کیا نوازشریف کا ’’غلط بیانیہ‘‘ مقبول ہو رہا ہے؟ آصف محمود

کمال زعمِ پارسائی سے دعوی کیا جاتا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ مقبول ہو رہا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ یہ جو مبینہ طور پر مقبول ہو رہا ہے، یہ بیانیہ ہے یا غلط بیانیہ؟

مسلم لیگ کا بیانیہ کوہ قاف کی کسی داستان کا عنوان نہیں کہ ہم نے اسے کتابوں میں پڑھا ہو۔ یہ ہمارے عہد کی وہ حقیقت ہے جو ہمارے سامنے پروان چڑھی۔ آپ پانامہ لیکس سے اب تک کے حالات و واقعات اور ان کے ارشادات گرامی پر غور فرما لیں آپ کو معلوم ہو جائے گیا کہ نونہالان وطن جس اودھم کو بیانیہ کہتے ہیں، یہ اصل میں غلطی ہائے مضامین کے سوا کچھ بھی نہیں۔

پانامہ کا معاملہ سامنے آیا اور اس پر احتجاج ہوا تو کہا گیا کہ معاملات سڑکوں پر حل نہیں ہوتے، عدالتیں موجود ہیں ان کا احترام کیجیے، جس کسی کو زیادہ مسئلہ ہے وہ عدالت سے رجوع کرلے۔ جب عدالت سے رجوع کیا گیا تو ارشاد ہوا ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی لوگوں کے معاملات کا فیصلہ عدالت نہیں بلکہ عوامی عدالت میں طے کیا جاتا ہے، اس لیے ہم تو عوامی عدالت میں جائیں گے۔ عدالت نے اس دوران فیصلہ کر دیا تو ’غلط بیانیے‘ میں ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کے ساتھ اس نکتے کا بھی اضافہ ہوگیا کہ صرف پانچ لوگ کیسے ہمارے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں جبکہ ہم تو لاکھوں لوگوں کے محبوب نمائندے ہیں۔

جب جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو عالم مسرت میں یہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، مبارک دی، جشن فتح منایا، اس فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دیا اور ایک دوسرے کے منہ میں لڈو ڈالے، لیکن جب جے آئی ٹی نے ان کا دباؤ قبول کیے بغیر اپنی رپورٹ پیش کر دی تو ’’غلط بیانیے‘‘ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ جے آئی ٹی نے ظلم کیا۔ اسے دھمکیاں ہی نہیں بد دعائیں بھی دی گئیں۔ یہاں تک کہ قائمہ کمیٹی میں واجد ضیاء کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی، اس گستاخی پر انہیں سبق سکھایا جائے۔

جب جے آئی ٹی اپنے ثبوتوں کے ڈبے سپریم کورٹ لے آئی تو مریم نواز صاحبہ نے ٹویٹ کیا کہ یہ ہیں وہ ثبوت جو ہم نے پیش کر دیے اور چند گھنٹے بعد ’’غلط بیانیے‘‘ نے پینترا بدلا اور شور مچا دیا گیا کہ محض ساٹھ دنوں میں جے آئی ٹی نے اتنے ثبوت کیسے حاصل کر لیے، ضرور اس کے پیچھے ’’ کچھ اور لوگوں‘‘ کا ہاتھ ہے جو جمہوریت کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔

سپریم کورٹ نے احتساب عدالت میں مقدمے کافیصلہ سنانے کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کی تو ’’غلط بیانیے‘‘ نے طوفان اٹھا دیا کہ دیکھا ہمارے خلاف ان کے پاس کچھ ہے ہی نہیں، اس لیے اب وقت بڑھا رہے ہیں۔ اگر ان کے پاس کچھ ہوتا تو اب تک فیصلہ سنا دیا ہوتا۔ حالانکہ کیس کی فائل یہ کہہ رہی ہے کہ بار ثبوت تو ملزم پر ہے، اس نے ثابت کرنا ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا اور باہر کیسے گیا اور جائیداد کیسے خریدی گئی؟ ملزم یہ ثبوت ایک ہی دن میں پیش کر دیتے تو کیس کب کا ختم ہو چکا ہوتا بلکہ ملزم یہ کار خیر سپریم کورٹ کے روبرو کر دیتے تو کیس احتساب عدالت کو بھیجا ہی نہ جاتا، وہیں ختم ہو جاتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کوزے میں سمندر اور نامعلوم بیماری - ارشدعلی خان

