بچے سے ناراض ہوں تو کیا کریں؟ مریم زیبا

جب بچے کسی خاص رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے
چھوٹے بھائی کو تنگ کرنا
چیخنا چلانا
اپنی کرنے کی کوشش کرنا
ضد کرنا
اما بابا کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرنا
تب ہم آپ دکھی ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی۔ مگر ہمارے اپنے جذبات کی تندی اس طرح سے زور لگا رہی ہوتی ہے کہ غصہ بچوں پر اتارنا ہی حل نظر آتا ہے۔ البتہ معاملہ ٹھنڈا ہونے پر احساس ندامت ہمیں گھیر لیتا ہے اور پھر سمجھ نہیں آتی کہ جو غلطیاں ہوئیں، ان کی درستگی کیسے کی جائے؟ اور کس طرح سے بہتری کی طرف کام کیا جائے؟

اگر آپ ابھی تک اس مضمون کو پڑھ رہے ہیں اور وقتا فوقتا اثبات میں سر بھی ہلا رہے ہیں کہ واقعی ایسا بھی ہوتا ہے، تو سب سے پہلے میں آپ کو مبارک باد دیتی ہوں کہ آپ نے اس مشکل معاملے میں اپنے مثبت قدم اٹھانے شروع کیے ہیں، اور ارادہ اور نیت تعمیری ہے۔!

آپ نے اپنی سمجھ اور فہم کے مطابق جو بن پایا کیا۔ اور اس پر دکھی ہونا یا افسوس ہونا فطری ہے مگر اب یہ آپ کی "طاقت" ہیں، "تجربہ" ہیں، کوشش ہیں۔ شرمندگی یا ندامت نہیں۔ غلطیاں ہمارے لیے سیکھنے کا موقع ہیں اور قیمتی تجربہ۔۔۔! الحمدللہ۔ آپ پرعزم ہیں، اپنا وقت اور سرمایہ اس کام میں لگانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات نہایت عمدہ، قیمتی اور قابل قدر ہے۔

بچے اس دنیا میں نئے ہیں، تیز رفتار دنیا میں اپنے قدم جمانے کے لیے اللہ نے انھیں نت نئی صلاحیتوں کو سیکھنے کے لیے مواقع فراہم کیے ہیں۔ وہ مختلف تجربات کے ذریعے چیزوں کی اہمیت، وجوہات اور ان کے اثرات، مختلف تناظر اور اپنے بولنے، کرنے اور سوچنے کی صلاحیتوں کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کا اپنا ذہن، جسم اور جذبات ان مشکل کاموں کے ابتدائی اثرات کے عادی ہونے کے لیے جدوجہد کر رہا ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں سے الجھ کر وہ اپنی خودی، طرز تکلم کو جانچنے پرکھنے کے ساتھ پرابلم سالونگ سکلز آزما رہا ہوتا ہے۔ نئی چیزیں، نئے تجربے بلاشبہ یہ اکثر و بیشتر کچھ ناخشگوار اور تلخ بھی ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں انہیں جس چیز کی اشد ضرورت ہے، وہ ہے ایک مہربان رہنما اور تعمیری مثبت گھریلو ماحول۔۔۔!

یہ بھی پڑھیں:   اصلاح کا واحد راستا - عبدالباسط ذوالفقار

بچے کی ضروریات میں شامل ہیں؛
اسے سمجھا جائے
اس کی کیفیت کو سمجھ کر اسے محفوظ سپیس دیا جائے۔
اسے قبولیت ملے
اسے اپنائیت ملے
اس کی بات سنی جائے
اسے ایک محدود خودمختاری دی جائے
اسے غلطیاں کرنے اور ان سے سیکھنے کے لیے ایک سیف سپیس ملے۔

ان سب کو کرنے کے لیے ہمیں اپنے اندر ٹھہراؤ لے کر آنا پڑے گا۔ اور اس متحمل اور ٹھہراؤ والی طبعیت کے لیے اپنی ذات کی کچھ نگہداشت درکار ہوگی۔ کچھ ہوم ورک کرنا پڑے گا؛ چہل قدمی، اپنی نیند کا خیال، جرنلنگ اور اچھی خوراک کے لیے شعوری کوشش۔ اپنے جذبات کا تجزیہ۔ اپنے بچپن کے ناخشگوار تجربات کا تجزیہ اور نارسا جذبات کو مثبت اور تعمیری انداز میں سوگ کے ذریعے پراسس کرنا، تاکہ وہ ہمارے حال اور عزیز ترین رشتوں پر منفی اثر نہ ڈالیں۔ ایک پروفیشنل کاؤنسلر سے بات کرنا بہت فائدہ مند ہے۔

جب بھی لگے کہ بچے کے رویے پر ہمارے جذبات میں تندی آرہی ہے تو یہ آپ کا اپنا بریک ٹائم ہے۔ اس وقت بچے سے زیادہ ہم خود توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔۔!
گہرے سانس لینا،
اس جگہ سے ہٹ کر خود کو سپیس دینا،
پانی پینا،
وضو کرنا،
اذکار کرنا، درود پڑھنا۔

جب ہمارا ایموشنل برین پرسکون ہوجائے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں واپس آئیں تو پھر
"cause and consequences"
کے ڈائنامکس سمجھ آتے ہیں۔ تب بچے کے ساتھ بیٹھ کر سب سے پہلے؛
اس کی بات سنیں
اس سے ہمدردی کریں
اس کے جذبات کو نام دیں۔
پھر اپنے توقعات مختصر الفاظ میں اس کے ساتھ شیئر کریں۔
اپنے جذبات کو مثبت الفاظ میں "I" سٹیٹمنٹ کے ساتھ شیئر کریں۔

یہ سب کام پریکٹس سے ممکن ہوں گے۔ غلطیوں کو ویلیو کرنا ہے۔ اگر لگے کہ ہم نے پھر چیخنا چلانا کیا ہے تو اپنا غصہ ٹھنڈا کرکے بچے سے معذرت کرلیں۔ اس سے:
بچے میں اعتماد آئے گا،
اس کو احساس ہوگا کہ غلطی قیامت نہیں بلکہ غلطی تو سدھاری جاسکتی ہے۔
ھر cause کا consequence ہوتا ہے۔ میرے رویے کا اثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حقوق الوالدین - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

چنانچہ یہ غلطیاں، یہ پریکٹس اور یہ کوشش بہت قیمتی ہے، سیکھنے کے مواقع ہیں، اور بچوں کی نعمت دے کر اللہ نے دراصل ہمیں اپنی ری پیرینٹینگ کا بہترین موقع دیا ہے۔ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، حضرت آدم کے اولاد جو ہوئے، مگر انھی کی طرح ہم بھی اپنی غلطی کو سنواریں گے اور اس سے سیکھیں گے ان شاءاللہ العزیز۔۔۔!