تحریک اور تربیت - حافظ محمد زبیر

یکم مارچ 2018ء، بروز ہفتہ، اسلامی جمیعت طلبہ کی تربیتی کمیٹی کے کچھ ارکان اس موضوع پر ڈسکشن کے لیے گھر تشریف لائے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ تحریک اسلامی نے چونکہ اجتماعیت کی اصلاح کو فوکس کیا کہ جس کی وجہ سے فرد کی اصلاح نظر انداز ہوئی ہے لہذا تحریک اسلامی میں فرد کی اصلاح اور تربیت کو فوکس کرنے کی ہنگامی بنیادوں پر اشد ضرورت ہے۔

کچھ تحریکوں کے بانیاں تصوف سے شغل رکھتے تھے تو ان کے ہاں فرد کی اصلاح کسی حد تک زیر بحث رہی ہے جیسا کہ "حزب التحریر" کے بانی یوسف النبہانی اور "سنوسی تحریک" کے بانی محمد بن علی السنوسی دونوں صوفی تھے بلکہ "الاخوان" کے بانی حسن البناء بھی صوفیت کی طرف میلان رکھتے تھے اور تصوف کی اصل ہی فرد کی اصلاح ہے لہذا فرد کی اصلاح ان کے ہاں کسی نہ کسی دائرے میں زیر بحث رہی البتہ وہاں بھی اگلی نسلوں میں آہستہ آہستہ فرد نظر انداز ہوتا چلا گیا۔

برصغیر پاک وہند کی بڑی تحریکوں کے بانیاں کا مزاج تصوف سے میل نہیں کھاتا تھا جیسا کہ سید مودودی اور ڈاکٹر اسرار احمد وغیرہ لہذا اجتماعیت پر فوکس زیادہ ہو گیا اور فرد نظر انداز ہو گیا۔ عجیب صورت حال یہ ہے کہ تحریک اسلامی میں اب تربیت کے نام سے جو نظام رائج ہے، وہ سب فکری تربیت ٹائپ کی چیز ہے کہ اگر آپ نے مبتدی سے ملتزم بننا ہے یا ممبر سے رکن بننا ہے تو یہ یہ لٹریچر پڑھا ہونا چاہیے، یہ اصل فوکس ہے۔ اور اب عموما تربیتی ورکشاپس اور تنظیمی سالانہ اجتماعات مونو لاگ ٹائپ قسم کے لیکچرز کے مجموعے کا نام بن کر رہ گیا ہے کہ جس سے لرننگ بہت کم ہو پاتی ہے۔

بلاشبہ فکری تربیت کی اہمیت ہے لیکن تربیت دراصل عمل کی اصلاح اور پریکٹس کا نام ہے لہذا سب سے پہلے تو تحریک اسلامی کی تربیتی ورکشاپس کو تھاٹ اوریئنٹڈ (thought oriented) کے بجائے پریکٹس اوریئنٹڈ (Practice oriented) ہونا چاہیے یعنی ان میں 70 فی صد عملی تربیت ہو اور باقی 30 فی صد فکری تربیت۔ پھر عملی تربیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تزکیہ نفس یا فرد کی اصلاح پر لیکچر دلوا لیا، یہ پھر تربیت کے نام پر تعلیم ہو گئی جبکہ تربیت، تعلیم سے مختلف چیز ہے۔

مثال کے طور تربیتی ورکشاپ میں احسان کا موضوع زیر بحث آیا تو اب مربی شرکاء کو کہے کہ ذرا ایسی دو رکعت نفل نماز پڑھو کہ جس میں خدا کے علاوہ کسی کا خیال نہ آئے۔ اور اگر خیال آ جائے تو دوبارہ پڑھنا ہے۔ پھر آ جائے تو تیسری مرتبہ پڑھو تو کم از کم تیسری مرتبہ میں غیر اللہ کا خیال ختم نہ بھی ہوا، کم تو ہو جائے گا اور احسان کی پریکٹس بھی ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں، بیٹا اور پرنسپل - نیر کاشف

اگر ورکشاپ میں دعوت کا موضوع زیر بحث آیا ہے تو اب شرکاء سے کہا جائے کہ آپ نے کھانے اور نماز کے وقفے میں کسی بھی ساتھی کو کسی بھی جگہ کھڑے کر کے تین منٹ دعوت دینی ہے اور دوسرا ساتھی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرے کہ جیسا کہ لوگ عام طور کرتے ہیں اور کمنٹس پاس کرے اور اس طرح ایک طرف تو وہ دعوت دینا سیکھے گا، اس کی ہچکچاہٹ دور ہو گی اور دوسری طرف مختلف سچوئیشن اور رد عمل کو ہینڈل کرنے کا تجربہ حاصل کرے گا۔