’’غلط بیانیے‘‘ نے کس شان بے نیازی سے کہا تھا: ’’بیرون ملک تو کیا اندرون ملک بھی میری کوئی جائیداد نہیں ہے، اور اب جب سب کچھ سامنے آ چکا ہے تو نادم ہونے کے بجائے کرپشن کا مقدمہ جمہوریت کے تحفظ کے عنوان کے تحت لڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نواز شریف صاحب نے پارلیمان میں کھڑے ہو کر کہا تھا: ’’جناب والا! یہ ہیں وہ ذرائع جن سے ہم نے جائیدادیں بنائیں‘‘۔ لیکن جب معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تو نت نئے ذرائع گھڑ گھڑ کر عدالت میں جھوٹ بولا جاتا رہا۔ جب بات کھل گئی کہ وزیر اعظم نے پارلیمان میں کھڑے ہو کر غلط بیانی کی تھی تو اس پر ندامت کے بجائے ’’استقامت‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواز شریف صاحب نے کہا کہ میں نے کوئی غلط بیانی نہیں کی۔ لیکن 19 اکتوبر 2017ء کو ایک ٹاک شو میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر برادرم عارف چودھری کے ساتھ بیٹھ کر قبلہ دانیال عزیز نے نواز شریف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی اور انہیں جو سزا سنائی گئی ہے وہ کرپشن پر نہیں بلکہ ان کی غلط بیانی پر سنائی گئی ہے۔ یعنی اس بات پر تو دانیال عزیز بھی قائل ہیں کہ ان کا بیانیہ اصل میں غلط بیانیہ ہے۔

جب بلوچستان اسمبلی میں حکومت تبدیل ہوئی تو ان کا بیانیہ تھا کہ نیا وزیر اعلی صر ف اکیس دنوں کے لیے آیا ہے اور اس کا کام یہ ہے کہ سینیٹ الیکشن سے پہلے اسمبلی توڑ کر الیکشن ملتوی کروا کر ملک میں سیاسی بحران پیدا کیا جائے۔ اب سینیٹ کے الیکشن ہو چکے ہیں، مگر آفرین ہے اس غلط بیانیے پر، وہ نادم ہونے کے بجائے اسی استقامت یعنی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے کہ سینیٹ تو فتح ہو گئی۔،جمہوریت ہار گئی۔گویا مسلم لیگ ن جیت جائے تو یہ جمہوریت کی فتح ہے، اور وہ ہار جائے تو یہ سازش ہے اور اس پر گریہ زاری لازم۔

کل ان کا بیانیہ تھا کہ جیت گئے تو زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے، نہ گھسیٹا تو نام بدل دینا۔ پھر انہیں زرداری سے کام پڑا تو جس کا پیٹ پھاڑ کر دولت نکالنا تھی، اسی کے پیٹ میں پوری بہتر ڈشز ڈالنے کا اہتمام کر دیاگیا۔ جب زرداری ان کے ساتھ تھے تو وہ بطل جمہوریت تھے اور بڑے بھائی تھے۔ آج زرداری اور عمران نے چیئرمین سینیٹ اپنا بنوایا ہے تو وہ جمہوریت دشمن اور پھر سے کرپٹ قرار پائے۔ زرداری کی گود میں لیٹ کر جمہوریت کی لوری لینے والے آج عمران کو طعنے دے رہے ہیں کہ وہ کرپٹ زرداری سے کیوں مل گئے۔ غلط بیانیہ گویا یہ ہے کہ واردات ہم ڈالیں گے تو یہ جمہوریت ہے، کوئی دوسرا ڈالے گا تو یہ سازش ہے اورگریہ لازم۔

