان اللہ! تعریف اسی رب کی جس نے آپ کو یہ وجود بخشا. ایک خوبصورت وجود، ایک شاہکار! جس کے سر میں اربوں نیورانز سے بنا ایک دماغ تھا، جو اس وجود کو کنٹرول سنٹر تھا. ایک خوبصورت جسم، جس میں اربوں خلیوں سے بنے پیچیدہ نظام ہائے زندگی تھے، جو آپ کی زندگی کے ضامن تھے.

اگرچہ آپ کو اچھے برے کی تمیز بلٹ ان پروگرام کے طور پر ودیعت کی گئی تھی لیکن پھر بھی اس خالقِ کائنات نے چاہا کہ آپ پھر بھی کہیں دنیا کی عارضی لذتوں میں صراطِ مستقیم کھو نہ دیں تو اس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر، انبیا اور رُسل کی صورت میں بھیجے جو آپ کی پروگرامنگ کے عین مطابق آپ کو یاد دہانی کرواتے رہے کہ یہ دنیا عارضی ٹھکانہ ہے اور آپ کو لوٹ کر اسی رب کی طرف جانا ہے. اور اپنی اس زندگی کا حساب دینا ہوگا. اس کی کرم نوازی دیکھیے کہ اس نے بہت سی کتابیں بھی اتاریں جو اس زندگی کا دستور العمل تھیں تاکہ آپ آسانی سے اس زندگی کے امتحان میں سرخرو ہوسکیں.

آپ کا ننھا سا وجود جو بالکل اپنی حفاظت نہیں کرسکتا تھا، اس کی کرم نوازی سے پروان چڑھتا رہا. آپ بلوغت کو پہنچیں، آپ کے بدن کو طاقت ملی. لیکن آپ کے شعور نے اپنے ماحول سے اور خصوصا میڈیا سے جو پایا، اسی کو سچ جانا اور آپ لگیں اپنے خالق سے جھگڑنے اور بغاوت کرنے. آہا! کیسی کم ظرفی ہے.

وہ عہد جو آپ نے اپنے رب سے کیا تھا، وہ خالقیت، وہ شکل ریزی، وہ کرم نوازیاں، وہ رزق کی فراوانی سب بھول گئیں.
اللہ اللہ! اور کہنے لگیں: "میرا جسم، میری مرضی".

ہائے یہ کہتے ہوئے آپ کی زبان کیوں نہ لڑکھڑائی، قلم کیوں نہ ٹوٹا. ایسی احسان فراموشی! ایسی احسان فراموشی!
یہ آپ کو زیب نہیں دیتا. احسان فراموشی تو کم ظرفوں کا شیوہ ہے. میری بہن! صرف اعلی ظرف ہی احسان یاد رکھا کرتے ہیں. اور ذرا سوچیے: آپ اپنے رب کی کس کس نعمت کا کفران کریں گی، ذرا غور تو کیجیے. یہ نصیحت بھی صرف عقلمندوں کے لیے ہے جو غور کرتے ہیں کہ اندھے بہرے تو صرف ہر چیز پر ٹوٹ پڑتے ہیں.

میری بہن!
احسان کو یاد رکھیے. امتحان کو یاد رکھیے.
یاد رکھیے کہ ایک دن جب مہلتِ عمل ختم ہوجائے گی اور یہ خوبصورت جسم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائے گا. تب کیا کریں گیں. پھر جب دوبارہ اٹھنے کا دن آن پہنچے گا تو کس منہ سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گیں. اور کفِ افسوس ملتے ہوئے کس منہ سے کہیں گی کہ اے میرے رب!

مرضی تو صرف تیری ہی تھی، مرضی تو صرف تیری ہی تھی. کہ تو ہی خالق ہے تو ہی مالک ہے اور تو ہی حساب لینے والا ہے. میں تو صرف گم گشتہ راہ تھی جو اپنی اصل کو بھول گئی تھی.
انا للہ وانا الیہ راجعون

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.