عورت ایک مثلِ بےمثال - مزنہ سید

عورت ایک مثلِ بے مثال ہے، کیونکہ اس کا وجود ہر روپ میں ڈھل کر باعثِ شفقت، باعثِ رحمت اور باعثِ افتخار ہے، چاہے وہ ماں کاروپ ہو یا ایک بیٹی کا، بہن ہو یا ایک بیوی، یہ وہ وجود ہے جو بےلوث محبت اور ایثار و قربانی کے جذبات سے لبریز ہے، جس کی گود ممتا کے احساس میں ہو تو اولاد کے لیے ٹھنڈک بن جاتی ہے، بیوی کے روپ میں ڈھل جائے تو مرد کی کامیابیوں کے تمام راز اپنے وجود میں سمیٹے اِس کے لیے باعثِ افتخار بن جاتی ہے اور ایک بہن کے روپ میں ہو تو اِس کی ہمت بن جاتی ہے اور ایک بیٹی کے روپ میں اللہ کی رحمت بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت ایک مثلِ بے مثال ہے کیونکہ یہی وہ ہستی ہے جس نے اس قوم کو بڑے اور روشن مستقبل کے معمار دیے، جن کی روشنی نے اس قوم کو اندھیروں سے نکالنے میں مدد دی جو اعلٰی مقام پر پہنچ کر اس قوم کی ترقی کا باعث بنے۔

عورت کے حقوق کیا ہیں؟ کیا اس عورت کو ہمارے معاشرے میں وہ مقام حاصل ہے جو اِس کا حق بنتا ہے؟ کیا اِس کو وہ حقوق مل رہے ہیں؟ حقو قِ نسواں کے دن پر ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ، خصوصاؒ ہمارا حکمران طبقہ جو بل بھی لایا تو ایسا کہ جو عورت کے حقوق سے زیادہ عزت اور چار دیواری کے لیے خطرے کا باعث بن گیا، جو کہ ایک ایسے معاشرے کے قیام کا سبب بن سکتا تھا جو مغرب کا قائم کردہ ہے، اور خود ان کے معاشرے میں بے راہ روی کو فروغ دیتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ عورت کی ذات خود اپنے مذہبی اور معاشرتی حقوق سے ناواقف ہے، چاہے وہ سادہ سی عام سی گھریلو عورت ہو یا ایک پڑھی لکھی باشعور عورت، دونوں ہی اپنے حقوق سے لاعلم نظر آتی ہیں۔ ایسی ہی ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی کی کہانی میری نظروں سے گزری تو علم ہوا کہ ہمارے معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ بھی بہت سی باتوں سے لاعلم ہے۔

یہ کہانی میری دوست کی بہن کی زندگی کی ہے۔ زندگی کے اس سفر میں جس میں انسان سب سے زیادہ منتظر جس شخص کا ہوتا ہے، سب سے زیادہ چاہ جس ہمسفر کی کرتا ہے، اگر اس ہی کے قدم سرِ راہ سفر میں ڈگمگانے لگیں تو اس کچے رشتے کی ڈوریں الجھتی چلی جاتی ہیں اور کبھی تو یہ ڈور ایسے الجھتی ہے کہ سارے موتی بکھر جاتے ہیں اور پھر ساری زندگی بھی ان کو سمیٹنے میں کم پڑ جاتی ہے۔ اس کے خواب بہت معصوم سے بہت سادہ سے تھے جیسے ہر لڑکی کے ہوتے ہیں، ایک پیار کرنے والاشوہر، ایک چھوٹا سا گھر جہاں صرف اس کی حکومت ہو۔ جیسے ہی اس کا یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تو ماں باپ کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہوگئی۔