یہ بھی پڑھیں:   کوزے میں سمندر اور نامعلوم بیماری - ارشدعلی خان

صاحب کل وزیر اعظم تھے تو اسمبلی تشریف لانا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ صرف ایک مبارک سیشن تھا جب صاحب نے قومی اسمبلی کو اہتمام سے رونق بخشی اور وہ بھی اس وقت جب عمران خان ڈی چوک میں بیٹھا تھا اور صاحب کا اقتدار ڈول رہا تھا، تب اعتزاز احسن نے گرہ لگائی: ’’صدقے جاواں تھانیدارا انہاں نوں ماں یاد کرا دتی آ‘‘۔ آج کا غلط بیانیہ مگر یہ ہے کہ ووٹ کو عزت دی جائے۔

سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کی ابتدا انہوں نے کی، ووٹ خریدے، مال لگایا، چھانگا مانگا سے مری تک لوٹ سیل لگائی۔ اہل سیاست کے بچوں اور عزیزوں کو رشوت کے طور پر تحصیلدار بنا دیاگیا۔ آج یہ دہائی دے رہے ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور دہائی دیتے وقت یہ غلط بیانیہ بھی ان کے ہمراہ ہے کہ مسلم لیگ نے نہ کبھی ہارس ٹریڈنگ کی نہ ہی وہ اس پر یقین رکھتی ہے۔

کل کٹہرے میں یوسف رضا گیلانی کھڑے تھے تو ان کا بیانیہ یہ تھا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل کیا جائے، یہ مہذب معاشرہ ہے کوئی جنگل نہیں ہے، اور آج ان کا اپنا نامہ اعمال سر بازا ر کھول کر رکھ دیا گیا ہے تو ان کا ’’غلط بیانیہ‘‘ روز عدالتوں کی تضحیک کر رہا ہے اور گالیاں دے رہا ہے۔

ایک چھٹانک کی نیشنل پارٹی کو حق مہر میں بلوچستان کی وزارت اعلی مل جائے تو جمہوریت سر بلند ہو جاتی ہے، اور اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی مل کر اسی بلوچستان سے ایک چیئرمین سینیٹ بنوا لیں تو حاصل بزنجو پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور وہ فرماتے ہیں: ’’ایوان کا منہ کالا ہو گیا۔ اب اس ایوان میں بیٹھنے کو دل نہیں کرتا‘‘۔ لیکن وہ اپنا روشن چہرہ لے کر ابھی تک اس کالے منہ والے ایوان کا حصہ ہیں، استعفی دے کر گھر تشریف لے جانے کی توفیق نہیں ہو سکی۔

معین ملت جب سے نااہل ہوئے نظریاتی ہو گئے تھے، اب تو مگر انہوں نے اعلان بغاوت بھی کر دیا ہے۔ کشمالہ طارق، ماروی میمن، مشاہد حسین، امیر مقام، دانیال عزیز، طلال چودھری جیسے کئی باغیوں اور نظریاتی لوگوں کو پارٹی میں لینے کے ساتھ ساتھ پرویز مشرف کے سایہ عاطفت میں پروان چڑھنے والی ق لیگ کے 146 لوگوں کوپارٹی ٹکٹ جاری کر کے بھی اگر صاحب ’’ بغاوت‘‘ نہ کریں تو کیا دہی بھلے کھائیں۔ جس رہنما کو ایسے انقلابی رفقاء میسر آ جائیں وہ تو ایران توران فتح کر لے۔ یہ تو اپنے قائد انقلاب کی میانہ روی ہے کہ وہ کشور کشائی کے بجائے صرف بغاوت پر قناعت کر گئے۔ ان کا بیانیہ البتہ بہت مقبول ہو رہا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.