اسی طرح اگر تربیتی ورکشاپ میں اسوہ حسنہ کا موضوع زیر بحث آیا ہے تو کھانے کے وقت میں شرکائے مجلس کی دو انگلیوں پر ٹیپ لگا دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھانا کھاتے تھے۔ اب بعد میں فیڈ بیک لیں گے تو معلوم ہو گا کہ تین انگلیوں سے کھانا کھانے کی وجہ سے کھانا کم کھایا گیا ہے اور آہستہ آہستہ کھایا گیا ہے۔ چھوٹے چھوٹےکارڈ لیں کہ جن پر "پلیز سمائل" لکھا ہو اور وقفے میں شرکائے مجلس میں سے جس کے چہرے پر سختی دیکھیں تو اسے پکڑا دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لبوں پر مسکراہٹ رہتی تھی۔

اسوہ حسنہ میں قیلولے کا موضوع آ جائے تو پندرہ بیس منٹس کے لیے مجمع اور ہال ہی میں قیلولہ کر لینے کی ٹپس اور پریکٹس کروائیں وغیرہ۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اسکولز میں محض تعلیم نہیں ہے بلکہ ایکٹوٹیز ہوتی ہیں، ہوم ورک ہے تو یہ ساری پریکٹس تربیت کہلاتی ہے۔ ایک ہے آرٹ کا سبجیکٹ پڑھا دینا اور ایک ہے کہ کلرنگ بک اسٹوڈنٹ کے ہاتھ میں پکڑا دینا تو دونوں مختلف چیزیں ہیں ناں جیسا کہ میٹرک میں اگر آپ بچے کو فزکس اور کیمسٹری پڑھا دیں لیکن اسے لیب نہ کروائیں تو سائنسی تعلیم تو ہوئی ہے لیکن سائنسی تربیت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں، بیٹا اور پرنسپل - نیر کاشف

تو اسلامیات کی لیب بہت ضروری ہے اور جب تک ہمارے تربیتی نظام میں لیب اور پریکٹس شامل نہیں ہو جاتی، اس وقت تک یہ تعلیمی نظام ہے، تربیتی نہیں۔ اور تحریک اسلامی کو چاہیے کہ اپنی تربیت گاہوں میں پریکٹس بڑھانے اور لیب شامل کرنے کے لیے جدید اسلوب میں کام کرنے والے کچھ انسٹی ٹیوٹس سے بھی رہنمائی لے جیسا کہ آذان، المدرار، الکوثر وغیرہ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ تحریک اسلامی کے تربیتی نظام میں فرد کو جو کہیں کہیں فوکس کیا گیا ہے تو وہ سارا کاغذی کاروائی کی نذر ہو گیا ہے کہ ماہانہ احتسابی رپورٹ پوری کر لیں، یا نظم بالا اسے توجہ طلب امور کے عنوان سے کوئی خط لکھ دے۔ اصلاح اس طرح نہیں ہوتی بلکہ اصلاح کے لیے ذاتی رابطہ اور صحبت ضروری ہے۔

مثال کے طور پر کسی کارکن کی ماہانہ احتسابی رپورٹ جب نظم بالا کو پہنچی تو انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی فجر کی نماز کمزور ہے اور قضاء ہو جاتی ہے لہذا اسے وعظ ونصحیت پر مبنی ایک خط لکھ دیا گیا جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس تحریکی نظم میں اس کارکن سے اوپر جو شخص ہے اور جس کی فجر جماعت کے ساتھ ہوتی ہے، وہ اس کارکن سے ملاقات کرے، اس کے فجر کے قضاء ہونے کی وجوہات ڈسکس کرے، ان کے حل پیش کرے، اور دو چار دن فجر کے وقت اس کے گھر آئے اور اسے ساتھ مسجد لے کر جائے۔

اور یہ سب کچھ کرنے سے پہلے اس سے اس کی دنیا کے معاملے میں خیر خواہی کا تعلق قائم کرے جیسا کہ اس کا بچہ بیمار ہے تو ساتھ ہسپتال چلے گئے وغیرہ۔ تو اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ آپ اس کی دنیا کے خیر خواہ ہیں تو وہ آپ کی دین کی بات کو توجہ سے لے گا اور یہ نہیں سوچے گا کہ ہر وقت پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں۔ وہ رضاکارانہ طور پر آپ کے ساتھ تحریک میں شامل ہوا ہے لہذا آپ کے فوج کے ٹائپ کا نظم اور آڈر اس میں تبدیلی نہیں لائے گا بلکہ آپ کی اس کی دنیا کے حوالے سے خیر خواہی اور ویلفیئر اس میں تبدیلی کا باعث بنے گی۔ اور وہ جس قدر زیادہ ہو گی، وہ اس قدر تبدیل ہوگا۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • انتہائی اہم اور درد دل سےمخلصانہ تجاویز ھیں۔ تحریک میں ایک ذمہ دار کی حیثیت سے مجھے حل ملا ھے۔ جزاک اللہ خیرا فی الدنیا ولاخرہ