اسٹیون ہاکنگ اچھے سائنسدان تھے یا بڑھک باز؟ حافظ محمد زبیر

معروف سائنسدان اسٹیون ہاکنگ 76 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کے سائنسی معتقدات (Scientific Beliefs) کے مطابق جملہ نظریاتی وارثین سے ان الفاظ میں تعزیت کی جاتی ہے؛ "لاز آف نیچرز کسی بلیک ہول کو ان کا ٹھکانہ بنائیں، جہاں صبح شام انہیں ہاسٹائل ایلینز کا دیدار نصیب ہو، اور ایونٹ ہاریزن کے کنارے بیٹھ کر وہ سائنسدانوں کی ایک جماعت کے ساتھ بلیک ہولز پر شرطیں لگائیں اور انہیں ہارنے کے بعد انجوائے فرمایا کریں۔"

عام طور لوگوں کا خیال ہے کہ ہاکنگ کوئی بہت اچھے سائنسدان تھے لیکن میری رائے میں ایسا ثابت نہیں ہے۔ وہ ایک عام سائنٹسٹ تھے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وہ معروف بہت زیادہ ہوگئے تھے۔ اور ان کے معروف ہونے کی تین بڑی وجوہات ہیں؛
1 - انہوں نے معذوری میں اپنی تحقیق اور ریسرچ جاری رکھی ہے لہذا لوگوں کو ان سے ہمدردی محسوس ہوئی۔
2 - وہ مذہب اور خدا کے معاملے میں بہت آؤٹ اسپوکن تھے کہ جس بنا پر ایک خاص طبقے نے انہیں آئن اسٹائن کے بعد عظیم ترین سائنسدان ہونے کے ٹائٹل کو خوب پروپیگیٹ کیا۔
3 - ان کی سائنسی بڑھکیں تھیں کہ جس نے ٹرمپ کی طرح ان کو میڈیا میں بہت زیادہ اِن رکھا۔

آپ کسی بھی شخص سے پوچھیں کہ ہاکنگ کا سائنسی کارنامہ کیا ہے تو اس کی زبان پر بلیک ہول کا نام آئے گا۔ اور امر واقعہ یہ ہے کہ ہاکنگ صاحب بلیک ہولز پر تین شرطیں (bets) ہار چکے اور اپنے بہت سے دعوں سے رجوع فرما چکے۔ پچھلے چالیس سالوں میں جتنے انہوں نے رجوع فرمائے ہیں، اگر قدرت چالیس سال اور انہیں زندگی دے دیتی تو وہ شاید وہاں ہی کھڑے ہوتے جہاں سے شروع ہوئے تھے۔

1975ء میں ہاکنگ نے کپ تھورن کے ساتھ شرط لگائی کہ سیگنیس-ایکس-ون بلیک ہول میں تبدیل ہوگا یا نہیں؟ کپ تھورن کا کہنا تھا کہ وہ بلیک ہول بن جائے گا جبکہ ہاکنگ کا کہنا تھا کہ نہیں بنے گا۔ اور 1990ء میں ہاکنگ شرط ہار گئے۔

پھر 1997ء میں ہاکنگ نے کپ تھورن کو اپنے ساتھ ملایا اور دونوں نے مل کر جان پریسکیل سے اس بات پر شرط لگائی کہ بلیک ہولز میں گرویویٹینشل کولیپس کی وجہ سے انفارمیشن ضائع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ ہاکنگ اور تھورن کا دعوی تھا کہ انفارمیشن ضائع ہو جاتی ہے لیکن پریسکیل کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ 2004ء میں ہاکنگ شرط ہار گئے اور یہ شرط وہ اس ریسرچ پر ہارے کہ جس کی وجہ سے ان کا دنیا میں نام ہے یعنی ہاکنگ ریڈی ایشن پر۔

ہاکنگ نے ایک شرط 2000ء میں گورڈن کین سے بھی لگائی تھی کہ گاڈ پارٹیکل کبھی ڈسکور نہیں ہو گا اور یہ شرط بھی وہ 2012ء میں ہار گئے۔ جن سائنسدانوں سے اسٹیون ہاکنگ شرطیں ہار گئے، انہیں کوئی نہیں جانتا لیکن اسٹیون ہاکنگ کو ایک دنیا جانتی ہے؟ جن سائنسدانوں کو پچھلی نصف صدی میں فزکس میں نوبل پرائز ملا، انہیں کوئی نہیں جانتا لیکن اسٹیون ہاکنگ نوبل پرائز نہ لے کر کے بھی معروف ہے۔ تو یہ سب کیا ہے بھئی۔

