پشاور میٹرو پراجیکٹ، حقائق کیا ہیں؟ محمد اشفاق

آپ جب اس منصوبے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ پر پہلا انکشاف یہ ہوتا ہے کہ اس کے گرد وعدوں، دعووں اور یقین دہانیوں کی ایسی چادر تان دی گئی ہے، جس کے پیچھے چھپے حقائق دیکھنا اچھا خاصا مشکل کام بن چکا ہے۔ آئیں، کوشش کر کے دیکھتے ہیں۔

لاگت آپ کو کہیں 41 ارب، کہیں 57 ارب بتائی جاتی ہے۔ اب اجماع 49 ارب پہ ہو چکا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ فگر بھی ادھوری یا غلط ہے۔ پراجیکٹ کی اصل مجموعی لاگت ساٹھ ارب کے لگ بھگ یعنی 59،935،000،000 روپے ہے۔ اس میں ایشین ڈویلپمنٹ بنک تیس سال کی مدت کے لیے 34 ارب 50 کروڑ روپے کا سافٹ لون مہیا کرے گا۔ 7 ارب 50 کروڑ کی مزید فنانسنگ ہے جو ایشین بنک کی زیرنگرانی استعمال ہوگی، یہ خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے مہیا کرنی ہے، جبکہ اس کے علاوہ 17 ارب 93 کروڑ 50 لاکھ دیگر ذرائع سے پورے کیے جائیں گے۔ جو 49 ارب کی فگر بار بار دہرائی جا رہی ہے اور ڈیزائن فالٹس اور چینجنگ کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ لاگت 49 ارب سے بڑھنے نہیں پائے گی، اس کی وجہ آپ مدت تکمیل جان کر سمجھیں گے۔

اس پراجیکٹ کی مدتِ تکمیل تین سال ہے، یعنی اسے 31 دسمبر 2021 تک مکمل ہونا ہے۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرانی ہو کیونکہ اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر آپ کو مسلسل بتایا جا رہا ہے کہ پراجیکٹ چھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا، یا زیادہ سے زیادہ ایک دو ماہ مزید لگ جائیں گے۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ پراجیکٹ کا صرف کاریڈور والا حصہ، یعنی وہ خصوصی راستہ جس پر بسیں چلنا ہیں، جس کی لاگت کا تخمینہ 42 ارب کے قریب ہے، اسے مکمل کیا جا رہا ہے، مجموعی طور پر پچاس ارب کے دو پروکیورمنٹ پلان منظور ہو چکے، اس لیے لاگت 49 ارب بتا کر 7 ارب کا مارجن بھی رکھ لیا گیا ہے۔ اور عوام کو انتخابات سے پہلے آدھے ادھورے پراجیکٹ کی تکمیل کا مژدہ بھی سنا دیا جائے گا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے پروکیورمنٹ پلان کی مدت 18 ماہ ہے، اس کے بعد ابھی ایک تیسرا پلان آنا باقی ہے۔ کم سے کم وقت میں ہتھیلی پر سرسوں جمائی جائے تو ابھی مزید ایک سال کا کام باقی ہے۔ مگر عام انتخابات میں جھرلو پھیرنے کی غرض سے اوکھا سوکھا کاریڈور بنا کر اس پہ سو پچاس بسیں چلا دی جائیں گی۔ جعلی عکس ڈالنے کا یہ طریقہ بیک فائر بھی کر سکتا ہے کیونکہ عوام کو اس منصوبے کی سیمولیشن دکھا دکھا کر اور اس کی چیدہ چیدہ تفصیلات بڑھا چڑھا کر پیش کر کے اتنا ایکسائٹڈ کر دیا گیا ہے کہ جب وہ اس ادھوری میٹرو کو دیکھیں گے تو بے ساختہ کہہ اٹھیں گے:
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ میٹرو تو نہیں-

پراجیکٹ کے انجینئرنگ ڈیزائن، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن منیجمنٹ EPCM کا کانٹریکٹ موٹ میکڈونلڈز یعنی MM پاکستان کو ملا۔ اس کانٹریکٹ کی مالیت 43 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔ آپریشنل ڈیزائن اینڈ بزنس ماڈل OBDM کا کانٹریکٹ Logit consulting and Rebel Group USA کو ملا، انہوں نے پاکستان آئے بغیر خیبرپختونخوا اربن موبلٹی اتھارٹی کو کام سمجھا دیا، اس ٹھیکے کی مالیت 29 کروڑ، 43 لاکھ، 89 ہزار، 500 روپے ہے۔ اسی طرح پراجیکٹ منیجمنٹ کوآرڈینیشن اینڈ کپیسٹی بلڈنگ کے نام پر Halcrow Pakistan کو 19 کروڑ 50 لاکھ مالیت کا کانٹریکٹ ملا، جبکہ پراجیکٹ منیجمنٹ اینڈ کنسلٹنٹ سپرویژن کی ذمہ داری بھی MM پاکستان کو 78 کروڑ 18 لاکھ میں دی گئی۔

