قیافہ شناسی - مفتی منیب الرحمن

حضرت سید علی ہجویری رحمہ اللہ تعالیٰ کے عہد میں بھی مُسْتَصوِفِین تصوف کے نام پر دامِ ہم رنگِ زمیں بچھا کر لوگوں کو اپنی عقیدت میں پھنساتے تھے، اب توتقریباً ایک ہزار سال اور گزر چکے ہیں، تو آپ اندازہ لگاسکتے ہیں، زوال کا عالَم کیا ہوگا۔ روحانیت کے جدید علمبردار بھی میدانِ عمل میں موجود ہیں اور مختلف شعبوں سے وابستہ کئی جدید تعلیم یافتہ افراد بالخصوص کالم نگار اُن کی عقیدت کے اسیر ہیں، اور وقتاً فوقتاًاُن کا ذکرِ خیر کرتے رہتے ہیں۔ در اصل بات یہ ہے کہ تشرُّع و تدیُّن یعنی سنت کے مطابق دینی وضع قطع سے جدید اذہان کو اجنبیت سی محسوس ہوتی ہے، وہ اسے ایک بار محسوس کرتے ہیں، انہیں دین اور روحانیت کا ایک نرم و ملائم ایڈیشن چاہیے، جس میں کچھ فوائد مل جائیں، لیکن کرنا اور دینا کچھ نہ پڑے، یہ اب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ جو بات دینی وضع قطع میں ایک عالمِ دین کرتا ہے، اگر وہی بات کوئی جدید تعلیم یافتہ شخص اپنے انداز میں کرے تو وہ انہیں زیادہ پرکشش محسوس ہوتی ہے۔ ایک بزرگ کالم نگار نے ’’روحانیت کے سپر اسٹار‘‘ اور ’’فقیر کیا کہتا ہے‘‘ کے عنوان سے لکھے ہوئے کالموں کی طرف متوجہ کیا ہے ،جن میں ہلکے پھلکے انداز میں کچھ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ہمیں ایسے صاحبِ علم، جو جدید فلسفے اور نظریات سے بھی کما حقہٗ آگاہ ہو اور تقابلی جائزہ پیش کرسکتا ہو، کی فضیلت سے انکار نہیں ہے۔ لیکن جس طرح مغربی فلسفے کو سمجھنے کے لیے انگریزی زبان اور جدید علوم کی ضرورت ہے، اسی طرح دینی علوم کو پوری جامعیت کے ساتھ سمجھنے کے لیے کم از کم کوئی معیارِ علم ہونا چاہیے، ایسا نہیں کہ دین کو بازیچۂ اطفال بنادیا جائے، جیساکہ آج کل اس کے مظاہر دیکھنے میں آرہے ہیں۔

کئی حضرات کی بابت بتایا جاتا ہے کہ وہ بندے کو دیکھتے ہی اسّی نوّے فیصد تک اس کی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتے ہیں۔ گزارش ہے کہ قیافہ شناسی ایک الگ علمی شعبہ اور نفسانی ملکہ ہے، جسے جدید اصطلاح میں فزیانومی (Physiognomy) کہاجاتا ہے، فزیانومسٹ کے لیے صوفی ہونا لازم نہیں ہے، یقینا کوئی کامل صوفی بھی اس مہارت کا حامل ہو سکتا ہے، غیر صوفی بھی ہوسکتا ہے اور غیر مسلم بھی ہوسکتا ہے۔ قیافہ شناس سے مراد نفسانی ملکہ اور مہارت کا حامل فرد جو کسی شخص کی قامت و جسامت، رنگت، خدوخال اور حرکات و سکنات کو دیکھ کر اس کے نسبی پسِ منظر، جبلّت اور عادات کے بارے میں حقیقت سے قریب تر رائے قائم کر سکے، اس کا تناسب ہر شخص کی مہارت کے اعتبار سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس میں قیافہ شناس کی قوتِ حافظہ، مشاہدے، تجربے اور ذہانت کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے، ہمیں عہدِ رسالت مآب ﷺ میں بھی ایسی نظیریں ملتی ہیں۔

