لاحاصل از عمیرہ احمد، ایک تبصرہ - سہیل بشیر کار

شخصیت کی تعمیر میں فکشن کا اہم رول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول نگاری، افسانہ نگاری، ڈرامہ نگاری کو مہذب معاشرے میں ہمیشہ قدر کی نگاہوں سے دیکھا گیا۔ ناول، کہانی، ڈرامہ یاافسانہ سے انسان بلند خواب دیکھتا ہے۔ پاکستان کے دانشور صحافی عامر خاکوانی اپنی کتاب زنگار میں نیل گیمن کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’فکشن کے دو فائدے ہیں، یہ آپ کو پڑھنے کا عادی بناتا ہے، آپ نئے لفظوں سے روشناس ہوتے ہیں، آپ کو نئے خیال ملتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو دوسروں کے ساتھ موافقت یا ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ آپ پڑھتے ہوئے اپنے تخیل کی مدد سے ایک دنیا تخلیق کرتے ہیں، خود چیزوں کو محسوس کرتے ہیں، ان جگہوں کو دیکھتے ہیں جہاں شاید کبھی نہ جاپاتے۔ ہر کردار میں آپ کو اپنے وجود کا کچھ حصہ دکھائی دیتا ہے۔ جب آپ اپنی دنیا میں واپس آتے ہیں تو بدل چکے ہوتے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے دنیا کے بارے میں ایک اور اہم چیز بھی سیکھ لیتے ہیں کہ دنیا کو بدلا جاسکتا ہے۔‘‘ (زنگار، ص۔ ۳۳۸)

عظیم سائنس داں آئن سٹائن سے جب پوچھا گیا کہ بچوں کو ذہین کیسے بنایا جائے تو ان کا جواب تھا کہ انھیں پریوں کی کہانیاں سنائی جائے، اگر اور زیادہ ذہین بنانا ہے تو انہیں زیادہ پریوں کی کہانیاں سنائیں۔ اردو زبان کو ابتدا سے ہی عظیم ناول نگار، افسانہ نویس اور ڈرامہ نگار ملے ہیں۔ ان میں مرد بھی ہے اور خواتین بھی۔ دور حاضر میں خواتین کے حلقے سے اردو زبان کو دو اہم نام عمیرہ احمدؔ اور نمرہ احمدؔ کی صورت میں ملے۔ عمیرہ احمد دور حاضر کی مقبول اردو ناول اور ڈرامہ نگار ہے۔ درجنوں کتابوں کی مصنفہ عمیرہ احمد 1976ء میں سیالکوٹ پاکستان میں پیدا ہوئی۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کے بعد تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے تحریری صلاحیتوں سے مالامال کیا ہے۔ عمیرہ ؔنے تدریس کی ملازمت ترک کرکے اپنی پوری صلاحیتیں تحریر پر لگائی، ان کی کئی کتابوں پر مشہور ڈرامے بھی بنائے گئے، جس میں ’میری ذات ذرہ بے نشان، من و سلوٰی، امربیل، حسنہ اور حسن آرا‘ کو کافی شہرت ملی۔ عمیرہ احمد کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے قاری محسوس کرتا ہے کہ یہ اُسی کی کہانی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ عمیرہ کی تحریریں سماجی مسائل کے اردگرد گھومتی ہے۔ عمیرہ نہ صرف سماجی مسائل اُجاگر کرتی ہے بلکہ ُان مسائل سے نکلنے کا حل بھی دکھاتی ہے۔ کشمیر میں ان کی کتابیں Hot Cake کی طرح بکتی ہیں، جہاں اتنی کم عمر میں عمیرہ احمدؔ کی تحریروں کی کافی سرہانہ کی گئی، وہی عمیرہ احمدؔ پر آئے روز تنقید بھی کی جاتی ہے۔ جہاں تک عمیرہ کے ناقدین کے اعتراضات کا سوال ہے، راقم کا ماننا ہے کہ چونکہ عمیرہ احمد اپنی تحریروں میں اسلام کی تعلیمات کا ذکر کرتی ہے لِہذا نام نہاد ’’روشن خیال‘‘ طبقہ کو ان سے کدورت ہے۔ اسلام کی تعلیمات اس سے پہلے بھی بہت سے ناول نگاروں نے اپنی ناولوں کاموضوع بنایا، لیکن ان کا اسلام روحانیت کے آس پاس گھومتا ہے، اس کے برعکس عمیرہ احمد اور نمرہ احمد جو اسلام پیش کرتی ہیں، وہ زندگی کے سبھی شعبوں میں رہنمائی کرتا ہے۔ عمیرہ احمد پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ ان کی کہانیاں ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن عمیرہ کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ عمیرہ کی ہر تحریر کا ایک الگ theme ہوتا ہے۔ مثلا ’’پیر کامل‘‘ کا مرکزی موضی ’’ختم نبوت‘‘ ہے، ’آبِ حیات‘ کا مرکزی مضمون سود کی تباہ کاریاں ہے، تو ’’من و سلویٰ‘‘ کا رزق حلال، ’میری ذات ذرہ بے نشان‘ کا موضوع ’تہمت‘ ہے اور زیر تبصرہ کتاب ’لاحاصل‘ کا مرکزی موضوع اطمنان قلب اور سکون ہے۔

۲۸۰صفحات پرمشتمل زیر تبصرہ کتاب ’’لاحاصل‘‘ کہانی ہے خدیجہ نور کی۔ اُس خدیجہ نورکی جو اسلام قبول کرنے سے پہلے کیتھرین نام کی ایک عیسائی لڑکی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ خدیجہ نور نہ صرف اسلام قبول کرتی ہے۔ بلکہ مشکلات کے باوجود اسلام پر ثابت قدمی کا مظاہرہ بھی کرتی ہے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے کیتھرین جسم فروشی کے پیشے سے وابستہ تھی، کیتھرین کی والدہ نے ایک پاکستانی سے شادی کی تھی، لیکن بہت جلد پاکستانی نے اس کو دھوکہ دیا، اس کے غم میں کیتھرین کی والدہ شراب کے نشے میں ہمیشہ رہتی۔ کچھ عرصہ بعد ہی اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ کیتھرین غربت کی وجہ سے ۱۶ سال کی عمر میں جسم فروشی کے دھندہ میں ملوث ہوئی۔ لیکن ایک دن اچانک اس کی ملاقات مظہر نام کے پاکستانی شخص سے ہوتی ہے۔ چونکہ کیتھرین کو ماں کی وجہ سے پاکستان کے لوگوں سے نفرت تھی، لِہٰذا وہ مظہر سے نفرت سے پیش آتی ہے، لیکن اُسی وقت کیتھرین کو ایک حادثہ پیش آتا ہے، جس کے دوران مظہر اس کی کافی مدد کرتاہے۔ آہستہ آہستہ مظہر اور کیتھرین کے درمیان قربت بڑھ جاتی ہے۔ مظہر اس کو اکثر اسلامک سنٹر لے کے جاتا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد مظہر نے کیتھرین سے وعدہ کیا کہ وہ اپنے والدین کو شادی کے لیے آمادہ کرنے کے لیے پاکستان چلا جائے گا۔ اور تین ماہ کے بعد واپس آئے گا۔ لیکن اسی دوران کیتھرین کا ایک گینگ کے ذریعے اغوا ہوتا ہے۔ غلط فہمی کی وجہ سے کیتھرین یہ سمجھتی ہے کہ اس کا اغوا کرنے میں مظہر کا رول ہے۔ اغوا کرنے والی گینگ اس کو دوبارہ چارسال تک جسم فروشی کرواتے رہتے ہیں، بالآخر وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، اور ایک Store میں کام کرنا شروع کرتی ہے۔ ایک دن مظہر اسی دکان پر آجاتا ہے۔ کیتھرین کو جلد محسوس ہوتا ہے کہ مظہر اس سے ابھی بھی پیار کرتا ہے اور اس کے اغوا میں مظہر کا کوئی رول نہیں۔ قربت ایک بار پھر بڑھ جاتی ہے۔ دونوں شادی کرتے ہیں۔ جلد ہی اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ذالعید نامی لڑکا عطاء کرتا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد مظہر کا ایک رشتہ دار ایک دن ان کے گھر آجاتا ہے اور خدیجہ نورکے بارے میں مظہر کو بتاتا ہے کہ خدیجہ ایک کال گرل رہ چکی ہے۔ مظہر غصے میں خدیجہ نور کو طلاق دیتا ہے اور ذالعید کو لیکر پاکستا ن واپس آجاتا ہے۔ خدیجہ نور اس واقعہ کے بعد مسلسل اسلامی سنٹر جاتی ہے۔ وہاں ایک لڑکی دھوکہ بازی میں اس کی شادی اپنے بھائی سے جو کہ خدیجہ سے کافی بڑا اور انتہائی مفلس تھا، سے کراتی ہے۔ لیکن خدیجہ اسلامی تعلیمات کی وجہ سے صابر بن چکی ہوتی ہے، لِہٰذا وہ تنگی اور مشکلات کے باوجود خوشگوار زندگی بسر کرتی ہے۔ چونکہ ان کو اللہ نے کوئی اولاد نہ دی تھی لہذا وہ مریم نام کی ایک بچی کو گود لیتی ہے۔ خدیجہ نور اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بھی مریم کی تعلیم جاری رکھتی ہے، مصوری میں دلچسپی کی وجہ سے اس کا داخلہ شہر کے اعلیٰ اسکول میں کراتی ہے۔ وہیں ذالعید اپنے باپ کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود الگ گھر میں رہتا ہے، بالآخر کچھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جن کی وجہ سے ذالعید اور مریم آپس میں قریب آتے ہیں، ذالعید اپنے والد سے مریم سے شادی کرنے کی بات کرتا ہے لیکن اس کے والد یہ جان کر یہ مریم کی ماں انگلینڈ کی ہے، ابتداء میں انکار کرتے ہیں لیکن ذالعید کی ضد کی وجہ سے اس رشتے پر اس شرط پر آمادہ ہوتے ہیں کہ وہ شادی میں شرکت نہیں کریں گے۔ شادی کے بعد ذالعید کو خدیجہ نور کسی سے انکشاف نہ کرنے کی شرط پر یہ راز بتاتی ہے کہ وہ اس کی ماں ہے۔ اس دوران ذالعید اپنا وقت خدیجہ نور کے پاس گزارنے لگتا ہے۔ چونکہ مریم ذالعید اور خدیجہ نور کے رشتہ سے واقف نہیں تھی، اس وجہ سے اسے غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ مریم خدیجہ سے لڑتی ہے، اسی اثنا میں خدیجہ نور کا انتقال ہوجاتا ہے۔ خدیجہ نور انتقال سے پہلے ذالعید سے یہ وعدہ لیتی ہے کہ وہ مریم کو ہمیشہ خوش رکھے گا۔

یوں تو یہ عام سی کہانی محسوس ہوتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہانی کا پلاٹ اتنا خوبصورت ہے کہ قاری کا تجسس ہر صفحہ پڑھنے کے بعد بڑھ جاتا ہے، اور قاری کتاب تب تک نہیں چھوڑتا جب تک اس کو ختم نہ کیا جائے۔ مضبوط پلاٹ، تجسس اور روانی کی وجہ سے قاری ایک لمحہ کو بھی بوریت محسوس نہیں کرتا۔ کہانی کے دوران عمیرہ احمد اپنے معاشرہ کے مسائل سے بھی قاری کو آگاہ کرتی ہے، اور حل بھی بتاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں کیا رویہ ہے عمیرہ احمد اپنی ناول میں لکھتی ہے:
’’دنیا عورت کے ماضی کو کبھی نہیں بھولتی۔ دنیا صرف مرد کے ماضی کو بھول جاتی ہے‘‘۔ (ص ۲۳۲)

عمیرہ احمد حرص میں مبتلا لوگوں پر چوٹ کرتے ہوئے لکھتی ہے ’’کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ماما جان جن کی خواہشات کی انتہا نہیں ہوتی، وہ ہر انسانی خوبی اور صفت سے خود کو محروم کر لیتے ہیں۔ دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی ان کو پانی نظر نہیں آتا‘‘۔(ص ۲۳۵)

عمیرہؔ سمجھاتی ہے کہ سکون اور اطمینان کہاں ملتا ہے اور وہ لوگ جو دنیا میں صرف اور صرف اپنی خواہشوں کے ارد گرد گھومتے ہیں، انہیں سکون نہیں ملتا۔ عمیرہ لکھتی ہے۔’’میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں میں ’لاحاصل‘ خواہشوں کے ایسے بھنور باندھ لیے ہیں جو ساری عمر میرے وجود کو گردش میں رکھیں گے۔ خدیجہ نور جیسا سکون مجھے کبھی نصیب نہیں ہوگا۔ خدیجہ جیسی قناعت میری زندگی میں کبھی نہیں آئے گی، کیوں اتنی ہوس ، اتنی حرص میرے اندر آگئی کہ میں نے سکون کی جنت کو خواہش کی آگ سے پھونک ڈالا۔‘‘(ص ۲۷۹)

مغرب کی چمک دمک سے جو لوگ متاثر ہیں عمیرہ اپنی کتاب میں مغربی تہذیب خاص کر اُن کے معاشرتی نظام پر چھوٹے چھوٹے جملوں میں تیکھے وار کرتی ہے:
’’میں تمہیں اکیلے کیسے وہاں رہنے کےلیے بھیج سکتی ہوں، وہ جنگل ہے مریم ! مہذب جنگل‘‘

انسان کو جو چیز یں جانوروں سے ممیز کرتی اُن میں ایک اہم چیز احساسات اور جذبات، جب مرئم انگلیڈ جانے کی ضد کرتی ہے تو خدیجہ نور اُسے کہتی ہے:
’’وہاں جاکر تم مشین بن جاؤگی۔ ‘‘(ص ۲۴۴)

انسان کی زندگی پر رزق حلال کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ عمیرہ احمد اپنی کتاب میں قاری کو کس خوبصورتی سے پیغام دیتی ہے:
’’ اس کے خون میں حلال کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ جانتے بوجھتے خود کو جہنم میں جا پھینکتے۔ کچھ وقت لگے گا مگر وہ واپس آجائے گی۔ برائی سے واپس اچھائی کی طرف‘‘۔۔ جب اسے دنیا کی سمجھ آنے لگے گی تو پھردنیا کے پیچھے نہیں بھاگے گی۔‘(ص ۲۷۹)

عمیرہ احمد اپنی کتاب ’’لاحاصل‘‘ میں معاشرہ میں ہر ایک کو اپنے کردار سے واقف کراتی ہے، ایک اچھی ماں کیسی ہوتی ہے، رقمطراز ہے:
’’اولاد کو صرف اچھی ماں چاہیے ہوتی ہے۔ ان کی اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ کتنی اچھی مصورہ، کتنی اچھی مصنفہ یا کتنی اچھی اداکارہ ہے اور دنیا نے اس کو کہاں بٹھایا ہوا ہے۔ ماما جان ایک انسان اور جانور کی ماں میں یہی فرق ہوتا ہے۔ پیدا تو جانور بھی کرلیتا ہے بچہ۔ مگرجانور تربیت نہیں کرسکتا، وہ اولاد پیدا کرکے چھوڑ دیتا ہے‘‘۔ (ص ۲۳۵)