یہ خشک تفصیلات بتانے کا مقصد یہ تھا کہ کنسلٹنٹ سروسز پاکستان کو 1 ارب 70 کروڑ سے زائد میں پڑی ہیں۔ اگر انہوں نے یہ پیسہ حلال کیا ہوتا تو 60 ارب کے پراجیکٹ کے لیے اتنی کنسلٹنسی فیس کچھ زیادہ نہیں۔ مگر دکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ پونے دو ارب روپے بھر کر بھی ڈیزائن میں اتنے سٹرکچرل اور ڈیزائننگ فالٹس تھے کہ عملدرآمد کا مرحلہ آنے پر تادم تحریر 11 تبدیلیاں عمل میں آ چکی ہیں، جن کا خمیازہ خیبرپختونخوا کو 2.5 ارب کی اضافی لاگت کی شکل میں برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ فالٹس بھی اتنے مضحکہ خیز اور حیران کن ہیں کہ یقین نہیں آتا، اتنی نامور کمپنیوں نے اس پراجیکٹ کی ڈیزائننگ میں حصہ لیا ہے، جہاں نالہ تھا وہاں انڈر پاس بن گیا، اب فلائی اوور بنایا جائے گا۔ جہاں لنک روڈ تھے، ان کا راستہ ہی بند کر دیا گیا، جہاں پہلے سے فلائی اوورز موجود تھے، ان کا مارجن ہی نہیں رکھا گیا۔ اب چند روز قبل منصوبے کو خیبر روڈ تک کھینچ لے جانے کا فیصلہ اندازا" تین سے چار ارب کی مزید لاگت بڑھائے گا۔ یوں ان سب اداروں کی غفلت سے پراجیکٹ کی کاسٹ اپنے بالکل ابتدائی مرحلے ہی میں کم از کم دس فی صد بڑھ چکی ہے۔

اب آ جائیے کانٹریکٹرز کی جانب۔ مقبول ایسوسی ایٹس اور چوہدری عبداللطیف اینڈ سنز یعنی کالسنز دو الگ الگ مگر ایک ہی خاندان کی کمپنیاں ہیں، اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ آر ون اینڈ دی سیم تھنگ، جہاں کوئی بڑا پراجیکٹ آتا ہے یہ نتھا سنگھ اور پریم سنگھ آپس میں جوائنٹ وینچر کر لیتے ہیں۔ مقبول کالسنز جے وی اورنج لائن میٹرو میں بھی ایک کانٹریکٹر تھی، اس سے قبل وہ پنڈی اور ملتان میٹرو میں بھی حصہ ڈال چکے، گویا میٹرو پراجیکٹس کی تجربہ کار ترین پاکستانی کمپنیوں میں سے ایک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نوبت عمران خان کے بائیکاٹ تک نہ پہنچے - ارشدعلی خان

فدوی کو بقلم خود ان کے ساتھ اورنج لائن کے چوبرجی سیکشن پر کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے، یہ احقر ان کے طریقہ واردات کو تبھی سمجھ گیا تھا، پنجاب حکومت بھی قدرے تاخیر سے مگر بالآخر سمجھ ہی گئی۔ تب تک مقبول کالسنز ایک ارب کا چونا لگا چکے تھے۔ کمپنی بلیک لسٹ ہوئی۔ ان کے خلاف نیب میں کیس بھی بنا، پلی بارگین کی اور چھوٹ گئے۔ لاہور ہائی کورٹ جا کر بلیک لسٹ سے نام نکلوا لیا۔ سرٹیفائیڈ صادق اور امین بن کر پشاور کا رخ کیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں بھی ایک پیٹیشنر نے اعتراض کیا، مگر ہائی کورٹ نے انہیں جونیئر پارٹنر سمجھ کر کام کی اجازت دے دی۔ اب ذرا دھیان سے سنیں۔

کاریڈور کو تین پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے، پانچ کمپنیوں نے مجموعی طور پر ان پیکجز کے لیے بڈ جمع کروائیں۔ تینوں پیکجز کا ٹھیکہ مقبول کالسنز کو اپنی چائنیز پارٹنر کمپنیوں کے ہمراہ ایوارڈ ہوا۔ ان تینوں پیکجز کے علاوہ تین مقامات پر پارکنگ پلازہ یعنی پارک اینڈ رائیڈ فیسلیٹیز بننا ہیں، ان کا ٹھیکہ بھی مقبول کالسنز کے پاس ہے۔ تمام پیکجز میں چینی کمپنیاں یعنی SGEC اور CR-21-G ستر فیصد اور مقبول کالسنز تیس فی صد کے شریک ہیں۔ دو کمپنیاں مقبول ایسوسی ایٹس اور کالسنز مل کر ایک جے وی بناتی ہیں، یہ جے وی دو مختلف چینی کمپنیوں کے ساتھ ایک ایک مزید جے وی بناتی ہے، اور یہ دونوں جے وی تمام ٹھیکوں میں سب سے کم بولی دے کر کامیاب رہتی ہیں۔ کیا ہی حسین اتفاق ہے ویسے یا اسے قسمت کی خوبی قرار دیا جائے؟

انسائیڈ سٹوری کچھ اور ہی بتاتی ہے، مگر میں رؤف کلاسرا نہیں جو سنی سنائی مرچ مصالحے اپنی طرف سے ڈال کر بیان کروں۔ صرف اتنا عرض کروں گا کہ معاملہ اتنا سادہ ہرگز نہیں جتنا بظاہر دِکھ رہا ہے۔

چمکنی، ڈبگری اور حیات آباد میں بس ڈپو، دفاتر اور پارکنگ پلازے بنائے جانے ہیں، ان کی مجموعی مالیت 6 ارب 99 لاکھ کے قریب ہے۔ یہاں پراجیکٹ انتظامیہ، ٹھیکیدار یعنی آپ کی اپنی مقبول کالسنز کی جانب سے ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے فرمائش کر رہی ہے کہ مختلف آئٹمز پر انجینئر ایسٹیمیٹس EE پر 34% سے 70% تک ریٹس میں اضافہ کیا جائے۔ فی الوقت ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے اس پر کافی اعتراضات اٹھائے ہیں، مگر مجھے یقین ہے کہ ٹھیکیداروں کو 30 سے 40 فیصد پریمئم دلوا ہی دیا جائے گا۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ کہ ابھی ان کاموں کے نرخوں پر گفت و شنید جاری ہے، جس کے بعد ان تینوں کاموں کو مکمل ہونے میں چھ ماہ یعنی اکتوبر تک کا عرصہ لگ جانا ہے، مگر خٹک حکومت بغیر بس ڈپو، بغیر پارکنگ پلازوں ہی کے کسی طرح بسیں چلا دینا چاہتی ہے۔

بسوں کا ذکر ہوا تو ذرا ان کا احوال بھی سن لیجیے۔ اس پراجیکٹ میں 300 بسیں چلائی جانی ہیں، جن میں سے 220 کا آرڈر دے دیا گیا ہے۔ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے اس مد میں 10 ارب روپے مختص کر رکھے ہیں، یعنی فی بس 3 کروڑ روپے۔ خٹک حکومت کو یقین ہے کہ وہ 7.48 ارب میں تین سو بسیں حاصل کر لے گی۔ یہ بسیں ایک اور چینی کمپنی گولڈن ڈریگن سے بنوائی جا رہی ہیں، 220 بسوں کا آرڈر 5.5 ارب میں دے دیا گیا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا ہائبرڈ ہونا ہے۔ جو دوست ہائی برڈ گاڑیوں سے واقفیت رکھتے ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ یہ عام طور پر دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک جن میں گاڑی چلنے کے دوران میکانکی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کر کے بیٹری پینلز خودبخود ریچارج ہوتے رہتے ہیں، دوسری قسم پلگ ان یعنی چارجنگ پوائنٹ پر لگا کر چارج کی جانے والی گاڑیاں ہیں۔ خٹک انتظامیہ نے ہمارے لیے یہی چارجنگ والی گاڑیاں منگوائی ہیں۔