ہم صحیح البخاری :6770-71اور صحیح مسلم:1459کی اِن روایات کو یکجا کر کے بیان کر رہے ہیں:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ (گھر میں) داخل ہوئے، آپ بہت خوش تھے اور خوشی آپ کے چہرۂ انور سے جھلک رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! تمہیں معلوم ہے کہمجزِّز مُدلجی آیا اور اس نے دیکھا: (دو اشخاص یعنی) زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما ایک چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے ہیں، اُن کے بدن کا بالائی حصہ ڈھکا ہوا تھا اور پاؤں نظر آرہے تھے، اس نے کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے کا جزو ہیں‘‘۔ یعنی چادر لپیٹ کر لیٹے ہوئے یہ اشخاص مجھے باپ بیٹا لگتے ہیں۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: حضرت زید بن حارثہ کا رنگ گورا تھا، اور اُن کے صاحبزادے حضرت اسامہ بن زید کا رنگ کالا تھا، رنگت کے اس تضاد کی وجہ سے زمانۂ جاہلیت میں بعض لوگوں نے اُن کے نسب کی صحت پر طعن کیا۔ پس آپ ﷺ کو خوشی ہوئی کہ اس قیافہ شناس کی ماہرانہ رائے نے اس طعن کو دور کردیا۔ حضرت اسامہ بن زید تو ثابت النسب تھے، اور کسی کو اس میں شک نہ تھا، لیکن اہلِ عرب چونکہ قیافہ شناسی پر یقین رکھتے تھے، اس لیے اُن پر حجت قائم ہوگئی، اور اس سے آپ ﷺ کو مسرّت ہوئی، کیونکہ حضرت اسامہ بن زید کا لقب ’’حِبُّ رَسولِ اللّٰہ‘‘ یعنی محبوبِ رسول تھا۔

اس حدیث کی روشنی میں امام شافعی اور بعض علماء نے ثبوتِ نسب کے لیے قیافہ شناسی کو حجت قرار دیا ہے، اُن کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ استدلال آپ ﷺ کے نزدیک حق نہ ہوتا تو آپ اس پر مسرّت کا اظہار نہ فرماتے، جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ طعن کرنے والوں کے نزدیک قیافہ شناسی حجت مانی جاتی تھی، اس لیے مجزِّز مُدلجی کا قول اُن کے خلاف حجت ہوگیا، لیکن قیافہ شناسی یا الہامات یا مکاشفات سب ظنی امور ہیں، ان کو معاون شہادت کا درجہ تو دیا جاسکتا ہے، لیکن یہ قطعی ناقابلِ تردید شہادت قرار نہیں دی جاسکتی۔ (مفتاح السعادۃ،ج:1،ص:330)۔

نیز یہ کہ باپ بیٹے میں محض رنگت کے اختلاف کے سبب نسب پر طعن کرنا درست نہیں ہے، حدیث پاک میں ہے: ’’ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اللہ! میرے ہاں ایک سیاہ فام بیٹا پیدا ہوا ہے (غالباً وہ خود سفید رنگ کا تھا، اس بنا پر اُسے اپنے بیٹے کے نسب کے بارے میں شبہ ہوا)، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟، اُس نے جواب دیا: جی ہاں!، آپ ﷺ نے پوچھا: اُن کے رنگ کیسے ہیں؟، اُس نے عرض کی: سرخ، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اُن میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟، اُس نے عرض کی: جی ہاں!، آپ ﷺ نے فرمایا: تو سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کہاں سے آگیا؟، اُس نے عرض کی: شاید (اُس کے نسبی آباء میں سے) کسی کی رگ نے اُسے کھینچ لیا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تمہارے بیٹے کو بھی (تمہارے آباء واجداد کی) کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ (بخاری: 5305)‘‘۔

