اپنا کھانا خود گرم کرو - سعدیہ نعمان

تو بھائیو اس بینر پہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ کام تو آپ سب پہلے سے کر ہی رہے ہیں، بلکہ آپ میں سے کئی تو گھر کے دیگر کاموں میں بھی بخوشی مدد کرواتے ہوں گے، اپنی امیوں اور گھر والیوں کا ہاتھ بٹانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہوں گے۔ ہمارے بہت سے پاکستانی بھائی جو بیرون ملک مقیم ہیں وہ تو گھر میں ویکیوم کرتے، ڈش واشنگ کرتے بھی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ اگر آپ کی اہلیہ کی طبیعت ناساز ہو تو ایک کپ چائے یا کافی پیش کر نا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تو طے ہوا کہ اگر آپ سب نہ صرف اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں، اس فتنہ پرور دور میں اپنی فیملی کے لیے پوری دل جمعی سے رزق حلال کما رہے ہیں، اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کے بیوی بچوں کی خواہشات کو پورا کر رہے ہیں، جاب سے کئی طرح کے چیلنجز سے نمٹ کے گھر آتے ہیں، اور بچوں پہ پیار محبت اور شفقت انڈیل دیتے ہیں، اپنی بے چینی اور پریشانی اپنے ہی دل دماغ کے کسی کونے میں چھپا لیتے ہیں۔ تو آپ مبارک باد اور میڈل کے مستحق ہیں، اضافی نمبر بھی آپ کے ہوئے۔

اب اس طرح کے "نعروں" اور "للکاروں" کو خاطر میں لا کر اپنا دل برا نہ کریں۔ تسلی رکھیے کہ آپ کی قدردان خواتین آپ کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی صورت میں آپ کے لیے ہمہ وقت دعا گو ہیں۔ اور میری اپنی سب پیاری بہنوں سے درخواست ہے کہ ایمانداری سے سوچیے، کیا ہمارے دور کے مرد نے خود کو نہیں بدلا، ہمارے پر دادا، دادا پھر ہمارے والدین اور اب ہمارے بچوں کے ابا جان، کیا آپ باہمی تعلق میں تعاون کرنے میں اسپیس دینے میں مسائل سمجھنے میں آج کے مرد کو پہلے سے بہتر نہیں پاتیں۔
ہاں! اگر ہم یہ چاہیں کہ واشنگ مشین اور ویکیوم کلینرز کا کام بھی کرے، سلائی مشین سے کپڑے بھی دھل جائیں تو یہ حماقت ہے۔
جس کا جو مقام ہے اسے پہچانیں، اور جس کا جو کام ہے، وہ اسے ہی ایمانداری سے انجام دے تو ہی معاشرہ متوازن رہ پائے گا، ورنہ نظام اور سب پرزے بکھر کے بیکار ہو جائیں گے۔

اور یہ جو چادر چار دیواری میں رہنے والیوں کو کسی نے "زندہ لاش" کا خطاب دیا ہے، اور کہا ہے کہ اسے ہی مبارک ہو، اسے بھی میری باقی بہنیں سنجیدہ نہ لیں۔ ہماری نانیاں، دادیاں، ہماری پیاری مائیں، سب نے اسی چادر کے ساتھ اسی چار دیواری کے اندر ایسے ایسے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں کہ ان کے محنت کرنے والے ہاتھ اور جھریوں بھرے چہروں کو چوم لینے کو بےاختیار دل چاہتا ہے۔ ہمارے اختیار میں ہوتا تو دنیا کے سب سے اعلی اعزاز ان کی جھولی میں ڈال دیتے۔

تو نبی رحمت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بخشی ہوئی چھاؤں میں ہم سب بہت خوش ہیں،
آپ بھی!
جی جی میں بینرز اٹھانے والی اور عورت مارچ میں شریک سڑکوں میں کڑی دھوپ میں جلنے والی اپنی پیاری بہنوں سے مخاطب ہوں کہ آپ بھی اگر سکون کی متلاشی ہیں تو وہ اسی چھاؤں میں ہی ملے گا۔ حقوق چاہییں وہ بھی یہیں ملیں گے۔ محبت، پیار، الفت، عزت سب یہیں ہے۔ اس چشمہ سے سیراب تو ہو کے دیکھو، سب پیاس مٹ جائے گی۔
تو بدلنے کی باری تو اب ہماری ہے کہ ہم اپنی حیثیت پہچانیں، اور اپنا وہ مقام دوبارہ پانے کی کوشش کریں جو پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں دے گئے تھے؛ اس ٹھنڈی میٹھی چھاؤں میں ہی عافیت ہے۔

بے شمار درور و سلام ہوں میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم پہ❤

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.