نئے لکھاریوں کی مشکل - مولانا محمدجہان یعقوب

وہ مجھ سے اپنی تحریروں کی نوک پلک درست کرواتا رہا۔ پھر جب اس کے قلم میں کچھ روانی دیکھی، تو اپنے توسط سے کچھ اخبارات اور ویب سائٹس میں اس کی تحریریں بھی لگوائیں۔ پھر اس کا نام چل گیا اور وہ کافی چھپنے اور پڑھا جانے لگا۔ آج وہ مجھ سے ملا تو کافی فکرمند نظر آیا۔ اس کا مدعا سنا، تو اب فکرمند ایک نہیں دو تھے اور جب یہ تحریر آپ پڑھیں گے، تو امید ہے کہ آپ بھی اس فکر کا حصہ بن جائیں گے۔

اس کا کہنا تھا کئی جامعات، مدارس اور ادارے ایسے ہیں جو اسلامی آئیڈیالوجی کے حامل لوگوں کی تحریری میدان میں تربیت کر رہے ہیں۔ ان کے زیراہتمام ورکشاپس، صحافت و کالم نگاری کورسز اور کئی رجال کار کی انفرادی محنت سے اسلامی و دینی سوچ رکھنے والوں بالخصوص نوجوان لکھاریوں کی ایک بڑی کھیپ وجود میں آ چکی ہے۔ یہ پکا ہوا پھل یا تو ضائع ہو رہا ہے، یا غیروں کی جھولیوں میں گر رہا ہے۔ ضائع تو یوں کہ ان لکھاریوں کو تربیت تو فراہم کر دی جاتی ہے، لکھنا تو سکھا دیا جاتا ہے، لیکن اس سے آگے ان کی کوئی رہنمائی نہیں کی جاتی، کہ ان کی تحریریں اپنے توسط سے لگوائی جائیں، انھیں متعارف کرایا جائے، ان کی شناخت پیدا کرنے میں ان کی معاونت کی جائے، بلکہ اب اگر کوئی اپنی محنت سے آگے بڑھ پایا، تو اس کا نصیب، اور ایسے درجنوں میں ایک آدھ ہی ہوتے ہیں، ورنہ اکثر مسلسل تحریروں کے رد ہوجانے کی وجہ سے اس کوچے کو ہی خیرباد کہ دیتے ہیں، یوں ان پر کی گئی محنت کا کوئی دل خوش کن نتیجہ نہیں نکل پاتا۔ غیر کی جھولیوں میں جانے کی وضاحت کے بجائے صرف ان لبرل و سیکولر دانشوروں اور اہل قلم کا تصور کر لیں، تو بات واضح ہوجائے گی، جنھوں نے تربیت تو دینی اداروں سے حاصل کی، ان کی صلاحیتوں کو صیقل اسلامی آئیڈیالوجی اسکولز نے کیا، اور جب یہاں انھیں خاطر خواہ پذیرائی نہ ملی، تو ان کی سیماب صفت طبیعت یا دل ودماغ میں رچا بسا ناموری کا جرثومہ، انھیں غیروں کی نگری میں لے گیا۔ ایسے لوگ آپ کو اپنے گرد و پیش اور سوشل میڈیا پر بڑی آسانی سے مل جائیں گے، نام لینے کی ضرورت نہیں۔

بہرحال دونوں صورتوں میں محنت ثمرآور نہیں ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے، جس کا اس نے ذکر کیا کہ تربیت تو دے دی، صلاحیتوں کو تو جگایا، کوچہ تحریر کی غواصی کا ہنر تو سکھا دیا، لیکن اس نئے ہیرے کو کہیں متعارف نہ کرایا، اس کی محنت کو بار آور و ثمر بار کرنے میں اپنے تعلقات، اپنی سنیارٹی اور اپنے تجربات کا استعمال نہ کیا۔ اس کا کہنا تھا، اس رجحان کا نتیجہ یہ ہے کہ جب تک کسی اخبار، رسالے، آرگن، ویب سائٹ وغیرہ میں ہمارا ہم خیال مدیر ہوتا ہے، ہماری تحریریں شائع ہوتی ہیں، اس کے جانے کے ساتھ ہی وہ میدان ہم سے چھن جاتا ہے۔ اس نے ایسی کئی مثالیں دیں، خود میرا بھی یہی مشاہدہ ہے۔ کئی میدان اور کئی پلیٹ فارم جہاں ہم ہی ہم نظر آتے تھے، آج وہاں چراغ لے کر ڈھونڈھنے سے بھی نظر نہیں آتے، وجہ مدیر کی تبدیلی۔ حالاں کہ ہر مدیر کا نظریہ یہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی تحریرکی اشاعت و عدم اشاعت کا فیصلہ تعلق کو دیکھ کر نہیں، بلکہ خالص میرٹ کی بنیاد پر کرے۔ مگر کیا کیجیے کہ یہ دور کام والوں کا نہیں، نام والوں کا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی نئے لکھاری کو نامور بننے میں طویل عرصہ لگتا ہے، ہاں! اس کے بڑوں، جہاں سے اس نے تحریرکی تربیت حاصل کی ہے، کی سرپرستی سالوں کی مسافت دنوں میں طے کرا سکتی ہے۔

صاحبو! اس کی فکر اور اس تحریر کا واحد مقصد ان حضرات کو، جو اسلامی آئیڈیالوجی کے حامل افراد کو تحریرکے فن سے آراستی کرنے کا عظیم مشن سنبھالے ہوئے ہیں، ان کی اس ذمے داری کی جانب متوجہ کرنا ہے، کہ ابھی آپ کا کام ختم نہیں ہوا۔ پھل کے پکنے کے بعد اس کی حفاظت اور اس کو قدردانوں تک پہنچانا بھی پھل کے مالک کا فریضہ ہوتا ہے۔ سو آپ اس حوالے سے غور ضرور کیجیے کہ آپ کی محنت شاقہ و مساعیٔ جمیلہ کے نتیجے میں تیار شدہ پھیل کہیں ضائع تو نہیں ہو رہا؟ یاغیر کی جھولی میں تو نہیں گررہا؟ اگر ایسا ہے، اور یقیناً ہے، تو اس کے تدارک کے لیے آپ کے پاس کیا لائحہ عمل ہے؟ اس کا آپ کیا حل تجویز کرتے ہیں؟ اگر ہم اسی طرح صرف رجال کار کی تیاری پر ساری توجہ مرکوز کر کے اس سے اگلے مراحل سے تغافل عارفانہ برتتے رہے، تو کہیں زمانے کے فساد در فساد کی وجہ سے دن بہ دن ہم اپنے مقاصد کے حصول سے دور تو نہیں ہوتے چلے جائیں گے؟

ابتدائی طور پر ہمارے ذہنِ نارسا میں یہ تجویز آتی ہے، کہ ہمیں باہمی رابطوں کو وسعت دینی چاہیے۔ اپنے طلبہ کو نامور اداروں میں اپنے توسط سے بھیج کر انھیں متعارف کرانا چاہیے۔ نئے لکھاری کی تحریر کی نوک پلک درست کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مختصر سے تعارفی لیٹر کے ساتھ اس کی وہ کاوش مدیر کو بھیجنی چاہیے۔ جو احباب مختلف اخبارات، رسائل، آرگنز، میگزینز، ویب سائٹس وغیرہ کے ساتھ عملی طور پر منسلک ہیں، ان کے توسط سے ان اداروں تک اپنے طلبہ کی رسائی کے لیے ان کی مدد کرنی چاہیے۔ سینیئر اہل قلم کو جونیئرز کی رہنمائی کرنی چاہیے، انھیں مشورہ دینا چاہیے کہ وہ اپنی تحریر کس طرح تیار کریں اور کہاں بھیجیں، تو وہ شائع ہوجائے گی۔

یہ کام کسی ایک فرد کا نہیں۔ ایک اکیلا دو گیارہ، کے مصداق ہم سب، یعنی مدیران، منتظمین ادارہ، سینیئرلکھاریوں، صحافیوں اور کالم نگاروں کو اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کرنی چاہییں، تاکہ اس سلسلے میں ایک اجتماعی سوچ وجود پذیر ہو اور یہ کام سوچ سے عمل اور فکر سے وجود کے مراحل طے کرے۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں