"ملحد کافر مرگیا، وہ جانے اللہ جانے" - محمد زاہد صدیق مغل

الحاد کو قابل قبول بنانے کی چالیں
یہ ہمارے یہاں ایک عجیب سا "انٹلیکچول" طرز عمل دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا ملحد کافر بھی مرجائے کہ جس نے اپنی پوری زندگی لوگوں کے عقیدے برباد کرنے کا اہتمام کیا ہو، تو یہ کہہ کر لوگوں کا "منہ بند" کروایا جاتا ہے کہ "وہ مرگیا ہے، وہ جانے اور اللہ جانے کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا"۔ ہمارے یہاں یہ بات مختلف قسم کے گروہوں کی طرف سے کی جاتی ہے، ان میں سے ایک وہ سیکولرازم زدہ طبقہ ہے جس کے دل کی اصل آواز یہ ہے کہ یہ اسلام وغیرہ جیسی شناختیں سب بےمعنی چیزیں ہیں، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی مسلمان ہوکر مرا یا ہندو ہو کر یا ملحد۔ ان حضرات نے خود کو خدا کے مقام پر بٹھا کر خیر و شر کے خود سے کچھ پیمانے طے کر رکھے ہیں، پس ان کی نظر میں متقی وہ ہے جو ان کے طے کردہ پیمانوں پر پورا اترے، اور اگر کوئی "ان کے خدائی پیمانوں" پر پورا اترنے والے کسی شخص کو برا کہے تو انھیں اسی طرح تکلیف ہوتی ہے جیسے کسی بھی مذہب کے پیروکار کو ایسے موقع پر تکلیف ہوتی ہے۔ مناسب محسوس ہوتا ہے کہ اس موقع پر پھیلائے جانے والی کچھ بنیادی قسم کی غلط فہمیوں کا ازالہ کردیا جائے۔ (اس موضوع پر ہم نے پہلے بھی ایک تحریر لکھی تھی جو "دلیل" پر میسر ہے)۔

"ملحد کافر مرگیا، وہ جانے اللہ جانے"
یہ بات اصولا درست ہے کہ ہر مرنے والے کے ساتھ کیا ہوگا، یہ اللہ ہی جانتا ہے، مگر مرنے کے بعد کیا ہوگا اور کس اصول کے تحت، اس بارے میں اللہ تعالی نے انسان کو کوئی ایسے اندھیرے میں بھی نہیں رکھا ہوا کہ اس دنیا میں کوئی انسان جیسا چاہے طرز عمل اختیار کرے، مگر جب اسے اللہ کا خوف دلایا جائے تو یہ کہہ کر خوف دلانے والے کا منہ بند کروا دیا جائے کہ "چپ کرو تمھیں کیا پتہ کہ اللہ کی نظر میں اس کی کون سی نیکی قبول ہونے والی ہے، یا اللہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے"۔ ٹھیک ہے اللہ تعالی ہر غلطی معاف کرسکتا ہے ،مگر اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ اللہ تعالی نے جو بڑے بڑے جرائم گنوائے ہیں، پوری زندگی ان کا کھلے عام ارتکاب کرکے مرنے والوں کی غلطی پر کوئی کلام ہی نہ کیا جائے، بلکہ اس کے بجائے ان کے چند "سیلیکٹو اچھے اچھے کاموں" پر توجہ مبذول رکھنے کو کہا جائے۔ اللہ تعالی نے جہاں یہ کہا ہے کہ میں معاف کردوں گا، تو اس کے بھی کچھ اصول بیان کیے ہیں۔ اگر اس انوکھے اصول کو مان لیا جائے تو پھر بد سے بد شخص کے لیے آج سے یہی سمجھا جائے کہ پتہ نہیں، شاید اللہ کی نظر میں نہایت ہی محبوب ہو، ہمیں کیا پتہ کہ اس کی کون سی خوبی یا نیکی اللہ کو پسند ہو۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ زینب قتل میں ملوث شخص بھی کسی عمل کی وجہ سے ولی ہی ہو، یا ہم سے بہتر ہو؟ تو اس کے خلاف ایسی سخت زبان کیوں استعمال کرتے ہو بھائیو۔ عقیدے کے معاملے کو اگنور کرکے صرف دنیاوی "اچھے اچھے" کاموں پر توجہ مبذول کروانا، جن میں لہک لہک کر ناچنے کا فن بھی شامل ہوتا ہے، یہ سیکولرانہ ذہنیت کو فروغ دیتا ہے۔