اور ابھی ایک چوتھی شرط کہ جس میں ہارنا ان کے نصیب میں تھا، کے پورا ہونے سے پہلے ہی وہ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ اس بار انہوں نے شرط لگائی تھی کہ اگر انسانوں کا ایلینز سے ٹاکرا ہو گیا تو وہ انسانوں کے لیے دشمن ثابت ہوں گے لہذا انسانوں کو ان سے انٹرایکشن سے ایوائڈ کرنا چاہیے۔ خواہش تو ان کی بہت تھی کہ وہ آئن اسٹائن کی طرح کا کوئی بڑا کام کر جائیں لیکن ان کی یہ خواہش نا تمام ہی رہ گئی البتہ نام وہ آئن اسٹائن کے جتنا ہی کما گئے لیکن ابھی فضا میں گرد بہت ہے، جب کچھ بیٹھ جائے گی تو حقیقت واضح ہو جائے گی۔ بہر حال میری نظر میں ہاکنگ کی اصل کانٹری بیوشن ایک جملے میں یہ ہے کہ اس نے سائنس کو ایک مذہب بنا دیا ہے۔ اور اس جملے کی شرح میں ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ادب سے گزارش ہے کہ آپ کی اس تحریر کا مقصد کیا ہے۔ آپ نا تو سائنس کے شعبے سے وابستہ ہیں نہ کاسمک علم میں ماہر۔ ہم پاکستانی ایک بھی سائنسدان پیدا نہیں کر سکے اور خود چلے ہیں دوسروں کو نیچا دکھانے۔ آپ ماشاءاللہ خود پی ایچ ڈی ہیں مگر ہود بھائی کی طرح نا بنیں۔

  • "کہنے لگے کہ میرے ساتھ ڈائیلاگ کریں اور ثابت کریں کہ یہ سود ہے۔ میں نے کہا کہ میں تو ایسے بندے سے شرعی مسئلے میں ڈائیلاگ نہیں کروں گا کہ جس کا میدان شریعت نہیں بینکنگ ہے۔ آپ نے اگر کوئی بات چیت کرنی ہے تو کوئی عالم دین لے آئیں جسے میری بات کم از کم سمجھ آ جائے اور مجھے اس کی بات سمجھ آ جائے کہ شریعت کی ایک لینگویج ہے جیسے میتھس اور بائیالوجی کی ایک لینگویج ہے جو انہی کو سمجھ آتی ہے جو اس فن کے ماہر ہیں۔ "https://daleel.pk/2017/03/01/33151

    یہ حضرت دوسروں کو دین پہ بولنے نہیں دیتے کہ یہ تمہارا میدان نہیں اور خود بٹ کوعن، نفسیات ، جنسیات، سماجیات ، حدیث، اعلی تعلیم کے ساتھ ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ساتھ ابّ سٹفن ہاکنگ کی ساینسی کام پہ نقد کرنے پہ بھی ید طولہ ہیں ،
    يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُونَ

    صد شکر کی بات یہ ہے ایسے حفاظ اور ڈاکٹر ہمارے معاشرے کے معلم اور راستہ شناس ہیں پھر یہ حیرت کیسی کہ نئی نئی امت روز بروز ترقی کی منازل کیوں نہ سر کرے .حافظ صاحب کی درازی عمر کی دعا ضرور کریں کہ یہ ہمارے نیی نسل کو حافظ سعید جیسے آئنسٹائن بنانے کے مشن پہ گامزن ہیں الا ماشااللہ

    • حافظ صاحب اِس سے پہلے دو چار کالم مخلوط تعلیم اور ہوسٹل کے بارے میں لکھ چکے ہیں ایک دن میں نے کہا کہ حضرت کسی دن مدرسوں کے بچوں کو درپیش مسائل پر بھی قلم کو زحمت دیں تو حضرت بُرا مان گئے۔