18 میٹر بسیں فاسٹ چارجر پہ 24 منٹ میں چارج ہو جائیں گی اور 12 میٹر والی 12 منٹ میں۔ کاریڈور کے روٹ پر 13 فاسٹ چارجر درکار ہوں گے، اور ہر بس کو دن میں دو مرتبہ فاسٹ چارجر پہ اور رات کو ایک مرتبہ ڈپو میں سلو چارجر پہ چارج کیا جائے گا۔ فاسٹ چارجر سے مراد تین سو کلو واٹ چارجر ہیں۔ بڑی بسیں ایک چارجنگ پر 42 اور چھوٹی بسیں 40 کلومیٹر فاصلہ طے کریں گی، یعنی بمشکل ایک پھیرا۔ اب اگر ایک وقت میں تیرہ گاڑیاں چارج ہو رہی ہوں تو ان کی چارجنگ کے لیے 3900 کلوواٹ یا تقریبا چار میگا واٹ بجلی درکار ہوگی۔ جبکہ اوسطا روزانہ 30 میگاواٹ آورز بجلی ان بسوں کی چارجنگ کے لیے استعمال ہوا کرے گی۔ جو سادہ دل انصافی دوست اپنی حکومت کے 35 میگاواٹ میں ستر ہزار گھروں کو بجلی کی فراہمی کے دعوے پہ ایمان لائے بیٹھے ہیں، انہیں مژدہ ہو کہ جس ایک میگاواٹ سے انہوں نے دو ہزار گھر روشن کرنے تھے، وہ ان کے قائد انقلاب کی تین سو چارجنگ والی بسوں کے لیے بھی ناکافی ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اتنی بجلی باتوں سے بنتی ہوتی تو جناب عمران خان اپنے دعوے کے مطابق چالیس ہزار میگاواٹ اب تک بنا ہی چکے ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   ''ہاں! قائد اعظم کو پتہ تھا''، جاوید چوہدری کو جواب - عالم خان

اب کوئی ایسا انتظام کرنا ہوگا جس میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ تین بسیں چارج ہوں، روزانہ کی اوسط ڈیمانڈ 30 میگاواٹ آورز پورے رکھنے کے لیے اس صورت میں سسٹم میں ہر وقت 1250 کلوواٹ آورز بجلی کی گنجائش رکھنا ہوگی۔ یہ بجلی ظاہر ہے نیشنل گرڈ سے حاصل کی جائے گی، اس صورت میں کیا اس کے لیے علیحدہ ٹرانسمشن لائن اور ٹرانسفارمرز کی تنصیب کا خرچہ پراجیکٹ کاسٹ میں شامل کیا گیا ہے، اگر ہاں تو کہاں پر اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ ان سوالوں کے جواب کوئی انصافی بھائی اپنی حکومت سے لے کر بتا دیں۔ اگر نارمل موجودہ لائنوں پر ہی ان بسوں کی چارجنگ کی جاتی ہے تو گرد و نواح میں رہنے والے اپنے گھریلو برقی آلات کی مرمت کا کورس علامہ اقبال یونیورسٹی سے جلد از جلد مکمل کر لیں، کام آئے گا۔ آخر آپ کی انقلابی حکومت میٹرو بنا رہی ہے۔

بجلی تو خیر 74 میگاواٹ خان صاحب جیب میں لیے پھرتے ہیں۔ یہاں اس کے علاوہ بھی بڑی نازک صورتحال ہے۔ وہ یوں کہ ان تین سو بسوں کی بیٹری لائف چھ برس ہے۔ یوں تو ہائبرڈ گاڑیوں میں اب لائف ٹائم بیٹری آفر کی جا رہی ہے، مگر وہ گاڑیاں میڈ ان چائنا نہیں ہوتیں۔ ایک ہائبرڈ بس کا بیٹری پینل اوسطا اس کی کل لاگت کا تیس سے پینتیس فی صد ہوتا ہے۔ اگر آپ ڈھائی کروڑ بس کی قیمت کا تیس فی صد لگائیں تو یہ 75 لاکھ بنتا ہے۔ سیدھا مطلب یہ کہ پہلے چھ سال بعد آپ 2.25 ارب روپے لگا کر اپنی گاڑیوں کی بیٹریاں بدلائیں گے۔ اچھی خبر یہ کہ مزید چھ برس گزرنے پر آپ کو بیٹریاں نہیں بدلانا پڑیں گی اور بری خبر یہ کہ بسیں ہی بدلنا پڑ جائیں گی۔ گولڈن ڈریگن کی ان ہائبرڈ بسوں کی عمر کا تخمینہ بارہ برس لگایا گیا ہے۔ یعنی بارہ برس بعد آپ کو دوبارہ 7.5 ارب کی نئی بسیں خریدنا پڑیں گی۔ ہم نے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کا قرضہ تیس سال میں ادا کرنا ہے۔ اس حساب سے ہم تیس سال میں تین بار تین سو بسیں اور تین بار ان کی بیٹریاں خرید چکے ہوں گے۔ یہ ہم اپنے پلے سے خریدیں گے یا ان کے لیے دوبارہ ایشین بنک سے رجوع کرنا ہوگا؟ پندرہ روپے سے پچپن روپے کرائے میں تمام آپریشنل اخراجات، ملازمین کی تنخواہیں، 1250 کلوواٹ بجلی پورا ماہ استعمال کرنے کا بل وغیرہ نکال کر کیا اتنی رقم بچے گی کہ کہ ہر چھ سال بعد اربوں روپے کے یہ اخراجات پراجیکٹ برداشت کر سکے؟ مگر پی ٹی آئی حکومت ان فکروں سے یوں آزاد ہے کہ شاید یہ جان چکے کہ ہمیں ایک ہی موقع ملنا تھا، اس سے جو نکال سکو نکال لو۔