ایک بدعقیدہ و بدکار شخص مرگیا ہے مگر عین اس کی موت پر اس لیے اس کی برائیوں کا ذکر نہ کرنا کہ اس سے اس کے لواحقین کی دل آزاری ہوگی، لہذا اس وقت ہمیں خاموش رہنا چاہیے، تو یہ سوچ یقینا ہماری اقدار سے ہم آھنگ ہے اور قابل قدر ہے۔ لیکن یہ کہہ کر کہ "مرنے والا مرگیا ہے، اب وہ جانے اور اللہ جانے، اور کوئی اس کی گمراہی کا ذکر ہی نہ کرے"، ایسی باتیں کرکے عقیدے کے معاملے میں ایسی ایسی بڑی گمراہی کو کہ جن کے بارے میں مارجن آف ایرر دینے کی گنجائش بھی نہایت کم ہو، اور قرآن نے اعلان کردیا ہو کہ ہر شخص پر اس معاملے میں بات واضح کی جاچکی ہے تاکہ وہ عذر پیش نہ کرسکے، غیر محسوس طرز پر لوگوں کے حلق سے اتروانا اور ان کے لئے قابل قبول بنانا، یہ کوئی اچھی روایت نہیں۔ اگر ایک ذہین شخص ملحد کافر ہوکر دنیا سے رخصت ہوجائے تو ہم یقینا اسے اس کی محرومی ہی سمجھیں گے، اور ساتھ ہی ساتھ اللہ کا شکر ادا کریں گے کہ اس نے ہمیں اس گمراہی سے بچایا اور اپنے انجام کی مسلسل فکر بھی کریں گے۔

"خدا کے دائرے میں مداخلت نہ کرو "
"خدا کسی کے ساتھ یوں کرے گا یا ووں، ایسا کہنا خدا کے اختیار میں مداخلت کرنا ہے، تم کون ہوتے ہو مداخلت کرنے والے"۔ یہ ایک اور غلط دلیل ہے جو کسی ملحد کی گمراہی بیان کرنے سے روکنے کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ اگر کوئی اپنی طرف سے ایسا کہے تو یقینا یہ خدا کی سلطنت میں مداخلت ہے، لیکن اگر وہ خدا کی نازل کی ہوئی دلیل کی بنیاد پر ایسا کہے کہ خدا بدکار کو عذاب دے سکتا ہے تو یہ مداخلت نہیں بلکہ سچ بولنا ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ "خدا فلاں کے ساتھ ایسا کرے گا"، اس میں بھی مراد خدا کے اس وعدے کی طرف حوالہ دینا ہوتا ہے جو خود اس نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ مثلا خدا اگر کہتا ہے کہ "میں فلاں گناہ یا نیک کام کرنے والے کے ساتھ ایسا کروں گا" اور کوئی شخص ایسے گناہ یا نیک کام کرنے والے کے بارے میں کہے کہ خدا تمہارے ساتھ یہ کرے گا تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا نے جو وعدہ کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ وہ اسے پورا کرے گا۔ اس کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ خدا کو حکم دیا جا رہا ہے، یا خدا کی مرضی پرکوئی پہرہ بٹھایا جارہا ہے۔

پھر دیکھیے کہ ایک شخص ذہین ہے، مطالعہ کائنات کے کسی مخصوص شعبے کا ماہر ہے۔ اس علم میں ہونے والی تحقیقات کو اپنے مخصوص ملحدانہ رجحانات کی بنا پر اس طرح منظم انداز میں پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے اس علم کے بہت سے طالب علم فتنے میں پڑ جاتے ہیں اور گمراہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسا ذہین شخص صرف اپنی گمراہی کے لیے ہی نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی اس ذہانت کو غلط استعمال کرکے دوسروں کی گمراہی کا سبب بننے کے جرم میں بھی خدا کی عدالت میں جوابدہ ہوگا۔ "شاید اس کے دل میں یہ ہو اور وہ ہو" جیسے حیلے بہانے اس دوسرے جرم میں خدا کے حضور اس کی کفایت کرنے میں مدد گار نہیں ہوسکتے۔

