سیاسی مگر ''غیرجانبدار'' تجزیہ - ارشد زمان

اب چونکہ بہت ساروں کو قرار آیا ہوگا، دماغ نے کام بھی شروع کر دیا ہوگا اور بہت سارے پہلو دماغ میں گردش کرنے لگے ہوں گے، اس لیے غوروفکر کی دعوت دینے کی جسارت کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ حالیہ سینیٹ الیکشن میں جو منظرنامہ ترتیب ہوا، جس طرح گٹھ جوڑ سامنے آئے، اتحاد بنے اور مسلسل انہونیاں وقوع پذیر ہوئیں، ان کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو آئندہ کے لیے محتاط ہونا پڑے گا، اور کوئی بھی قدم اٹھانے اور کچھ بھی فرمانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا ہوگا۔ یہ بات شاید اب ان پہ عیاں ہوئی ہوگی کہ آئیڈیل ازم اور حقیقت کی دنیا کے علیحدہ تقاضے ہوا کرتے ہیں۔ انسانوں نے چونکہ حقیقت کی دنیا میں جینا ہوتا ہے، اس لیے انھیں بہت سارے حقائق کا ادراک کرنا ہوتا ہے۔

مقاصد
ترجیحات
کمزوریاں
مجبوریاں
اسی طرح
حریفوں کی پھرتیاں
چالاکیاں
عیاریاں
اور سب سے زیادہ
نادیدہ قوتوں کی
ناکردیاں
دھمکیاں
اور کرم فرمائیاں

اس تناظر میں بڑھکیں مارنی چاہییں نہ ''میں نہ مانوں'' کی گردان کرنی چاہیے، اور نہ گردن میں سریہ ڈال کر اکڑ کر چلنے کی ضرورت ہے۔ ہر معاملےمیں خواہ اچھا ہو یا برا، مخالفین اور حریفوں پہ الزامات لگانا، مذاق اڑانا، طنز کرنا، انھیں ہر صورت غلط ثابت کرنا، برائی کا محور گرداننا، شیطان بنا کر پیش کرنا اور ان کے نزدیک پھٹکنا بھی اپنے ایمان اور غیرت کے منافی سمجھنا۔ کوئی غدار ہے، منافق ہے، چور ہے، ڈاکو ہے، بیماری ہے، سب بجا، مگر ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات بھی لانی ہوگی کہ کسی وقت کسی ضرورت اور مجبوری کے تحت اسے ہاتھ دیا بھی جا سکتا ہے اور ہاتھ تھاما بھی جاسکتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ اتنا دور نہیں جانا چاہیے کہ واپسی کا سفر مشکل ہوں۔ نہ خود انتہاپسندی کا شکار ہونا ہے اور نہ اپنے کارکنان کو انتہاپسندی کے راستے پہ ڈالنا ہے۔ اسی طرح کارکنان کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ''سیاست نہ برہمن ہے اور نہ سیاسی رہنما کوئی مہاتما''، وہ انسان ہے اور کمزور ہے، اور درج بالا حقائق اور مجبوریوں و کمزوریوں کی بناء پر وہ کسی بھی وقت180 زاویے پہ یوٹرن لے سکتا ہے، کل کی ''بیماری'' آج کا تریاق بن سکتا ہے، کل کا ڈاکو آج کا کھلاڑی مانا جاسکتا ہے، اس لئے بہت زیادہ ٹینشن لینے کی ضروت نہیں۔ اس بیچارے انسان کے کسی بھی غلط بات، رویے اور طرزعمل کو ہر ہر صورت درست ثابت کرنے میں ہلکان ہوئے رہنا مہنگا سودا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خلائی مخلوق اور رسوائی کا سامان - محمد ذیشان اعوان

لچک دار رویہ، مبنی حقائق طرزعمل، اور میانہ رو اور اعتدال پسند پالیسیاں تشکیل دینا ہی دانشمندی ہے، اور مروجہ سیاست کا تقاضا بھی۔

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں