ہمیں آمریت ہی سوٹ کرتی ہے۔ سید معظم معین

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں قوم کو متحد دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔
اپنے انتہائی عزیز دوستوں کے منہ سے جھاگ اڑتی دیکھنا اور کھنچی ہوئی باچھیں دیکھنا میرے لئے سخت اذیت ناک عمل ہے اور قوم کو متحد میں صرف آمریت کے دوران دیکھتا ہوں تو کیوں نہ آمریت کو پسند کروں۔۔۔؟

جمہوریت پتا نہیں ہم کب سیکھیں گے۔ شائد ہمیں آمریت ہی سوٹ کرتی ہے۔ جمہوریت میں ہم آپس میں جتنا کٹے پھٹے ہیں اس سے ذیادہ آمریت میں ایک دوسرے کے دست و بازو بنتے ہیں۔
You
سینٹ کے الیکشن تھے۔ سب ایک دوسرے پر نجانے کیا کیا الزامات لگاتے رہے۔ کوئی کسی دوسرے کا نکتہ نظر سننے سمجھنے کو تیار ہی نہیں۔ کیا کسی نے کبھی کسی کو سوشل میڈیا پر قائل ہوتے دیکھا ہے۔ بس ایک دھینگا مشتی ہے جو جاری ہے۔ سب اپنا اپنا سچ بولنا اور سننا چاہتے ہیں۔ جو کام خود کرتے ہیں وہی دوسرا کرے تو اسے معطون ٹھہراتے ہیں۔ کوئی کسی دوسرے کو سننے کے لئے تیار نہیں اور اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہمارے دانشور بجائے اس کو سلجھانے کے اور عوام کی درست سمت رہنمائی کے بذات خود دوسروں سے زیادہ اس آگ کو بھڑکانے میں مصروف ہیں۔

اس میں کیا برا ہے کہ سب سیاستدان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی پر سوچ بچار کریں۔ کیا اپوزیشن صرف یہی ہے کہ سڑکوں پر ایک دوسرے کی مٹی پلید کی جاتی رہے۔ کہیں خواتین کی عزت اچھالی جا رہی ہے۔۔۔کہیں کوئی جوتے اچھال رہا ہے۔۔۔ کوئی دوسرے کے منہ پر سیاہی مل رہا ہے تو کوئی تھپڑوں کی بارش کر رہا ہے۔۔۔ کوئی الفاظ سے تو کوئی عملی طور پر۔۔۔ یہ سب وہی ہے جو ہمارے سیاستدان جنھیں ہم اپنا لیڈر مان چکے ہیں ہمیں سکھاتے ہیں۔ جہاں جاؤ جہاں بیٹھو ملک کے اندر یا ملک سے باہر۔ سوشل میڈیا ہو یا انفرادی میڈیا ہر جگہ لڑائی مار کٹائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ملاقاتیں بڑھائیں، ملنا آسان بنائیں - محمد عاصم حفیظ

ملک کے مختلف صوبوں میں پارٹیاں ایک دوسرے سے بات چیت کرتی ہیں اور سیاست میں یہی ہوتا ہے۔ ہمارا طرز عمل کیا ہے کہ اگر میری پارٹی بات چیت کرے تو درست اور کمال کی سیاست۔۔۔ اگر مخالف یہی عمل کرے تو وہ منافق ٹھہرتا ہے۔ کیا منافقت یہی ہے۔ ذرا ٹھہر کر غور ضرور کیجئے۔

ہم کیوں اس وقت کا انتظار کرتے ہیں کہ آمریت آئے تب ہی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں گے۔ جمہوریت کا نعرہ ہم سب بلند کرتے ہیں مگر جمہوریت میں تو بات چیت ہوتی ہے ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت بھی ہوتی ہے کچھ لو کچھ دو کے تحت معاملات باہمی طور ہر طے پاتے ہیں۔ اگر ہمیں جمہوریت عزیز ہے تو ہم اپنے لیڈروں کو مجبور کیوں کرتے ہیں کہ وہ مخالف پارٹی کے ساتھ بات بھی نہ کرے۔ کیا یہی جمہوری طرز عمل ہے۔ بھائی سونے میں ڈھلے اور دودھ کے دھلے لوگ تو نہیں ملیں گے جو ہیں انہی سے بات کرنا ہو گی۔ کون سی پارٹی ہے جس میں وہ برائی نہیں جو ہم مخالف پارٹی میں نکالتے ہیں۔۔۔ مل جل کر راہ نکالنی ہو گی۔۔۔ اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں مگر بات چیت گفت شنید سے راہ نکالنے کا سوچیں۔ جمہوریت ایک لمبی راہداری ہے نسلوں تک چلتی ہے تب جا کر منزل ملتی ہے ہم ایک الیکشن میں سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے لیڈر کے ہاتھوں ہی کرنا چاہتے ہیں۔

کیا یہ سب یوں ہی چلتا رہے گا ہر چھوٹے بڑے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا جہاد کرتے رہیں گے ایک دوسرے کے لیڈر کی مزاحیہ پوسٹیں بناتے رہیں گے۔ اس سے ہم معاشرے میں کیا ویلیو ایڈ کر رہے ہیں ۔کیا ہم ایک دوسرے پر کیچڑ اور سیاہی اچھالنا بند نہیں کر سکتے اور آگے کا سوچ نہیں سکتے۔ ہمارا دشمن بہت زیادہ ہوشیار ہے اور ہم سے زیادہ ہمارے مستقبل کے متعلق سوچتا ہے۔ ملک میں ترقی کا عمل شروع ہے لوگوں کی نظریں یہاں پر گڑی ہیں CPEC ایک استعارہ ہے یہ محض ایک سڑک نہیں خطے کی سٹریٹجک ضرورت ہے۔ دشمن اس کو ناکام بنانے میں دن رات مصروف ہے۔ تری برباد یوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔ یہ سڑک سڑک ہی رہ جائے گی اگر ہمارے نوجوانوں نے آگے بڑھ کر اس میں حصہ نہ لیا اور دوسرے آکر ملائی کھا جائیں گے۔ غیر ہماری سڑک سے فوائد کشید کرنے کے منصوبے سوچ رہے ہیں اور ہمارا نوجوان مخالفین کے خلاف پوسٹیں تخلیق کرنے میں مصروف ہے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ یہ آپس میں دست و گریبان رہیں اور تیرا کتا کتا اور میرا کتا ٹامی کھیلتے رہیں اور چپ چاپ وہ ان کے ہاں کا مال بھی سمیٹ کر لے جائیں۔ ذرا خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ سوچ کو بلند اور ویژن کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوالات جن سے دل میں گناہ کا احساس ہوتا ہے - فرح رضوان

اگر نہیں سمجھیں گے تو پھر لوگ یہی کہیں گے کہ فوج کو آنے دو تب سیاستدان بھی بھائی بھائی بن جائیں گے اور کارکنان بھی۔ ملک ترقی بھی کرنے لگے گا اور سیاسی کارکن بھی مل جل کر رہیں گے۔ اسی لئے کہتا ہوں کہ ہمیں آمریت سوٹ کرتی ہے۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.