انسان کو حقیقی محبت اللہ ہی سے ہونی چاہیے، اس کی محبت کا مرکز اللہ کی ذات ہو نا چاہیے ناکہ کوئی انسان۔ عمیرہ اپنی کتاب میں سمجھاتی ہے:
’’دائمی محبت صرف ایک ہوتی ہے۔ ایسی محبت جسے کبھی زوال نہیں آتا اور وہ محبت اللہ کی محبت ہے، دوسری ہر محبت کی ایک مدت ہوتی ہے، پہلے اس کی شدت میں کمی آتی ہے، پھر وہ ختم ہو جاتی ہے‘‘۔(ص۲۰۳)

عمیرہ احمدؔ دیگر ناولوں کی طرح اپنی اس ناول میں بھی اس سوچ پر چوٹ کرتی ہے جس کے مطابق مذہب صرف اور صرف چند عبادات اور رسوم کا نام ہے۔ وہ لکھتی ہے:
’’دنیا میں کچھ لوگ آپ کی طرح ہوتے ہیں۔ جو ساری زندگی اپنے گلے میں مذہب کو ڈول ڈالے اسے پیٹتے رہتے ہیں، کیونکہ انہیں دنیا کو اپنی نمازوں سے متاثر کرنا ہوتا ہے۔ مگر جب بات ایثار، قربانی اور اعلیٰ ظرفی کی آتی ہے تو پھر وہ آپ کی طرح ہوجاتے ہیں۔ جو عورتوں کو یوں سزائیں دیتے پھرتے ہیں جیسے انہیں دنیا پر خدا نے جزا اور سزا کے اختیارات کے ساتھ بھیجا ہو۔ آپ جیسے مرد پاپا، جو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور ان سے دودھ پیتے ہوئے بچے چھین لیتے ہیں۔ ان کی کوئی نماز ، کوئی عبادت انہیں اس عمل سے نہیں روکتی ۔ انہوں نے عبادت، عبادت سمجھ کر کہاں کی ہوتی ہے۔ عادت اور روایت سمجھ کر کرتے ہیں۔۔۔۔آپ کے اندر کتنی منافقت ہے پاپا۔۔۔۔کتنا دوغلاپن ہے۔ ‘‘

عمیرہ احمدؔ کی اکثر تحریروں کی طرح اس کتاب میں بھی یہ دکھایا گیا کہ رب کی طرف لوٹنے کے لیے جو راستہ ہے، وہ انسان کوئی چوٹ یا تکلیف کھا کر ہی ملتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، رب العزت انسان کا رتبہ بلند کرنے کے لیے کبھی کبھی اپنے بندے کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے۔ ایسے بہت سے اشخاص کے واقعات ہیں جنہوں نے رب چاہی زندگی گزاری۔ وہ اللہ کی طرف لوٹے بنا کسی چوٹ یا تکلیف کھائے ہوئے۔ مجموعی طور پرکتاب بہترین ہے، کتاب میں انسان کہانی پڑھتے پڑھتے بیشمار تعلیمات سے نہ صرف آگاہ ہوجاتا ہے، بلکہ عمل کی جانب بھی راغب ہوجاتا ہے۔

عمیرہ احمدؔ کا یہ ناول اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ آج ہر طرف مادیت کا فتنہ ہے۔ ’’ھل من مزید‘‘ کے چکر میں انسان نے سکون غارت کیا ہوا ہے۔ عمیرہ احمد کی یہ کوشش اس لحاظ سے کامیاب کوشش کہی جاسکتی ہے کیونکہ یہ انسان کو سمجھاتی ہے کہ جن چیزوں کی دوڑ دھوپ میں وہ اپنی ساری توانائی لگاتا ہے تاکہ اس کو اطمینان اور سکون ملے، وہ سب لاحاصل ہے، ہاں اگر انسان کو اطمینان میسر آتا ہے وہ ہے اللہ کی ذات اور اس کی تعلیمات۔

ہندوستان میں منشورات پبلیشرز دہلی، اور پاکستان میں علم و عرفان پبلیشرز لاہور قابل مبارکباد ہے کہ انہوں نے خوبصورت گیٹ اپ میں کتاب کو شائع کیا۔

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.