"الحاد ایک نظریاتی اختلاف ہے، اور بس"
ایک عجیب و غریب دلیل یہ دی جاتی ہے کہ الحاد ایک شخص کا ذاتی مسئلہ ہے، اور یہ بس ایک نظریاتی اختلاف ہے۔ جاننا چاہیے کہ الحاد نہ کوئی ذاتی چیز ہے اور نہ ہی محض کوئی معمولی نوعیت کا "نظریاتی اختلاف"، کہ چلو کسی نے خدا کو مان لیا یا نہیں۔ یہ دنیا و مافیہ کو معنی دے کر زندگی بسر کرنے کے دو متضاد تصورات ہیں (اور ان معنی میں الحاد ایک مذہب ہی کی طرح ہے)۔ ملحدین ایک ایسی معاشرت و ریاست تعمیر کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں جہاں خدا کا حکم اجتماعی سے لے کر انفرادی ہر سطح میں کھیل تماشا بن جائے۔ ایسے معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے کو پھر یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ آخر خدا کو ماننے یا نہ ماننے سے "میری" تعمیر کردہ دنیا و مافیہ میں ایسا کیا فرق پڑ جاتا ہے کہ اس پر سیخ پا ہوا جائے؟ جدید انسان اسی المیے کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور انسان کو اس کے رب کا باغی بناکر اس المیے کا شکار کرنے والے اس نظریے کے مبلغین و علمبردار انسانیت کے بدترین مجرم ہیں۔

قرآنی آیات کے ساتھ مذاق
ایک افسوس ناک پوسٹ نظر سے گزری جس میں قرآن کی آیت "وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا" (آل عمران) کا "خصوصی" مصداق اسٹیون ہاکنگ کو قرار دے کر اسے ایک "قرآنی ہیرو" بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس پر یہی کہنے کو دل چاہتا ہے کہ یہ نہ صرف قرآن بلکہ خود اسٹیون ہاکنگ کے ساتھ بھی کسی مذاق سے کم نہیں۔ قرآن میں ہر جگہ ارض و سموات کی نشانیوں پر غور کرنے کا حاصل و مقصد "ایمان" کو قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت کے سیاق و سباق سے اگر ایک لمحے کے لیے سہو نظر کر بھی لیا جائے (جو ایک بندہ مؤمن کی اپنے رب کے حضور دعا ہے) تو بھی خود اسی آیت میں کہا گیا ہے کہ ارض و سماوات پر غور و فکر کرنے والے وہ لوگ پکار اٹھتے ہیں کہ "اے ہمارے رب"! یقینا تو نے یہ سب کچھ یونہی بلاوجہ پیدا نہیں کیا۔ اس کے برعکس مرحوم موصوف تمام عمر اپنے غور و فکر کے ذریعے اس کے برعکس نتیجہ ثابت کرنے میں گھلتے رہے کہ اس کائنات کا کوئی خدا نہیں، نیز عقل کا تقاضا یہی ماننا ہے کہ یہ خود ہی بن گئی۔ تو ایسے غور و فکر کا بھلا قرآنی آیت کے غور و فکر سے کیا لینا دینا؟ اس کے برعکس ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی زندگی پر ہی مر مٹے۔

عذر" اور "غلطی کی شدت" میں مناسبت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے
- "الف" نے کسی محفل میں شرکت کی، مگر موقع و رواج کے مطابق کسی کو سلام (Greeting وغیرہ) نہ کیا اور شرکائے محفل کو اس کا یہ رویہ ناگوار گزرا۔ بعد میں "ب" نے شرکاء کو بتایا کہ ممکن ہے "الف" کو ہمارے آداب مجلس کا علم نہ ہو، اس لیے اس نے سلام نہ کہا ہو۔ غالب گمان ہے کہ یہ سن کر شرکائے مجلس مطمئن ہوجائیں اور الف کے بارے میں دل صاف کرلیں۔