حضرت رباح روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اُن سے پوچھا: تمہارے ہاں کیا پیدا ہوا، اُنہوں نے جواب دیا: میرے ہاں بیٹاپیدا ہوگا یا بیٹی، آپ ﷺ نے پوچھا: وہ بچہ صورت میں کس سے مشابہ ہوگا؟، اُس نے عرض کی: یا رسول اللہ! یقینااپنے باپ یا ماں میں سے کسی ایک کے مشابہ ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ذرا رکو، اس طرح نہ کہو، (بات یہ ہے کہ) جب نطفہ ماں کے رحم میں قرار پاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اُس کے اور آدم علیہ السلام کے درمیان اُس کے سلسلۂ نسب کو حاضر فرما دیتا ہے (اور وہ اُن میں سے کسی سے مشابہت اختیار کرلیتا ہے)، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھا: ’’وہ جس صورت میں چاہتا ہے، تمہاری تشکیل فرما دیتا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: 4624)‘‘۔ چنانچہ اس طرح کی نظیریں ہمیں اپنے گرد و پیش میں مل جاتی ہیں کہ والدین اور اولاد کی رنگتوں اور نقوش میں فرق ہوتا ہے، یہی اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت اور مصوری ہے اور اس کا تکوینی نظام ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے اجدادِ عالی نسب بھی ایسی ہی شاہکار ذہانتوں کے حامل تھے، ہم ذیل میں امام محمد بن یوسف صالحی کی روایت کا خلاصہ بیان کر رہے ہیں:
رسول اللہ ﷺ کی بیسویں پشت پر حضرت نزار آتے ہیں، انہوں نے اپنا مال اولاد میں تقسیم کر دیا اور وصیت کی کہ تم میں کوئی اختلاف پیدا ہو تو شاہِ نجران افعی سے فیصلہ کرانا۔ وہ افعی کے پاس جا رہے تھے کہ ایک شخص ملا، جس کا اونٹ گم ہوگیا تھا، اس نے ان سے پوچھا: آپ لوگوں نے میرا اونٹ دیکھا ہے؟۔ ایک بھائی نے پوچھا: کیا تمہارا اونٹ کانا ہے، دوسرے نے پوچھا: کیا تمہارا اونٹ لنگڑا ہے، تیسرے نے پوچھا: کیا وہ دم کٹا ہے، اس نے تینوں باتوں کا جواب اثبات میں دیا اور کہا: بتاؤ میرا اونٹ کہاں ہے؟، انہوں نے کہا: ہم نے نہیں دیکھا، اس نے کہا: آپ لوگوں نے دیکھا ہے، کیونکہ آپ ساری علامتیں درست بتا رہے ہیں۔ پس وہ بھی شکایت کرنے کے لیے ان کے ساتھ افعی جرہمی کے پاس چلا گیااور سارا ماجرا بیان کیا۔ افعی نے ان سے پوچھاکہ اگر آپ لوگوں نے نہیں دیکھا تو یہ ساری علامتیں کیسے درست بتا دیں۔ ایک نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ایک طرف کی گھاس چری ہوئی ہے، اور دوسری طرف بالکل منہ نہیں لگایا تو ہم نے اندازہ لگایا کہ یہ اونٹ کانا ہے، دوسرے نے کہا: ہم نے دیکھا کہ مینگنیاں اکٹھی پڑی ہیں، تو ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ دُم کٹا ہے، تیسرے نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ایک پاؤں کے نشانات زمین پرثبت ہیں اور دوسرا گھسٹتا ہوا نظر آیا، تو ہم سمجھے کہ یہ اونٹ لنگڑا ہے۔ بادشاہ اُن کی ذہانت کو دیکھ کر حیران ہوگیا اور کہا کہ آپ لوگ خود اپنا فیصلہ کریں۔ بادشاہ نے اُن کی ضیافت پرایک خادم کو مامور کردیا، شراب، گوشت اور روٹی سے اُن کی تواضع کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: یہ شراب اُس انگور سے کشید کی گئی ہے جو قبر پر اگا ہوا ہے، دوسرے نے کہا: یہ گوشت اس بکری کا ہے جسے کتیا کا دودھ پلایا گیا ہے، تیسرے نے کہا: بادشاہ صحیح النسب نہیں ہے، جب بادشاہ تک یہ تبصرہ پہنچا تو اس نے ان سے ان آراء کا سبب معلوم کیا۔ انہوں نے بتایا: ہمارے قیافے کی بنیاد یہ ہے کہ عمدہ شراب سرور عطا کرتی ہے اور غم کو زائل کرتی ہے، لیکن اس نے یہ اثر نہیں دکھایا، لگتا ہے کہ یہ انگور قبر پر اگا ہے اور قبرستان مقامِ سرور نہیں ہے۔ اسی طرح حلال جانور کی چربی گوشت کے اوپر ہوتی ہے، جبکہ کتے کی چربی گوشت کے نیچے ہوتی ہے اور شوربے میں چربی نیچے تھی، اس سے ہم نے قیاس کیا کہ اس بکری نے کتیا کا دودھ پیا ہے۔ ماضی میں جب والد کے ہمراہ ہم نے بادشاہ کی ضیافت کھائی تو بادشاہ اکرام کے طور پر مہمانوں کے ساتھ بیٹھا تھا، لیکن موجودہ بادشاہ نہیں بیٹھا، اس سے معلوم ہوا کہ اس کے نسب میں خرابی ہے، اور بعد میں اس کی تصدیق ہوگئی۔

اس حوالے سے چند مثالیں مزید درج کی جاتی ہیں:
1۔ امام محمد بن یوسف صالحی لکھتے ہیں:
’’اعلانِ نبوت سے پہلے نبی کریم ﷺ ایک تجارتی قافلے میں بُصریٰ کے مقام پر رکے، وہاں بَحیرا نامی ایک راہب اپنی خانقاہ میں رہتا تھا، محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: وہ نصرانیوں کا سب سے بڑا عالم تھا، اس سے پہلے بھی قافلے وہاں رُکا کرتے تھے لیکن وہ راہب اُن پر کوئی توجہ نہ دیتا۔ لیکن اُس سال جب اس قافلے والے اُس کی خانقاہ کے قریب اترے، تو اُس نے دیکھا کہ پورے قافلے میں صرف ایک شخص پر بادل سایا کیے ہوئے ہے، پھر انہوں نے قریب ہی ایک درخت کے سائے میں پڑاؤ ڈالا۔ اس نے دیکھا کہ درخت کی شاخیں جھک کر ایک شخص پر سایا کیے ہوئے ہیں۔ جب بَحیرا نے اپنی خانقاہ سے یہ منظر دیکھا تو آ کر اُن میں گھل مل گیا، رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: یہ سَیِّدُالْعَالَمِیْن ہیں، اللہ انہیں رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن بناکر بھیجے گا، تو قریش کے بڑوں نے کہا: تم نے یہ کیسے جانا، اس نے کہا: جب تم گھاٹی سے اتررہے تھے تو میں نے دیکھا: یہ جس شجریاحجر کے پاس سے گزرتے، وہ ان کے لیے سجدہ ریز ہوجاتے، شجر و حجر صرف نبی کی تعظیم کے لیے جھکتے ہیں اور میں انہیں ختمِ نبوت کی مہر سے پہچانتا ہوں، جو دو شانوں کے درمیان سیب کی مانند ایک گھنڈی کی شکل میں ہے۔ (سُبل الھدیٰ والرشاد، ج:2،ص:140)‘‘۔

2۔ تین اشخاص سفر کر رہے تھے، ایک کے پاس زادِ راہ پانچ روٹیاں اور دوسرے کے پاس تین روٹیاں تھیں، تیسرے شخص کے پاس کوئی روٹی نہیں تھی، تینوں نے مل کر وہ روٹیاں کھائیں۔ تیسرے شخص نے کھانے کے عوض اپنے دو ساتھیوں کو آٹھ درہم دیے۔ پانچ روٹی والے نے پانچ درہم اپنے پاس رکھ لیے اور تین درہم تین روٹی والے کو دے دیے۔ تین روٹی والے نے کہا: آپ نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا، پھر وہ فیصلہ کرانے کے لیے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے۔ حضرت علی نے اس شخص سے کہا: تمہیں جو ملا ہے، اس پر قناعت کرلو، اگر انصاف ہوا تو تمہیں خسارہ ہوگا، اس نے کہا: آپ انصاف کیجیے!۔ حضرت علی نے فرمایا: یہ تو ہم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کس نے کم کھایا اور کس نے زیادہ، ہم فرض کرلیتے ہیں کہ تینوں نے برابر کھایا، پس آٹھ روٹیوں کے تین تین حصے کریں تو کل چوبیس حصے بنتے ہیں، اور گویا ہر ایک نے آٹھ آٹھ حصے کھائے، اور تیسرے شخص نے اپنے حصے کے آٹھ درہم دے دیے۔آپ نے اس شخص سے کہا: تمہاری تین روٹیوں کے نو حصے بنتے ہیں اور دوسرے کی پانچ روٹیوں کے پندرہ، تم نے اپنے نو حصوں میں سے آٹھ حصے خود کھا لیے اور تمہاری روٹیوں میں سے ایک حصہ تمہارے تیسرے ساتھی نے کھایا اور اس کے عوض تمہارا حق صرف ایک درہم بنتا ہے۔

