زیادتی زیادتی میں فرق ہے - حامد کمال الدین

ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہوتا ہے جب سمجھداروں سے یہ چیز دیکھنے کو ملے۔

سوشل میڈیا میں ایک ٹرینڈ دیکھنے میں آ رہا ہے: اپنے اوپر ’اعتراض‘ کی گنجائش نہ چھوڑنے کی ذہنیت، اور اس مقصد کےلیے سویپنگ سٹیٹمنٹس sweeping statements دینا۔ کسی مسئلہ یا بحران سے متعلقہ سب فریقوں کو ’’برابر کا قصوروار‘‘ دے کر مطئمن ہونا کہ اب اعتراض کر کے بتاؤ؛ میں نے تو کسی کا بھی ’ذمہ‘ نہیں اٹھایا! حالانکہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ایک مسئلہ میں سارے فریق قصوروار ہیں تو بھی یہ دقتِ نظر درکار رہے گی کہ کس فریق کی زیادتی ایک معاملہ میں کس درجے اور نوعیت کی ہے۔

اب مثلاً... شام میں جاری نہتے شہریوں کے قتل عام کے سلسلہ میں آپ نے روس اور ایران کی نہایت واضح، سفاک ruthless اور متعمَّد deliberate جارحیت کا ذکر کیا تو ظاہر ہے چونکہ ایران کے اس خونین چہرے کو چھپانا ممکن نہیں تو ایک چالاک ذہن نے اس پر یوں کیا کہ وہی خون اٹھا جھٹ سے ترکی اور سعودیہ کے چہرے پر بھی لیپ دیا! وہ تو بلاشبہ ایک خرانٹ ذہن ہے اور بالعموم ایک رافضی اور لبرل حربہ ہے۔ لیکن ایک سادہ لوح ذہن ہمارے یہاں (دینی سُنی حلقوں میں) بھی ہے جو اپنے تئیں ’انصاف‘ کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے شام کے نہتے شہریوں پر ہونے والی بمباری کے سسلسلہ میں ’ایران اور روس کے ساتھ ساتھ‘ ترکی اور سعودیہ کو بھی ’برابر کا ذمہ دار‘ ٹھہرا کر داد طلب نگاہوں سے ہماری طرف دیکھے گا! بلکہ خاموش سرزنش بھی کہ ارے ترکی اور سعودیہ کو بھول گئے! اور کچھ تو ما شاء اللہ پاکستان تک کو فہرست میں شامل کر کے ’انصاف‘ کا تقاضا پورا کریں گے! اس رویے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ صاف دندناتا ظالم جو شام میں بستیوں کی بستیاں بھسم کر رہا ہے نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور ہم کچھ بےکار بحثوں میں الجھ جاتے ہیں بلکہ کسی وقت تو ’اخوانی اور سلفی‘ کے ڈائلیکٹ میں پڑ جاتے ہیں۔ کیا ظالم کی اس سے بڑھ کر مدد اس موقع پر کوئی ہو سکتی ہے؟

اب اس شام کی مثال کو ہی لے لیجئے اور تھوڑی دیر کےلیے یہ بھی مان لیجئے کہ یہ سارے ہی ملک اس معاملہ میں کسی نہ کسی معنیٰ کے قصوروار ہیں۔ تو بھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ شام کا وہ قصاب ڈکٹیٹر جس نے تیس تیس چالیس چالیس ہزار انسان ایک ایک ہلے میں لقمۂ اجل کیے اور خالی احتجاج کرتی نہتی شہری بستیوں پر ٹینک چڑھائے، یہاں وہ ’’بیرونی قوتیں‘‘ کونسی ہیں جو اس خونیں قصاب ڈکٹیٹر کے ساتھ آ کر کھڑی ہیں اور اُس کے شانہ بشانہ یہاں کی نہتی شامی بسیتوں پر پوری بےرحمی کے ساتھ آتش و آہن برسا رہی ہیں؟ اور اس ظالم کے ساتھ کھڑی قوتوں کے مقابلے پر وہ کونسی ’’بیرونی قوتیں‘‘ ہیں جو، عملاً، یا زبانی کلامی، شام کے ان مظلوم شہریوں کی تائید میں کھڑی ہیں جو ان ٹینکوں اور طیاروں کی آتشیں بارش سہہ رہے ہیں؟ لیکن نہیں۔ وہ شخص بھی برابر جو قصاب کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ بھی برابر جو اس قصاب کے ہاتھوں ذبح ہونے والے مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے! یہ ’رنجیت سنگھ والا انصاف‘ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کی ایک بڑی تعداد کے ہاں آج ایک ٹرینڈ بن گیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امتِ مسلمہ کی زبوں حالی - مفتی منیب الرحمن

معاملے کو دیکھنے کی ایک سطح تو یہ ہے جو ابھی ذکر ہوئی۔ یعنی دیکھیے تو یہ کہ کون ظالم کے ساتھ کھڑا ہے اور کون مظلوم کے ساتھ۔