- "الف" نے کسی محفل میں شرکت کی، موقع و رواج کے مطابق نہ صرف یہ کہ اس نے سلام (Greeting وغیرہ) نہیں کیا بلکہ شرکائے محفل کو گالیاں بھی نکالیں جس سے سب برھم ہوگئے۔ بعد میں "ب" نے شرکاء کو بتایا کہ ممکن ہے الف کو ہمارے آداب مجلس کا علم نہ ہو اس لیے اس نے سلام نہ کہا ہو، نیز اس نے زبان سے جو ادا کیا، دل میں اس سے اس کی مراد آپ کے لیے بھلائی ہو، یا اسے آپ کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو، لہذا آپ برا نہ منائیں۔ امکان اگرچہ کم ہے مگر ممکن ہے کہ یہ سن کر شرکائے مجلس میں سے بعض مطمئن ہوجائیں اور الف کے بارے میں دل صاف کرلیں

-" الف" نے محفل میں شرکت کی اور اس نے "ج" کو گالیاں نکالنے کے بعد اسے تھپڑ بھی رسید کر دیا۔ "ب" نے "ج" سے کہا کہ ممکن ہے الف کو آداب مجلس معلوم نہ ہوں، نیز اسے کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو، یا اسے تھپڑ مارنے کی قباحت کا علم نہ ہو، اس لیے اس نے ایسا کردیا جبکہ اس کے دل میں تمھارے لیے بھلائی ہی ہو۔ اب امکان بہت کم ہے کہ دل آسانی سے صاف ہوجائیں بلکہ الٹا "ب" کو سمجھایا جائے گا کہ تم "الف" کے بارے میں کسی حسن ظن کا شکار ہو۔

- "الف" نے محفل میں شرکت کی، اور "ج" کو گالیاں نکالنے نیز تھپڑ رسید کرنے کے بعد اسے قتل کر دیا۔ "ب" نے "ج" کے لواحقین اور شرکائے مجلس سے کہا کہ ممکن ہے "الف" کو انسانی جان کے تلف کیے جانے کی ہولناکی کا علم نہ ہو، یا وہ کسی دلیل کے سبب قتل کو برا نہ سمجھتا ہو، یا اس کے پاس کوئی ایسی دلیل ہو جس کے تحت وہ "ب" کا قتل جائز سمجھتا ہو وغیرہ، اس لیے اس نے ایسا کردیا لہذا آپ "الف" کو برا نہ سمجھیں۔ تو اب کتنوں کا دل "الف" کے لیے صاف ہوگا؟ دل صاف ہونا تو کچا بلکہ اب اکثر لوگ ایسے عذر تراشنے والے "ب" ہی کو پاگل سمجھیں گے۔

- "الف" نے محفل میں شرکت کی اور اس خیال کے تحت کہ یہ سب لوگ گمراہ ہیں، اس نے وہاں بم دھماکہ کر کے سب کو قتل کردیا۔ "ب" نے ان کے لواحقین اور معاشرے سے کہا کہ ممکن ہے "الف" کو انسانی جان کے تلف کیے جانے کی ہولناکی کا علم نہ ہو، یا وہ کسی دلیل کے سبب قتل کو برا نہ سمجھتا ہو، یا اس کے پاس کوئی ایسی دلیل ہو جس کے تحت وہ سب شرکائے مجلس کا قتل جائز سمجھتا ہو وغیرہ، اس لیے اس نے ایسا کردیا لہذا آپ "الف" کو برا نہ سمجھیں، بلکہ عین ممکن ہے کہ کسی سبب "الف" اللہ کی نظر میں آپ سے اچھا ہو۔ اب لوگ "ب" کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر فوجی مقدمہ دائر کردیں گے۔

تو اصول یہ ہے کہ جیسے جیسے غلطی کی سطح پڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے عذر کا مارجن اور اس کا قابل قبول ہونا کم سے کم قرین قیاس ہوتا چلا جاتا ہے۔ بڑی غلطی کے لیے عذر بھی بڑا درکار ہوتا ہے، اور ایسی فاش غلطی کرنے والے کے ساتھ رب کیا معاملہ کرے گا، اس کا اگرچہ ہمیں یقینی علم نہیں ہوتا لیکن دنیاوی اصولوں کے اعتبار سے (جس کے ہم مکلف ہیں)، ہم اس پر غلطی کی شدت کے اعتبار سے سخت حکم ہی لگاتے ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔

"الحاد"، یہ غلطی نہیں بلنڈر ہے بلنڈر، اور جو اس کا پرچارک ہو، وہ اس "بلنڈر" پر مصر بھی ہے۔"

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.