3۔ عربی ادب کی مایہ ناز کتاب ’’الکامل‘‘ کے مصنف ابوالعباس المبرّد لکھتے ہیں:
’’بنوامیہ کا خلیفہ عبدالملک بن مروان انتہائی ذہین شخص تھا۔ ’’اہلِ کتاب کے ایک قیافہ شناس نے عبدالملک بن مروان کو (لڑکپن میں) پرندوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو کہا: ابوالولید! اگر میں تمھیں کوئی خوشخبری دوں تو مجھے کیا انعام دو گے؟، عبدالملک نے کہا: جیسی خوشخبری ہوگی اسی کے حساب سے انعام ہوگا۔ اس شخص نے کہا: اگر تم بادشاہ بن گئے تو مجھے کیا دو گے؟۔ عبدالملک نے کہا: اگر میں تمھیں کوئی انعام دے دوں تو کیا وقت سے پہلے بادشاہ بن سکتا ہوں، اس نے کہا: نہیں، پھر اس نے پوچھا: اگر میں تمھیں کوئی انعام نہ دوں تو کیا مقررہ وقت پر بادشاہت ملنے میں تاخیر ہوجائے گی، اس نے کہا: نہیں۔ عبدالملک نے کہا: پھر اپنے کام سے کام رکھو۔ (الکامل للمُبرَّد، ج:3، ص:66)‘‘۔ یعنی جب تمھیں انعام دینے سے مجھے کوئی فائدہ نہ ملے اور نہ دینے سے مجھے کوئی نقصان نہ پہنچے، تو پھر میں تمہیں انعام کیوں دوں۔

4۔ علامہ عبدالرحمن بن علی بن محمد الجوزی متوفّٰی 597ھ کی ’’کتاب الاذکیاء‘‘ ہے، اذکیاء کے معنی ہیں: ’’ The Intellegent Peopl‘‘، اس میں انہوں نے ذہین لوگوں کے واقعات درج کیے ہیں:
عربی ادب کی مشہور کتاب ’’البیان والتبیین‘‘ کے مصنف عمرو بن بحر متوفّٰی 255ھ (جو جاحظ کے نام سے مشہور ہیں) لکھتے ہیں: ’’اِیاس نے حج کیا اور کتے کے بھونکنے کی آواز سنی، انہوں نے کہا: یہ کتا بندھا ہوا ہے، (کچھ دیر بعد) پھر کتے کے بھونکنے کی آواز سنی تو کہا: اب کتے کو کھول دیا گیا ہے، جب لوگ اس مقام پر گئے اور لوگوں سے کتے کی بابت پوچھا تو اِیاس کی بات درست نکلی۔ اِیاس سے پوچھا گیا : کتے کا پہلے بندھا ہونا اور پھر کھلا ہونا آپ کو کیسے معلوم ہوا؟۔ اس نے جواب دیا: اس کے بھونکنے سے، جب وہ بندھا ہوا تھا تو اُس کی آواز ایک جگہ سے آ رہی تھی، پھر میں نے سنا کہ آواز کبھی قریب ہوجاتی اور کبھی دور، تو میں نے اندازہ لگایا کہ یہ کتا اب آزاد ہے اور چلتے پھرتے بھونک رہا ہے۔ اِیاس ایک رات پانی پر گیا اور کہا: میں اجنبی کتے کی آواز سن رہا ہوں، اُس سے پوچھا گیا: آپ کو کیسے معلوم ہوا: اُس نے کہا: میں نے محسوس کیا کہ ایک کتا عاجزانہ انداز میں بھونک رہا ہے اور دوسرے کتے اس پر غضبناک انداز میں بھونک رہے ہیں۔ پھر جب لوگوں نے صورتِ حال معلوم کی تو پتا چلا کہ واقعی ایک اجنبی کتا رحم طلب انداز میں بھونک رہا تھا اور مقامی کتے اس پر غضبناک انداز میں بھونک رہے تھے۔ (اَلاَذکیاء، ص:65)‘‘۔

5۔ ’’ابن طولون نے ایک دن ایک حَمَّال (Loader) کو صندوق اٹھائے ہوئے دیکھا، وہ اس کے نیچے پریشان محسوس ہو رہا تھا۔ ابن طولون نے کہا: اگر پریشانی کا سبب بوجھ کی زیادتی ہوتی تو اس کی گردن دبی ہوتی، جبکہ اس کی گردن اٹھی ہوئی ہے، اور اس کے باوجود یہ پریشان ہے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز وہ اٹھائے ہوئے ہے، وہی اس کے خوف کا سبب ہے۔ اُس باربردار کو کہا گیا کہ صندوق اتار دو، جب صندوق کھولا گیا تو پتا چلا کہ اُس میں ایک مقتولہ لڑکی کی میّت ہے، جس کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا ہے۔ اس سے کہاگیا کہ اصل صورتِ حال بتاؤ، اُس نے بتایا: فلاں گھر میں چار آدمی ہیں، جنہوں نے مجھے دو سو اشرفیاں اجرت دی ہے تاکہ میں اس مقتولہ لڑکی کی میت کو اٹھا کر کہیں دور پھینک آؤں۔ ابن طولون نے اس باربردار کو دوسو کوڑے مارے اور اُن چاروں اشخاص کو قصاص میں قتل کرنے کا حکم دیا۔ (اَلاَذکیاء،ص:57)‘‘۔

