سجدہ - نورین تبسم

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

خیال کی معراج پر جناب "علامہ اقبال" نے یقیناً یہ شعر عشقِ حقیقی کی لذت میں ڈوب کر کہا ہوگا۔ اِن معنوں میں اس کی تفسیر میں کوئی شک بھی نہیں۔ لفظ ہیرے کی طرح ہوتا ہے، جس انگ سے دیکھیں اُس کے الگ ہی رنگ نظر آتے ہیں۔ سجدے کا لفظ خدا سے منسوب ہے اور خدا ایک شادی شدہ عورت کی زندگی میں مجازی خدا کے معنوں میں بھی آتا ہے۔

عورت مرد کا تعلق ایسی آفاقی سچائی ہے جس پر مہر لباس کی مثال سے ثبت کی گئی تو کبھی عورت کو کھیتی سے تشبیہ دے کر سمجھانے کی کوشش کی گئی، کھیت کے اسرار و رموز سے کون واقف نہیں۔ کھیت میں بیج نہ پڑے تو زمین بنجر، بےفیض۔ بیج کا بھی موسم ہے، بےموسم کا بیج چاہے جتنی محنت مشقت سے ڈالو کبھی بارآور نہیں ہو سکتا۔ پانی زندگی ہے، بیج کی بارآوری اور نمو کے لیے۔ بارشیں بھی بروقت اورحدود وقیود کے اندر ہوں پھر ہی ساری جدوجُہد کا پھل ملتا ہے۔ پھل ملنا، پھل پانا بھی قسمت سے ہے۔ کبھی تیار فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں، تباہ کر دی جاتی ہیں، تو کبھی بیگار کی صورت کہ محنت کوئی اور کرتا ہے برتتا کوئی اور ہے۔ لیکن! کیا کیا جائے آندھیوں طوفانوں کے ڈر سے اُمیدوں، خواہشوں کی فصلیں کاشت نہ کی جائیں؟ یا کسی عاقبت نااندیش راہزن کے خوف سے قیمتی خزانے ہمیشہ کے لیے دفن ہی رہنے دیے جائیں؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔

عورت اگر ایک کھیتی ہے تو اُس کا ساتھی اُس کھیتی کے گرداگرد لگی ایک باڑھ کی مانند ہے، ایک چاردیواری ہے، جو کتنی ہی کمزور کتنی ہی خاردار کیوں نہ ہو، بھٹکنے والے راہ چلتوں کو اندر آنے سے روکتی ہے۔ جس زمین کی چاردیواری نہ ہو، جس مکان کی دیوارنہ ہو، وہ ہمیشہ کم مایہ ہی رہتا ہے، خواہ اُس کی لہلہاتی فصلوں پر آزادی اور برابری کے عظیم الشان لٹھ بردار کھڑے ہوں، یا اُس کے دروازوں پر خودساختہ عزت ِنفس اور تفاخر کے قفل مضبوطی سے اپنی جگہ پر قائم رہیں۔

ایک متمدن معاشرے اور اسلامی طرزِحیات کے دائرے میں رہتے ہوئے عورت اپنے طور پر دُنیا کا مشکل سے مشکل اور ناممکن ترین کام بھی کر لے، عزت، نیک نامی کی معراج پر بھی جا پہنچے جب تک وہ کسی ایسے "جائز" تعلق میں نہیں بندھتی، اُس کا کردار، اُس کے افعال شکوک و شُبہات کے پردوں میں مستور رہتے ہیں، اور نہ صرف دوسروں کی نظر میں بلکہ اُسے اپنی ذات کے دائرے میں بھی مکمل آسودگی نہیں مل پاتی۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سمجھوتوں کی رگڑ اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے ہرپل کمزور ہوتا تعلق کا یہ لباس خواہ کتنا ہی درد کیوں نہ دے ،اور بظاہر کتنا ہی بےرنگ کیوں نہ دِکھے، دوسروں کی بدنظری سے ہمیشہ کے لیے تحفظ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکی تو کمال کی تھی - اکرام اللہ عارف

ایک رشتے میں بندھنے والے عورت اور مرد الگ الگ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں، مختلف سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ جب ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو اس رشتے کو رگڑ سے بچانے کے لیےگریس درکار ہوتی ہے جو اُن کو نہ صرف زخمی ہونے سے بچائے، بلکہ باہم جوڑنے میں بھی مددگار ثابت ہو۔ عام طور پر محبت کا عنصر بنیاد سمجھا جاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ برداشت اور سمجھوتے کو بھی حرفِ آخر کہہ دیتے ہیں۔ غور کیا جائے تو ایسا کچھ بھی نہیں، یہ رشتہ ایک ذمہ داری ایک معاہدہ ہے، محبت سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ محبت اگر ذمہ داری بن جائے تو محبت نہیں بوجھ بن جاتی ہے۔ محبت تو صرف احساس کا نام ہے، لین دین کا رشتہ نہیں۔ دنیا میں کوئی بھی شے ایسی نہیں جو محبت کی ترجمانی کر سکے۔ محبت اپنی"میں'' کی نفی کر کے محبوب کی رضا پر چلنے کا نام ہے۔ جبکہ شادی شدہ زندگی میں اس فارمولے کو اپلائی کیا جائے تو بظاہر سب شاندار دکھتا ہے لیکن اندر ہی اندر سمجھوتے کی دیمک وجود چاٹ جاتی ہے۔

