اپنے اپنے غم - عقیلہ اظہر

توقیر صاحب کے گھر کے آگے پہلے کچھ گاڑیاں رکنے کی آواز آئی، پھر ایک بڑی سی وین کا دروازہ کھلنے کے ساتھ چند لوگوں کی دبی دبی آوازیں آئیں۔ اندرجمع عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، کوئی بولا:
"شاید میت آگئی۔"
اور اس کے ساتھ ہی ماں کی چیخ اور دوسرے رشتہ داروں کی سسکیاں و نالے دل کے پار ہونے لگے۔ بات بھی تو کچھ ایسی ہی تھی کہ دل شق ہوجاتے، کون جانتا تھا، توقیر صاحب کا بچہ تفریح کرنے نہیں بلکہ ملک الموت کے پاس جا رہا ہے۔ چند دوستوں کے ساتھ پکنک کا پروگرام بنا، کالج کے چار لڑکے تھے۔ تیرتے تیرتے سمندر میں کچھ آگے نکل گئے، اور پھر ماں باپ نے بچے کا مردہ منہ ہی دیکھا۔ انجیئر نگ کے آخری سال میں تھا۔ نومی اپنے والدین کا بڑا لڑکا تھا اور عین اس وقت ساتھ چھوٹ گیا جبکہ ماں باپ سمجھ رہے تھے، ان کا پودا اب برگ و بار لانے والا ہے۔

سب آبدیدہ تھے۔ شاید ہی کوئی سنگ دل ایسا ہو کہ اس جوان موت نے جس کا کلیجہ نہ ہلا دیا ہو۔
"ہائے میرا گلو ایسے ہی چلا گیا تھا۔ ہائے ہائے......ـ" توقیر صاحب کی ایک عزیزہ تڑپ رہی تھیں۔ دراصل ان کا اپنا بیٹا بھی ایک حادثاتی موت کا شکار ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان کے منہ سے اس وقت نومی کے بجائے بار بار گلو کا نام نکلتا تھا۔ ان کے قریب بیٹھی مسز ربیری اپنے قریب بیٹھی عورت سے بولیں:"ان کا بیٹا بھی اسی طرح جوان جہان اچانک بچھڑ گیا تھا۔"
"اوہو، جب ہی اتنا تڑپ رہی ہیں، دل جو دکھی ہوا۔ مسز زبیری کی مخاطب خاتون سے کہہ رہی تھیں۔
میرا گلو تو صحت کا بھی اتنا اچھا تھا کہ بیمار ہی کبھی نہیںہوا۔ ارے اس سے تو اچھا تھا کہ بیمار پڑ جاتا، لوٹ پوٹ کے ٹھیک ہوجاتا۔ ارے مولا ، لیکن وہ تو اُٹھ گیا فرشتہ بن کر۔"جتناجتنا گلو کی ماں تڑپ رہی تھیں، ان کے پاس بیٹھی مسز زبیری کی ہچکیاں بھی بڑھتی جارہی تھیں۔
"بہن صبر کرو۔ نہ ہو ہلکان اتنا۔"مسز زبیری گلو کی امی کو دلا سا دے رہی تھیں۔ حالانکہ سچ پوچھو تو وہ ان سے زیادہ تسلی دینے کی مستحق تھیں۔ پھر بول پڑیں:
"موت کا کچھ پتا نہیں۔ میری والدہ تو آرام سے بیٹھی مجھ سے باتیں کررہی تھیں کہ اچانک لڑھک گئیں۔ڈاکٹر کو بلایا تو کہنے لگا یہ تو ختم ہوگئیں۔ اﷲ کوئی اس طرح بھی مرتا ہوگاجس طرح اماں گئیں"منہ پوچھ کر دوبارہ کہنے لگیں۔

اور پھر ہماری ماں جیسی ماں اﷲ ہر ایک کو دے ایسی شفیق اور منتظم کے خاندان میں کوئی کام ان کے مشورے کے بغیر ہو ہی نہ پاتا کسی کے گھر شادی تو مجال ہے کہ اماں کی سرپرستی میں نہ ہو کوئی بیمار تو ڈاکٹر حکیم الگ اور اماں کے چٹکلے الگ ہر بات ہر مسئلے پر سب کے کام آنامسز زبیری یوں خلا میں غور رہی تھی کہ کیسے ان کی ماں کی شبی ان کو نظر آرہی ہو۔

اماں کی تو عادت یہ تھی کہ اپنا پرایا نہیں دیکھتی تھی ایک دفعہ ٹرین کے سفر میں ایک عورت کو دورہ پڑ گیا، سب عورتیں ڈر کر الگ ہوگئیں، لیکن اماں نے اُس عورت کو پانی پلایا ہاتھ پیر دبائے اور جب تک وہ ٹھیک نہ ہو گئی اُس کا سر گود میں لئے بیٹھی رہی کچھ کہہ لینے سے مسز زبیری کی سسکیاں ذرا ٹھہر گئی تھیں۔
"گلو بھی ایسا ہی تھا" ایک دفعہ اس نے اپنی جیب خرچ سے ایک لڑکے کی کتابوں کے پیسے دئیے ہمیں تو پتا بھی نہیں تھا اس کے انتقال کے بعد وہ لڑکا آیا تب اُس نے بتایا آج بھی وہ گلو کا احسان مند ہے اکثر آتا ہے اور گھنٹوں گلو ہی کی باتیں کرتا ہے ـ"گلو کی ماں نے کہا۔

ادھر توقیر صاحب کے بیٹے کی سفر آخرت کی تیاریاں ہورہی تھیں، بیگم توقیر کا تڑپنا دیکھا نہ جاتا تھا۔ کلیجہ کے ٹکڑے کا یوں بچھڑ جانا قیامت صغری سے کم نہ تھا، سب کے دل شک تھے، باپ مرد تھے اور مضبوط تھے، لیکن اس وقت معصوم بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔
حسینہ آپا نے بیگم توقیر کو گلے لگا لیا۔ اور انہیں سمجھانے لگیں۔
"ارے بہن! سب وقت کی بات ہے، خدا ہر زخم وقت کے ساتھ ٹھیک کر دیتا ہے، مگر دیکھو آج تک ہمارے بڑے بھائی کہ پتا نہ چلا کہ زندہ ہے یا مر گئے ایسے گمشدہ ہوئے کہ کچھ نہیں کہہ سکتے جس کشماکش سے ہم بہن بھائی گزر رہے ہیں اس میں خدا دشمن کو نہ ڈالا۔ حسینہ آپا صحیح کہ رہی تھی اس سے بڑی ذہنی کوفت کیا ہوگی کہ کسی کا پتا ہی نہ چلے۔
حسینہ آپا نے آنسو پوچھے اور پاس بیٹھی ہوئی دردانہ سے پوچھنے لگیں۔
"کچھ نہیں کہتے، ڈاکٹر کچھ نہیں بتاتے، خالہ جان کیا ہمارے ابو ہمیں چھوڑ جائیں گے۔ دردانہ کہہ رہی تھی۔

فرزانہ کی امی اداس بیٹھی تھی ایک پڑوسن ان کے پاس آکر بیٹھی اور باتیں کرنے لگی مگر وہ جواب ہی نہ دے پا رہی تھیں۔
پڑوسن پوچھ بیٹھیں، ارے آپ بولتی کیوں نہیں۔
"کیا بولوں، پریشانی نے زبان گم کردی، وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی "
ارے کیا ہوا ان کی پڑوسن نے پریشان ہو کر پوچھا۔
فرزانہ کے ابو نے جس آدمی کے ساتھ بزنس شیئر کیا تھا اس کے کارخانے میں آگ لگ گئی، سب کچھ جل گیا، ہم تو دیوالیہ ہوگئے، فقیر ہوگئے۔
"انہوں نے اپنا دل کھول دیا اس وقت حسینہ آپا جو زرا فاصلے پر بیٹھی تھیں بولی "فرزانہ کی امی کا دل ہمیشہ سے نرم ہے کسی کا اچھا برا سنے ایسا لگتا ہے صدمہ اسی پر پڑھا ہو"
ـ"یہ بات تو ہے کہ آنسو ہے کہ رکتے ہی نہیں ان کے قریب والی خاتون نے کہا۔

میں جو اس جگہ پر موجود تھی، بار بار میرے اندر سے کوئی اچھل اچھل کہ کہہ رہا تھا، اے خدا تو نے یہ چھوٹے بڑے غم اندیشے اور فکریں دے کر اپنے بندوں کتنا احسان کیا ہے، ورنہ انسان اتنا اعلی ظرف نہ تھا کہ کسی کہ غم کو بانٹ سکے ،کسی پر جب کوئی پریشانی ہوتی ہے تو انسان ماضی سے کوئی دکھ نکال کر اسے اپنے اوپر طاری کرلیتا ہے، اور پھر اس وقت ہم اپنے غم کو اس کے دکھ کے ساتھ ملاکر اس کے دکھ میں شریک ہوجاتے ہیں۔ میں جب وہاں سے اُٹھ کر جارہی تھی تو نہ جانے کون میرے کانوں میں سرگوشیاں کیے جاتا تھا کہ "کیا کوئی یہاں توقیر صاحب کے بیٹے نومی کے لیے بھی رویا تھا؟"

ٹیگز