ڈاکٹروں کا مکافاتِ عمل - لبیق افضل

غالباً یہ کہانی دو دہائی قبل شروع ہوتی ہے کہ جب ڈاکٹروں نے مسیحائی کا کردار چھوڑا اور پروفیشن کی خاطر اوقات سے زیادہ پروفیشنل ہونے لگے۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی تھی لیکن پھر یوں ہوا کہ مسیحائی کو چھوڑنے والے خدائی کرنے لگے، خود کو کُل سمجھ بیٹھے اور سب سے پہلے انسانیت کی تعظیم ختم ہوئی، اور پھر انسان کی۔ مریض اب مریض سے زیادہ گاہک لگنے لگا، مریض کی عزت کرنا واجب نا رہا۔ چونکہ ڈاکٹروں کا تو پہلے ہی کال تھا اور مریض تھے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تھے، اس لیے اب کوئی ڈر بھی نا رہا کہ مریض کم ہوجائیں گے اور دہاڑی بند ہو جائے گی، لہذا زبان کی شیرینی اور لہجے کی مٹھاس ختم ہوتی چلی گئی۔ بات گالم گلوچ اور مریض کی عزت کا جنازہ نکالنے تک پہنچ گئی۔ پہلے وقتوں کے وہ مسیحا جو مستحق مریض کو فیس معاف کر دیتے تھے، اب وہ خالص کاروباری ہوگئے تھے اور پروفیشن کے ہاتھوں مجبور تھے۔ پہلے جو تین سو، پانچ سو روپیہ چھوڑ دیا کرتے تھے، اب ان کو لگنے لگا تھا کہ اگر اس مریض سے جو کہ اگرچہ مستحق ہی ہے، فیس نہ لی تو ان کے بچے تو فاقوں سے مر جائیں گے۔

قصہ مختصر حالات کافی حد تک کاروباری ہوتے چلے گئے۔ اس اثنا میں چند دبی دبی آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔ عوام نے ڈاکٹروں کے ستم، بد زبانی، کاروباری پن اور بے اعتنائی کو ڈھکے چھپے الفاظ میں بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ڈاکٹروں کی جانب سے کوئی مذمت نہ کی گئی۔ الٹا اپنی کمیونٹی کی ایسی کالی بھیڑوں کو بچانے اور ان کے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے الٹی سیدھی تاویلیں دی گئیں۔ کسی نے مجبوری بتلایا، کسی نے پرفیشنلزم کے لیے ضروری قرار دیا اور کسی نے تو یہاں تک کہ دیا کہ سارا قصور ان پڑھ مریضوں کا ہے۔ اندر کھاتے سبھی جانتے تھے کہ قصور کن کا ہے، مگر شاید خود غرض ہوچکے تھے۔ میڈیکل کالج اور اپنے اساتذہ سے سیکھا ہوا سبق کہ "مریض کے دکھ کو اپنے دل میں محسوس کرو" سب بھول چکے تھے۔ ایسے قصاب نما ڈاکٹروں کی مذمت کرنے میں ان کو اپنا مفاد مرتا دکھائی دے رہا تھا اور وہ بھی کمرشلزم کے دلکش سپنے سجائے اپنی دھن میں مگن سر نیچے کیے اپنا کام کرتے چلے جارہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   بیمار کا حال اچھا ہے - خرم علی راؤ

مریض مجبور تھے سہتے گئے۔ مقدمہ لڑنے کی سکت نہ تھی لیکن کسی طور اب یہ مقدمہ مالکِ عرض و سما کی جناب میں پہنچ چکا تھا اور بس شنوائی کی دیر تھی۔ مقدمہ کھلا، ایک طرف لاچار مریض کے آنسو دوسری طرف کمرشل ذدہ ڈاکٹر کی مجبوریاں، ایک طرف مریض کی آہ دوسری جانب خاموش تماشائی بن کر سب کچھ دیکھنے والے ڈاکٹروں کے سرد کلیجے اور گونگی زبانیں، ثبوتوں کو پرکھا گیا، دلائل کو سنا گیا اور فیصلہ آگیا۔ حکم جاری ہوا کہ ان چپ رہنے والوں مسیحاؤں کو ان کی کمیونٹی کے لوگوں کے ہاتھوں ہی ذلیل کروایا جائے.۔

دن، سال، مہینے گزرتے گئے اور ایک دہائی گزر گئی۔ اگلی دہائی شروع ہوئی تو کاروباری ڈاکٹر مزید کمرشل ہوگئے اور اب ان کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگیا۔ اب اس کی زد میں خود ان کی کمیونٹی کے ڈاکٹر ہی آنے لگ گئے. ایک جیسا پروفیشن ہونے کے ناطے جو عزت دی جاتی تھی وہ ختم ہوتی چلی گئی. پہلے اگر کسی ڈاکٹر کا کوئی گھر کا فرد بیمار ہوتا تھا اور وہ کسی دوسرے متعلقہ شعبے کے ڈاکٹر کے پاس پرائیویٹ کلینک پر لے کر جاتا تھا تو وہ اس کو بہت پروٹوکل کے ساتھ چیک کرتا تھا، انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا اور کسی ڈاکٹر، میڈیکل سٹوڈنٹ یا اس کے گھر والوں سے فیس لینا تو گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔ اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے تھے۔ ماضی میں مریضوں کو رسوا کرنے والے ڈاکٹر اور خاموش رہنے والے ان کے خیر خواہ، اب دوسرے ڈاکٹروں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے تھے۔ آئے دن کسی نہ کسی ڈاکٹر کی بدتمیزی اور مکمل تعارف کروانے کے بعد بھی فیس نہ چھوڑنے کے قصے عام ہو چکے تھے۔ اب ان کو سمجھ آنا شروع ہوئی کہ کل تک جو آگ مریضوں تک محدود تھی، آج اس کی ذد میں اپنا گھر آرہا تھا۔ اب واویلا شروع ہوا۔ آئے دن فیس بک کے گروپ میں قصے شئیر ہونے لگے، مذمتیں شروع ہوئیں، برا بھلا کہا گیا، متعلقہ ڈاکٹروں پر تین حرف بھیجے گئے۔ گمان تھا کہ شاید ایسے حالات ٹھیک ہوجائیں گے لیکن شاید یہ سب بھول چکے تھے کہ "مکافات" کا عمل شروع ہو چکا تھا۔