زینب ایک باسلیقہ اور سگھڑ لڑکی تھی، ذائقہ تو اس کے ہاتھوں میں بہت تھا، کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ جاتے، بہت جلد ہی اس کا رشتہ پکا ہوگیا اور اس کی شادی اس کے خاندان میں ہی اس کے ابو کے کزن سے ہوگئی۔ شادی کے بعد اسے پتہ چلا کہ ذاکر نفسیاتی ہے کیونکہ وہ بہت ریزروڈ رہنے والے لوگوں میں سے تھا اور خاندان میں اس کا بہت ہی کم آنا جانا تھا، کبھی کبھار ہی مشکل سے کسی شادی میں نظر آجایا کرتا تھا، اسی لیے سب اسے اپنی دنیا میں مگن رہنے والا شخص سمجھتے تھے۔ زینب ذاکر سے زیادہ پڑھی لکھی تھی، وہ انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہی تھی، جبکہ ذاکر نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کے بعد اس نے دکان پر بیٹھنا شروع کر دیا حالانکہ اس کے باپ بھائی پڑھے لکھے تھے، لیکن فرسٹ ائیر کےامتحانات میں ایک بار فیل ہونے کے بعد اس کے دل میں ناکامی کا خوف بیٹھ گیا اور وہ دوبارہ ہمت نہ کر پایا، اِس کے باوجود وہ بہت اچھی انگریزی بولتا اور لکھتا تھا، بہت اچھے سے بات کرنے والے الفاظ اس کے ایسے شگفتہ کہ دل میں اتر جائیں، بہت ہی اچھا لہجہ، اس کی پوری فیملی پڑھی لکھی تھی۔ وہ زینب سے عمر میں بھی بارہ سال بڑا تھا، منگنی کے بعد ان کی بات چیت رہی، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو اچھا خاصا سمجھ گئے تھے۔ لیکن میاں بیوی شادی سے پہلے جتنا بھی ایک دوسرے کو سمجھ لیں، اصل حقیقت بعد میں ہی سامنے آتی ہے۔ بڑے بوڑھوں کے مطابق جب تک میاں بیوی ایک چھت کے نیچے ایک ساتھ نہیں رہتے، ایک دوسرے کو جان نہیں سکتے۔

زینب کے والد نے اپنے دادا پر اندھا اعتبار کر کے بیٹی دے دی، اِس شخص کے بارے معلوم کروانے کی بھی زحمت نہ کی، یہ سوچ کر کہ خاندان کا لڑکا ہے۔ زینب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، دونوں کے درمیان تعلیم کے فرق کی وجہ سے ذاکر احساسِ کمتری میں مبتلا رہنے لگا، اور دونوں کےدرمیان عمر کا فرق بھی بہت تھا۔ زینب اس سے بہت کم عمر اور خوبصورت تھی۔ وہ اپنا رُعب جھاڑنے کے لیے اس کے کھانے میں نقص نکالنے لگا کہ اتنا پڑھ لکھ کر بھی اسے کھانا بنانا نہیں آتا، حالانکہ شادی سے پہلے ذاکر اور اس کی ماں ہی تھے جو زینب کے کھانوں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔ شروع میں تو زینب خاموش ہوجایا کرتی تھی، لیکن پھر کبھی وہ اتنی کنفیوز ہو جاتی کہ اسے سمجھ نہ آتا کہ کیا کتنا ڈالے، پھر یہی موقع اس کی ساس کو بھی ملنے لگا تو انھوں نے بھی ذاکر کے کان بھرنا شروع کر دیے۔ آہستہ آہستہ ذاکر نے زینب پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا، زینب سے رہا نہ گیا، اُس نے یہ بات اپنی ماں سے کر دی، اس کی ماں نے ذاکر کو سمجھانے کی کو شش کی تو اُس کی مردانگی کو ٹھیس پہنچ گئی تو اُس نے ضد میں آکر زینب کو پیٹنا شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت برائے فروخت؟ عبدالباسط ذوالفقار

شادی کے بعد سے وہ ایک پرائیوٹ کالج میں جاب کرنے لگی تھی، وہ اِس پر بھی شک کرنے لگا، جب ِاس نے جاب چھوڑنے کا کہا تو اسے وہ بھی نہ کرنے دیا۔ اس شخص کی نفسیاتی کیفیت ِاس وقت زینب کے سامنے آئی جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ برگر کھانے گئی، اس پر اس نے یہ کہہ کر اعتراض کرنا شروع کر دیا کہ لوگ تو نہیں جانتے کہ یہ تمہارا بھائی ہے۔

شادی کے تین ماہ بعد ہی وہ پریگننٹ ہوگئی تو اس کا سارا کھانے پینے کا خرچہ، دودھ کے ڈبے، ڈاکٹروں کی فیس، سب اس کےگھر والے دینے لگے۔ جسمانی اذیت تو تھی ہی تھی، اب وہ ذہنی اذیت سے بھی گزر رہی تھی، اب تو اس کے گھر والوں کے سامنے بھی اِس کی عزت نہ رہی تھی، اس کی عزتِ نفس بہت بری طرح مجروح ہوکر رہ گئی تھی۔ جو تھا جیسا بھی تھا، وہ اکیلے سہہ رہی تھی لیکن اب اس کا گھر بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس کا باپ ایک اسکول ٹیچر تھا، اپنی بیٹی کو تعلیم تو دلوا دی لیکن اس کے نصیب نہ بدل سکا۔ اب تو نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ وہ اس کی مار کے ڈر سے واش روم میں چھپ جایا کرتی تھی۔ حالات نے اسے اس حد تک مجبور کر دیا کہ ننگے پاؤں، خالی ہاتھ تین ماہ کے حمل کے ساتھ اس گھر کو چھوڑ کر وہ اپنی ماں کے گھر آگئی، اور خلع کا مطالبہ کر دیا۔ وہ اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھی جو خود اپنے شوہر سے خلع لے رہی تھی۔ یہ بات پورے خاندان کے لیے ناقابلِ قبول تھی، اچھے سے اچھے پڑھے لکھے اور خاندان کے مذہبی لوگ بھی اس بات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اِس پر ذاکر بدلہ لینے کے لیے اس حد تک گر گیا کہ اس ننھی منھی سی جان کو جو ابھی تک اس دنیا میں آئی بھی نہ تھی، اپنا بچہ ماننے سے انکار کردیا، تاکہ اس کا خرچہ بھی نہ اٹھانا پڑے اور پالنے پوسنے کی دیگر ذمہ داریاں بھی اس کے گلے نہ پڑیں۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد جب زینب نے طلاق کا مطالبہ کیا تو ذاکر نے صاف انکار کر دیا، کہ نہ وہ اسے اپنائے گا اور نہ ہی طلاق دے گا اور اگر اتنا شوق آ رہا ہے تو عدالت سے طلاق لے لے۔ پہلی بار ماسٹر صاحب کو بہت بے بس اور مایوس دیکھا تھا، مرد جتنا بھی بہادر ہو، بیٹی کا غم اُسے بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔

اپنے ماں باپ کی مجبوری کو دیکھ کر وہ دوبارہ ذاکر کے پاس جانے کو تیار ہوگئی، لیکن سال گزر گیا، وہ نہ اسے لینے آیا نہ اپنی بیٹی کو دیکھنے اور نہ ہی اس کا خرچہ بھجوایا۔ یہ دن رات زینب کے لیے بہت کٹھن تھے، لوگوں کی باتیں، ماں باپ کی آنکھوں سے چھلکتی بے بسی اور اپنے دل ودماغ کی جنگ، اپنائے جانے اور چھوڑے جانے کی اِس جنگ کے دوران وہ بہت اذیت سے گزر رہی تھی۔ کچھ لوگ اِسے ترس کی نگاہ سے دیکھتے، تو کچھ طنز کی، ایسی کشمکش میں اُس نے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تو اسے خاندان بھر کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وکیل کی فیس اور عدالت کے دیگر خرچے اس کے باپ نے اٹھائے- عدالت نے اسے طلاق تو دلوا دی لیکن اس کی بیٹی کا خرچہ اس کے باپ سے نہ نکلوا سکی۔ خلع لینے کے مطالبہ سے اُسے خاندان بھر میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، پھپُھو نے اپنے بیٹے سے کی ہوئی زینب کی بہن کی منگنی یہ کہہ کر توڑ دی کہ بڑی بہن گھر نہ بسا سکی تو چھوٹی کیا بسائے گی، اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ گئی اور بے شرمی تو دیکھو طلاق مانگ رہی ہے، شوہر کے پاس چھ ماہ سے زیادہ تو ٹکی نہیں اور نہ جانے کیا کیا انھوں نے الزام لگائے اور باتیں کرنے میں کوئی حد نہ چھوڑی۔ اس کے ماموں مولوی تھے، لیکن انھوں نے بھی زینب کے اس حق کو استعمال کرنے پر سخت ناگواری ظاہر کی، یہ وہ حق تھا جو اس کے مذہب نے اسے دیا، اللہ رسول نے اسے دیا تو اس کا استعمال کرنا ہی اس اسلامی معاشرے میں اس کے لیے بدنامی کا باعث بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مرد و خواتین کی برابری کے لیے بنیادی اقدامات - نور الہدیٰ شاہین

طلاق بلاشبہ ایک بدترین فعل ہے لیکن یہ گناہ یا ناجائزعمل نہیں ہے۔ یہ کام جب اللہ نے حلال کیا ہے، تو ہمارا معاشرہ کیوں اِسے اس طرح سے پیش کرتا ہے جیسے یہ کوئی حرام کام ہے۔ خود آپ ﷺ کے زمانے میں طلاق ہو جاتی تھی۔ جب دو لوگوں کا ایک ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنا ممکن نہ رہے تو ایک دوسرے کو اذیت دینے سے بہتر ہے بھلے طریقے سے رستہ بدل لیں۔ لیکن ہمارے معاشرے نے اپنے ہی اصول بنا لیے ہیں جہاں طلاق، خلع، شادی اور جائیداد میں عورت کے حقوق جیسے معاملات کی بات آتی ہے، تو یہ معاشرہ عورت کے ہر مقام کو بھول جاتا ہے، چاہے وہ ماں ہو، بیٹی ہو، بہن ہو یا بیوی، یاد رہتا ہے تو اس کا ایک بےضرر سی عورت ہونا، حتی کہ مہر کی رقم جو کہ عورت کا حق ہے، وہ بھی اکثر لوگ شادی کی پہلی رات ہی معاف کروا لیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہ عورت خود اپنے حقوق نہیں جانتی، تو مطالبہ کیا کرے گی یا مانگے گی کیسے؟ اسے مذہب کا نام استعمال کر کے اس کا حق نہیں دیا جاتا، حالانکہ جتنے زیادہ حقوق اور آزادی اسلام نے عورت کو دی ہے، وہ کسی دوسرے مذہب نے نہیں دی۔سورۃ بقرہ، سورۃ نساء اور سورۃ آل عمران میں عورت کے حقوق اور اس کے مسائل کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 229 میں اللہ نے عورت کو اپنے شوہر سے کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرنے کا حق دیا ہے۔
ترجمہ : طلاق دو بار ہے یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کرتے ہوئے تمہارے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے جو کچھ تم انھیں دے چکے ہو، اس میں سے کچھ واپس لے لو البتہ یہ صورت مستشنٰی ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو، ایسی صورت میں اگر تمھیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اِن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہرکو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدودِ الہی سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔ ( البقرہ2: آیت نمبر 229) ۔

اسی طرح عدت کے معاملات میں اور بیوی کی حیثیت سے عورت کے جو حقوق بنتے ہیں، وہ سب بہت واضح ہیں۔ اسلام میں مرد کی طرح عورت پر بھی تعلیم حاصل کرنا فرض ہے، ہمارے یہاں عورتیں بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، تعلیم کے حصول اور نوکری حاصل کرنے کے لیے گھروں سے باہر نکلتی ہیں، کبھی اپنے شوہر کا سہارا بننے کے لیے، تو کبھی اپنی اولاد کی ضروریات کے لیے، وہ پبلک ٹرانسپورٹ سے لے کر باہر کے لوگوں تک کا رویہ برداشت کرتی ہیں۔ ان کی عجیب نظروں اور چبھتے سوالات کو سہتی ہیں، پھر کہیں جاکر وہ اپنی اولاد اور اس معاشرے کو تسخیر کر پاتی ہیں۔ لیکن علم و شعور رکھنے کے باوجود یہ اپنے حقوق سے لاعلم ہیں، ان کو اپنے حقوق کا علم اور اس کا صحیح سے استعمال کرنا آنا چاہیے تاکہ وہ اپنا تحفظ خود کر سکیں۔

ہمارے معاشرے کا سب سے خوبصورت اور حسین پہلو باپ اور بیٹی کا پیار بھرا انمول اور بے لوث رشتہ ہے۔ یہ وہ پاکیزہ اور چاہت بھرا رشتہ ہے کہ بیٹی اپنے باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے باپ ہیں جو بیٹوں سے کہیں زیادہ بیٹی کو لاڈ دیتے ہیں، پھولوں کی طرح یہ کلیاں باپ کے آنگن میں مہکتی ہیں کھلتی ہیں، پنپنے کے بعد کوئی اور دیس سدھار لیتی ہیں۔ بہت سے باپ بہت چاہ سے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلواتے ہیں کہ وہ بھی ڈاکٹر اور انجینئر بنیں تو ان کے لیے قابلِ فخر بنیں گی۔ آج بھی بھائی بہنوں کا مان ہوتے ہیں اور بہنیں ان کا غرور، تو آج بھی بیوی اپنے مرد کا لباس، اُس کی راحت اس کی چاہت ہوتی ہے۔ آج بھی ہمارا معاشرہ ان بے لوث سچی محبتوں کے جذبات سے بھرا ہوا ہے، بس ایسی پیار کے ساتھ ان رشتوں کا پاس رکھنا بھی سیکھنا ہوگا، عورت کو اس کے جائز مذہبی اور معاشرتی حقوق دے کر تا کہ ہمارا معاشرہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی طرح ترقی بھی کرسکے اور مساوات کی مثال بھی بن سکے۔