اب ایک دوسری سطح پر آ جائیے۔ ایک طبقہ ترکی اور سعودیہ کو (بلکہ ساتھ شاید پاکستان کو بھی) اس وجہ سے ایران کے مقابلے پر ’برابر کا ذمہ دار‘ ٹھہرا رہا ہے کہ یہ شام میں اہل سنت عوام کی مدد کو کیوں نہیں جا رہے۔ اب قطع نظر اس بات سے کہ ان میں سے کوئی ملک اس معاملہ میں کہاں تک بےبس ہے اور کہاں تک وہ جان بوجھ کر اپنے بھائیوں کی مدد سے پہلوتہی کر رہا ہے، تھوڑی دیر کےلیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ یہ سارے سُنی ملک اپنے شامی بھائیوں کےلیے جو کرنے کی پوزیشن میں ہیں یہ وہ بھی نہیں کر رہے۔ اور ایک درجے میں یہ یقیناً واقعہ بھی ہے۔ اب اس لحاظ سے ہم اگرچہ یہ کہہ سکیں گے کہ یہ ملک (ترکی، سعودیہ، پاکستان وغیرہ) اپنے شامی بھائیوں کے حق میں قصوروار ہیں۔ لیکن سوال اور سیاق تو یہ ہے کہ کیا ایران کی ٹکر کے قصوروار؟ یعنی جیسا وحشیانہ جرم اِس وقت شام کی شہری بستیوں کو خون میں لت پت کرتے روس اور ایران کا، عین ویسا ہی وحشیانہ جرم ’شام کو خون میں نہلاتے‘ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کا؟ اصل سوال تو سیاق کا ہے۔ ہاں اس سیاق سے آپ نکل آئیے تو اس بات کو زیر بحث لانے میں کیا حرج ہے کہ اس وقت جب شام میں روس اور ایران ایسے بھیڑیے گھس آئے تھے، ہمارے یہ سنی ممالک اپنے شامی بھائیوں کی مدد کےلیے کیا کر سکتے تھے جو یہ نہیں کر رہے اور جس کی بنا پر یہ امت کے ہاں قصوروار ہیں؟ پس اس پہلو سے بھی (اگر واقعتاً کوئی اسی سیاق میں بات کرتا ہے) کیا اس نے سوچا ہے کہ وہ کتنا بڑا فرق کر رہا ہے ایک جانب ’ایران و روس‘ اور دوسری جانب ’ترکی و سعودیہ‘ کے مابین؟ یہاں؛ روس اور ایران کا شام میں جانا زیادتی ٹھہرے گا اور ترکی و سعودیہ کا شام میں نہ جانا زیادتی ٹھہرے گا۔ اندازہ کر لیجیے کتنا بڑا فرق نکل آیا دونوں فریقوں کے مابین۔ (دوبارہ، یہ ہم ان حضرات کے ساتھ بات کر رہے ہیں جن کا شکوہ ترکی اور سعودیہ سے بالکل یہی ہے کہ یہ شام میں کچھ کر کیوں نہیں رہے۔ دوسرے حضرات یہاں ہمارے ساتھ الجھنے کی زحمت نہ فرمائیں)۔

یہ بھی پڑھیں:   اٹھاکے ایڑیاں چلنے سے قد نہیں بڑھتے - ارشد زمان

لیکن تعجب تو یہ ہے کہ یہ فریق بھی روس اور ایران کے شامی خون میں ہاتھ رنگے (ایرانی و روسی) کردار کو پس منظر میں لے جانے کی اس مہم میں نادانستہ شریک ہو جاتا ہے اور ترکی و سعودیہ کی بابت اپنے دل کے پھپھولے پھول کر (جن میں یہ کسی درجہ حق بجانب بھی ہو سکتا ہے) اس شاطر لبرل و رافضی لابی کے ایجنڈا کی تقویت کا سبب بن جاتا ہے۔ کیا اس موقع پر ہم ایسا وکیل کرنے کے متحمل ہیں؟ شام کو لاشوں کا ڈھیر بنانے والا ڈکٹیٹر اور اس کے برہنہ مددگار آپ کی ان بےکار بحثوں میں چھُپ جائیں، کیا یہ ہے میڈیا کی جنگ لڑنا؟ شامی بھائیوں کےلیے ایک ’’آواز‘‘ اٹھانا ہی تو یہاں دور بیٹھے آپ کے بس میں تھا، اس میں بھی آپ بشار و روس و ایران ایسے قاتل جتھے کی ہی جان چھڑوانے کا ذریعہ بن رہے ہوں؛ اور کوئی خرانٹ ذہن آپ سے یہ سہولت دھڑادھڑ لے رہا ہو!؟ ’ترکی و سعودیہ‘ کے ساتھ بغض اگر کوئی نیکی ہے تو بھی اس کی کوئی حد ہونی چاہیے، دوستو۔