پھر جب محبت ہی نہیں تو اس رشتے کی اصل کیا ہے؟۔ اس رشتے کی بنیاد اپنی "انا " کو دفن کرنا ہے، جس پر رفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے احساس کی منزل تعمیر ہوتی ہے۔ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے چھپی ننھی سی محبت کی کرن شاید کہیں بعد میں نمودار ہوتی ہے۔ شادی شدہ زندگی دونوں اطراف سے برداشت کے کنکریٹ کی بےحس موٹی تہہ ہے کہ جس کے نیچے اگر باہمی اعتماد کا بیج موجود ہو تو کبھی نہ کبھی محبت کی کونپل اس تہہ کو پھاڑ کر اپنی چھب دکھلا ہی دیتی ہے۔

"روزی روٹی" کا اس رشتے کو رواں دواں رکھنے میں اہم کردار ہے۔ عورت چاہے کتنی ہی خوب سیرت اور خوب صورت کیوں نہ ہو۔ قابلیت میں بھی مرد سے بڑھ کر ہو لیکن گھریلو ذمہ داریاں اوراہل خانہ کو اولیت دینا اُس کا فرضِ ہے۔ گھرعورت سے بنتا ہے اور اس کے لیے اپنی ذات اور اپنی خواہشات کی نفی کرنا پہلی شرط ہے۔ اسی طرح شوہر بھی لاکھ اپنی بیوی بچوں کا خیال رکھنے والا اور محبت کرنے والا ہو جب تک وہ ایک باعزت روزگار سے وابستہ نہیں ہو گا یا پھر اپنے گھر کا خرچ نہیں اُٹھائے گا۔ اُس کی محبت اُس کے خلوص کی اہمیت صفر ہی رہے گی۔

زندگی کے اس سفرمیں سمجھوتے کرنا عورت کے لیے جتنا آسان ہے، مرد کے لیے نہیں کہ ایسا کرنا عورت کی مجبوری بھی ہے۔ دوسری طرف مرد صرف اور صرف اپنی فطرت کی حاکمیت اور جبلت کے ہاتھوں مجبور ہے۔ بہت کم مرد عورت کے سامنے اس احساس کو جھٹکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ مرد کے پاس ہر فیصلے کا اختیار ہمیشہ رہتا ہے اور اختیار رکھتے ہوئے بھی اس کو استعمال نہ کرنا ہی تو برداشت کا اصل امتحان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ اقبال، وجود زن اور تصویر کائنات - سید رحمان شاہ

ازدواجی زندگی کے اس بندھن میں سمجھوتوں کے حوالے سے مرد اورعورت کی کوئی تخصیص نہیں۔ یہ احساس کی بات ہے جو مرد یا عورت اپنے طور پر یکساں محسوس کرسکتے ہیں۔ دکھ صرف یہ ہے کہ یہ وہ لٹمس ٹیسٹ ہے جو دُنیا کی زندگی میں معاشرتی حوالے سے کامیابی کی معراج ہے لیکن ہم میں سے اکثراس امتحان میں پورے نہیں اترتے۔ ہم اس رشتے کی سچائی اور بڑائی پر یقین رکھ کر بھی اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کو اپنی انا اپنے علم کی شکست گردانتے ہیں۔ ہم سے بڑا نادان کون ہوگا جو بھلا یہ نہ جانے کہ شکست تو روزِاول کا پہلا سبق تھا جس پر ہم نے ایک نگاہِ غلط بھی نہ ڈالی۔ اور اگر پہلا سبق ہی ازبر نہ ہو تو باقی اسباق کبھی سمجھ نہیں آتے۔

عورت بوتل میں بند جن کی مانند ہے، اس کا ساتھی چاہے تو ساری عمراس کانچ کی بےقیمت بوتل کی کرامت جان کر اس سے فیض اٹھاتا رہے اور عقل کا اندھا بن جائے تو نہ صرف اس کی اہمیت کا علم کھو دے بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے تحفظ کا لباس اتار دے، اب کوئی جس طرح چاہے برتے۔ اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہوئے عورت کو اپنی طاقت کا احساس ہو جائے تو وہ بڑے سے بڑے طوفانوں کے رخ موڑ سکتی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ عورت انا اور تسکین کے جن کے فریب میں آ جاتی ہے، اور کانچ کے گھر میں رہنا اپنی توہین سمجھتی ہے، یہ جانے بغیر کہ گھر ٹوٹنے سے کانچ کی کرچیاں اس کے ہی پیر زخمی کرتی ہیں، اور پھر ساری زندگی درد کی ٹیسیں سہنا پڑتی ہیں۔

واہ رے قدرت! مرد کے کتنے روپ ہیں اور عورت کے اس سے بھی بڑھ کر، لیکن گھر کے اندرعورت کا ایک ہی روپ ہے۔ اور کامیاب عورت وہی ہے جو اس روپ کو دل وجان سے اپنا لے۔ چاہے اس کی چبھن رات کی تنہائی میں گہری نیند سے جگا کر کروٹیں بدلنے پر مجبور کر دے یا پھر دنیا فتح کر کے بھی ایک مرد کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور ناقدری کے دکھ کو سات پردوں میں چھپانے کا حوصلہ عطا کرے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی عورت خود اپنی اصل کے خلاف جانے کی آزادی مانگ رہی ہے اور اس گمراہی کو معاشرے میں ایسا موضوع بنادیا گیا ہے کہ جیسے ابھی تہذیب کو اس بارے غور کرنے کی ضرورت ہے