6۔ ’’ایک عورت ایک فقیہ کے پاس آئی اور کہا: میرے بھائی نے اپنی وفات کے وقت کچھ مال چھوڑا ہے اور وارثوں نے اس میں سے مجھے صرف ایک درہم دیا ہے۔ فقیہ نے چند لمحے غور کیا اور کہا: لگتا ہے تمہارے بھائی کے وارثوں میں ایک بیوہ، ایک ماں، دو بیٹیاں، بارہ بھائی اور ایک بہن ہے۔ اُس عورت نے تعجب کیا اور کہا: ’’واقعی میرے فوت شدہ بھائی کے کل وُرَثاء یہی ہیں‘‘۔ پھر فقیہ نے کہا: تمہارا حق اتنا ہی بنتا ہے اور انہوں نے تم پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ تمہارے بھائی کا ترکہ چھ سو درہم تھا، اُس میں سے ماں کا حصہ سو درہم یعنی چھٹا حصہ، بیوہ کا حصہ پچھتر درہم یعنی آٹھواں حصہ، دو بیٹیوں کا حصہ چار سو درہم (فی کس دو سو درہم)، یعنی مجموعی طور پر دو تہائی حصہ، باقی پچیس درہموں میں بارہ بھائیوں کا حصہ چوبیس درہم (فی کس دو دو درہم) اور تمہارا یعنی ایک بہن کا حصہ ایک درہم بنتا ہے‘‘۔ اب آپ اس فقیہ کی ذہانت کا اندازہ لگائیں کہ اس نے چند لمحے غور کر کے بتا دیا کہ کل ترکہ کتنا ہے، کل وارث کتنے ہیں اور ہر ایک کا حصہ کتنا بنتا ہے اور فوت شدہ شخص کی بہن یعنی سائلہ کا حصہ کتنا بنتا ہے‘‘۔

7۔ ’’ایک یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر طنز کیا: ابھی تمھارے نبی دفن بھی نہیں ہوئے تھے کہ تم آپس میں جھگڑنے لگے، یہاں تک کہ انصار نے کہا: ’’ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک تم (مہاجرین) میں سے‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآنِ کریم کی ایک آیت کا حوالہ دے کر انھیں الزامی جواب دیا: ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار اتارا تو اُن کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو اپنے بتوں کے سامنے آسن جمائے بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک ایسا معبود بنا دیجیے، جیسے ان کے معبود ہیں۔ (الاعراف:138)‘‘۔ یعنی فرعون کے مظالم سے نجات پاتے بنی اسرائیل اپنی سرکش فطرت کی طرف لوٹ آئے۔

8۔ بعض مجذوب جنھیں لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں، کبھی کبھی بڑی دانائی کی باتیں کرجاتے ہیں، ’’کتاب الاذکیاء‘‘میں ’’عُقَلَائُ الْمَجَانِیْن‘‘ یعنی عقلمند دیوانوں کی دانشورانہ باتیں بھی نقل کی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:
’’کوفہ کے ایک امیر کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی، بیٹی کی پیدائش پر رنجیدہ ہوکر اس نے کھانا چھوڑ دیا۔ اس اثناء میں بہلول دانا (جو مجذوب مشہورتھے) وہاں داخل ہوئے اور امیر سے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک حسین بیٹی عطا کی ہے، اور آپ اس پر غمگین ہیں، اگر تمہارے ہاں اس کے بجائے مجھ جیسا کوئی دیوانہ بیٹا پیدا ہوا ہوتا تو کیا تم خوش ہوتے، یہ سن کر اس امیر کا غم دورہوگیا۔‘‘

سکندر لکھنوی مرحوم نے اپنی نعت میں ایک خوبصورت شعر لکھا ہے:
تیرے دربار میں کوئی غم زدہ آگیا، تشنہ کام آگیا
غم غلَط ہوگئے، معصیت دُھل گئی، مغفرت عافیت کا پیام آگیا
مفہوم:’’ یارسول اللہ! صلی اللہ علیک وسلم! آپ کے دربار میں جب کوئی غم زدہ اور نامراد آتا ہے، تو غم دور ہوجاتے ہیں، توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے، معصیت کے داغ دھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بخشش اور عافیت کا پیغام آجاتا ہے‘‘۔