کہنے کو ابھی اور بہت کچھ ہے، مثلا 2 ارب 40 کروڑ کی لاگت سے جو ITS, Fare Control and Station Management System خریدا جانا ہے اس کے لیے اب تک بڈنگ ہی نہیں ہو پائی، تو اس کی عدم موجودگی میں بسیں چلیں گی کیسے اور کرائے اکٹھے کرنے کو کیا کنڈکٹر رکھے جائیں گے؟ جو گیارہ کروڑ کی لاگت سے سائیکل شئیرنگ سسٹم (اللہ ہی جانے یہ کیا بلا ہے) بنایا جانا مقصود ہے، اس کی وجہ اور حکمت آخر کیا ہے؟ جی ٹی روڈ کی ایک لین کم کر کے جو سائیکل لین اور فٹ پاتھ بنائے جائیں گے، اس سے شہر کی مرکزی شاہراہ پہ ٹریفک کا جو سیلاب بنا کرے گا، اس کا کیا حل سوچا گیا ہے؟ فیڈر روٹس پر جو بس سٹاپ بنائے جانے تھے، ان کا کیا بنا؟ وہ کیوں نہیں بنائے جا رہے ہیں؟

مگر ظاہر ہے یہ سوال پنجاب میں بیٹھے ان سادہ دل لوگوں کا مسئلہ ہی نہیں، جو ایک فاترالعقل جنونی کو اس لیے لیڈر مان بیٹھے ہیں کہ ان کے خیال میں وہ کرپٹ نہیں ہے۔ آنجناب کی انقلابی تحریک صرف سوا دس لاکھ ووٹ لے کر پانچ سال کے لیے صوبے پر قابض ہوئی تھی، ان سٹیو جابزوں اور ایلن مسکوں کے ہر ناکام تجربے کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مذکورہ بالا منصوبہ ایسٹ ویسٹ کاریڈور ہے، اس پہ تباہی پھیرنے کے بعد نارتھ ساؤتھ کاریڈور کا منصوبہ بھی پائپ لائن میں ہے، مگر تب تک ان شاءاللہ صوبے میں انصافی حکومت کی جگہ انسانی حکومت قائم ہو چکی ہوگی۔ تب ان بہت سی کہانیوں کو ثبوت اور شواہد بھی میسر آئیں گے جو ہم جانتے ہیں مگر کہہ نہیں پاتے۔ تب تک آپ موج کر لیں جتنی کرنی ہے۔

نوٹ: اس مضمون میں اپنی آسانی کی خاطر ڈالر کا ایکسچینج ریٹ سو روپے لگایا گیا ہے، جبک ایشین بنک نے تمام کیلکولیشنز 107 روپے کے حساب سے کی ہیں۔ تمام اعداد و شمار ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی اپنی مرتب کردہ اور خیبر پختونخواہ حکومت کی انہیں مہیا کردہ دستاویزات سے لیے گئے ہیں۔ جس نے تصدیق کرانی ہے کروا لے۔ میں جواب، جواب الجواب اور جواب الجواب الجواب کے لیے ہر وقت حاضر ہوں، بشرطیکہ کوئی ڈھنگ کی دلیل اور مصدقہ اعدادوشمار پیش کیے جائیں-