کھانا گرم کرنا اتنا ضروری بھی نہیں - حافظ یوسف سراج

بہت حد تک انسان اس دنیا میں اپنی مرضی ہی کرنے آیا ہے۔ اس کائنات میں صرف دو مخلوقات کو محدود مرضی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایک جن اور دوسرے انسان۔ اپنی بنت میں یہ مرضی مگر مکمل اور لا محدود نہیں۔

مرضی کرنے کی لمٹ سمھنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب مشہور واقعہ کافی ہوگا۔ کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم اپنی مرضی کرنے میں آزاد ہیں تو کتنے؟ اور اگر آزاد نہیں تو کتنے؟ فرمایا، تم اپنا ایک پاؤں اوپر اٹھاؤ، اس نے اٹھا دیا۔ فرمایا، دوسرا بھی اٹھاؤ، اس نے کہا، دونوں تو بہ یک وقت نہیں اٹھا سکتا۔ فرمایا ، بس یہی سارا فلسفہ ہے۔ ہمیں بس ایک پاؤں اٹھانے جتنی ہی آزادی دی گئی ہے، دوسرا اٹھانے جتنی نہیں، یعنی کامل اور کلی نہیں، نیم آزادی۔

ایک انسان انسان ہی پیدا ہو، اس کی اولاد بھی انسان ہی ہو، جانور کا بچہ جانور ہی ہو، وہ اسی خاص ساخت میں پیدا ہو، یہ اس کی تقدیر ہے۔ آگے کچھ آزادیاں ہیں۔ یہی آزادیاں دراصل امتحان ہیں۔ جیسے امتحان میں بیٹھے طالب علم کو ممتحن پورا وقت دیتے ہیں کہ وہ جو چاہے لکھتا رہے۔ چاہے تو پوری آزادی سے درست جواب لکھے اور چاہے تو غلط۔ اور چاہے تو پوری آزادی سے جوابی کاغذ پر بیل بوٹے بنا دے۔ عین امتحان کے دوران اسے ٹوکا نہیں جاتا۔ اسی لکھے پر مگر اس کا نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔

یہی لکھنے کی آزادی یعنی دی گئی لمٹ میں اختیار برتنے اور آزادی استعمال کرنے ہی میں دراصل جنوں اور انسانوں کا امتحان ہے۔ باقی ساری کائنات پوری طرح تقدیر کی پابند ہے۔ اسے اختیار کی تباہ کن سہولت اور آزادی حاصل نہیں۔ سورج کسی دن ناغہ نہیں کر سکتا، چاند کسی شب آمد و رفت میں تاخیر نہیں کر سکتا۔ ہوا کا ایک کام ہے اور آگ کا اپنا کام۔

اپنی محدودات میں انسان جو جو مرضی کرتا ہے، اس کا لیکن وہ کبھی اشتہار نہیں لگاتا، مثلا آپ کچھ چیزیں اپنی مرضی سے کھانا پسند کرتے ہیں اور کچھ چیزیں آپ کو ناپسند ہوتی ہیں۔ آپ مگر کبھی چوک میں نکل کر یہ نہیں کہتے کہ بینگن ہمیں پسند نہیں، لہذا یہ اگانا بند کرو۔ ہمیں دہی پسند نہیں لہذا دہی جمانا بند کرو، کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں ۔ اپنی مرضی کرنے میں ڈھول پیٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اب مثلا کھانا خود گرم کرو وغیرہ وغیرہ۔ آپ کا اگر مطالبہ ہے تو اولا تو یہ آپ کی اپنی مرضی ہے، آپ اس کنڈیشن میں جاؤ یا نہ جاؤ، یعنی کھانا گرم کرنے کے جھنجھٹ میں پھنسو یا نہ پھنسو، ظاہر ہے، اگر آپ کو مرد سخت ناپسند ہے تو آپ کے پاس شادی نہ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ اگر شادی کر لینے کے بعد یہ منکشف ہوا اور مصالحت کی کوئی صورت نہیں تو مذہبا اور قانونا آپ کے پاس الگ ہو جانے کا آپشن موجود ہے۔ یا اگر آپ میاں کے ساتھ کچھ سمجھوتا کرنا چاہتی ہیں تو ظاہر ہے وہ کسی میز پر بیٹھ کر ہوگا، چوک میں پلے کارڈ تھام کر تو نہیں ہوگا۔

اگر آپ اس کی وجہ اسلام کو سمجھتی ہیں تو اسلام نے بیوی پر ایسی کوئی شرط نہیں رکھی، یہ تو بس انسان کے صنفی و تخلیقی مزاج اور تہذیبی ارتقائی تجربات کا نتیجہ ہے۔ میاں بیوی نے جب زندگی کو بانٹا تو ظاہر ہے اپنی اپنی افتاد کے تحت ذمے داریاں تقسیم کر لیں۔ یعنی پلے کارڈ اٹھائے بغیر، اب اگر آپ کو یہ ذمے داریاں بدل ڈالنی ہیں تو اس پر بیٹھ کر بات کر لیجیے۔ یہ البتہ ذہن میں رہے کہ تصادم سے خیر برآمد نہیں ہوتا۔ کسی طرف سے بھی ہو ضد سے تو بس نقصان ہی ہوتا ہے۔ وگرنہ مرد نے آپ کو کھانا گرم کرنے کی ذمے داری دے کر خود کھانا کما لانے اور فیملی پر اترتی ہر مشکل کے سامنے سینہ تان دینے کی ذمے داری اٹھائی ہے۔ آپ بدلنا چاہتی ہیں تو چلیے بدل ڈالیے۔

ویسے ایسا بھی نہیں کہ وہ کبھی کھانا گرم کرتا ہی نہ ہو، یا بوقتِ ضرورت وہ بازار سے کھانا لا کے بھی نہ دیتا ہو یا وہ کھانے کا کوئی سا انتظام بھی نہ کر کے دیتا ہو، ظاہر جب آپ بیمار ہوتی ہیں، اور بشری جبلت کے تحت بعض معاملات میں زیادہ دنوں تک بیمار رہتی ہیں ،یعنی کبھی مہینوں تک۔ تو وہ آپ کو کھانا فراہم کرتا ہے اور خود بھی کھاتا ہے۔ شاید آپ کا سڑک پر آنا اس لیے ہو کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی قانون بنا دے۔ تو اس کے لیے بھی ابھی سازگار موسم نہیں۔ یہاں ابھی تو حکومت اپنے بنے قوانین پر عمل کرنے میں بھی ناکام ہے۔ ایک نیا قانون آپ نے بالفرض بنوا بھی لیا تو یہ آپ کو کیا ریلیف دے سکے گا؟ سو بہتر یہی ہے کہ پلے کارڈ رکھ دیجیے، غصہ تھوک دیجیے، اور زندگی کے سفر میں اپنے ہم سفر سے نرمی سے بات کیجیے۔ مرد کی جبلی سخت جانی کے مقابل، آپ کی نرمی ہی دراصل آپ کی اصل طاقت ہے۔

اور ہاں اپنے اس موقف پر دوسری خواتین سے بھی رائے لے لیجیے گا، مجھے لگتا ہے، شاید وہ اس سے اتفاق نہ کریں اور یوں پورا ایگریمنٹ نہ ہو سکے!
اور آخری بات، صدیوں سے چلے آتے ساتھ کو اتنی سی بات پہ کیا توڑنا، کھانا گرم کرنا اتنا ضروری بھی نہیں، کھانا تو ٹھنڈا بھی کھایا جا سکتا ہے۔
کیا خیال ہے؟

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں